یوشع بن نون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یوشع بن نون
Joshua
Joshua Renewing the Covenant with Israel (Bible Card).jpg
یوشع عليه السلام.png بنی اسرائیلیوں سے عہد لیتے ہوئے۔
پیغمبر
پیدائش 1350 ق م
جدید مملکت مصر
وفات کنعان
احترام در یہودیت، مسیحیت، اسلام
اہم روضہ یشوع کا مزار
تہوار
منسوب خصوصیات کالب بن یوفنا کے ساتھ دیکھا گیا جب اپ دونوں کنعان سے باہر انگور لا رہے تھے۔

یشوع یا یوشع بن نون (/ˈɒʃə/) یا جاہیشوا (عبرانی: יְהוֹשֻׁעַ‎‎ یاہوشوآ یا عبرانی: יֵשׁוּעַ‎‎ یشوعوا; آرامی: ܝܫܘܥایشا; یونانی: Ἰησοῦς ،عربی: يوشع بن نون، لاطینی: یوسوے، یوشع ابن نون، ترکی: یوشع)، ایک تورات میں مذکور شخصیت ہے، جسے بطور جاسوس پیش کیا گیا ہے (گنتی 13–14) اور کئی مقامات پر موسی کے مددگار کے طور پر ۔[3] یوشع، اسلام کے مطابق، موسیٰ (مذہبی شخصیت)کے بھانجے اورجانشین تھے [4] اور ایک جنگجو سورما تھے، نڈر مگر دل میں خوف خدا رکھتے تھے۔ کنعان کے حالات دیکھنے کے لیے جانے والوں میں حضرت یشوع بھی شامل تھے مگر واپس آ کر جہاد کرنے سے ڈرے نہیں۔ آپ کو حضرت موسیٰ نے اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اس جانشین مقرر کرنے کا ذکر کتاب استثنا کے کے باب 31 میں ہے۔اُن کا عہد چودہویں صدی قبل مسیح کا ہے۔حضرت یشوع سے عہد نامہ قدیم کی ایک کتاب یشوع بھی منسوب ہے۔
قرآن کریم میں بغیر نام لیے آپ کا ذکر سورۃ الکہف کی آیت 60 اور 62 میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے نوجوان یا شاگرد سے مخاطب ہوئے۔ یہ نوجوان اور شاگرد حضرت یشوع علیہ السلام ہی تھے۔

اسلام میں[ترمیم]

نام میں اختلاف[ترمیم]

ان کا نام مسلمانوں کے ہاں یوشع بن نون جبکہ مسیحی ان کا نام یشوع بن نون لکھتے ہیں۔[5] صحیح بخاری صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں سورہ الکہف کی آیت 60 کے ضمن یوشع بن نون لکھا ہے وَانْطَلَقَ مَعَهُ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ [6]

نسب یوشع بن نون[ترمیم]

يوشع بن نون بن أفراثيم يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ وَأَهْلُ الْكِتَابِ يَقُولُونَ يُوشَعُ ابن عَمِّ هُودٍ۔[7]

جانشین موسیٰ[ترمیم]

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات اقدس کے بعد آپ کے خلیفہ اول حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ہوئے جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی۔كَانَ نَبِيُّهُمُ الَّذِي بَعْدَ مُوسَى يُوشَعُ بْنُ نُونٍ[8]

سمندر میں گھوڑا ڈالنا[ترمیم]

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب سمندر کے کنارے پہنچے تو ان کے اصحاب میں سے یوشع بن نون نے کہا : اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کے رب نے کس طرف سے نکلنے کا حکم دیا تھا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے سامنے سمندر کی طرف اشارہ کیا۔ یوشع نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا حتی کہ جب وہ سمندر کی گہرائی میں پہنچا تو پھر لوٹ آئے اور پھر پوچھا کہ آپ کے رب نے کہاں سے نکلنے کا حکم دیا تھا ؟ تین اس طرح ہوا‘ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی کی کہ اپنے عصا کو سمندر پر ماریں‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر عصا مارا تو وہ بارہ حصوں میں منقسم ہو کر پھٹ گیا حتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنواسرائیل کے بارہ گروہوں کے ساتھ اس سے پار گزر گئے۔[9]

