ابو طلحہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ابو طلحہ انصاری
زید بن سہل بن عمرو
ابو طلحہ انصاری
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 585ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 654ء (68–69 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ام سلیم  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد اللہ بن ابی طلحہ انصاری  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابوطلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (38ق.ھ / 31ھ)آپ کا نام زید بن سہل بن اسود بن حرام انصاری نجاری تھا یہ بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں موجود تھے۔جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو عبیدہ بن جراح اور ابوطلحہ میں سلسلۂ مواخات قائم فرما دیا،یہ سب معرکوں میں شریک رہے،یہ بہترین تیرانداز بہادر سپاہی تھے، غزوۂ احد میں ان کی کارگزاری قابلِ تعریف رہی،وہ حضورِ اکرم کا بچاؤ اپنے آپ کو ڈھال بنا کر کرتے اور آپ کے آگے کھڑے ہوکر تیراندازی کرتے،اور اپنی چھاتی سے سپر کا کام لیتے ،تاکہ حضورِ اکرم کوکوئی گزند نہ پہنچے،اور کہتے، آپ کی گردن کے آگے میری گردن اور ذات کے سامنے میرا جسم ہے، حضور اکرم سنکر فرماتے کہ لشکر میں ابو طلحہ کی آواز سو آوازوں پر بھاری تھی، غزوۂ حنین میں انھوں نے بیس آدمیوں کو قتل کیا تھا،اور ان کے ہتھیار اتار لیے تھے۔ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ تھا جو اپنے درختوں کی کثرت، پھلوں کی عمدگی اور پانی کی شیرینی کے لحاظ سے یثرب کے تمام باغوں سے اچھا تھا۔ ایک روز ابوطلحہ اس کے گھنے سائے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔اچانک ایک خوش الحان پرندے نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ اس کے پر سبز، چونچ سرخ اور پاؤں رنگین تھے۔ وہ درختوں کی شاخوں پر خوشی سے چہچہاتا، رقص کرتا اور پھدکتا پھر رہا تھا۔ حضرت ابو طلحہ کو یہ منظر اتنا بھلا معلوم ہوا کہ تھوڑی دیر کے لیے اس کی دلکشی میں کھو گئے۔ جب ان کی توجہ نماز کی طرف واپس آئی تو وہ بھول چکے تھے کہ انھوں نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں،دو یا تین؟ وہ سوچتے رہ گئے مگر کچھ یاد نہ آیا۔ وہ نماز ختم کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اپنے نفس کی شکایت کی جس کوباغ، اس کے گھنے اور سایہ دار درختوں اور اس کے خوش نوا پرندے نے نماز سے غافل کر دیا۔ پھر انھوں نے کہا: "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ گواہ رہیں، میں اس باغ کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر رہا ہوں۔ آپ اس کو جس مصرف میں چاہیں خرچ کریں "،ہم ان کا نسب ان کے نام زید کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،یہ بیعت عقبہ اور غزوۂ بدر میں موجود تھے ،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے،انھوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے غزوۂ بدر از بنو خزرج ابو طلحہ کا جو بنو مالک بن نجار سے تھے،ذکر کیا ہے،ان کا نسب زید بن سہل بن اسود بن حرام تھا،ابن اسحاق نے بھی یہی لکھاہے۔ ابوطلحہ،ام سلیم کے،جو انس بن مالک کی والدہ تھیں،خاوند تھے،ایک روایت میں ہے کہ وہ مدینہ میں 31ھ میں فوت ہوئے اور دوسری روایت کی رو سے 34ھ ان کا سال وفات ہے،اس وقت ان کی عمر ستر برس تھی، نمازِجنازہ حضرت عثمان بن عفان نے پڑھائی۔

نام و نسب اور ابتدائی حالات[ترمیم]

زید نام ، ابو طلحہ کنیت ،خاندان نجار کی شاخ عمرو بن مالک سے ہیں جن کے افراد شہر یثرب میں معزز حیثیت رکھتے تھے،نسب نامہ یہ ہے زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن مالک بن النجار ، والدہ کا نام عبادہ ہے اور وہ مالک بن عدی بن زید بن مناۃ کی بیٹی تھیں جو حضرت ابو طلحہؓ کے جدی رشتے میں تھے قبیلہ عمرو بن مالک مسجد نبوی سے غربی جانب باب الرحمۃ کی طرف سکونت پزیر تھا اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے زمانہ میں اس قبیلہ کے رئیس تھے۔ قبل از اسلام ابوطلحہؓ عام اہل عرب کی طرح بت پرست تھے اور بڑے اہتمام سے شراب پیتے تھے اور اس کے لیے ان کے ندیموں کی ایک مجلس تھی۔ [1][2]

