عقبہ بن عامر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عقبہ بن عامر
(عربی میں: عقبة بن عامر الجهني ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
مقام پیدائش جزیرہ نما عرب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 678ء  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصر  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت راشدہ
سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ محمد بن عبداللہ  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عسکری قائد،  والی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ صفین  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ(وفات:58ھ) اصحاب صفہ میں شمار صحابی رسول ہیں۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مشرف باسلام ہوئے ۔غزوات نبوی کا معلوم نہیں کہ کس کس غزوہ میں شرکت کی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں شام کی فتوحات میں شامل تھے۔جنگ صفین میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے تھے۔سن 58ھ میں آپ نے وفات پائی ۔

نام و نسب[ترمیم]

عقبہ نام، ابوعمرو کنیت، سلسلۂ نسب یہ ہے، عقبہ بن عامر بن عبس بن عمرو بن عدی بن عمرو بن رفاعہ بن مودوعہ بن عدی بن غنم بن ربیعہ بن رشدان بن قیس بن جہینہ جہنی۔[1]

اسلام[ترمیم]

عقبہ آنحضرت کے مدینہ تشریف لانے کے بعد مشرف باسلام ہوئے،اسلام کا واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو عقبہ بکریاں چرا رہے تھے آپ کی تشریف آوری کی خبر سن کر بکریاں چھوڑ کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھ سے بیعت لیجئے،آنحضرت نے پوچھا بیعت عربیہ کرنا چاہتے ہو یا بیعت ہجرت کہا بیعت ہجرت؛چنانچہ بیعت کرکے مدینہ میں مقیم ہو گئے۔ [2] [3]

عہد خلفاء[ترمیم]

غزوات میں شرکت کا پتہ نہیں چلتا،عہدِ فاروقی میں شام کی فتوحات میں مجاہدانہ شریک ہوئے، دمشق کی فتح کا مژدہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس یہی لائے تھے،[4] جنگ صفین میں امیر معاویہ کے طرفدار تھے اور ان ہی کی حمایت میں لڑے،مصر پر تسلط کے بعد عتبہ ابن ابی سفیان کے بعد امیر معاویہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے انھوں نے ان کو وہاں کا امیر الخراج بنایا اور نماز کی امامت کا منصب بھی عطا کیا۔[5] 47ھ میں امیر معاویہ کے ایما سے روڈس پر حملہ کیا، لیکن جنگ کے دوران میں معزول کر دیے گئے اور ان کی جگہ مسلمہ کا تقرر ہوا، معزولی کے بعد جنگ سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی۔[6] [7]

وفات[ترمیم]

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ وفات کے بارہ میں مختلف روایتیں ہیں، بہ روایت صحیح 58ھ میں وفات پائی۔ [8]

فضل و کمال[ترمیم]

علم و فضل کے اعتبار سے حضرت عقبہؓ بن عامر ممتاز شخصیت رکھتے تھے، قرآن ، حدیث ، فقہ، فرائض اور شاعری سب میں امتیازی پایہ تھا، علامہ ذہبی لکھتے ہیں، عقبہؓ فقیہ ،کتاب اللہ کے قاری، فرائض کے ماہر، فصیح اللسان ،شاعر اور بلند مرتبہ شخص تھے۔ [9] قرآن کی تلاوت سے خاص ذوق تھا اور بڑے ذوق وشوق سے اس کی تعلیم حاصل کرتے تھے بعض بعض سورتیں خود زبان وحی والہام سے سیکھی تھیں ، ایک مرتبہ آنحضرت کے قدموں سے چمٹ گئے کہ یا رسول اللہ مجھ کو سورۂ ہود اور یوسف پڑھائیے، اس ذوق وشوق نے ان کو قرآن کا قاری بنادیا تھا، ایک قران انھوں نے خود مرتب کیا تھا، اس کی ترتیب عثمانی مصحف سے مختلف تھی، یہ نسخہ نویں صدی ہجری تک مصر میں موجود تھا، اوراس کے اخیر میں عقبہ بن عامر کے دست وقلم کی لکھی ہوئی یہ تحریر موجود تھی، یہ قرآن عقبہ بن عامر نے اپنے ہاتھوں سے لکھا۔ [10] [11]

حدیث[ترمیم]

