زید بن حارثہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تخطيط اسم زيد بن حارثة.png

سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے۔ آپ کو بچپن میں اغوا کر کے غلام بنا لیا گیا تھا۔ کئی ہاتھوں سے بکتے ہوئے آپ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ اس دوران آپ کے والد کو بھی آپ کی خبر پہنچ گئی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو منہ مانگی رقم کی آفر کر دی۔ آپ(s.a.w) نے فرمایا، "اگر زید تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میں کوئی رقم نہ لوں گا۔" زید نے اپنے والدین کی بجائے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا برتاؤ اپنے ملازموں کے ساتھ بھی کیسا ہوتا ہوگا۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے زید رضی اللہ عنہ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔

زید اور حضرت زینب[ترمیم]

جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے نبوت کا اعلان فرمایا تو سیدنا ابوبکر، علی اور خدیجہ رضی اللہ عنہم کے بعد آپ چوتھے شخص تھے جو ایمان لائے۔ طائف کے سفر میں زید حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب وہاں کے اوباشوں نے آپ پر سنگ باری کی تو زید نے یہ پتھر اپنے جسم پر روکے۔ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے آپ کی شادی اپنی پھوپھی زاد بہن زینب رضی اللہ عنہا سے کر دی تھی۔ ان میں نباہ نہ ہو سکا اور طلاق ہو گئی۔ دور جاہلیت کی یہ رسم تھی کہ منہ بولے بیٹوں کا معاملہ سگی اولاد کی طرح کیا جاتا اور ان کی طلاق یافتہ بیویوں سے نکاح حرام سمجھا جاتا۔ اس رسم کے بہت سے سنگین معاشرتی نتائج نکل رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کر لیں تاکہ اس رسم کا خاتمہ ہو۔ اسی تناظر میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا ذکر سورۃ احزاب میں آیا ہے۔

شہادت[ترمیم]

جنگ موتہ میں سیدنا زید رضی اللہ عنہ مسلم افواج کے کمانڈر تھے۔ آپ نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔

بیرونی ربط[ترمیم]

مزید تفصیل

حوالہ جات[ترمیم]