اسلام[ترمیم]

ابھی زمانۂ شباب کا آغاز تھا بہ مشکل بیس سال کی عمر ہوگی کہ آفتاب نبوت طلوع ہوا،حضرت ابوطلحہؓ نے ام سلیمؓ حضرت انسؓ کی والدہ ماجدہ کو نکاح کا پیغام دیا اورانہوں نے اسلام کی شرط کے ساتھ نکاح کو وابستہ کر دیا، جس کا آخری اثر یہ مرتب ہوا کہ ابو طلحہؓ دین حنیف قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے یہ وہ وقت تھا جب مصعب بن عمیرؓ اسلام کے پرجوش شیدائی شہر یثرب میں دین اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے مدینہ کا جو مختصر قافلہ بیعت کے لیے روانہ ہوا تھا اس میں حضرت ابو طلحہؓ بھی شامل تھے۔ اس بیعت میں حضرت ابو طلحہؓ کو یہ شرف مزید حاصل ہوا کہ آنحضرت نے ان کو انصار کا نقیب تجویز فرمایا۔ [3]

مواخاۃ[ترمیم]

بیعت کے چند مہینے کے بعد خود حامل وحی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کا ارادہ فرمایا اور یہاں پر مہاجرین وانصار میں اسلامی برادری قائم کی مہاجرین میں سے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کا جس کو بھائی بنایا گیا وہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریشی تھے،جن کو ایمان کی پختگی کی بدولت دربار رسالت سے امین الامۃ کا خطاب عطا ہوا تھا اورجناب رسول اللہ نے ان کو جنت کی بشارت دی تھی۔ [4]

غزوات[ترمیم]

غزوہ بدر اسلام کی تاریخ میں پہلا غزوہ ہے، حضرت ابو طلحہؓ نے اس میں کافی حصہ لیا تھا، بدر کے بعد غزوہ احد واقع ہوا، وہ حضرت ابو طلحہؓ کی جانبازی کی خاص یاد گار ہے معرکہ اس شدت کا تھا کہ بڑے بڑے بہادروں کے قدم اُکھڑ گئے تھے ؛لیکن حضرت ابوطلحہؓ آنحضرت کے آگے ڈھال آڑ کیے سینہ تانے کھڑے تھے کہ آپ کی طرف جو تیر آئے اس کا آماجگاہ خود بنیں اور نہایت جوش میں یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ نفسی لنفسک الفداء ووجھی لوجھک الوقاء میری جان آپ کی جان پر قربان اورمیرا چہرہ آپ کے چہرہ کی سپر ہو [5]

اور تیر دان میں سے تیر نکال کر ایسا جوڑ کر مارتے کہ مشرکوں کے جسم میں پیوست ہو جاتا ،جب آنحضرت یہ تماشا دیکھنے کے لیے سر اٹھاتے تو حضرت ابو طلحہؓ حفاظت کے لیے سامنے آجاتے اور کہتے"نحری دون نحرک" آپ کے گلے کے پہلے آنحضرت اس جان نثاری اور سرفروشی سے خوش ہوکر فرماتے فوج میں ابو طلحہؓ کی آواز سو آدمی سے بہتر ہے۔ [6] ابو طلحہؓ نے احد میں نہایت پامردی سے مشرکین کا مقابلہ کیا وہ بڑے تیر انداز تھے اس دن دو تین کمانیں ان کے ہاتھ سے ٹوٹیں اس وقت ان کے سامنے دو قسم کے خطرے تھے ایک مسلمانوں کی شکست کا خیال دوسرے رسول اللہ کی حفاظت کا مسئلہ ؛ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اس طرح کی جس ہاتھ سے بچاؤ کرتے تھے وہ شل ہو گیا مگر انھوں نے اُف نہ کی۔