احادیث نبوی سے بھی تہی دامن نہ تھے، ان کی مرویات کی مجموعی تعداد 55 ہے ان میں سے متفق علیہ ہیں اور ایک میں بخاری اور 7 میں مسلم منفرد ہیں،[12]گو ان کے علم کے مقابلہ میں یہ تعداد بہت کم ہے؛ لیکن اکابر صحابہ تک بڑی بڑی مسافت طے کرکے ان سے استفادہ کے لیے آتے تھے،حضرت ابو ایوبؓ صرف ایک حدیث سننے کے لیے خاص طور پر مدینہ سے مصر آئے اور سن کر فورا ًواپس گئے،[13] حضرت ابن عباسؓ جو حبرالامہ تھے، عقبہؓ سے خوشہ چینی کرتے تھے،ان کے تلامذہ کی تعداد کافی تھی، ان میں ابوامامہ قیس بن ابی حازم جبیر بن نضیر العجہ بن عبد اللہ جہنی،وخین بن عامر،ربعی بن خراشی ،عبد الرحمن ابن شمامہ، علی بن رباح قابل ذکر ہیں،[14] فقہ میں بھی آپ کو یدطولی حاصل تھا۔ [15]

اصحاب صفہ[ترمیم]

حضرت عقبہ ابن عامر اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اصحاب صفہ میں سے تھے۔ ایک بار سیدناعقبہ بن عامر کو بکری کے چھ ماہ کے بچہ کی قربانی کی اجازت عطا فرمادی [16] آپ سے چند صحابہ اور بہت تابعین نے احادیث نقل کیں[17] [18]

شاعری[ترمیم]

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مذہبی علوم کے علاوہ عرب کے دوسرے مروجہ علوم خطابت و شاعری میں بھی دخل تھا خود بھی خوش گوشاعر تھے۔[19]

اخلاق[ترمیم]

عقبہؓ گو بلند پایہ صحابی تھی؛لیکن مذہبی ذمہ داری سے بہت گھبراتے تھے وہ اگرچہ ایک زمانہ میں مصر میں امامت کے عہدہ پر رہ چکے تھے؛لیکن پھر اس میں احتیاط کرنے لگے تھے ،ابو علی ہمدانی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں لوگوں نے درخواست کی کہ آپ آنحضرت کے صحابی ہیں، اس لیے آپ نماز پڑھائیے ، فرمایا نہیں میں نے آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے جس نے امامت کی اور صحیح وقت پر پورے شرائط کے ساتھ نماز پڑھائی تو امام اور مقتدی دونوں کے لیے باعث اجر ہے اور اگر اس میں کوئی فروگذاشت ہوئی تو امام ماخوذ ہوگا اور مقتدی بری الذمہ ہوں گے۔ [20] [21]

حرمت رسول[ترمیم]

آقائے نامدار کی خدمت گزاری ان کا خاص مشغلہ تھا؛ چنانچہ سفر میں آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کھینچنے کی خدمت ان ہی کے متعلق ہوتی تھی، کان صاحب بغلۃ رسول اللہ ﷺ الشھباء اس خدمت و رفاقت کے طفیل میں ان کو بڑے قیمتی دینی فوائد حاصل ہوتے تھے،ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سفر میں آنحضرت کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا میں سواری اقدس کھینچ رہا تھا، آپ نے فرمایا،عقبہ! میں تم کو دو بہترین سورتیں پڑھنے کے قابل بتاتا ہوں، میں نے عرض کیا، ارشاد فرمایے، فرمایا :" قل اعوذ برب الفلق" اور "قل اعوذ برب الناس"[22] [23]

احترام نبوی[ترمیم]

ذات نبوی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتنا احترام ملحوظ تھا کہ آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر بیٹھنا بھی سوء ادب سمجھتے تھے، ایک مرتبہ سفر میں مفوضہ خدمت انجام دے رہے تھے،کہ آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری بٹھادی اورخود اتر کر فرمایا عقبہ! اب تم سوار ہولو،عرض کیا سبحان اللہ یا رسول اللہ! میں اورآپ کی سواری پر سوار ہوں!دوبارہ پھر آپ نے حکم دیا، انھوں نے وہی عرض کیا ،جب زیادہ اصرار بڑھا تو" الامرفوق الادب "کے خیال سے بیٹھ گئے اور سرکار دو عالم ﷺ ان کی جگہ سواری کھینچنے لگے۔[24] [25]

عیب پوشی[ترمیم]

