طفیل بن عمرو دوسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طفیل بن عمرو دوسیان کا لقب ذی النور(نور والا) تھا۔

قبیلہ دوس[ترمیم]

نواح یمن میں قبیلہ دوس آباد تھا‘ اس قبیلہ کا سردار طفیل بن عمرو رؤساء یمن میں شمار ہوتا تھا‘ طفیل علم و دانش مندی کے علاوہ بہت مشہور اور زبردست شاعر بھی تھا

طفیل بن عمرو دوسی کے اخلاق[ترمیم]

طفیل بن عمرو دوسی زمانہ جاہلیت میں قبیلہ دوس کے سردار، عرب کے قابل ذکر اشراف اور معدودے چند اصحاب مروت میں سے تھے۔ وہ بڑے مہمان نواز اور صاحب جودو سخا آدمی تھے۔ مہمانوں کی بکثرت آمد کی وجہ سے ان کے یہاں کھانے کی دیگیں ہمیشہ چولہوں پر چڑھی رہتیں اور ان کے دروازے آنے والے مہمانوں کے استقبال کے لیے ہر وقت کھلے رہتے۔ وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتے، خوف زدہ لوگوں کو امان دیتے اور پناہ طلب کرنے والوں کو اپنی پناہ میں لیتے۔ ان ساری خوبیوں کے علاوہ وہ نہایت باشعور اور زبردست ادیب، بڑے نازک خیال اور حساس شاعر اور کلام و بیان کے حسن و قبح اور صحت و سقم کی تمیز میں غیر معمولی درک رکھنے والے نقاد تھے۔

مکہ مکرمہ آمد[ترمیم]

طفیل بن عمرو اپنے قبیلہ کے علاقہ تہامہ کو چھوڑ کر مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار قریش کے درمیان حق و باطل کی زبردست کشمکش برپا تھی اور فریقین میں سے ہر ایک اپنے اور اپنی جماعت کے لیے اعوان و انصار فراہم کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق و انصاف کے ہتھیار سے کام لے کر لوگوں کو بندگی رب کی دعوت دے رہے تھے اور کفار قریش ہر قسم کے حربے استعمال کرکے اس دعوت کی مخالفت و مزاحمت میں جتے ہوئے تھے اور لوگوں کو اس سے باز رکھنے کے لیے ایڑی سے چوٹی تک زور لگا رہے تھے۔ مکہ پہنچ کر طفیل نے محسوس کیا کہ وہ کسی تیاری کے بغیر اس معرکہ میں شامل اور بلا قصد وارادہ اس کی موجوں میں داخل ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ تو وہ اس مقصد سے مکہ آئے تھے نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے مابین برپا اس کشمکش کا انہیں وہم و گمان ہی گزرا تھا۔ اس وجہ سے اس کشمکش سے وابستہ ان کی ناقابل فراموش اور عجیب وغریب داستان سننے سے تعلق رکھتی ہے۔ طفیل بن عمرو اس داستان کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

ایمان لانے کی دستان[ترمیم]