غزوۂ خیبر میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ آنحضرتٓ کے اونٹ کے بالکل برابر تھا،اس غزوہ میں بھی وہ اس حیثیت سے نمایاں ہیں کہ جب آنحضرت نے گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کرنا چاہی تو منادی کرنے کے لیے ان کو ہی مخصوص فرمایا۔ [7] غزوہ حنین میں حضرت ابو طلحہؓ نے شجاعت کے خوب جوہر دکھائے 21 ،20 کافروں کو قتل کیا،آنحضرت نے فرمایا تھا جو شخص جس آدمی کو مارے اس کے سارے اسباب کا مالک سمجھا جائے گا؛چنانچہ حضرت ابو طلحہؓ نے بیس اکیس آدمیوں کا سامان حصہ میں حاصل کیا تھا آنحضرت کے غزوات میں یہ اخیر غزوہ تھا اور میں واقع ہوا تھا۔ [8][9]

عام حالات[ترمیم]

رسول اللہ کے وصال کے وقت حضرت ابو طلحہؓ اپنے مکان میں تھے، ادھر مسجد نبوی میں صحابہؓ میں گفتگو ہوئی کہ آنحضرتﷺ کی قبر کون تیار کرے ،مدینہ میں بغلی اورمکہ میں صندوقی قبروں کا رواج تھا،لیکن آنحضرت بغلی قبر پسند فرماتے تھے، مسلمانوں میں دو شخص قبریں کھودتے تھے، مہاجرین میں ابو عبیدہؓ اور انصار میں حضرت ابو طلحہؓ ،حضرت ابو عبیدہؓ صندوقی اور حضرت ابو طلحہؓ بغلی بناتے تھے، اس لیے دونوں کے پاس آدمی بھیجا گیا اوریہ رائے قرار پائی کہ جو پیشتر پہنچے اس شرف کو حاصل کرے اور چونکہ آنحضرت کی مرضی بغلی کی تھی بہت سے مسلمان دست بدعا تھے کہ مہاجری کے آنے میں دیر ہو اور ابو طلحہؓ جلد آجائیں، یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت ابو طلحہؓ انصاری پہنچ گئے اور اپنے ہاتھ سے بغلی قبر کھودی۔ رسول اللہ کے وصال کے بعد بہت سے صحابہؓ نے مدینہ کی سکونت ترک کردی تھی اور شام چلے گئے تھے،حضرت ابو طلحہؓ بھی ان ہی غمزدوں میں داخل تھے؛ لیکن جب زیادہ پریشانی بڑھتی تو آستانہ نبوت کا رخ کرتے اورمہینوں کا سفر طے کرکے رسول اللہ کے مزار پر حاضر ہوتے اور تسلی کا سرمایہ حاصل کرتے۔

حضرت ابوبکرؓ صدیق کا عہد خلافت،حضرت ابو طلحہؓ نے شام میں گزارا،حضرت فاروقؓ کے زمانہ خلافت کا بیشتر حصہ بھی وہیں بسر ہوا،البتہ حضرت عمر کی وفات کے قریب وہ مدینہ میں تشریف فرما تھے،حضرت فاروق اعظم کو ان کی ذات پر جو اعتماد اوران کی منزلت کا جو خیال تھا وہ اس سے ظاہر ہے کہ جب انھوں نے آدمیوں کو خلافت کے لیے نامزد فرمایا تو حضرت ابو طلحہؓ کو بلاکر کہا کہ آپ لوگوں کے سبب سے خدانے اسلام کو عزت دی ،آپ انصار کے 50 آدمی لے کر ان لوگوں پر متعین رہیے،اگر چار آدمی ایک طرف ہوں اور دو مخالفت کریں تو دو کی گردن مار دیجئے اور اگر پلہ برابر ہو تو اس فریق کو قتل کیجئے جس میں عبدالرحمن بن عوفؓ نہ ہوں اور اگر تین دن گذر جائیں اور کوئی فیصلہ نہ ہو تو سب کے سر اڑا دیجئے۔ غرض مسور بن مخرمہ کے گھر میں ان چھ آدمیوں کی مجلس شوریٰ قائم ہوئی اورحضرت ابوطلحہؓ دروازہ پر حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے، بنو ہاشم شروع سے اس مشورہ کے خلاف تھے، وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو چاہتے تھے،اس لیے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے آہستہ سے کہا کہ آپ اپنا معاملہ ان لوگوں کے ہاتھ میں نہ دیجئے اپنا خود فیصلہ کیجئے، حضرت علیؓ نے اس کا کچھ جواب دیا، حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پاس کھڑے یہ باتیں سن رہے تھے حضرت علیؓ کی ان پر نظر پڑی تو کچھ خیال پیدا ہوا،حضرت ابو طلحہؓ نے کہا :لم ترع ابالحسن!اے ابو الحسن خوف نہ کیجئے۔

