عائشہ بنت ابی بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اُم المومنین عائشہ بنت ابی بکر
اسم حضرت عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا)
اُم المومنین، حبیبۃ الرسول، حبیبۃ المصطفیٰ، حبیبۃ الحبیب، المُبرۃ، طیبہ، صدیقہ، مُوَفقہ، اُم عبداللہ، حمیراء،[1][2][3]
ولادت ماہِ شوال 9 سال قبل ہجرت/ ماہِ جولائی 614ء [4]
مکہ مکرمہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
وفات منگل 17 رمضان 58ھ/ 13 جولائی 678ء [5]

(مدت حیات: 64 سال شمسی، 66 سال 11 ماہ قمری)
حجرہ عائشہ، مسجد نبوی، مدینہ منورہ، حجاز، خلافت امویہ، موجودہ سعودی عرب

قابل احترام اسلام
المقام الرئيسي جنت البقیع، مدینہ منورہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
رموز 2210 احادیث، 174 متفق علیہ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) 54 صحیح بخاری میں منفرد، 69 صحیح مسلم میں منفرد۔
نسب * والد: حضرت ابوبکر صدیق

حضرت عائشہ بنت ابی بکر (رضی اللہ عنہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں۔ آپ کو اُم المومنین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عہد خلفائے راشدین میں آپ کی شخصیت بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقید حیات رہیں اور یہ تمام وہ عرصہ ہے جس میں ابتدائی مسلم فتوحات ہوئیں، مختلف ممالک مملکت اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ علم الحدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایات کے بعد سب سے زیادہ روایاتِ حدیث کا ذخیرہ آپ سے ہی روایت کیاگیا ہے۔ آپ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، اور عہد خلفائے راشدین کی عینی شاہد بھی تھیں اور مزید برآں آپ نے خلافت امویہ کے ابتدائی 17 سال بھی ملاحظہ فرمائے۔ سنہ 58ھ/ 678ء میں آپ کا اِنتقال مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ کے مناقب و فضائل کثیر ہیں جن سے آپ کی عظمت و شان جلالت مسلم خواتین پر نمایاں ہے۔

نام و القاب[ترمیم]

آپ کا نام عائشہ ہے۔خطاب اُم المومنین ہے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، المُبرۃ، المُوَفقہ، طیبہ، حبیبۃ المصطفیٰ اور حمیراء ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی آپ کو خطاب فرمایا ہے [6][7]۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یَا عَائشُ کے نام سے بھی خطاب فرمایا ہے۔ [8]

کنیت[ترمیم]

آپ کی کنیت اُمِ عبداللہ ہے۔ عرب میں کنیت اشراف کی شرافت کا نشان ہے اور چونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کوئی اولاد نہ تھی، اِس لیے کنیت بھی نہ تھی۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ازراہِ حسرت عرض کرنے لگیں کہ اور خواتین نے تو اپنی سابقہ اولادوں کے نام پر اپنی اپنی کنیت رکھ لیں، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟۔ فرمایا: اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر [9][10]۔ چنانچہ اُسی دن سے آپ کی کنیت اُمِ عبداللہ قرار پائی۔ حضرت عبداللہ اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نام سے زیادہ مشہور ہیں یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، اِن کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں۔

نسب[ترمیم]

آپ والد کی طرف سے قریشیہ تیمیہ ہیں اور والدہ کی طرف سے کنانیہ ہیں۔والد کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ بنو تیم سے تعلق ہے اور والدہ کی طرف سے قبیلہ قریش کی شاخ کنانہ سے تعلق ہے۔

  • والد کی طرف سے نسب یوں ہے:

حضرت عائشہ بنت ابی بکر الصدیق بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک۔ [11]

  • والدہ کی طرف سے نسب یوں ہے:

حضرت عائشہ بنت اُمِ رومان زینب بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ۔ [12]

والد کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مرہ بن کعب پر آٹھویں پشت پر ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب سے مالک بن کنانہ پر گیارہویں پشت پر ملتا ہے [13]۔

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب یوں ہے :