"جب میں مکہ پہنچا تو مجھے دیکھتے ہی سرداران قریش میری طرف لپکے اور انہوں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ میرا استقبال کیا اور مجھے بڑی عزت و تکریم سے نوازا۔ پھر ان کے بڑے بڑے سردار اور سربر آوردہ لوگ میرے گرد جمع ہو گئے اور مجھ سے کہنے لگے"طفیل! تم ہمارے شہر میں آئے ہو اور یہ شخص جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے، اس نے ہمارا سارا معاملہ خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ اس نے ہماری جمعیت کو منتشر اور ہماری جماعت کوپراگندہ کر دیا ہے۔ ہم لوگوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں تم کو اور تمہاری قیادت و سرداری کو بھی وہی خطرہ نہ لاحق ہو جائے جس سے ہم لوگ دوچار ہیں۔ اس لیے تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ تم نہ تو اس شخص سے کوئی بات کرنا نہ اس کی کوئی بات سننا کیونکہ اس کی باتیں بڑی جادو اثر ہیں، اس کی زبان میں بلا کی تاثیر ہے۔ یہ شخص اپنی ان باتوں کے ذریعہ باپ بیٹے، بھائی اور شوہر بیوی میں تفریق کردیتا ہے" "خدا کی قسم وہ لوگ مسلسل اس شخص کی عجیب و غریب باتیں مجھے سناتے رہے اور اس کے حیرت انگیز کارناموں سے میری اپنی ذات اور میری قوم کے متعلق مجھے کو خوفزدہ کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے اس بات کا عزم مصمم کر لیا کہ میں نہ اس شخص سے ملوں گا، نہ اس سے کلام کروں گا، نہ اس کی کوئی بات سنوں گا اور جب میں خانہ کعبہ کے طواف اور اس میں رکھے ہوئے ان بتوں سے برکت حاصل کرنے کے لیے مسجد حرام میں گیا جن کی ہم تعظیم و توقیر کرتے تھے تو اس خوف سے کہ کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات میرے کانوں میں نہ پڑجائے میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی۔ مسجد میں داخل ہوا تو میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے پاس کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں مشغول پایا۔ ان کا طریقہ عبادت ہمارے طریقہ عبادت سے مختلف تھا۔ وہ منظر مجھے بہت اچھا لگا اور ان کے عبادت کے اس طریقے کو دیکھ کر میں فرط مسرت سے جھوم اٹھا اور غیر ارادی طور پر بتدریج ان سے قریب ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ان کے بالکل نزدیک پہنچ گیا اور خدا کو یہی منظور تھا کہ ان کی زبان سے نکلنے والے کچھ الفاظ میرے کانوں تک پہنچیں۔ چنانچہ میں نے ان سے ایک بہترین کلام سنا اور اپنے دل میں کہا طفیل! تمہاری ماں تمہارے سوگ میں بیٹھے۔ تم ایک سمجھدار اور صاحب بصیرت شاعر ہو، کلا م کا حسن و قبح تم پر مخفی نہیں ہے۔ آخر اس شخص کی باتیں سننے میں کیا چیز تمہارے آڑے آ رہی ہے۔ اگراس کی باتیں اچھی ہوں گی تو قبول کرلینا اور اگر بری ہوں گی تو انہیں چھوڑ دینا"۔ "یہ سوچ کر میں وہیں رک گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر اپنے گھر کی طرف لوٹے تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے ہولیا اور جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو میں بھی ان کے پیچھے اندر چلاگیا اور ان سے کہا کہ " اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم کے لوگ مجھے آپ کے دین سے ڈراتے رہے حتی کہ میں نے آپ کی باتیں نہ سننے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اپنے کان روئی سے بند کرلیے تاکہ کہیں آپ کی کوئی بات میرے کانوں میں نہ پڑجائے۔ لیکن یہ اللہ کی مرضی تھی کہ اس نے مجھے آپ کی باتیں سنائیں اور وہ مجھے بہت پسند آئیں۔ آپ اپنا دین مجھے بتائیے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت میرے سامنے پیش کی اور مجھے دو سورتیں، سورہ اخلاص اور سورۃ فلق پڑھ کر سنائیں۔ خدا کی قسم اس سے پہلے میں نے اس کلام سے بہتر کوئی کلام نہیں سنا تھا، نہ ان کی باتوں سے بہتر کوئی بات سنی تھی۔ میں نے اس وقت اپنا ہاتھ آگے بڑھادیا اور کلمہ شہادت پڑھ اسلام میں داخل ہو گیا۔

قبیلے میں واپسی[ترمیم]