اسی طرح ایک دن جلسہ کے وقت حضرت عمرو بن العاصؓ اور مغیرہ بن شعبہؓ بھی پہنچے اور دروازہ پر بیٹھ گئے، حضرت ابو طلحہؓ نے کچھ نہ کہا، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جھلا آدمی تھے ان سے نہ رہا گیا کنکری مار کر بولے، یہ لوگ اس لیے آئے ہیں کہ مدینہ میں مشہور کریں گے کہ ہم بھی اصحاب شوریٰ میں تھے ،کنکری مارنے پر عمروؓ اور مغیرہؓ بھی برہم ہوئے اور بات بڑھنے لگی ،حضرت ابو طلحہؓ نے کہا مجھ خوف ہے کہ آپ لوگ ان جھگڑون میں الجھ کر اصل مسئلہ کو چھوڑ بیٹھیں !اس ذات کی قسم جس نے عمر کو وفات دی! میں تین دن سے زیادہ کبھی مہلت نہ دوں گا، پھر گھر میں بیٹھ کر تماشا دیکھوں گا کہ آپ لوگ کیا کرتے ہیں؟

اس کے بعد حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے خانگی حالات میں دو چیزیں بہت نمایاں ہیں نکاح اور اولاد، ان کا نکاح حضرت ام سلیمؓ سے ہوا تھا، اس کا واقعہ یہ ہے کہ مالک بن نضر، حضرت انسؓ بن مالک کے والد، ہجرت نبوی سے قبل اپنی بیوی ام سلیمؓ سے ان کے اسلام قبول کرنے پر ناراض ہوکر شام چلے گئے تھے،وہاں انھوں نے انتقال کیا،حضرت ابوطلحہؓ نے ام سلیمؓ کو پیام دیا ،انھوں نے کہا کہ میں تمھارا پیام رد نہیں کرتی، لیکن تم کافر ہو اور میں مسلمان ،میرا نکاح تمھارے ساتھ جائز نہیں،اگر تم اسلام قبول کرلو تو مجھے نکاح میں عذر نہ ہوگا اوروہی میرا مہر ہوگا، حضرت ابوطلحہؓ مسلمان ہو گئے اور اسلام مہر قرار پایا، ثابت کہتے ہیں کہ میں نے کسی عورت کا مہر ام سلیمؓ سے افضل نہیں سنا۔

حضرت ام سلیمؓ سے حضرت ابو طلحہؓ کی کئی اولادیں ہوئیں؛ لیکن سوائے عبد اللہ کے کوئی زندہ نہ رہا، حضرت ابو طلحہؓ کے ایک بیٹے کا نام ابو عمیر تھا ،اس نے بچپن میں ایک لال پالا تھا، اتفاق سے لال مر گیا، اس کو نہایت غم ہوا،رسول اللہ ﷺ ان کے گھر تشریف لائے تو اس کو غمگین پاکر لوگوں سے پوچھا، آج یہ سست کیوں ہے؟ لوگوں نے واقعہ بیان کیا،آنحضرت نے اس کو ہنسانے کے لیے فرمایا : یا ابا عمیر ما فعل النغیر یعنی اے عمیر لال کہاں گیا؟ ایک اور لڑکا تھا جو کچھ دنوں بیمار رہ کر مرگیا، اس کی وفات کا واقعہ نہایت پر اثر ہے، ایک دن اس کی بیماری کے زمانہ میں حضرت ابوطلحہؓ مسجد نبوی ﷺ آگئے اور اُدھر وہ فوت ہو گیا، ام سلیمؓ نے اس کو دفن کر دیا اور گھر والوں سے تاکید کی کہ ابو طلحہؓ سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرنا، ابو طلحہ ؓ مسجد سے آئے تو کچھ صحابہؓ ساتھ تھے، پوچھا لڑکا کیسا ہے؟ ام سلیمؓ نے کہا پہلے سے اچھا ہے! ابو طلحہؓ صحابہؓ سے باتیں کرتے رہے کہ کھانا آیا، سب نے کھایا، جب صحابہؓ چلے گئے تو ابو طلحہؓ اندر آئے اور رات کو میاں بیوی نے ایک بستر پر آرام کیا، اخیر رات میں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے لڑکے کی وفات کا ذکر کیا اور کہا کہ خدا کی امانت تھی ،اس نے لے لی اس میں کسی کا کیا اجارہ ہے ،ابوطلحہؓ نے اناللہ پڑھا اور صبر کیا، یہ واقعہ بخاری اور مسلم میں مؤثر اور مختلف طور پر مذکور ہے۔ اس لڑکے کے بعد عبد اللہ پیدا ہوئے اور آنحضرت نے ان کو گھٹی دی ،یہ اپنے زمانہ میں تمام لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے،ان ہی سے حضرت ابوطلحہؓ کی نسل چلی ان کے دو بیٹے تھے اسحاق اور عبد اللہ اور اسحاق کے صاحبزادے یحییٰ تھے اور یہ سب اپنے عہد میں مرجع انام اورعلم حدیث کے امام تھے۔ [10]