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن کنانہ۔

حلیہ و ہیئت مبارکہ اور لباس

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خوش رو اور صاحب جمال تھیں۔ رنگ سفید تھا جس میں سرخی غالب تھی، اِسی لیے لقب حمیراء سے مشہور ہیں [14]۔ نو یا دس سال کی عمر تک آپ بالغ ہوچکی تھیں[15]۔ لڑکپن میں دبلی پتلی تھیں [16][17] مگر بعد ازاں فربہی غالب آگئی تو بدن کسی قدر بھاری ہوگیا تھا[18]۔ زہد و قناعت کی وجہ صرف ایک جوڑا لباس کا اپنے پاس رکھتی تھیں، اور اُسی کو دھو دھو کر پہن لیا کرتی تھیں۔[19] ایک کرتا جس کی قیمت پانچ درہم تھی اور یہ اُس زمانہ کے لحاظ سے اِس قدر بیش قیمت تھا کہ تقاریب میں دلہن کے واسطے عاریتاً مانگ لیا جاتا۔ [20] زعفران میں رنگ کر کپڑے پہن لیا کرتی تھیں۔[21][22]

بعض اوقات سرخ رنگ کا کرتا زیب تن فرماتیں۔[23] اکثر سیاہ رنگ کا دوپٹہ استعمال فرماتیں۔[24] کبھی کبھی زیور بھی پہن لیا کرتیں، گلے میں یمن کا بنا ہوا خاص قسم کا سیاہ و سفید مہروں کا ہار ہوا کرتا۔[25] انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں بھی پہنا کرتی تھیں۔[26][27] طوافِ کعبہ کے دوران میں چہرہ اقدس پر ایک پردہ نقاب جیسا اوڑھ لیا کرتیں تاکہ لوگوں سے پردے میں رہیں۔[28] ایک ریشمی چادر آپ کے پاس تھی، بعد ازاں وہ چادر آپ نے اپنے بھانجے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ [29][30] یہ ریشمی چادر آپ اوڑھا کرتی تھیں۔[31] آپ فرماتی ہیں : ہم عہد رسالت میں سیراء کے کپڑے پہنا کرتے تھے، سیرا میں کچھ ریشم ہوتا ہے۔[32]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مہندی استعمال فرماتی رہیں اور زعفران میں رنگے ہوئے لباس میں حج اداء کرلیا کرتیں۔[33] حالتِ احرام میں سرخ لباس زیب تن بھی فرماتیں۔[34] تابعی عطاء بن ابی الرباح کہتے ہیں کہ میں اور عبید بن عمیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے جبکہ آپ کوہِ ثبیر پر ٹھہری ہوئی تھیں (یعنی موسم حج میں) ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: اُس دِن آپ کا پردہ کیا تھا؟  فرمایا:  آپ اُس وقت اپنے ترکی خیمہ میں تھیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان خیمہ کی قناتیں حائل تھیں لیکن میں نے دیکھا کہ آپ زعفران میں رنگا ہوا کرتا پہنے ہوئے ہیں، اُس وقت میں بچہ تھا۔ [35]

سر اقدس پر اکثر خوشبو لگا لیا کرتیں۔ خود فرماتی ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ یوئے حتیٰ کہ ہم مقام قاحہ میں پہنچے تو میرے سر سے زردی بہہ کر چہرے پر آئی کیونکہ میں نے روانہ ہونے سے قبل سر پر خوشبو لگائی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اب تمہارا رنگ بڑا پیارا ہے۔[36]

تابعی اسحٰق اعمیٰ جو نابینا تھے، کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، آپ نے مجھ سے پردہ کیا، میں بولا:  آپ مجھ سے پردہ کرتی ہیں حالانکہ میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا۔ آپ نے فرمایا:  اگر تم مجھے نہیں دیکھتے تو میں تو تمہیں دیکھتی ہوں۔[37]

والدین

آپ کے والد حضرت ابوبکر صدیق ابن ابی قحافہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں جو سب سے پہلے اسلام لائے اور اُن کا اِنتقال بروز پیر 22 جمادی الثانی 13ھ مطابق 22 اگست 634ء کو 63 سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں ہوا، تب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک قریباً 22 سال تھی۔

