عائشہ بنت ابی بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اُم المومنین عائشہ بنت ابی بکر
اسم حضرت عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا)
اُم المومنین، حبیبۃ الرسول، حبیبۃ المصطفیٰ، حبیبۃ الحبیب، المُبرۃ، طیبہ، صدیقہ، مُوَفقہ، اُم عبداللہ، حمیراء،[1][2] [3]
ولادت ماہِ شوال 9 سال قبل ہجرت/ ماہِ جولائی 614ء [4]
مکہ مکرمہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
وفات منگل 17 رمضان 58ھ/ 13 جولائی 678ء [5]

(مدت حیات: 64 سال شمسی، 67 سال قمری)
حجرہ عائشہ، مسجد نبوی، مدینہ منورہ، حجاز، خلافت امویہ، موجودہ سعودی عرب

قابل احترام اسلام
المقام الرئيسي جنت البقیع، مدینہ منورہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
رموز 2210 احادیث، 316 متفق علیہ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
نسب

نام و القاب

آپ کا نام عائشہ ہے۔خطاب اُم المومنین ہے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، المُبرۃ، المُوَفقہ، طیبہ، حبیبۃ المصطفیٰ اور حمیراء ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی آپ کو خطاب فرمایا ہے [6] [7]۔

کنیت

آپ کی کنیت اُمِ عبداللہ ہے۔ عرب میں کنیت اشراف کی شرافت کا نشان ہے اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی، اِس لیے کنیت بھی نہ تھی۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہِ حسرت عرض کرنے لگیں کہ اور خواتین نے تو اپنی سابقہ اولادوں کے نام پر اپنی اپنی کنیت رکھ لی، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟۔ فرمایا: اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر [8]۔ چنانچہ اُسی دن سے آپ کی کنیت اُمِ عبداللہ قرار پائی۔ حضرت عبداللہ اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، اِن کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔

نسب

آپ والد کی طرف سے قریشیہ تیمیہ ہیں اور والدہ کی طرف سے کنانیہ ہیں۔والد کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ بنو تیم سے تعلق ہے اور والدہ کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ کنانہ سے تعلق ہے۔

  • والد کی طرف سے نسب یوں ہے:

حضرت عائشہ بنت ابی بکر الصدیق بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک۔

  • والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے:

حضرت عائشہ بنت اُمِ رومان زینب بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔

والد کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مرہ بن کعب پر آٹھویں پشت پر ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مالک بن کنانہ پر گیارہویں پشت پر ملتا ہے [9]۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب یوں ہے :

  • حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن کنانہ۔

حلیہ و ہیئت مبارکہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رو اور صاحب جمال تھیں۔ رنگ سفید تھا جس میں سرخی غالب تھی، اِسی لیے لقب حمیراء سے مشہور ہیں [10]۔ نو یا دس سال کی عمر تک آپ بالغ ہوچکی تھیں[11]۔ لڑکپن میں دبلی پتلی تھیں [12] [13] مگر بعد ازاں فربہی غالب آگئی تو بدن کسی قدر بھاری ہوگیا تھا[14]۔

والدین

ولادت

بچپن

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح

ہجرت

ازدواجی زندگی

تعلیم و تربیت

واقعہ اِفک

تحریم، اِیلاء اور تحییر

زمانہ بیوگی

عہد خلفائے راشدین

بحیثیت داعی اصلاح

حضرت امیر معاویہ کے عہد میں

وفات حضرت امام حسن اور تدفین کا مسئلہ

فضائل و مناقب

پابندی حج

آپ شدت سے ادائیگی حج کی پابند تھیں۔ آپ نے حجۃ الوداع کے بعد مزید 47 حج اداء فرمائے۔

آیات تیمّم کے نزول کا سبب

حضرت عائشہ کے امت پر احسانات میں سے ہے کہ آیات تیمّم کے نزول کا ظاہری سبب بھی آپ کی زات ا ‍قدس ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک سفر میں حضرت عائشہ کا ایک ہار کہیں گر گیا جو آپ کو بہت عزیز تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند صحابہ کرام کو ہار کی تلاش میں روانہ کیا ۔ دوران تلاش نماز کا وقت ہوگیا ۔ پانی نہ ہونے کے باعث سب نے بلا وضو نماز ادا کی۔ جب صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو رنج کے ساتھ بلاوضو نماز پڑھنے کا زکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر آیات تیمّم کا نزول ہوا۔

حضرت عائشہ کے فضائل میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " مردوں میں سے تو بہت تکمیل کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم دختر عمران، آسیہ زوجہ فرعون ہی تکمیل پر پہنچی اور عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر" ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا " یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور آپ کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہیں" حضرت عائشہ نے جواب میں فرمایا " ان (جبرائیل علیہ السلام) پر بھی اللہ رب العزت کا سلام اور رحمت ہو"

