عباد بن بشر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عباد بن بشر
(عربی میں: عباد بن بشر ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 606  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 632 (25–26 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جنگ یمامہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عباد بن بشرایک انصاری صحابی جو نقباء مدینہ میں شامل تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

عباد نام،ابو بشر،ابو رافع کنیت، قبیلہ ٔ عبدالاشہل سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے،عباد بن بشر بن دقش بن زغبہ بن زعور اء بن عبدالاشہل بن حشم بن حارث بن خزرج بن عمرو (بنت) بن مالک بن اوس

اسلام[ترمیم]

مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر ایمان لائے۔عباد بن بشر بن قیظی صحابی اور ابتدائی مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں والد کا نام عباد بن وقش تھا

  • جب قبلہ تبدیل ہوا تو انکا نام اس روایت کے اندر آتا [1] علامہ ابن حجر عسقلانی نے ان کا نام عباد بن نھیک لکھاہے[2]
  • صحیح نام ابن بشر بن وقش بن زغبة بن عبد الأشهل بن جشم بن الحارث بن الخزرج الأوسي الأشهلي، كبار الصحابة سے ہیں، ایک حديث معجم الطبراني میں ہے[3]
  • سیر اعلام النبلا میں ہے کہ یہ قبیلہ بنی اوس کے سردار تھے اپنی قوم کی امامت بھی کراتے تھے مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے کعب بن اشرف یہودی کے قتل میں یہ بھی شریک تھے ابو حذیدفہ بن وتبہ بن ربیعہ کے ساتھ رشتہ مؤخات میں جڑے۔[4] انس روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں دو شخص اندھیری رات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے نکل کر گئے، ان میں ایک عباد بن بشر تھے اور دوسرا میرے خیال میں اسید بن حضیر تھے ان دونوں کے ہمراہ چراغوں کی طرح (کوئی چیز) تھی، جو ان کے سامنے روشن تھے، پھر جب وہ علاحدہ ہو گئے، تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ہو گیا، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر پہنچ گیا[5]

اخلاق[ترمیم]

جوش ایمان کا نظارہ غزوات میں معلوم ہوتا تھا،جانبازی اور سرفروشی کے ساتھ آنحضرتﷺ اورمسلمانوں کی حفاظت میں رات رات بھر پہرہ دینا اور پھر دن کو شریک جہاد ہونا، وہ لازوال سعادت ہے جو بہت کم لوگوں کو میسر آتی ہے۔ یہ شب بیداری میدان جنگ تک محدود نہ تھی یوں بھی عبادت الہی میں رات کا بہت سا وقت صرف ہوتا تھا، ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کے مکان میں آنحضرتﷺ تہجد پڑھنے اٹھے اور عباد کی آواز سنی تو فرمایا: خدا ان کی مغفرت کرے،امام بخاری نے تاریخ میں اور ابو یعلی نے مسند میں حضرت عائشہ سے نقل کیا ہے کہ انصار میں تین شخص سب سے بہتر تھے، سعد بن معاذ، اسید بن حضیر، عباد بن بشر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. معجم الکبیر الطبرانی
  2. فتح الباری
  3. المزي في تهذيب الكمال
  4. سیر اعلام النبلا
  5. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 456