  • آپ کی والدہ حضرت ام رومان زینب بنت عامر ہیں جن کا سنہ وفات اختلافی ہے۔ بعض مورخین کے مطابق حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی وفات حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی۔ بعض مورخین نے اُن کا سال وفات اور بھی لکھا ہے، معتبر احادیث کی روشنی میں یہ صریحاً غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ میں پیش آنے والے واقعہ اِفک میں اُن کی موجودگی کا پتہ چلتا ہے اور اِس سلسلے میں تمام روایات میں اِن کا نام آیا ہے۔ میں پیش آنے والے واقعہ تخییر کے وقت بھی وہ زِندہ تھیں۔ صحیح بخاری میں تو مسروق تابعی کی روایت حضرت ام رومان سے متصلاً مروی ہے۔ امام بخاری نے تاریخ الصغیر میں اِن کا نام اُن لوگوں میں لکھا ہے جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وفات پائی اور پہلی روایت یعنی اور پر اعتراض کیا ہے۔یہ بھی مصدقہ ہے کہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی وفات بعہد نبوی میں نہیں ہوئی، ایسا کسی روایت میں نہیں ملتا۔ الحافظ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں اِس پر محققانہ نقد لکھا ہے اور ثابت کیا ہے کہ امام بخاری کا بیان بالکل صحیح ہے [38]۔امام بخاری کے بیان کے مطابق حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کی وفات غالباً ماہِ ربیع الاول 11ھ مطابق جون 632ء سے ماہِ جمادی الثانی 13ھ مطابق اگست 634ء کے وسطی زمانہ میں ہوئی جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت ہے۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت بعثت کے پانچویں سال ماہِ شوال المکرم مطابق ماہِ جولائی 614ء بمقام مکہ مکرمہ، حجاز مقدس میں ہوئی [39]۔ ابن سعد نے طبقات میں آپ کی ولادت نبوت کے چوتھے سال کے آغاز میں لکھی ہے [40] مگر پہلی روایت پر تمام مورخین کا اتفاق ہے۔ آپ بحالتِ مسلمانی پیدا ہوئیں ہیں کیونکہ آپ کے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی ولادت سے قریباً پانچ سال قبل اسلام لے آئے تھے۔ آپ کا بچپن مکہ مکرمہ میں ہی گزرا۔ اور قریباً 9 سال کی عمر میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ لائی گئیں۔

بچپن[ترمیم]

غیر معمولی اشخاص اپنے بچپن میں ہی اپنی حرکات و سکنات اور نشوونما میں ممتاز ہوتے ہیں، اُن کے ایک ایک خط و خال میں کشش ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بچپن بھی روشن اور سعادت مندی سے بھرپور گزرا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لڑکپن میں کھیل کود کا شوق تو تھا مگر دو شوق مرغوب تھے: گڑیاؤں سے کھیلنا اور جھولا جھولنا۔[41]

گڑیائیں تو مدت مدید تک آپ کے پاس رہیں۔ سنن ابوداؤد کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غزؤہ خیبر یا غزؤہ تبوک سے واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پاس گڑیائیں دیکھیں تھیں جو ایک طاق میں رکھی ہوئی تھیں اور اُن کھلونوں میں ایک پروں والا گھوڑا بھی تھا۔[42] اگر یہ روایت غزؤہ خبیر (محرم ) سے متعلق ہے تو غالباً اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 14 برس کی تھیں اور اگر یہ روایت غزؤہ تبوک (رجب ) سے متعلق ہے تو اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ساڑھے 16 برس کی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا خود بیان ہے کہ: میں گڑیاؤں سے کھیلتی تھی۔[43]

  • آپ فرماتی ہیں کہ:

"میں گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھی، بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے اور میرے پاس چھوٹی چھوٹی بچیاں بیٹھی ہوتی تھیں، جب آپ داخل ہوتے تو وہ بچیاں باہر نکل جاتیں اور جب آپ تشریف لے جاتے تو وہ داخل ہوجاتیں (یعنی میرے پاس واپس آ جاتیں)۔" [44]

  • رخصتی کے بعد بھی آپ گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھیں، خود بیان فرماتی ہیں کہ: رخصتی کے بعد بھی میں بچیوں کے ساتھ گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو آپ سے میری سہیلیاں چھپ جاتیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے ہٹ کر اُنہیں بھیج دیا کرتے تھے  (یعنی جب میرے پاس سے چلے جاتے تو میری سہیلیوں کو واپس میرے پاس بھیج دیتے)۔[45] بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کہہ دیا کرتے: اپنی اپنی جگہ پر رہو۔[46] عروہ بن زبیر تابعی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: میں عہد رسالت میں گڑیاؤں سے کھیلا کرتی تھی۔[47]
  • آپ فرماتی ہیں کہ: میری گڑیائیں تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے تو میں ان پر کپڑا ڈال دیا کرتی تھی۔ [48]

جھولا جھولنے سے متعلق کئی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو جھولا جھولنا مرغوب تھا۔ سنن ابوداؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح سے تھوڑی دیر قبل تک آپ جھولا جھول رہی تھیں۔[49] اور جھولا جھولنے میں اکثر آپ کی سانس پھول جایا کرتی۔[50]

