صفوان بن معطل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صفوان بن معطل
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 679  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صفوان بن معطلصفوان بن معطل سلمی واقعہ افک میں ان کانام بھی آتا ہے

نام ونسب[ترمیم]

صفوان نام، ابو عمر کنیت ،نسب نامہ یہ ہے، صفوان بن معطل بن رخصہ بن خزاعی بن محارب بن مرہ بن فالج بن ذکوان بن ثعلبہ بن بھثہ بن سلیم بن منصور سلمی۔

اسلام[ترمیم]

میں مشرف باسلام ہوئے۔[1] غزوات قبولِ اسلام کے بعد سب سے اول غزوہ مریسیع میں شریک ہوئے،خندق میں آنحضرتﷺ کے ہمرکاب تھے،سریہ عرینین میں پیش پیش تھے ،غزوات میں عموماً "ساقہ" یعنی فوج کے اس حصہ پر مامور ہوتے تھے،جو فوج کے پیچھے پیچھے چلتا ہے،تاکہ فوج کے بھولے بھٹکے ہوئے آدمیوں اورگری پڑی ہوئی چیزوں کو ساتھ لیتا چلے، غزوہ بنی مصطلق میں بھی صفوان اس خدمت پر مامور تھے،اس غزوہ میں ام المومنین عائشہ چھوٹ گئی تھیں؛چنانچہ صفوان انہیں ساتھ لیتے آئے، منافقین نے اس کو بہت مکروہ صورت میں مشتہر کیا،لیکن کلامِ پاک نے اس افترا پر دازی کا پردہ چاک کر دیا،اس موقع پر آنحضرتﷺ نے صفوان کے متعلق یہ رائے ظاہر فرمائی تھی ما علمت منہ الاخیراً میں ان میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتا۔[2] بعض صحابہ جن میں حسان بن ثابت بھی تھے، منافقوں کے فریب میں آ گئے، صفوان نہایت باحمیت تھے اورپھرام المومنین کا معاملہ تھا،اس لیے قدرتاً انہیں تکلیف پہنچی اورجو شِ حمیت میں انہوں نے حسان پر تلوار چلادی، حسان نے آنحضرتﷺ سے اس کی شکایت کی آپ نے اس کے معاوضہ میں حسان کو کھجور کا ایک باغ دلوایا۔[3]

عہدِ خلافت[ترمیم]

خلیفہ دوم عمرکے عہدِ خلافت 17ھ میں آرمیینیا کی فوج کشی میں شریک ہوئے،بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی معرکہ میں جام شہادت کیا اوربعض سے معلوم ہوتا ہے امیر معاویہ کے زمانہ تک زندہ تھے اور روم کی معرکہ آرائیوں میں شریک ہوئے،ان ہی میں سے کسی معرکہ میں ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔[4]

وفات[ترمیم]

صفوان بن معطل نے مختلف روایات کے مطابق17ھ یا 18 ھ میں وفات پائی۔

فضل وکمال[ترمیم]

صفوان کو مذہبی معلومات کی بڑی تلاش و جستجو رہتی تھی، جن چیزوں سے ناواقف ہوتے تھے، اسے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیتے تھے ایک مرتبہ آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ سے ایسے مسائل پوچھنا چاہتا ہوں جن سے آپ واقف ہیں ،مگر میں ناواقف ہوں فرمایا پوچھو عرض کی شب و روز میں کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز مکروہ ہو، اس استفسار پر آپ نے تینوں مکروہ اوقات مفصل بتائے۔ [5] گو صفوان سے بہت کم روایتیں ہیں تاہم وہ فضل وکمال کے لحاظ سے صحابہ کی جماعت میں ممتاز شمار کیے جاتے تھے، علامہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کان خیر فاضلا [6]شاعر بھی تھے،مگر عام طور سے شاعری نہیں کرتے تھے جب کوئی خاص موقع آتا تھا تو اشعار موزون ہوجاتے تھے، حسان بن ثابتؓ پروار کرتے وقت دو شعر کہے تھے۔

شجاعت[ترمیم]

شجاعت وبہادری میں بہت ممتاز تھے اوراس زمانہ کے مشہور بہادروں میں شمار تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مستدرک حاکم:3/518
  2. بخاری کتاب التفسیر
  3. اسد الغابہ:3/26
  4. استیعاب:1/329
  5. (مستدرک حاکم:3/581)
  6. (استیعاب :1/329)