ابو موسیٰ اشعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو موسیٰ اشعری
معلومات شخصیت
پیدائش 1 ہزاریہ  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جزیرہ نما عرب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 666 (65–66 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ (632–661)
Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ (661–666)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
گورنر   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
639  – 650 
در بصرہ 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مغیرہ ابن شعبہ 
عبد اللہ بن عامر بن کریز  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
گورنر   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
655  – 657 
در کوفہ 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سعید بن العاص 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ خیبر،  فتح مکہ،  غزوہ حنین،  غزوہ تبوک  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو موسیٰ اشعری آپ کا نام عبد اﷲ ابن قیس ہے مکہ معظمہ میں ایمان لائے پھر حبشہ ہجرت کر گئے پھر کشتی والوں کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے راہ میں خیبر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، حضرت عمر فاروق نے آپ کو بیس ہجری میں بصرہ کا حاکم بنایا آپ نے اہواز کا علاقہ فتح کیا شروع خلافت عثمانیہ تک آپ بصرہ کے حاکم رہے،پھر حضرت عثمان نے آپ کو معزول کرکے کوفہ کا حاکم بنادیا،آپ حضرت عثمان کی شہادت تک کوفہ کے حاکم رہے، حضرت علی نے آپ کو امیر معاویہ کے مقابلہ میں اپنا ثالث مقرر کیا تھا،اس کے بعد آپ مکہ معظمہ چلے گئے وہاں ہی (52) باون ہجری میں آپ کی وفات ہوئی۔[1]

ابوموسیٰ (کنیت) یمن کے رہنے والے تھے۔ مکہ آکر اسلام قبول کیا اور متعدد غزوات اور جنگوں میں حصہ لیا۔ حضرت عمر کے زمانے میں بصرہ کے عامل مقرر ہوئے۔ اور اہواز، نہاوند اور اصفہان فتح کیے۔ جنگ صفین کے موقع پر حضرت علی کی طرف سے ثالث مقرر ہوئے۔ لیکن جب مصالحت کی کوششیں ناکام ہوگئیں تو گوشہ نشین ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد 1 صفحہ29نعیمی کتب خانہ گجرات