عموماً ہر زمانہ کے بچوں کا وہی حال ہوتا ہے جو آج کل کے بچوں کا ہے کہ سات یا آٹھ سال کی عمر تک تو اُنہیں کسی بات کا مطلق بھی ہوش نہیں رہتا اور نہ ہی وہ کسی بات کی تہہ تک ہی پہنچ سکتے ہیں لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لڑکپن میں بھی ایک ایک بات یاد رکھتی تھیں، اُن باتوں کی روایت بھی کردیا کرتی تھیں اور اُن سے اکثر احکام بھی اِستنباط فرما لیا کرتیں۔ لڑکپن کے جزئی جزئی واقعات کی مصلحتوں کو بیان فرمایا کرتیں۔  اِسی زمانہ میں اگر کھیل کود کے دوران میں کوئی سن لیتیں تو اُس کو یاد رکھتی تھیں۔

  • خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: مکہ مکرمہ میں جب یہ آیت بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَ السَّاعَۃُ اَدْھٰی وَ اَمَرُّ نازل ہوئی تو میں (اُس وقت) بچی تھی اور کھیل رہی تھی۔[51][52] یہ  سورۃ القمر کی آیت 46 ہے اِس کا ترجمہ یہ ہے: " اصل میں اُن کے وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت تلخ ہوگی۔"

ہجرت کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سن محض 8 سال کا تھا مگر اِس کم سنی اور کم عمری میں  ہوش مندی اور قوتِ حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام واقعات بلکہ جزئیات بھی یاد تھیں، آپ سے بڑھ کر کسی صحابی نے ہجرت کے واقعات کا تمام مسلسل بیان محفوظ نہیں رکھا۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب الہجرۃ کے تحت اِن تمام روایات کو نقل کردیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نکاح[ترمیم]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ حضرت خدیجہ_بنت_خویلد رضی اللہ عنہا ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آئیں تو اُس وقت اُن کا سن 40 سال کا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن مبارک 25 سال کا تھا۔ اور حضرت خدیجہ_بنت_خویلد مزید 25 سال تک شرفِ زوجیت میں رہیں۔ ماہِ رمضان 10 نبوی مطابق اپریل 619ء میں حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے 65 سال کی عمر میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن 50 سال تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین رہنے لگے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  اپنے شوہر کے ہمراہ ہر موقع پر ساتھ دیتی رہیں، آپ کے ساتھ ہمدردی کرتی رہیں، مصائب میں آپ کا ہاتھ بٹاتی رہیں، سب سے پہلے آپ کے رسول و نبی ہونے کا اقرار کیا، ایسی غمگسار اور رفیق زوجہ کی جدائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ملول رہا کرتے، بلکہ تنہائی کے غم میں زندگی میں دشواری آنے لگی۔

جانثاران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت فکر لاحق ہوئی، مشہور صحابی حضرت عثمان بن مظعون (متوفی / 624ء) کی زوجہ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا بنت حکیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ دوسرا نکاح کرلیں۔ آپ نے فرمایا: کس سے؟  خولہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: بیوہ اور کنواری دونوں طرح کی لڑکیاں موجود ہیں، جس کو آپ پسند فرمائیں اُسی کے متعلق گفتگو کی جائے۔ فرمایا: وہ کون ہیں؟ خولہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیوہ تو سودہ_بنت_زمعہ ہیں اور کنواری ابوبکر ( رضی اللہ عنہ) کی بیٹی عائشہ (رضی اللہ عنہا)۔ ارشاد ہوا: بہتر ہے تم اِن کی نسبت گفتگو کرو۔ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پا کر حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آئیں اور اُن سے تذکرہ کیا۔ دورِ جاہلیت میں دستور تھا کہ جس طرح سگے بھائیوں کی اولاد سے نکاح جائز نہیں، اِسی طرح عرب اپنے منہ بولے بھائی کی اولاد سے بھی شادی نہیں کیا کرتے تھے۔ اِس بناء پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: خولہ! عائشہ (رضی اللہ عنہا)  تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بھتیجی ہے، آپ سے اُس کا کیونکر نکاح ہوسکتا ہے؟ حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اِستفسار کیا تو آپ نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے دینی بھائی ہیں اور اِس قسم کے بھائیوں سے نکاح جائز ہے۔[53] حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو اُنہوں نے قبول کرلیا۔

