ادریس علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ادریس علیہ السلام
مکمل نام ادریس نبی
وجۂ وفات طبعی
والد کا نام یارد بن مھلا‏‏‏‏ئیل
والدہ کا نام برکانہ
آسمانی کتب صحیفۂ ادریس
آسمانی صحائف صحیفۂ ادریس
انبیاء میں شمار تیسرے نبی تھے
پیشرو نبی شیث علیہ السلام
جانشین نبی نوح علیہ السلام


لہرنصھرا3ھ.png

قرآن مجید کی دو سورتوں میں آپ کا ذکر آیا ہے۔ سورۃ مریم "سورہ مریم" آیہ 55 میں خدا نے آپ کو سچا نبی کہا ہے۔ سورہ الانبیا آیہ 86.85 میں اسماعیل اور ذوالکفل علیہ سلام کے ساتھ آپ کو بھی صبر والا اور نیک بخت کہا گیا ہے۔ بائبل کے مطابق آپ کا نام ضوک تھا اور آپ یارد کے بیٹے تھے۔ آپ نے 365برس کی عمر پائی اور پھر مع جسم خاکی آسمان پر اٹھا لیے گئے ۔ حضرت ادریس کی شخصیت ، زمانے اور وطن کے بارے میں مورخین میں اختلاف ہے۔

خاندان و نسب[ترمیم]

آپ(ع) حضرت شیث کے بیٹے انوشکی نسل میں سے ہیں۔آپ کے والد کا نام یارد اور والدہ کا نام برکانہ تھا۔آپ کی بیوی کا نام عادنہتھا۔آپ کا ایک بیٹا بھی تھا جس کا نام متوشالخ تھا ۔ ادریس(ع) حضرت نوح(ع) کے پردادا بھی ہیں۔

سلسلۂ نسب[ترمیم]

آپ کا نسب یہ ہے:-

" ادریس بن یارد بن مھلائیل بن قینان بن انوش بن شیث(ع) بن آدم(علیہ السلام)۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت عراق کے شہر بابل میں ہوئی۔

دورِ نبوت[ترمیم]

آپ حضرت آدم کے 500 سال بعد اس دنیا میں تشریف لاۓ آپ سے پہلے حضرت شیث علیہ السلام نبوت کے منسب پر سرفراز تھے نبوت ملنے سے پہلےآپ شیث(ع) کے دین کو مانتے تھے آپ(ع) پر30 صحیفے نازل ہوۓ۔ آپ کے دور میں انسان جہالت اور بے ادبی میں اتنے گر گۓ تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر آگ کی عبادت کرنے لگے تھے۔ آپ نے دنیا میں آکر لوگوں کو ہدایت کا رستہ دکھایا اور ادب و علم بھی سکھایا لیکن آپ کی قوم نے آپ کی ایک نہ سنی اور صرف کچھ لوگ اپ پر ایمان لا‌ۓ اس پر آپ نہایت تنگ اکر خود اور جو ایمان لاۓ انہیں لےکر وہاں سے ہجرت کر گئے پھر اپ کے ساتھیوں میں سے چند نے آپ سے سوال کیا:- اے اللہ کے نبی ادریس اگر ہم نےبابل کو چھوڑ دیا تو ہمیں ایسی جگہ کہاں ملے گی؟ ادریس(ع) نے فرمایا:- 'اگر ہم اللہ سے اُمید رکھیں تو وہ ہمیں سب کچھ عطا کرے گا۔'آخرکار آپ مصر پہنچے (اس دور میں مصر ایک خوبصورت جگہ تھی ) آپ نے وہاں پہنچتے ہی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوۓ سبحان اللہ کہا اور آپ وہیں رہنے لگے اور وہاں اپنا علم پھیلایا آپ وہ پہلے انسان تھے جس نے قلم کے ذریعے لکھا اور لوگوں کو بھی سکھایا ۔پھر آپ نے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آۓ تھےبابل میں برائی اور برے لوگوں کے ساتھ جنگ کی اور قتح یاب ہوۓ اور دنیا سے ایک دفعہ برائی کا نام و نشان مٹا دیا۔۔۔۔

ادریس نام کا مطلب[ترمیم]

آپ کا اصل نام اخنوحتھا آپ کا لقب ادریسہے آپ کو یہ لقب اس لیے ملا کیونکہ دنیا میں آپ نے سب سے پہلے لوگوں کو لکھنے پڑھنے کا درس دیا اسی بنا پر لوگ آپ کو ادریس یعنی درس دینے والا کہہ کر پکارنے لگے۔

قرآن میں ذکر[ترمیم]

قرآن میں آپ کا ذکر دو مرتبہ آیا ہے۔

  1. سورۃ مریم ایت 55،56،57
  2. سورۃ الانبیاء ایت 85،86

حلیہ[ترمیم]

چند بزرگان دین نے آپ کا حلیہ بیان کیا ہے وہ درج ہے

  1. عمدہ اوصاف۔
  2. پورا قد و قامت۔
  3. خوبصورت۔
  4. خوبرو۔
  5. گھنی داڑھی۔
  6. چوڑے کندھے۔
  7. مضبوط ہڈیاں۔
  8. دبلے پتلے۔
  9. سنجیدہ۔
  10. سرمگی چمکدار آنکھیں۔
  11. گفتگو باوقار۔
  12. خاموشی پسند۔
  13. رستہ چلتے ہوۓ نظر نیچے۔
  14. غصے میں غضب ناک
  15. بات کرتے ہوۓ شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے عادی۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات سے کچھ دیر پہلے اللہ نے اپ سے فرمایا کہ اب سے اپ جتنی دیر زندہ رہیں گے دنیا میں جتنے انسان بھی کوئی نیکی کریں گے ان کا ادھا ثواب اپ کو جاۓ گا اس پر اپ بےحد خوش ہوۓ ۔ اتنے میں ایک فرشتے نے اپ کو اکر خبر دی کہ عزرائیل اپ کی روح قبض کرنے ارہے ہیں جس پر اپ حیران ہوگۓ اور اس فرشتے کے پروں پر بیٹھ کر اللہ سے ملنے چل پڑے اپ نے پہلا ، دوسرا اور تیسرا آسمان پار کر لیا اور جب چوتھے آسمان پر پہنچے تو وہاں اپ کو عزرائیل ملے اپنے اللہ سے اور زندگی مانگی جس پر اللہ نے نہ کہا پھر اپ اتنی زندگی پر ہی راضی ہوگۓ اور پھر عزرائیل نے اپ سے اپ کی روح قبض کرنے کی اجازت لی ادریس(علیہ السلام) نے عزرائیل کو اجازت نہ دیتے ہوۓ اللہ سے دعا کی کہ اپ کی روح عزرائیل کی بجاۓ اللہ خود قبض کرے پھر اللہ نے خود ادریس(ع) کی روح قبض کی اور اپ کی خواہش پوری کی۔ پ نے 365 سال کی عمر پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]