عیب پوشی عقبہ بن عامر کا شیوہ تھا،کسی کی برائی کا اعلان کرنا بہت برا سمجھتے تھے،ایک مرتبہ غلام نے آکر عرض کیا کہ ہمارے ہمسائے شراب پیتے ہیں،فرمایا: جانے دو کسی پر ظاہر نہ کرنا، اس نے کہا میں محتسب کو خبر کردوں گا، فرمایا: بڑے افسوس کا مقام ہے، جانے بھی دو میں نے آنحضرت سے سنا ہے جس نے کسی کی عیب پوشی کی، اس نے گویا مردہ کو زندہ کیا۔ [26] [27]

سپاہیانہ فنون سے ذوق[ترمیم]

سپاہیانہ فنون سے بڑی دلچسپی تھی،تیراندازی سے بڑا ذوق تھا اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے،ایک مرتبہ خالد بن ولیدؓ کو بلا کر یہ حدیث سنائی کہ میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالی ایک تیر کے بدلہ میں تین اشخاص کو جنت میں داخل کرتا ہے، اس کے بنانے والے کو اللہ کی راہ میں اس کے لیے جانے والے کو اور چلانے والے کو حضور نے یہ بھی فرمایا کہ تمام کھیلوں میں صرف تین کھیل جائز ہیں، تیراندازی ،گھوڑے کی تادیب اور اپنی بیوی سے ہنسی دل لگی کرنا، جس نے تیراندازی سیکھ کر بھلا دی اس نے نعمت کھو دی۔ [28] اس دلچسپی کی بنا پر ان کے پاس اسلحہ کا بڑا ذخیرہ تھا ؛ چنانچہ وفات کے وقت ان کے پاس ستر کمانیں تھیں، دوسرے لوازم اس کے علاوہ تھے،یہ سارا ذخیرہ اللہ کی راہ میں وقف کر گئے۔ [29]

سادگی[ترمیم]

حضرت عقبہؓ بن عامر گو فارغ البال تھے، غلام بھی پاس تھا؛لیکن غایت سادگی کی بنا پر اپنا کام آپ کرتے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ:3/423
  2. بن عساكر (1995)۔ تاريخ دمشق۔ 40۔ دار الفكر۔ صفحہ: 486 
  3. الوافي بالوفيات - الصفدي - ج 20 - الصفحة 62 آرکائیو شدہ 2018-10-26 بذریعہ وے بیک مشین
  4. اصابہ:2/489
  5. کتاب الولاۃ کندی:37
  6. ابن سعد،جزو4،قسم2،تذکرہ ابن عامر
  7. الأعلام - خير الدين الزركلي - ج 4 - الصفحة 240 آرکائیو شدہ 2020-01-11 بذریعہ وے بیک مشین
  8. الإصابة - ابن حجر - ج 4 - الصفحة 429 آرکائیو شدہ 2020-01-11 بذریعہ وے بیک مشین
  9. (تذکرۃ الحفاظ:1/36)
  10. (تہذیب التہذیب:7/243)
  11. التاريخ - ابن يونس - الصفحة 347 آرکائیو شدہ 2018-10-26 بذریعہ وے بیک مشین
  12. (تہذیب الکمال:269)
  13. (مسنداحمد بن حنبل:4/59)
  14. (تہذیب الکمال:269)
  15. سير أعلام النبلاء - الذهبي - ج 4 - الصفحة 90 آرکائیو شدہ 2018-01-25 بذریعہ وے بیک مشین
  16. (صحیح البخاری)
  17. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد3صفحہ363نعیمی کتب خانہ گجرات
  18. الطبقات الكبرى - محمد بن سعد - ج 7 - الصفحة 498 آرکائیو شدہ 2020-01-11 بذریعہ وے بیک مشین
  19. مسند احمد بن حنبل:4/145
  20. (کتاب الولاۃ کندی:47)
  21. فتوح الشام - الواقدي - ج 1 - الصفحة 86 آرکائیو شدہ 2020-01-11 بذریعہ وے بیک مشین
  22. مسند ابن حنبل:3/153
  23. فتوح الشام - الواقدي - ج 2 - الصفحة 235 آرکائیو شدہ 2020-01-26 بذریعہ وے بیک مشین
  24. کتاب الولاۃ کندی:47
  25. فتوح الشام - الواقدي - ج 2 - الصفحة 295 آرکائیو شدہ 2020-01-26 بذریعہ وے بیک مشین
  26. (مسند احمدبن حنبل:4/158)
  27. فتوح البلدان - البلاذري -- الصفحة 214 آرکائیو شدہ 2018-10-26 بذریعہ وے بیک مشین
  28. (مسند احمد بن حنبل:4/1489)
  29. (مسند احمد بن حنبل:4/1489)