لیکن اِس سے قبل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جبیر بن مطعم کے بیٹے سے ہوچکی تھی، اِس لیے اُن سے پوچھنا بھی ضروری تھا۔ حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ نے جبیر سے جا کر پوچھا کہ تم نے عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی نسبت اپنے بیٹے سے کی تھی، اب کیا کہتے ہو؟ جبیر نے اپنی بیوی سے پوچھا۔ جبیر بن مطعم کا خاندان ابھی اسلام سے آشنا نہیں ہوا تھا، اُس کی بیوی نے کہا: اگر  یہ لڑکی (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) ہمارے گھر آگئی تو ہمارا بچہ بے دِین ہوجائے گا (یعنی بت پرستی چھوڑ دے گا)، ہم کو یہ بات منظور نہیں۔[54] [55] [56]\

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا تو تب آپ کی عمر 6 سال تھی۔ یہ نکاح ماہِ شوال 10 نبوی مئی 619ء میں ہوا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سن 49 سال 7 ماہ تھا۔ یہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین سال قبل کا واقعہ ہے۔ آپ کا مہر 500 درہم تھا۔[57] آپ کی رخصتی ہجرت کے پہلے سال ماہِ شوال / اپریل 623ء میں عمل میں آئی۔ اُس وقت آپ کی عمر مکمل 9 سال تھی۔

تابعی عروہ بن زبیر (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں) نے آپ سے نکاح کے متعلق پوچھا تو بیان فرمایا کہ:  جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا تو میں بچیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی، مجھے معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کرلیا ہے حتیٰ کہ مجھے میری والدہ پکڑ کر گھر میں لے گئیں اور گھر ہی مجھے روک دیا، اب مجھے خیال آیا کہ میرا نکاح ہوگیا ہے۔ میں نے اِس بارے میں اپنی والدہ سے نہیں پوچھا، ہاں اُنہوں نے خود ہی مجھے بتادیا کہ تمہارا نکاح ہوگیا ہے۔[58]

تابعیہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھتیجی ہیں) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ فرماتی تھیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال 10 نبوی میں ہجرت سے تین سال قبل نکاح کیا، اُس وقت میں 6 سال کی تھی، پھر آپ ہجرت کرکے مدینہ_منورہ پیر کے دن 12 ربیع الاول کو آئے اور ہجرت سے آٹھویں ماہ میں آپ نے مجھ سے بیاہ کیا (یعنی رخصتی) اور خلوت کے وقت میں 9 سال کی تھی۔[59]

(یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ_منورہ ماہ ربیع_الاول کو پہنچے اور ربیع الاول سے آٹھواں مہینہ شوال ہوتا ہے جس کے متعلق خود صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرما رہی ہیں۔ یعنی یہ رخصتی ماہِ شوال / اپریل 623ء میں عمل میں آئی اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 53 سال 10 ماہ تھی۔ اِس لحاظ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں 9 سال 6 ماہ رہیں)۔

بکثرت احادیث میں آیا ہے کہ نکاح سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر آپ کے سامنے کوئی چیز پیش کر رہا ہے،  پوچھا: کیا ہے؟  جواب دیا کہ آپ کی زوجہ ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کھول کر دیکھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میں تم کو دو بار خواب میں دیکھ چکا ہوں،  میں نے دیکھا کہ ایک شخص ریشمی کپڑے میں تم کو میرے پاس لایا ہے اور کہہ رہا ہے: یہ آپ کی اہلیہ ہیں، اِن کا پردہ اُٹھا کر دیکھئیے،  میں نے پردہ اُٹھا کر دیکھا تو تم تھیں۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ کے پاس سے ہے تو اللہ اِسے ضرور نافذ فرما دے گا۔ [60]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: حضرت جبرئیل امین علیہ السلام ریشم کے سبز کپڑے میں (لپٹی ہوئی) اُن کی تصویر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دنیاء و آخرت میں آپ کی اہلیہ ہیں۔ [61]

کم سنی کی اِس شادی کا اصل منشاء نبوت اور خلافت کے درمیان تعلقات کی مضبوطی تھی۔ ایک تو عرب کی گرم آب و ہوا میں خواتین کی غیر معمولی نشوونماء کی طبعی صلاحیت موجود ہے، دوسرے عام طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قویٰ میں ترقی کی غیر معمولی استعداد ہوا کرتی ہے، اِسی طرح قد و قامت میں بھی بالیدگی کی خاص قابلیت ہوتی ہے، انگریزی میں اِسے Precocious بھی کہتے ہیں۔ بہرحال اِس کمسنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی زوجیت میں قبول کرنا اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ لڑکپن سے اُن میں نشوونماء، ذکاوت، جودتِ ذہن اور نکتہ رسی کے آثار نمایاں تھے۔[62]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

