حباب بن منذر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حباب بن منذر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 591 (عمر 1429–1430 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حباب بن منذر ایک بہادر صحابی صاحب مشورہ اور شاعر تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

حباب نام، ابو عمر کنیت، قبیلہ خزرج سے ہیں،نسب نامہ یہ ہے حباب بن منذر بن جموع بن زید بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت سے قبل مسلمان ہوئے.

غزوات میں شرکت[ترمیم]

تمام غزوات میں شرکت کی،غزوۂ بدر میں قبیلہ خزرج کا علم ان کے پاس تھا، بدر کے قریب پہنچ کر آنحضرتﷺ نے ڈیرا ڈالا تو حباب نے عرض کیا یا رسول اللہ اس مقام پر اترنے کے لیے حکم خداوندی ہے یا آپ کی ذاتی رائے ہے،فرمایا میری رائے ہے،عرض کیا تو یہ موقع ٹھیک نہیں ہم کو پانی کے پاس اترنا چاہیے اور تمام کنوؤں پر قبضہ کرکے ایک حوض تیار کرنا چاہیے؛ تاکہ ہمارے لشکر میں پانی کی قلت نہ ہو اور دشمن شدت تشنگی سے پریشان ہو جائے،آنحضرتﷺ نے فرمایا حباب صحیح کہتے ہیں؛چنانچہ تمام لشکر کو لے کر چاہ بدر پر نزول اجلال ہوا ۔

  • غزوہ احد میں قریش اس سرو سامان سے نکلے تھے کہ مدینہ ہل گیا تھا ،ذوالحلیفہ پہنچے تو آنحضرتﷺ نے دو جاسوس بھیجے اوران کے بعد حباب کو روانہ فرمایا انہوں نے تمام لشکر میں گھوم کر مختلف خبریں بہم پہنچائیں اور دشمن کی تعداد کا صحیح اندازہ کرکے آنحضرتﷺ کو خبردی۔
  • اس غزوہ میں بھی خزرج کا علم ان کے پاس تھا، بعض کا خیال ہے کہ سعد بن عبادہ علمبردار تھے ،غزوہ خیبر میں ایک حصہ کا اور حنین میں تمام خزرج کا علم انہی کو تفویض ہواتھا ،سقیفہ ساعدہ میں وہ سعد بن عبادہ کے سرگرم حامی تھے اوران کے خلیفہ بنانے پر مصر تھے ،اثنائے خطبہ میں ایک یہ فقرہ کہا تھا:
  • انا جذیلھا الملک وعذبقبھا المرجب
  • یعنی میں قوم کا معتمد ہوں اور لوگ میری رائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
  • اس کے بعد یہ رائے پیش کی کہ دو امیر ہوں،ایک انصاری اورایک مہاجری عمر فاروق نے برجستہ کہا،یہ ناممکن ہے ایک میان میں دو تلواریں ہوں۔

وفات[ترمیم]

عمر فاروق کے زمانۂ خلافت 20ھ 640ء میں فوت ہوئے،عمر 50 سال سے متجاوز تھی ،غزوہ بدر میں 33 برس کاسن تھا۔

حباب کی شاعری[ترمیم]

  • حباب شعر کہتے تھے،یہ شعرانہی کی طرف منسوب ہیں۔
  • الم تعلما اللہ دراببکما وما الناس الا اکمہ وبصیر
  • کیا تمہیں خبر نہیں تمہارے باپ کی بھلائی خدا کے لیے ہو کہ وہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں قدرتی نابینا اور ارباب بصر
  • بان واعد النبی محمد اسود لھا نی العالمین زئیر
  • چنانچہ ہم اورآنحضرتﷺ کے دشمن دونوں شیر ہیں جن کی گرج سے تمام عالم گونج اٹھا ہے
  • نصرنا اوینا النبی ومالہ سواومن اھراالتین نصیر
  • لیکن ہم کو یہ شرف ہے کہ ہم نے پیغمبر کو پناہ دی اور مدد کی اورہمارے سوا آپ کا کوئی مددگار نہیں ہے۔[1][2]

فضل وکمال[ترمیم]

حدیث میں ابو الطفیل عامر بن واثلہ ان کے شاگرد ہیں۔ شاعری عرب کا فطری جوہر ہے،حضرت حبابؓ بھی شعر کہتے تھے،یہ شعرانہی کی طرف منسوب ہیں۔ الم تعلما اللہ دراببکما وما الناس الا اکمہ وبصیر کیا تمہیں خبر نہیں تمہارے باپ کی بھلائی خدا کیلئے ہو کہ وہ لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں قدرتی نابینا اور ارباب بصر بان واعد النبی محمد اسود لھا نی العالمین زئیر چنانچہ ہم اورآنحضرتﷺ کے دشمن دونوں شیر ہیں جن کی گرج سے تمام عالم گونج اٹھا ہے۔

نصرنا اوینا النبی ومالہ سواومن اھراالتین نصیر لیکن ہم کو یہ شرف ہے کہ ہم نے پیغمبر کو پناہ دی اور مدد کی اورہمارے سوا آپ کا کوئی مددگار نہیں ہے خطبہ اچھا دیتے تھے اوراس میں فصاحت و بلاغت کے درے جوہر دیکھا تے تھے ،سقیفہ ساعدہ میں انہوں نے دو خطے دیئے تھے جن سے قوتِ تقریر اور زور بیان کا صحیح اندازہ ہوسکتا ہے،اس مفہوم کو کہ انصار چاہیں تو خلاف کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کسی بلیغ پیرایہ میں ادا کیا ہے۔ اما واللہ لئن شئتم لنعید نھا جذعۃ خلافت کو اونٹ سے تعبیر کرکے کہتے ہیں،کہ تم چاہو تو میں اس کو پانچ برس کا ایک بچہ بناسکتا ہوں۔ اسی طرح اپنی حیثیت اورذاتی وجاہت کو اس طرح بیان کرتے ہیں: انا جذیلھا الھلک وعذیقما المرجب! میں انصار کے خارشتی اونٹ کے بدن رگڑنے کا ستون اوران کے تناور درخت کا سدروئین ہوں۔ عرب میں جس اونٹ کے خارش نکلتی تھی صحتیابی کے لئے اس کو ایک لکڑی یا ستون سے باندھ دیتے تھے، جس سے وہ اپنا بدن رگڑ رگڑ کر اچھا ہوتا تھا، اسی طرح کھجور کے بہت بڑے درخت کے نیچے جس کے جھکنے کا خوف ہوتا تھا،ایک دیوار بنادیتے یا لکڑی گاڑدیتے تھے،تو درخت سیدھا رہتا تھا۔ حضرت حبابؓ نے اپنی ذمہ داری کو اسی لکڑی اوردیوار سے تشبیہ دی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. طبقات ابن سعد:8
  2. اسد الغابہ:1/27