سورج کا ٹھہرنا[ترمیم]

کفل حارس، فلسطین میں یوشع بن نون کا مقبرہ
اردن میں یوشع بن نون کا مقبرہ

بدر الدین عینی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :وہ نبی حضرتِ یوشع بن نون تھے۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ کے دنیا سے پردہ فرما نے کے چالیس سال بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُنہیں مبعوث فرمایا ،انہوں نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نبی ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے قوم جَبَّارِین سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے۔ بنی اسرائیل نے ان کی تصدیق کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کی ۔پھر انہوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اُرَیْحا ( نامی بستی )کا قَصد فرمایا ، اُن کے پاس تابوتِ میثاق بھی تھا انہوں نے چھ مہینے تک اس بستی کا احاطہ کئے رکھا ، ساتویں مہینے اس بستی کی دیواریں گرانے میں کامیاب ہوئے، توانہوں نے بستی میں داخل ہوکر قومِ جَبَّارِین سے جہاد شروع کر دیا۔ یہ جمعہ کا دن تھا ۔پورے دن جہاد ہوتا رہا لیکن ابھی جہاد مکمل نہ ہوا تھا ۔ قریب تھا کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہفتے کی رات شروع ہو جاتی ( ان کی شریعت میں ہفتے کو جہاد جائز نہ تھا۔ مرقاۃ، ج7، ص660) چنانچہ، حضرتِ سَیِّدُنا یوشع عَلَیْہِ السَّلَامکو خوف ہوا کہ کہیں اُن کی قوم عاجز نہ آجائے ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ سورج کو واپس لوٹا دے! انہوں نے سورج سے کہا: تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت پر مامور ہے اور میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا پابند ہوں ، یعنی تو غروب ہونے پر مامور ہے اور میں نماز پڑھنے پر یا غروب سے پہلے قتال کرنے پر مامور ہوں ، پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے لئے سورج کو ٹھہرادیا اور غروبِ آفتاب سے قبل انہیں فتح نصیب ہوگئی ۔[10]

مسیحیت میں[ترمیم]

عبرانیوں 10-4:8 کے کئی تراجم سے یشوع اور یسوع کی مشاہبت ثابت ہوتی ہیں اس میں فرق اتنا ہے یشوع نے انہیں (کنعان) آرام میں داخِل کِیا اور یسوع نے خُدا کی اُمّت کو “خدا کے آرام‘‘‘ میں داخل کیا۔ ابتدائی پادیوں کے نزدیک یشوع، یسوع کی ایک قسم ہیں۔[11]

یہودیت میں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

یوشع بن نون
پیشرو 
موسیٰ
بنی اسرائیل کے قاضی جانشین 
غتنی ایل

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (یونانی زبان میں) "Ὁ Ἅγιος Ἰησοῦς ὁ Δίκαιος"۔ Megas Synaxaristis۔
  2. "Righteous Joshua the son of Nun"، Orthodox Church in America
  3. Michael D. Coogan, "A Brief Introduction to the Old Testament" page 166-167, Oxford University Press, 2009
  4. تفسیر الطبری[مکمل حوالہ درکار]
  5. ar:یوشع بن نون
  6. بخاری، مسلم الترمذی[مکمل حوالہ درکار]
  7. البدایہ والنهایہ، مؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن كثير، ناشر: دار إحياء التراث العربی
  8. تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم ،مؤلف: أبو محمد عبد الرحمن الرازي ابن أبي حاتم ،ناشر: مكتبہ نزار مصطفى الباز - المملكۃ العربیہ السعودیہ
  9. جامع البيان فی تأويل القرآن، مؤلف: محمد بن جرير ابو جعفر الطبری، ناشر: مؤسسہ الرسالہ
  10. عمدۃ القاری، کتاب الخمس، باب قول النبی احلت لکم الغنائم، 10/453- 454، تحت الحدیث:3124
  11. Nichols، Aidan (2007). Lovely, Like Jerusalem: The Fulfillment of the Old Testament in Christ and the Church. Ignatius Press. صفحہ۔195. https://books.google.com/books?id=IOFRckxTgr8C&pg=PA195.