ہجرت[ترمیم]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نکاح کے بعد تین سال تک میکہ میں مقیم رہیں۔ 2 سال 3 ماہ مکہ مکرمہ میں اور 7 یا 8 مہینے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں مقیم رہیں۔ مسلمانوں نے اپنے وطن سے دو بار ہجرت کی۔ پہلے ملکہ حبشہ میں اور اُس کے بعد مدینہ منورہ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود فرماتی ہیں کہ میرے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی حبشہ کی طرف ہجرت کرنا چاہی تھی اور برک الغماد نامی مقام (جو مکہ مکرمہ سے پانچ روز کی مسافت پر ہے) پہنچ چکے تھے کہ اتفاق سے ابن الدغنہ نامی ایک شخص کہیں سے آ رہا تھا، اُس نے یہ دیکھ کر کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اب وطن چھوڑ رہے ہیں، قریش کی بدقسمتی پر اُس کو افسوس ہوا اور نہایت اِصرار سے اپنی پناہ میں اُن کو مکہ مکرمہ لے آیا۔ [63] ممکن ہے کہ اِس سفر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور اُن کا خاندان بھی ہمراہ ہو۔

دوسری بار حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب کی۔ اِس ہجرت کا تمام واقعہ تفصیلاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اِس تفصیل کو امام بخاری نے صحیح بخاری باب الہجرۃ جلد اول میں نقل کردیا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ_منورہ پہنچے اور مدینہ_منورہ میں مقیم ہوگئے، اور اطمینان ہوا تو آپ نے اہل و عیال کو لانے کے واسطے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور اپنے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا آدمی ساتھ بھیج دیا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنی والدہ حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا اور دونوں بہنوں یعنی حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مکہ مکرمہ سے لے کر روانہ ہوئے۔بیض منیٰ کے مقام پر جب آپ اپنی والدہ ام_رومان رضی اللہ عنہا کے ہودج میں اُن کے ساتھ سوار تھیں، اِتفاق سے وہ اونٹ بھاگ نکلا اور اِس زور سے دوڑا کہ اب یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اب پالان گرا کہ اب گرا، خواتین کا یہ قاعدہ ہے کہ ماں کو اپنی پرواہ نہ تھی بلکہ لخت جگر کے واسطے رونے لگیں، آخر میلوں پر جاکر جب اونٹ پکڑا گیا تو اُن کو تشفی ہوئی۔ یہ مختصر سا قافلہ مدینہ_منورہ پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت مسجد نبوی کے آس پاس میں مکانات تعمیر کروا رہے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سودہ_بنت_زمعہ رضی اللہ عنہا اِن نئے گھروں میں فروکش ہوئیں۔ (ابن سعد نے طبقات میں اِس واقعہ کی مکمل تفصیل بیان کردی ہے مگر ہم نے یہاں مختصراً خلاصہ پیش کیا ہے )۔ [64] یہ واقعہ ماہِ شوال / اپریل 623ء کا ہے۔

رخصتی[ترمیم]

ہجرت مدینہ_منورہ کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے عزیزوں کے ساتھ بنو حارث بن خزرج کے محلہ میں اُتریں۔[65] اور 7 یا 8 مہینوں تک اپنی والدہ ام_رومان رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہیں۔ اکثر مہاجرین کو مدینہ_منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اور متعدد اشخاص بیمار پڑگئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی سخت بیمار ہوئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کی تیمارداری میں مصروف رہیں۔ بعد ازاں آپ بھی بخار میں مبتلاء ہوگئیں، مرض کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپ کے سر کے تمام بال گر گئے۔[66] کچھ مدت بعد آپ صحت مند ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! آپ اپنی اہلیہ کو رخصت کیوں نہیں کرا لیتے؟  اِس میں کیا رکاوٹ ہے؟  (مراد یہ تھا کہ آپ اپنی زوجہ اپنے گھر کیوں نہیں بلوا لیتے؟)۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اِس وقت میرے پاس مہر اداء کرنے کے لیے رقم موجود نہیں۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو ساڑھے بارہ اوقیہ یعنی 500 درہم دئیے۔ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام رقم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھجوا دی اور اِس طرح آپ کی رخصتی عمل میں آئی (یہ واقعہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے جسے ابن سعد نے طبقات میں نقل کردیا ہے)۔[67]

  • حضرت عائشہ ماہِ شوال میں خواتین کی رخصتی کو محبوب خیال فرماتی تھیں، تابعی عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں نکاح کیا اور شوال میں ہی بیاہ کیا (یعنی رخصتی)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کونسی بیوی آپ کی نگاہ میں مجھ سے زیادہ نصیبہ والی تھی؟ [68]