" پھر میں بہت دنوں تک مکہ میں ٹھہرا رہا۔ اس دوران مَیں نے اسلام کی تعلیمات کو حاصل کیا اور جتنا ممکن ہوا قرآن حفظ کیا۔ پھر جب میں نے اپنے قبیلے کی طرف لوٹنے کا رادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول میں اپنی قوم کا سردار ہوں۔ وہاں میری باتیں مانی جاتی ہیں۔ اب میں واپس جا کر انہیں اسلام کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے کوئی ایسی نشانی عطا فرما دے جو میری دعوت کے لیے ممد و معاون ثابت ہو، تو رسول اللہ نے دعا کی: "اَللّٰھُم اجعَل لَہ اَیَۃ" "خدایا طفیل کو کوئی نشانی مرحمت فرمادے" اس کے بعد میں اپنے قبیلے کی طرف چل پڑا۔ یہاں تک کہ جب میں ان کی بستی کے قریب ایک اونچی جگہ پہنچاتو میری دونوں آنکھوں کے درمیاں چراغ جیسی ایک روشنی پیدا ہو گئی۔ یہ دیکھ کر میں نے دعا کی کہ خدایا: اس کو چہرے کے علاوہ کسی دوسری جگہ منتقل کر دے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس کو دیکھ کر سمجھیں گے کہ یہ کوئی سزا ہے جو مجھے اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑنے کے جرم میں ملی ہے۔ تب وہ روشنی وہاں سے منتقل ہوکر میری لاٹھی کے سرے پر چمکتی ہوئی لوگوں کوایک معلق قندیل کی طرح نظر آ رہی تھی۔ جب نیچے اتر کر اپنے قبیلے میں پہنچا تو میرے والد صاحب جو بہت ضعیف ہوچکے تھے میرے پاس آئے میں نے ان سے کہا کہ: "ابا! مجھ سے پرے ہٹ جائیے، اب آپ سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا نہ میں آپ کا ہوں نہ آپ میرے ہیں" "بیٹے تم یہ کیا کہہ رہے ہو"؟والد صاحب نے کہا۔ "میں مسلمان ہوچکا ہوں اور میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی پیروی اختیار کرلی ہے " میں نے جواب دیا۔ "بیٹے تم نے جو دین اختیار کیا ہے میں بھی اس کو اپناتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: "تب آپ جا کر پہلے غسل کر لیجئے اور اپنے کپڑے پاک کر کے تشریف لائیے تاکہ میں آپ کو وہ دین سکھا دوں جس کو میں نے اختیار کیا ہے " میں نے عرض کیا۔ پھروہ اٹھے، جاکر غسل کیا اور اپنے کپڑے پاک کرکے میرے پاس آئے۔ میں نے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اور انہوں نے بخوشی اسے قبول کر لیا۔ پھر میری بیوی میرے پاس آئی، میں نے اس سے کہا کہ " مجھ سے دور رہو، اب میرا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں" میرے والدین آپ پرفدا ہوں، یہ کیوں؟ اس نے بڑی حیرت سے پوچھا۔ میں نے کہا کہ اسلام نے میرے اور تمہارے درمیان جدائی کی وسیع خلیج حائل کردی ہے۔ میں نے اسلام قبول کر کے دین محمد کی پیروی اختیار کر لی ہے۔ اس نے کہا کہ " جو دین آپ کا ہے وہی دین میرا بھی ہے " میں نے اس سے کہا کہ " جاؤ" جا کر ذوشریٰ کے چشمے میں غسل کر کے پاک ہولو" (ذوشریٰ قبیلہ دوس کے بت کانام تھا جس کے پاس وہ چشمہ تھا جو پہاڑ کی بلندی سے گرتا تھا) اس نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ کو ذو شریٰ کی طرف سے بچوں کو کسی نقصان کا اندیشہ ہے کہ مجھے اس چشمہ میں غسل کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ تباہی ہو تمہارے اور ذو شریٰ کے لیے، میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ لوگوں کی نظروں سے دور جا کر وہاں غسل کر لو۔ میں تم کو اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ وہ حقیر و بے جان پتھر ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا" اس کے بعد وہ گئی، غسل کیا اور پھر میرے پاس آئی تو میں نے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جس کو اس نے بلا چون و چرا قبول کر لیا۔ پھر میں نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر ابوہریرہ کے سوا سب نے اس کو قبول کر نے میں دیر کی" طفیل اس دلچسپ کہانی کو نئے موڑ پر لاتے ہیں۔

ابو ہریرہ کا ایمان لانا[ترمیم]