صحابہ میں ممتاز حیثیت

حضرت عروہ بن زبیر رضي الله عنه.png فرماتے ہیں "میں نے کسی ایک کو بھی معانی قرآن ، احکام حلال و حرام ، اشعار عرب اور علم الانساب میں حضرت عائشہ رضي الله عنه.png سے بڑھ کر نہیں پایا" ۔ حضرت عائشہ رضي الله عنه.png کی خصوصیت تھی کہ جب کوئی نہایت مشکل و پیچیدہ مسئلہ صحابہ میں آن پڑتا تھا تو وہ آپ ہی کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے اور آپ رضي الله عنه.png کے پاس اس سے متعلق علم ضرور موجود ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ کو علمی حیثیت سے عورتوں میں سب سے زيادہ فقیہہ اور صاحب علم ہونے کی بناء پر چند صحابہ کرام پر بھی فوقیت حاصل تھی۔ فتوے دیا کرتی تھیں اور بے شمار احادیث ان سے مروی ہیں۔ خوش تقریر بھی تھیں۔

جودو سخاوت

ایک صحابی کا بیان ہے کہ آپ نے ایک روز میں 70 ہزار درہم اللہ کی راہ میں صرف کیۓ اور خود پیوند لگے کپڑے پہنا کرتی تھیں۔ایک روز حضرت عبداللہ بن زبیر نے ایک لاکھ درہم آپ کی خدمت میں روانہ کیۓ جو آپ نے اسی روز اللہ کی راہ میں خیرات کردیۓ اسی روز آپ کا روزہ بھی تھا۔ شام کو آپ کی ملازمہ نے روکھی سوکھی آپ کی خدمت میں پیش کی اور کہا کہ اگر کچھ بچالیا جاتا تو میں سالن بھی تیار کرلیتیں آپ رضي الله عنه.png نے فرمایا " مجھے خیال بھی نہ آیا تم ہی یاد دلا دیتیں۔ واضح رہے کہ آپ کی خدمت میں ایسے نذرانے حضرت امیر معاویہ رضي الله عنه.png اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضي الله عنه.png کی جانب سے پیش کیۓ جاتے تھے کہ اس زمانہ میں افواج اسلامی کثرت سے فتوحات حاصل کررہی تھیں ۔

طیبہ صدیقی اثر ترقی اسلام پر ہے جو تفقہ آپ نے دین میں حاصل کیا اور جو تبلیغ آپ نے امت کو فرمائی اور علم نبوت کی اشاعت میں جو مساعی انہوں نے کیں اور حو علمی فوائد انہوں نے فرزندان امت کو پہنچائے وہ ایسک درجہ ہے جو کسی اور زوجہ محترمہ کو حاصل نہیں۔

روایات احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعداد

آپ سے 2210 احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم روایت ہیں جبکہ اِن میں سے 316 متفق علیہ ہیں، یعنی اِن کو امام بخاری نے صحیح بخاری اور امام مسلم نے صحیح مسلم میں سنداً روایت کیا ہے۔ 2210 احادیث والی تعداد کو سید سلیمان ندوی نے سیرت عائشہ میں لکھا ہے مگر یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ صرف مسند احمد بن حنبل میں ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 2524 ہے۔

اگر صحاح ستہ میں مکرر رویات حذف نہ کی جائیں تو روایات عائشہ رضی اللہ عنہا کی تعداد یوں ہے:

  • صحیح بخاری: 960 احادیث۔
  • صحیح مسلم: 761 احادیث۔
  • سنن ابوداود: 485 احادیث۔
  • سنن نسائی: 690 احادیث۔
  • جامع سنن ترمذی: 535 احادیث۔
  • سنن ابن ماجہ: 411 احادیث۔
  • موطاء امام مالک: 141 احادیث۔
  • مشکوٰۃ المصابیح: 553 (روایاتِ احادیث کا یہ مجموعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس لیے اِنہیں شمار نہیں کیا گیا)۔
  • سنن الدارمی: 200 احادیث۔
  • مسند امام احمد بن حنبل: 2524 احادیث۔
  • موطاء امام محمد: 80 احادیث۔

وفات و تدفین

آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقیدِ حیات رہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے شب منگل 17 رمضان 58ھ مطابق 13 جولائی 678ء کو اِس دارِ فانی سے عالم بقاء کو لبیک کہا۔ آپ کی مدتِ حیات شمسی سال کے اعتبار سے 64 سال اور قمری سال کے اعتبار سے 67 سال تھی۔

مستشرق ولیم میور کی نافہمی اور غلطی

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. لسان العرب لابن منظور - طبع دار صادر: ج13 ص431، قال: "وكانت العرب تسمي العجم الحمراء لغلبة البياض على ألوانهم، ويقولون لمن علا لونه البياض أحمر."
  2. النهاية في غريب الأثر لابن قتيبة: طبعة المكتبة العلمية: ج1 ص438
  3. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 707، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  4. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 707، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  5. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 712، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  6. امام ابوداود: سنن ابوداود، کتاب الادب۔
  7. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 6 صفحہ 93 اور 107۔
  8. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 9 الرقم الحدیث 4726، حدیث مرفوع۔
  9. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 707، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  10. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، جلد 6 صفحہ 138، بابت ذکر لقب حمیراء۔
  11. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب تزویج عائشہ رضی اللہ عنہا۔
  12. امام بخاری: صحیح بخاری، واقعہ اِفک
  13. امام ابوداود: سنن ابوداود، باب السبق
  14. امام ابوداود: سنن ابوداود، باب السبق