دراصل دورِ جاہلیت میں مدینہ_منورہ میں طاعون پھوٹ پڑا تھا جس کے سبب اہلیانِ مدینہ_منورہ ماہِ شوال میں رخصتی یا نکاح کو نیک خیال نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ذات اقدس کے سبب یہ جاہلانہ رسم ختم ہوگئی۔[69]

ازدواجی زندگی[ترمیم]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

غزوہ مُرَیسِیع اور واقعہ اِفک[ترمیم]

ماہِ شعبان / جنوری 627ء میں غزوہ المریسیع پیش آیا۔ مریسیع قدید کے اطراف میں ساحل کے قریب ایک چشمہ ہے [70] جس کے گرد بنو مصطلق آباد تھے جو بنو خزاعہ کی ایک شاخ ہیں اور یہ بنی مدلج کے حلفاء میں سے تھے۔ بنو مصطلق اپنے اِس کنویں یعنی مریسیع پر اُترا کرتے تھے۔ اِس کنویں اور الضرع کے مقام کے درمیان ایک دن کی مسافت تھی، الضرع اور مدینہ منورہ میں 8 برد یعنی 96 میل کا فاصلہ تھا۔[71]

مریسیع میں بنو مصطلق کا سردار الحارث بن ابی ضرار تھا جو لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر آمادہ کر رہا تھا۔ یہ خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے بریدہ بن حصیب الاسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ وہ اِس خبر کا علم لائیں۔ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو مصطلق کے حال کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا اور جمع کیا اور لوگ بوقت روانگی گھوڑوں کی باگ دوڑ پکڑ کر روانہ ہوئے، یہ تعداد میں 30 تھے، 10 مہاجرین کے اور 20 انصار کے افراد شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منافقین کے بھی بہت سے آدمی روانہ ہوئے جو اِس سے قبل کسی غزوہ میں روانہ نہیں ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ_منورہ پر اپنا قائمقام بنایا۔[72]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ_منورہ سے پیر 5 شعبان / 29 دسمبر 626ء کو روانہ ہوئے، الحارث بن ابی ضرار اور اُس کے ساتھیوں کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر ملی اور اِس امر کی بھی خبر ملی کہ اُن کا جاسوس قتل کردیا گیا جو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر لانے کے لیے روانہ کیا تھا، تو الحارث بن ابی ضرار کے وہ ساتھی سخت ناگواری کا اظہار کرکے اُس سے جدا ہوگئے اور اِسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریسیع پہنچ گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ نصب کرنے کا حکم دیا۔ اِس غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو ازواج حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بھی ہمراہ تھیں۔ بنو مصطلق سے جنگ کی تیاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو صف بستہ کیا، مہاجرین کا عَلَم حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ اور انصار کا عَلَم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ تھوڑی دیر اُنہوں نے مخالفین سے تیراندازی کی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو حکم دیا تو اُنہوں نے یکبارگی حملہ کردیا۔ مشرکین میں کوئی شخص نہ بچا، 10 آدمی قتل ہوئے اور باقی گرفتار کرلیے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں، عورتوں اور بچوں اور اونٹ اور بکریاں قید کرلیے۔ مسلمانوں میں ایک شخص شہید ہوا۔ اِسی غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرلیا جو بنو مصطلق کے سردار الحارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔[73]