" پھر میں ابوہریرہ کو ساتھ لے کر مکہ آیا۔ جب بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ "طفیل تمہارے پیچھے تمہارے قبیلے کا کیا حال ہے؟میں نے عرض کیا کہ ان کے دلوں پر دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں جو حق کے دیدار میں مانع ہیں۔ وہ لوگ کفر شدید میں مبتلا ہیں۔ ان کے اوپر سرکشی اور نافرمانی کی کیفیت مسلط ہے" یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیے۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھ کر مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے قبیلے والوں کے حق میں بددعا فرمائیں گے اور وہ تباہ و برباد ہوجائیں گے تو بے ساختہ میری زبان سے نکل گیا۔ "آہ میری قوم" لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرنے کی بجائے فرما رہے تھے: اَللّٰھُمَّ اھدِ دَوسا۔۔۔۔ اَللّٰھُم اھدِ دَوساً۔۔۔۔۔ اللّٰھُم اھدِ دَوساً خدایا قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔۔۔ خدایا قبیلہ دوس کو ہدایت دے۔۔۔۔ پھر آپ نے طفیل کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا کہ "اپنے قبیلہ میں جاؤ، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرو" پھر میں مستقل طور پر قبیلہ دوس کے علاقے میں رہ کر انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا رہا۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور یکے بعد دیگرے بدر،احد اور خندق کے معرکے گزر گئے اور جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہواتو اس وقت اس وقت میرے ساتھ قبیلہ دوس کے اسّی گھرانے تھے جو اسلام قبول کر کے اس کی تعلیمات سے آراستہ ہوچکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور مسلمانوں کے ساتھ خیبر کے مال غنیمت میں سے ہم لوگوں کو بھی حصہ عنایت فرمایا۔ ہم نے عرض کیا کہ " اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہم لوگوں کو ہر غزوہ میں اپنے لشکر کے میمنہ پر مقرر فرمایئے اور ہمارا شعار "مبرور" مقرر فرما دیجیئے" طفیل اپنی داستان کے آخری حصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ " اس کے بعد میں برابر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ پر فتح عنایت فرمائی۔ فتح مکہ کے بعد میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیاکہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے عمروابن حممہ کے بت ذوالکفین کو جلانے کی مہم پر بھیج دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجازت دے دی۔ میں اپنے قبیلے کا ایک دستہ لے کر روانہ ہوا۔ جب اس کے پاس پہنچ کر اسے نذر آتش کرنا چاہا تو بہت سے مرد عورتیں اور بچے میرے گرد جمع ہو گئے۔ وہ اس بات کے منتظر تھے کہ اگر میں نے ذوالکفین کوکوئی نقصان پہنچایا تو آسمان سے بجلی گر کر مجھے ہلاک کر دے گی۔ لیکن میں اس کے پرستاروں کے سامنے ہی اس کی طرف بڑھا اوریہ کہتے ہوئے اس کو نذر آتش کر دیا: "یَا ذالکفین لَستُ مِِن عُبادک میلادُنا اَقدم مِن میلادِک اِنی حَشَوت النار فِی فوادک" "ذوالکفین میں تیرے پرستاروں میں سے نہیں ہوں،ہماری پیدائش تیری پیدائش سے مقدم ہے، میں نے تیرے دل میں آگ بھر دی ہے" اور اس بت کے آگ میں بھسم ہوجانے کے ساتھ ہی قبیلہ دوس میں شرک کے باقی ماندہ آثار بھی جل کر خاکستر ہو گئے اور پورا قبیلہ مشرف بہ اسلام ہو گیا" طفیل بن عمرو اس کے بعد ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر صدیق خلیفہ ہوئے تو طفیل بن عمرو نے اپنے آپ کو، اپنی تلوار کو اور اپنے لڑکے کوخلیفہ کی اطاعت کے لیے وقف کر دیا اور جب مرتدین اور مدعیان نبوت کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا تو طفیل بن عمرو مسیلمہ کذاب سے جنگ کے لیے جانے والی فوج کے ہراول میں شامل ہو گئے۔

خواب اور اس کی تعبیر[ترمیم]

