ابو عبید بن مسعود ثقفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو عبید بن مسعود ثقفی
(عربی میں: أبو عبيد الثقفي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش طائف  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 اکتوبر 634  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بابل  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد مختار ثقفی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری خلافت راشدہ کی فوج  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاخ خلافت راشدہ کی فوج  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں ایران کی اسلامی فتح،  جنگ جسر  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو عبید بن مسعود بن عمرو بن عمیر بن عوف ثقفی، صحابی ہیں، بنو ثقیف سے تعلق تھا، پیغمبر اسلام Mohamed peace be upon him.svg کی حیات ہی میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ مختار ثقفی کے والد ہیں، اسی طرح عبد اللہ بن عمر کی بیوی "صفیہ بنت ابی عبد اللہ ثقفیہ" کے والد تھے، عمر بن خطاب نے انھیں عراق کا والی بنایا تھا لیکن کچھ ہی عرصے میں معرکہ جسر میں شہید ہو گئے۔[1]

احوال[ترمیم]

سنہ 13 ہجری میں خلیفہ دوم عمر بن خطاب کی خلافت کے چھوتے ہی دن تشکیل کی جانے والی پہلی جنگ کے امیر اور نمائندے یہی ابو عبید بن مسعود ثقفی تھے، اس جنگ میں بدری صحابہ بھی شامل تھے، لوگ ان کی قیادت میں آتے گئے یہاں تک کہ مدینہ منورہ اور اطراف ہی میں تقریباً ایک ہزار تعداد ہو گئی، اکثر لوگ بنو ثقیف کے تھے، ابو عبید اس میں اپنے پورے اہل خانہ کے حاضر تھے۔ انھوں نے کسکر کے صحرا میں فارسیوں کو شکست دی، بہت سارا مال غنیمت جمع کیا، پھر باقسیاثا میں جالینوس کو شکست دی، پھر وہاں سے حیرہ پہنچے۔

معرکہ جسر میں فوج کے امیر تھے، جو حیرہ اور قادسیہ کے درمیان مسلمانوں اور فارسیوں کے بیچ میں ہوا تھا، ابو عبید نے اس اس معرکہ میں دریائے فرات کو پار کر لیا تھا، فارسیوں نے پل کو توڑ دیا تھا، لیکن ہاتھی کے روندنے کی وجہ سے اس میں ان کی وفات ہو گئی، ان کے ساتھ ان معرکہ میں تقریباً اٹھارہ سو مسلمان بعض دریا میں غرق ہو کر اور بعض میں میدان لڑ کر شہید ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فصل الخطاب في سيرة ابن الخطاب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب شخصيته وعصره، د.علي محمد الصلابي، طبعة مكتبة الصحابة - الشارقة، 2002م، الفصل الخامس: فقه عمر في التعامل مع الولاة، صـ 371: 377
  • 1ـ اختيار معرفة الرجال 1 / 341 . 2ـ اختيار معرفة الرجال1 / 340 . 3ـ اختيار معرفة الرجال1 / 342 . 4ـ الإرشاد 1 / 325 . 5ـ اللهوف في قتلى الطفوف : 196 .