حلیہ[ترمیم]

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہ یہ تھا رنگ گندم گوں،قد متوسط، سر اور داڑھی سفید خضاب نہیں کرتے تھے،چہرہ نورانی۔ [4]

وفات[ترمیم]

ابو طلحہ عمر شریف 70 سال کی ہوئی تو پیغام اجل آیا،حضرت ابو طلحہؓ کی وفات کا قصہ بھی عجیب ہے ایک دن سورۂ برأت تلاوت فرما رہے تھے جب اس آیت" انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا" پر پہنچے تو ولولہ جہاد تازہ ہوا، گھر والوں سے کہا کہ خدانے بوڑھے اور جوان سب پر جہاد فرض کیا ہے ،میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں ،سفر کا انتظام کر دو ،دو مرتبہ کہا، بڑھاپے کے علاوہ روزے رکھتے رکھتے نہایت نحیف اور لاغر ہو گئے تھے گھر والوں نے کہا خدا آپ پر رحم کرے ! عہد نبوی کے کل غزوات میں شریک ہو چکے، ابوبکرؓ وعمرؓ کے زمانہ خلافت میں برابر جہاد کیا، اب بھی جہاد کی حرص باقی ہے،آپ گھر میں بیٹھیے ہم لوگ آپ کی طرف سے غزوہ میں جائیں گے ،حضرت ابو طلحہؓ بھلا کب رک سکتے تھے ،شہادت کا شوق ان کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا بولے جو میں کہتا ہوں اس کی تعمیل کرو، گھر والوں نے چار و ناچار سامان سفر درست کیا اوریہ ستر برس کا بوڑھا مجاہد خدا کا نام لے کر چل پڑا، غزوہ بحری تھا اور اسلامی بیڑا روانہ ہونے والا تھا، حضرت ابو طلحہؓ جہاز پر سوار ہوئے اور غزوہ کے منتظر تھے کہ ساعت مقررہ آ پہنچی اور ان کی روح عالم قدس کو پرواز کر گئی۔

بحری سفر تھا،زمین کہیں نظر نہ آتی تھی،ہوا کے جھونکے جہاز کو غیر معلوم سمت میں لیے جا رہے تھے اس مجاہد فی سبیل اللہ کی لاش غربت کی حالت میں جہاز کے تختہ پر بے گور و کفن پڑی رہی، آخر ساتویں روز جہاز خشکی پر پہنچا، اس وقت لوگوں نے لاش کو ایک جزیرہ میں اتر کر دفن کیا، لاش بعینہ صحیح و سالم تھی۔ سنہ وفات میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک 31ھ اور بعض کے قول کے مطابق 22ھ سال وفات ہے،لیکن اس میں زیادہ صحیح روایت حضرت انسؓ بن مالک کی ہے اس کے رو سے 51ھ میں حضرت ابو طلحہؓ نے انتقال فرمایا: [11]

فضل و کمال[ترمیم]