یمامہ جاتے ہوئے راستے میں انہوں نے ایک خواب دیکھا۔ انہوں نے اپنے رفقا سفر سے کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے تم اس کی تعبیر بیان کرو۔ ساتھیوں نے خواب کی تفصیل دریافت کی۔ "میں نے دیکھا کہ میرا سر مونڈھ دیا گیا ہے،میرے منہ سے ایک پرندہ نکلا، ایک عورت نے مجھے اپنے پیٹ میں داخل کر لیا اور یہ کہ میرا بیٹا عمرو بڑی تیزی سے میرے پیچھے آ رہا ہے۔ مگر میرے اور اس کے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی کردی گئی اور وہ میرے ساتھ اس میں داخل ہونے سے رہ گیا" ساتھیوں نے کہا کہ آپ کا یہ خواب بہت اچھاہے" طفیل نے کہا میں نے اپنے طور پر اس خواب کی یہ تعبیر کی ہے۔ "سر مونڈے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کاٹا جائے گا اور پرندہ جومنہ کے راستے سے نکا تو اس سے مراد میری روح ہے اور عورت جس نے مجھے اپنے پیٹ میں داخل کیا، اس سے مراد میری قبر ہے جس میں میں دفن کیا جاوں گا۔ امید ہے کہ مجھے شہادت نصیب ہوگی اور میرے بیٹے کے میراپیچھا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ بھی شہادت کی طلب میں میرا ساتھ دے گا مگر وہ اسے کچھ دنوں کے بعد حاصل کرسکے گا"

شہادت[ترمیم]

معرکہ یمامہ میں صحابی جلیل طفیل بن عمرو نے زبردست داد شجاعت دی۔ یہاں تک کہ وہ زخمی ہوکر گر گئے اور زخموں کی تاب نہ لا کر نعمت شہادت سے بہرہ ور ہوئے مگر ان کے صاحبزادے عمرو بن طفیل برابر جنگ میں مصروف رہے۔ یہاں تک زخموں سے نڈھال ہو گئے اور ان کا دایاں ہاتھ کٹ کر گر گیا اور وہ اپنے و الد اور اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کو یمامہ کی سرزمین پر چھوڑ کر مدینہ واپس آ گئے۔ عمر بن خطاب کے دور خلافت میں ایک بارعمرو بن طفیل ان کی خدمت میں باریا ب ہوئے۔ اسی وقت عمر کے لیے کھانا لایا گیا۔ مجلس میں کچھ اور لوگ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سب کو کھانے کے لیے بلایا مگر عمرو بن طفیل کھانے میں شریک نہیں ہوئے۔ وہ کنارے ہٹ گئے تھے۔ عمر نے ان سے پوچھا کہ کیابات ہے تم کھانے میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟شاید تم اپنے کٹے ہوئے ہاتھ پر ندامت محسوس کر رہے ہو اور کھانے میں شریک ہونے سے جھجکتے ہو۔ انہوں نے کہا جی ہاں امیر المومنین یہ سن کر عمر نے کہا کہ " خدا کی قسم جب تک تم اپنا کٹا ہوا ہاتھ اس کھانے میں نہیں ڈالوگے میں اس کوچکھ نہیں سکتا۔ خدا کی قسم اہل مجلس میں تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جس کا کوئی عضو جنت میں داخل ہو"۔ عمروبن طفیل جب سے اپنے والد محترم سے جدا ہوئے تھے برابر اس خواب کی تعبیر کی جستجو میں لگے رہے یہاں تک کہ جب جنگ یرموک کا موقع آیا تو اس میں بڑے شوق سے شریک ہوئے بڑی بے جگری سے لڑے یہاں تک کہ اس دولت شہادت سے سرفراز ہو گئے۔ جس کی تمنا ان کے والد نے ان کے دل میں پید اکی تھی۔ اللہ تعالیٰ طفیل بن عمرو دوسی پر رحم فرمائے۔ وہ شہید ہیں اور شہید کے باپ ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرت النبی جلد1 حصہ دوم صفحہ380 شبلی نعمانی ادارہ اسلامیات کراچی