قیس بن سعد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قیس بن سعد
معلومات شخصیت
تاریخ وفات دہائی 670  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

قیس بن سعد سعد بن عبادہ کے بیٹے اور صحابی ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

قیس نام، ابو الفضل کنیت، خاندان ساعدہ (قبیلہ خزرج) اور سعد بن عبادہ سردار خزرج کے فرزند ارجمند ہیں، سلسلۂ نسب ،قیس بن سعد بن عبادہ بن ولیم بن حارثہ بن حزام بن خزیمہ بن ثعلبہ بن طریف بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج اکب رہے، والدۂ ماجدہ کا نام فکیہ بنت عبید بن ولیم تھا اور ان کے والد بزرگوار کی بنت عم تھیں۔ اجداد گرامی مدینہ کے مشہور مخیر اور رئیس اعظم تھے۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت نبوی سے قبل مذہب اسلام سے مشرف ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

تمام غزوات میں شرکت کی جیش الخبط میں کہ رجب میں ہوا تھا شریک تھے ،یہ غزوہ مسلمانوں کے لیے یکسر امتحان وآزمائش تھا 300 آدمیوں کو لے کر جن میں ابو بکر و عمر بھی تھے، ابو عبیدہ ساحل کی طرف بڑھے، وہاں 15روز قیام رہا زاد راہ ختم ہوچکا تھا، لوگ پتے جھاڑ جھاڑ کر کھاتے تھے، قیس نے یہ دیکھ کر اونٹ قرض لیے اور ان کو ذبح کرایا، اس طرح تین مرتبہ میں 9 اونٹ قرض لے کر ذبح کیے اور تما م لشکر کے قوت کا سامان کیا ابو عبید ہ نے یہ دیکھ کر زیادہ زیر بار ہو رہے ہیں اس سے منع کر دیا۔[1] غزوہ سے واپس ہوکر لوگوں نے آنحضرتﷺ سے ذکر کیا تو فرمایا کہ سخاوت اورفیاضی اس گھرانے کا خاصہ ہے ۔جنگ صفین میں علی المرتضیٰ کے ساتھ تھے ۔جنگ نہروان میں اپنی تمام قوم کے ساتھ شریک تھے،

وفات[ترمیم]

60ھ میں انتقال کیا، یہ امیر معاویہ کی حکومت کا اخیر زمانہ تھا ،کچھ دنوں بیمار رہے ،اہل مدینہ کثر ت سے ان کے قرضدار تھے،اس لیے عیادت کو آتے ہوئے شرماتے تھے ،انہوں نے اعلان کرادیا کہ جس پر جتنا قرض ہے میں معاف کرتا ہوں، اس خبر کے مشہور ہوتے ہی عبادت کے لیے تمام شہر امنڈآیا، قیس بالاخانہ پر تھے،لوگوں کی یہ کثرت ہوئی کہ آمدورفت میں کوٹھے کا زینہ ٹوٹ گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری:2625
  2. اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 840 حصہ ہفتم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور