عبدالرحمن بن سمرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
حضرت عبد الرحمنؓ بن سمرہ
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 670ء  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث،  عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد الرحمن بن سمرہ آپ ایک صحابی رسول ﷺ ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

عبد الرحمن نام،باپ کا نام سمرہ تھا، نسب نامہ یہ ہے،عبد الرحمن بن سمرہ بن حبیب ابن عبدشمس بن عبد مناف بن قصیٰ

اسلام و غزوات[ترمیم]

فتح مکہ کے دن مشرف باسلام ہوئے،جاہلی نام عبدالکعبہ تھا،آنحضرتﷺ نے بدل کر عبد الرحمن رکھا، اسلام کے بعد سب سے اول غزوۂ تبوک میں شریک ہوئے۔ [1]

عثمانی عہد[ترمیم]

غزوۂ تبوک کے بعد عبد الرحمن پھر عثمانی عہد میں نظر پڑتے ہیں، آنحضرتﷺ نے انھیں نصیحت فرمائی تھی کہ خود کبھی امارت کی خواہش نہ کرتا، اگر تمھاری خواہش پر ملے گی تو اس کی ذمہ داری تنہا تمھارے سر ہوگی، اوربلاخواہش ملے گی تو خدا تمھاری مدد کریگا [2] اس نصیحت کے مطابق انھوں نے خود کبھی امارت کی خواہش نہیں کی،حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں عبد اللہ بن عامر والی بصرہ نے انھیں امارت کے عہد پر مامور کیا،32ھ میں جب ابن عامر نے سجستان اورکابل پر چڑھائی کی (ابن عامر اس علاقہ کو زیر نگین کرچکے تھے، لیکن یہاں کے باشندوں نے بغاوت کرکے ان کے عامل کو نکال دیا) تو عبد الرحمن کو سجستان روانہ کیا،یہ زرنج کی طرف بڑھے، اتفاق سے انھیں ایام میں عید تھی، سجستان والے عید منا رہے تھے،عبد الرحمن نے عین عید کے دن زرنج کے مرزبان کو گھیر لیا، اس نے بیس لاکھ درہم اور دو ہزار لونڈی غلام پر صلح کرلی، مرزبان سے مصالحت کے بعد ابن سمرہ نے ہندوستان کی سمت زرنج سے لے کر کش تک اوررخج کی سمت کو خج سے لے کر دوارتک فتح کرکے دوار کے باشندوں کا جبل زور میں محاصرہ کر لیا، ان لوگوں نے ایک بیش قرار رقم دیکر صلح کرلی، یہ رقم اتنی وافر تھی کہ عبد الرحمن کے ساتھ آٹھ ہزار مجاہدین تھے ہر ایک کے حصہ میں چار چار ہزار آیا، زور ایک بت کا نام تھا،اسی کی نسبت سے یہاں کا پہاڑ جبل زور کہلاتا تھا،یہ بت ٹھوس سونے کا تھا اور یاقوت کی آنکھیں تھیں، عبد الرحمن نے اس کے ہاتھ کاٹ لیے اور دونوں آنکھیں نکال کر مرزبان کو واپس کر دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی صرف تمھارے اعتقاد کو باطل کرنا تھا، بت کسی کو نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتے،بت کو توڑنے کے بعد بست اورزابل کو فتح کیا، ان فتوحات کی تکمیل کے بعد زرنج لوٹ آئے،کچھ دنوں کے بعد جب حضرت عثمانؓ کے خلاف شورش بپا ہوئی، تو عبد الرحمن امیر بن احمر کو اپنا قائم مقام بنا کر سجستان سے چلے گئے ،ان کے ہٹتے ہی زرنج والوں نے ابن احمر کو نکال کر زرنج کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ [3]

خانہ جنگی سے کنارہ کشی[ترمیم]

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جمل اورصفین کی قیامت خیز لڑائیاں ہوئیں، لیکن عبد الرحمن کسی میں شریک نہ ہوئے۔

ولایت بصرہ[ترمیم]

