شماس بن عثمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شماس بن عثمان بڑے خوبصورت مہاجر صحابی غزوہ بدر میں شریک تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

شماس نام ،والد کا نام عثمان،اور والدہ کا نام صفیہ تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے: شماس بن عثمان بن الشرید بن ہرمی بن عامر بن مخزوم القرشی المخزومی ان کا اصلی نام عثمان تھا، شماس اس لیے نام پڑا کہ ایک دفعہ ایام جاہلیت میں ایک نہایت حسین وجمیل نصرانی جس کا چہرہ آفتاب کی طرح چمکتا تھا مکہ آیا، لوگ اس کے غیر معمولی حسن وجمال پر سخت متعجب تھے، عتبہ بن ربیعہ نے(جو شماس کا ماموں تھا دعویٰ کیا کہ اس کے پاس اس سے زیادہ بہتر شماس یعنی رخ تاباں موجود ہے اور مقابلہ میں ابن عثمان کو پیش کیا، چنانچہ اس دن سے ان کا نام ہی شماس ہو گیا۔

اسلام[ترمیم]

شماس اوران کی والدہ صفیہ بنت ربیعہ نے بھی ابتدا ہی میں دعوتِ توحید پر صدائے لبیک بلند کیا تھا۔

دوہجرتیں[ترمیم]

مشرکین کے ظلم سے مجبور ہوکر راہی حبش ہوئے،صفیہ بھی ہمراہ تھیں، وہاں سے واپس آکر پھر مدینہ کی راہ لی اورمبشر بن عبد المنذرکے مہمان ہوئے، یہاں حنظلہ ابن ابی عامر انصاری سے مواخات ہوئی۔

غزوات[ترمیم]

غزوۂ بدرواُحد میں جانبازی سے لڑے معرکہ احد میں جب کہ اتفاقاً جنگ کا پانسا پلٹ گیا، غازیانِ اسلام کی فتح شکست سے بدل گئی اورصرف چند جان نثار میدان میں رہ گئے تو شماس بھی ان ہی پروانوں میں تھے جو شمع نبوت کے ارد گرد فداکاری کے جوہر دکھا رہے تھے، آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ میں شماس کے لیے "سپر" کے سوا کوئی تشبیہ نہیں پاتا، آپ چپ وراست جس طرف دیکھتے شماس ہی سربکف نظر آتے، غرض انہوں نے اپنے آپ کوحضرت محمد ﷺ کے لیے سپر بنادیا، یہاں تک کہ زخموں سے چورہوکر گر گئے، اختتامِ جنگ کے بعد دیکھا گیا تو دمِ واپسیں کے چند انفاس باقی تھے، آنحضرت ﷺ کے حکم سے مدینہ اٹھاکر لائے گئے، ام سلمہ ان کی تیمار داری پر مامور ہوئیں، چند دنوں بعد فوت ہوئے آنحضرت ﷺ نے ان کو اسی خونیں پیراہن کے ساتھ بغیر جنازہ اُحد کے گورِ شہیداں میں دفن کرنے کا حکم دیا،(اسد الغابہ :3/4) غرض چونتیس برس کی عمر میں سپرد خاک ہوئے ،[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ:3/375
  2. طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :176
  3. اصحاب بدر،صفحہ 95،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور