نبوت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مضامین بسلسلہ

اسلامی انبیاء
توسيط
قرآن میں مذکور انبیاء

رسل وانبیاء

آدم·ادریس
نوح·ہود·صالح
ابراہیم·لوط
اسماعیل · اسحاق
یعقوب·یوسف
ایوب
شعیب · موسیٰ ·ہارون
یوشع بن نون
ذو الکفل · داؤد · سلیمان · الیاس
الیسع · یونس
زکریا · یحییٰ
عيسىٰ ابن مريم
محمد بن عبد الله

نبوت تمام ادیان الہی کے بنیادی عقائد میں سے ہے ۔اسلامی اعقائد میں ساسا یک نید توبن توبیکیک یک یک میں سے شمار کیا جاتا ہےاور اس کا اعتقاد رکھنا مسلمان کی شرائط میں سے ہے ۔قران یا سنت نبوی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور دوسرے پیغمبروں کو "پیامبران الہی" کہا جاتا ہے ۔حضرت آدم ؑ سے نبوت کا آغاز ہوا اور قران کی تصریح کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم ہوئی ہے نیز اس عقیدے میں اہل سنت اور شیعہ ایک جیسا اعتقاد رکھتے ہیں۔

نبوت کا معنی[ترمیم]

لغوی معنی[ترمیم]

"نبا" یا "نبو" لفظ "نبوت" کی اصل ہے ۔عربی زبان میں "نبا" یا "نبو" درج ذیل معانی کیلئے استعمال ہوتے ہیں:۔ خبر دینے والا[1] ، بلند مقام[2] ، کسی جگہ سے نکلنا[3] ، واضح راستہ[4]،مخفی آواز[5]

رسالت"ر س ل" کے مادے سے اسم مصدر[6] ہے اور پیام ، کتاب، پیغمبری،وہ جسے ذمہ داری سونپی گئی ہو اور بھیجنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے[7]۔اس کی جمع رسائل[8] اور رسالات[9] آتی ہے ۔

رسولبھی "ر س ل" کے مادے سے مصدر ہے کہ جس کا معنی "آرام کے ساتھ اٹھنا" ہے۔دینی اصطلاح میں احکام کی تبلیغ کیلئے پیام لانے والے اور بھیجے ہوئے کو کہا جاتا ہے[10] اور اسکی جانب مطالب وحی کئے گئے ہوتے ہیں[11]۔

خداوند تعالٰی نے اپنی ھدایت کا پیغام انبیاء اور رسل کے ذریعہ بھیجا کائنات میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء آئے جن میں سب سے پہلے حضرت آدم اور سب سے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ اور انکے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔

  1. ابن منظور ،لسان العرب ج1 ص 162۔
  2. طریحی،مجمع البحرین ج1 ص405۔
  3. فیومی،مصباح المنیر، ج2 ص591۔
  4. خلیل بن احمد ، العین،ج8 ص382۔
  5. جوہری،قاموس ج1ص74۔
  6. ابن منظور، لسان العربج11 ص283
  7. دہخدا،لغتنامہ دہخداج7 ص10584۔
  8. خلیل بن احمد ۔ العین،ج7 ص341۔
  9. خاتمی،فرہنگ علم کلام ج1 ص121
  10. جرجانی، تعریفات،49۔
  11. مؤلفین کا گروہ،159۔