فضل وکمال میں حضرت ابوطلحہؓ کو خاص رتبہ حاصل ہے،علامہ حافظ ابو طلحہؓ کے فضل وکمال کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے کہ وہ فضلائے صحابہ میں تھے۔ روایت میں نہایت احتیاط کرتے تھے ، ان کی احادیث مرویہ میں مسائل یا غزوات کا ذکر ہے ، فضائل اعمال کا بیان نہیں باوجود یکہ وہ مدت دراز تک رسول اللہ کے شرف صحبت سے ممتاز رہے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی ایک عرصہ تک زندہ رہے،لیکن روایتوں کی مجموعی تعداد 92 سے زیادہ نہ ہو سکی اس کا اصلی باعث بیان حدیث میں احتیاط تھی۔ حسب ذیل روایات ان کے علمی پایہ کو نمایاں کرتی ہیں:

حدیث شریف میں وارد ہے " لا تد خل الملئکۃ بیتا فیہ صورۃ "یعنی جس گھر میں تصویر ہو وہاں فرشتے نہیں آتے۔ حضرت ابو طلحہؓ کی بیماری میں عقید ت مندوں کا ایک گروہ عیادت کو آیاتو دیکھا کہ دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہے، جس میں تصویر بنی ہوئی ہے،آپس میں گفتگو شروع ہوئی ،زید بن خالد بولے کل تو تصویر کی ممانعت پر حدیث بیان کی تھی، عبید اللہ خولانی رحمہ اللہ علیہ سے کہا ہاں لیکن یہ بھی تو کہا تھا کہ کپڑے پر جو تصویر ہو وہ اس میں داخل نہیں۔ [12]

ایک دن حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھانا نوش فرما رہے تھے،دستر خوان پر حضرت ابی بن کعبؓ اور حضرت انس بن مالکؓ بھی تھے کھانا کھا کر حضرت انسؓ نے وضو کے لیے پانی مانگا دونوں بزرگوں نے کہا شاید گوشت کھانے کی وجہ سے وضو کا خیال پیدا ہوا؟ حضرت انسؓ نے کہا جی ہاں اس پر فرمایا کہ تم طیبات کھا کر وضو کی ضرورت سمجھتے ہو ؛ حالانکہ خود رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کی حاجت نہیں سمجھتے تھے۔ [13] ایک دن حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نفل کا روزہ رکھا تھا، اتفاق سے اسی دن برف پڑی اور اٹھے اور اولے چن کر کھانے لگے،لوگوں نے کہا روزے میں آپ اولے کھا رہے ہیں ، انھوں نے جواب دیا کہ یہ برکت ہے جس کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ حضرت ابو طلحہؓ کو شعر و سخن کا بھی ذوق تھا، میدانِ جنگ میں رجز پڑہتے تھے، یہ شعر انہی کا ہے۔ انا ابو طلحۃ واسمی زید وکل یوم فیِ سلاحی صید [14]

اخلاق[ترمیم]

حضرت ابو طلحہؓ کا سبب سے بڑا اخلاقی جوہر حب رسول ہے ،ایسی حالت میں کہ تمام مسلمان جنگ کی شدت سے مجبور ہوکر میدان سے منتشر ہو گئے تھے اور رسول اللہ کے پاس معدودے چند صحابہ باقی رہ گئے تھے، حضرت ابو طلحہؓ کا اپنے کو رسول اللہ پر قربان کرنے کے لیے بڑھنا اور آپ کے سامنے کھڑے ہوکر کفار کے وار سہناکہ حامل نبوت پر جو تیر آئے ان کو اپنے سینے پر روکنا اور آخر اسی حالت میں اپنا ہاتھ بیکار کردینا حبِ رسول کا وہ لازوال نشان ہے جو ابد تک نہیں مٹ سکتا۔

اسی محبت کا اثر تھا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو آنحضرت سے خاص خصوصیت تھی وہ عموماً تمام معرکوں میں رسول اللہ کے ساتھ رہتے تھے اور ان کا اونٹ رسول اللہ کے اونٹ کے برابر چلتا تھا،غزوۂ خیبر سے واپسی کے وقت حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آنحضرت کے اونٹ پر سوار تھیں ، مدینہ کے قریب پہنچ کر ناقہ ٹھوکر لے کر گری اور رسول اللہ اور صفیہؓ زمین پر آ رہے،حضرت ابوطلحہؓ سواری سے فوراً کود پڑے اور رسول اللہ کے پاس پہنچ کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعلنی اللہ فداک چوٹ تو نہیں آئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں عورت کی خبر لو، حضرت ابو طلحہؓ منہ پر رومال ڈال کر حضرت صفیہؓ کے پاس پہنچے اور ان کو کجا وادرست کرکے اونٹ پر بٹھایا۔