حضرت حسنؓ کی دست برداری کے بعد جب امیر معاویہ سارے عالم اسلامی کے خلیفہ ہو گئے، تو انھوں نے جدید انتظامات کے سلسلہ میں عبد اللہ بن عامر کو 43ھ میں بصرہ کا والی بنایا۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت اورجمل وصفین کے ہنگاموں کے زمانہ میں سجستان اورکابل کے علاقے باغی ہو گئے تھے،عبد اللہ بن عامر کو عبد الرحمن کے گذشتہ کار ناموں کا کافی تجربہ ہو چکا تھا، اس لیے انھوں نے دوبارہ انھیں سجستان کا والی بنا کر باغی علاقوں کی تادیب پر مامور کیا؛چنانچہ یہ سجستان آئے،یہاں سے باغیوں کی سرکوبی کرتے ہوئے کابل تک پہنچ گئے اور اس کا محاصرہ کرکے سنگباری کے ذریعہ سے شہر پناہ کی دیواریں شق کر دیں، عباد بن حصین رات پھر شگاف کی نگرانی کرتے رہے کہ دشمن اس کو بھرنے نہ پائیں، صبح کو کابلیوں نے میدان میں نکل کر مقابلہ کیا مگر شکست کھائی اورمسلمان شہر میں داخل ہو گئے، یہ بلاذری اورابن اثیر کا بیان ہے۔ [4] یعقوبی کے بیان کے مطابق شہر پناہ کے دربان نے رشوت لے کر دروازہ کھول دیاتھا۔ [5] کابل کو مطیع بنانے کے بعد عبد الرحمن نے،خواش اور زان بست کو زیر نگیں کیا، یہاں سے رزان کا رخ کیا، یہاں کے باشندوں نے پہلے ہی شہر خالی کر دیا تھا، اس لیے بلا جنگ رزان پر قبضہ ہو گیا، رزان کے بعد خشک پہنچے،یہاں کے باشندوں نے صلح کرلی، خشک کے بعد رخج آئے اورایک پر زور مقابلہ کے بعد یہاں کے باشندوں کو شکست دیکر غزنہ پہنچے،باغی غزنویوں نے نہایت پر زور مقابلہ کیا، مگر انھوں نے بھی فاش شکست کھائی،کابل والے سخت بغاوت پسند تھے، عبد الرحمن جب غزنہ کی طرف متوجہ تھے،کابلیوں نے میدان خالی پاکر بغاوت کردی، عبد الرحمن نے غزنہ سے فراغت کے بعد انھیں مطیع بنایا اور سجستان کابل اور غزانہ کا پورا علاقہ دوبارہ زیر نگین کیا۔ [6] عبد الرحمن کو ابن عامر نے اپنی پسند سے حاکم بنایا تھا، ان کے کار ناموں کو دیکھ کر امیر معاویہ نے بھی مہر تصدیق ثبت کردی اورعبدالرحمن مرکزی حکومت کی جانب سے سجستان کے باقاعدہ والی ہو گئے [7] تین سال کے بعد 46 ھ میں زیاد نے انھیں معزول کرکے زیاد بن ربیع کو ان کی جگہ مقرر کیا۔

وفات[ترمیم]

معزولی کے بعد عبد الرحمن نے سجستان ہی میں بود وباش اختیار کرلی تھی، یہیں 50ھ میں وفات پائی [8] وفات کے بعد ایک لڑکا عبید اللہ یاد گار چھوڑا۔

فضل وکمال[ترمیم]

عبد الرحمن اولاً مسلمین بعد الفتح میں تھے، پھر فوجی آدمی تھے،اس لیے علمی اعتبار سے کوئی قابل ذکرِ شخصیت نہ تھی، تاہم ان کی بیاضِ علم کے اوراق بالکل سادہ نہیں ہیں ان کی 14 روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں،ان میں سے 2 متفق علیہ اورایک میں امام مسلم منفرد ہیں، ان کے رواۃ میں عبد الرحمن بن لیلی اورمشہور تابعی حضرت حسن بصری لایق ذکر ہیں۔ [9]

تواضع وخاکساری[ترمیم]

ایک طرف یہ بلندی اورحوصلہ مندی تھی کہ سجستان سے لے کر غزنہ تک کا علاقہ فتح کر لیا،اورباغی کابلیوں کے بل نکال دیے ،دوسری طرف یہ خا ک ساری اور فرو تنی تھی کہ بارش کے دنوں میں جھاڑو لے کر گلیاں صاف کرتے پھرتے تھے۔ [10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (اصابہ:4/161)
  2. (ابن سعد،جلد7،ق2،صفحہ:101)
  3. (فتوح البلدان بلاذی:401،402)
  4. (ابن ایثر:3/366،وبلاذری:403)
  5. (یعقوبی:2/258)
  6. (ابن اثیر:3/366)
  7. (بلاذری:403)
  8. (اصابہ:4/160)
  9. (تہذیب الکمال:228)
  10. (تہذیب الکمال:228)

طبقات ابن سعد، محمد بن سعد، جلد 4، ص- 34