اسی طرح ایک مرتبہ مدینہ میں دشمنوں کا کچھ خوف معلوم ہوا ، رسول اللہ نے حضرت ابو طلحہؓ کا گھوڑا جس کا نام مندوب تھا مستعار نوید اور سوار ہوکر جس طرف اندیشہ تھا روانہ ہوئے،حضرت ابو طلحہؓ پیچھے پیچھے چلے؛ لیکن ابھی پہنچنے نہ پائے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے راستہ میں ملاقات ہوئی فرمایا وہاں کچھ نہیں اور تمھارا گھوڑا بہت تیز رفتار ہے۔ حضرت ابو طلحہؓ کو آنحضرت سے جو محبت تھی اس کا اثر چھوٹی چھوٹی چیز میں بھی ظاہر ہوتا تھا، جب ان کے گھر میں کوئی چیز آتی تو خود رسول اللہ کے حضور میں بھیج دیتے تھے ،ایک مرتبہ حضرت انسؓ ایک خرگوش پکڑ لائے ،حضرت ابو طلحہؓ نے اس کو ذبح کیا اور ایک ران آنحضرت کی خدمت میں بھیج دی،آپ نے یہ حقیر لیکن پرخلوص نذر قبول کرلی، [15] اسی طرح ام سلیم نے ایک طبق میں خرمے بھیجے، حضور نے قبول فرما کر ازواج مطہرات اور صحابہ میں تقسیم کیے۔ [16]

رسول اللہ بھی اس محبت کی نہایت قدر کرتے تھے؛ چنانچہ جب آپ حج کے لیے مکہ تشریف لے گئے اور منیٰ میں حلق کرایا تو سر مبارک کے داہنے طرف کے بال تو اور لوگوں میں تقسیم ہو گئے اور بائیں طرف کے کل موئے مبارک حضرت ابو طلحہ ؓ کو مرحمت فرمائے،حضرت ابو طلحہؓ اس قدر خوش ہوئے کہ گویا دونوں جہاں کا خزانہ ہاتھ آگیا۔ اسی طرح جب عبد اللہ بن ابی طلحہؓ پیدا ہوئے تو حضرت ابو طلحہؓ نے ان کو آنحضرت کی خدمت میں بھیجا آپ نے کچھ چھوہارے چباکر اس سے لڑکے گو گھٹی دی لڑکے نے مزے سے اس آب حیواں کی گھٹی لی اور چھوہارے کو مسوڑھے سے دابنے لگا، حضور نے فرمایا دیکھوا انصار کو چھوہاروں سے فطری محبت ہے ،اس لڑکے کا نام آنحضرت نے عبد اللہ رکھا رسول اللہ کے لعاب مبارک کا یہ اثر تھا کہ حضرت عبد اللہؓ تمام نوجوانانِ انصار پر فوقیت رکھتے تھے۔ [17]

جوش ایمان کا یہ عالم تھا کہ شراب حرام ہونے سے قبل ایک روز فضیح جو چھوہارے کی بنتی ہے پی رہے تھے کہ اسی حالت میں ایک شخص نے آکر خبردی کہ شراب حرام ہو گئی یہ سن کر حضرت انسؓ سے کہا کہ تم اس گھڑے کو توڑ دو ،انھوں نے توڑدیا،[18] جب یہ آیت نازل ہوئی: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ [19] جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تم کو محبوب ہے نیکی نہیں پاسکتے۔ تو امرائے انصار نے کیسوں کی مہریں توڑدیں اور جس کے پاس جو قیمتی چیزیں تھیں آنحضرت ﷺ کے حضور میں پیش کیں، حضرت ابوطلحہؓ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے اور بیر حاکو خدا کی راہ میں وقف کیا۔

بیر حا ان کی نہایت قیمتی جائداد تھی،اس میں ایک کنواں تھا، اس کا پانی نہایت شیریں اور خوشبودار تھا اور آنحضرت ﷺ بہت شوق سے اس کو پیتے تھے یہ اراضی حضرت ابو طلحہ ؓ کے محلہ میں اور مسجد نبوی کے سامنے واقع تھی بعد میں اس مقام پر قصر بنی عدیلہ بنایا تھا۔ حضرت ابو طلحہؓ کے اس وقف سے آنحضرت ﷺ نہایت محظوظ ہوئے اور فرمایا:بخ بخ !ذالک مال رائج:ذالک حال رائج اور حکم دیا کہ اپنے اعزہ میں اس کو تقسیم کردو، چنانچہ حضرت ابو طلحہؓ نے اپنے بنی اعمام اور اقارب میں جس میں حسان بن ثابتؓ اور ابی بن کعبؓ تھے تقسیم کر دیا۔ [20]

ایک مرتبہ ایک شخص آیا، اس کے قیام کا کوئی سامان نہ تھا،آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کو جو اپنے ہاں مہمان رکھے اس پر خدا رحم کرے گا، حضرت ابوطلحہؓ نے اٹھ کر کہا میں لیے جاتا ہوں، گھر میں کھانے کو نہ تھا صرف بچوں کے لیے کھانا پکا تھا، حضرت ابو طلحہؓ نے بیوی سے کہا کہ بچوں کو سلا دو اور مہمان کے پاس بیٹھ کر چراغ گل کردو ،اس طور پر وہ کھانا کھالے گا اورہم بھی فرضی طور پر منہ چلاتے رہیں گے، غرض اس طرح اس کو کھلا کر تمام گھر فاقہ سے پڑارہا ،صبح کے وقت آنحضرت کے پاس آئے تو آپ نے ان کی شان میں یہ آیت پڑھی جو اسی موقع پر نازل ہوئی تھی :" وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ" اورحضرت ابو طلحہؓ سے کہا رات تمھارے کام سے خدا کو بہت تعجب ہوا۔ [21]

حضرت ابو طلحہؓ کا ایک خاص وصف خلوص تھا،وہ شہرت پسندی،ریا اور نمود و نمائیش سے دور رہتے تھے،بیر حاکو وقف کرتے وقت رسول اللہ سے قسم کھا کر کہا کہ یہ بات اگر چھپ سکتی تو کبھی میں ظاہر نہ کرتا۔ [22] انھوں نے رسول اللہ کے بعد 40 سال کی زندگی پائی یہ تمام عمر روزوں میں بسر کی،عید اور بقرعید کے سوا 365 دنوں میں کوئی دن ایسا نہ تھا بجز بیماری کے ایام کے جس میں وہ صائم نہ رہے ہوں۔ [4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (بخاری:2/664)
  2. الإصابة في تمييز الصحابة - زيد بن سهل آرکائیو شدہ 2017-04-01 بذریعہ وے بیک مشین
  3. الطبقات الكبرى لابن سعد - أَبُو طَلْحَةَ (1) آرکائیو شدہ 2017-03-31 بذریعہ وے بیک مشین
  4. ^ ا ب پ تهذيب الكمال للمزي» زَيْد بن سهل بن الأسود بن حرام بن عَمْرو بن زَيْد آرکائیو شدہ 2017-04-01 بذریعہ وے بیک مشین
  5. (مسند حضرت انس بن مالک ،بخاری:279)
  6. (مسند احمد:3/6،بخاری کتاب المغازی)
  7. (مسند احمد :3/121)
  8. أبو نعيم الأصبهاني (1998)۔ معرفة الصحابة۔ الثالث (الأولى ایڈیشن)۔ دار الوطن۔ صفحہ: 1144 
  9. أسد الغابة في معرفة الصحابة - أبو طلحة الأنصاري آرکائیو شدہ 2017-04-01 بذریعہ وے بیک مشین
  10. سير أعلام النبلاء» الصحابة رضوان الله عليهم» أبو طلحة الأنصاري آرکائیو شدہ 2017-12-04 بذریعہ وے بیک مشین
  11. الطبقات الكبرى لابن سعد - أَبُو طَلْحَةَ (2) آرکائیو شدہ 2017-03-31 بذریعہ وے بیک مشین
  12. (حدیث ابو طلحہ،مسند احمد:4/28)
  13. (حدیث ابو طلحہ:3)
  14. الطبقات الكبرى لابن سعد - أَبُو طَلْحَةَ (3) آرکائیو شدہ 2017-03-31 بذریعہ وے بیک مشین
  15. (مسند احمد:3/171،مسند ابن انسؓ)
  16. (مسند احمد:3/135)
  17. (مسند احمد:257،مسند انسؓ)
  18. (مسند احمد:3/141)
  19. (آل عمران:92)
  20. (مسند احمد:3/141)
  21. (مسلم:2/198)
  22. (مسند احمد:3/115،مسند انس)