مسلمانوں کی مدینہ_منورہ آمد سے اُنہیں جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا، اُن میں منافقین سر فہرست تھے۔ منافقین کا یہ گروہ مسلمانوں اور اسلام مخالف سازشوں میں مصروف رہتا تھا۔ منافقین کی سازشوں کی بروقت سرکوبی کردی جاتی تاکہ وہ کامیاب نہ ہوسکیں مگر وہ مسلمانوں کی عزت و آبرو سے متعلق طرح طرح کی سازشیں تیار کرلیتے تاکہ مسلمان قبیلوں میں پھوٹ پڑوا سکیں۔ کئی غزوات میں منافقین بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے تاکہ خونریزی پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ ایسا ہی موقع غزوہ بنو مصطلق یا غزوہ بنو مریسیع (وقوعہ ماہِ شعبان / جنوری 627ء) پیش آیا جو تاریخ میں اِفک کے نام سے مشہور ہے، اور یہ منافقین کی سب سے بڑی ذلیل حرکت تھی کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ذات مبارکہ پر بھی اُنگلی اُٹھائی اور اِس تہمت کا بنیادی مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِیذاء پہنچانا تھا، نعوذ باللہ ۔ چونکہ منافقین  کو یہ معلوم تھا کہ یہاں (یعنی مریسیع کے مقام پر) کوئی خونریز جنگ نہ ہوگی اِس لیے منافقین کی ایک بہت بڑی تعداد فوج میں شریک ہوگئی تھی۔ ابن سعد کی روایت ہے کہ: " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منافقین کے بھی بہت سے آدمی روانہ ہوئے جو اِس سے قبل کسی غزوہ میں روانہ نہیں ہوئے تھے۔" [74] منافقین ہر چند اِس غزوہ میں اپنی شریر حرکات سے باز نہ آئے، ایک دفعہ قریب تھا کہ مہاجرین اور انصار تلوار کھینچ کر باہم لڑتے، آخر مشکل سے معاملہ رفع دفع کیا گیا۔ اِن شریروں نے انصار کو کہا کہ وہ مسلمانوں یعنی مہاجرین کی مالی خدمت کرنا چھوڑ دیں،  عبداللہ بن اُبی جو منافقین کا سردار تھا، اُس نے تو برملاء کہا کہ: ہم عزت والے اِن ذلیل لوگوں کو مدینہ سے نکال دیں گے (نعوذ باللہ)۔ اللہ تعالیٰ نے اِسی کے قول کو سورہ منافقون میں دہرا دیا ہے کہ

  • هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنْفَضُّوا ۗ وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ O

یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس (رہتے) ہیں ان پر (کچھ) خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے خدا ہی کہ ہیں

لیکن منافق نہیں سمجھتے۔[75]

  • يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ O

کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے۔ حالانکہ عزت خدا کی ہے اور اس کے رسول کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے۔[76]

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن اُبی کا یہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا۔ آپ نے لشکر کے کوچ کا حکم دیا اور اُسی وقت مریسیع سے روانہ ہوئے۔[77] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارِ مدینہ کو جمع کرکے اِس واقعہ کی اطلاع دی گو کہ وہ اِس جرم میں شریک نہ تھے مگر اُن کو ندامت ہوئی اور عبداللہ بن اُبی کی نسبت اُن میں نفرت سی پیدا ہوگئی۔ خود اُس کے بیٹے نے جب یہ سنا تو اُس نے باپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور کہا: میں اُس وقت تک تجھے نہ چھوڑوں گا جب تک تو یہ اقرار نہ کرلے کہ تو ہی ذلیل ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) عزت والے ہیں۔[78] [79]

  • واقعہ اِفک:

واقعہ اِفک(واقعہ تہمت) یعنی اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت کا واقعہ غزوہ بنو مصطلق (جسے غزوہ بنو مریسیع بھی کہا جاتا ہے) سے واپسی پر ماہِ شعبان 5ھ/ جنوری 627ء سے واپسی پر پیش آیا۔ واقعہ اِفک کی تفصیل خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی صحیح بخاری میں موجود ہے، یہاں یہ واقعہ اِختصار سے تحریر کیا گیا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا غزوہ مریسیع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں، مدینہ_منورہ سے روانگی سے قبل اُنہوں نے اپنی بہن حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتہً پہننے کو مانگ لیا تھا، ہار کی لڑیاں کمزور تھیں کہ ٹوٹ ٹوٹ جاتی تھیں، اِس وقت آپ کی عمر بھی 14/15 سے زائد نہ تھی، یہ دور خاتون کے لیے ایسا ہے کہ اُن کے نزدیک معمولی سا زیور بھی گراں قیمت ہوتا ہے۔چونکہ پردہ کا حکم اِس غزوہ سے قبل ہی نازل ہوچکا تھا اِسی لیے آپ دورانِ سفر محمل یعنی ہودج میں سوار ہوتی تھیں جس پر پردے لٹکے رہتے تھے، ساربان ہودج سمیت آپ کی سواری کو اُتار لیتے اور یونہی ہودج سمیت آپ اونٹ پر سوار ہوجاتیں۔ اُس زمانہ میں حضرت عائشہ دبلی پتلی تھیں، اور ساربانوں کو یہ مطلق معلوم نہ ہوتا تھا کہ آپ ہودج میں سوار ہیں بھی کہ نہیں۔

مریسیع کے مقام سے  واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر ایک مقام لشکر اسلامی نے قیام کیا، یہاں ایک رات لشکر نے پڑاؤ کیا، پچھلے پہر لشکر روانگی کو تیار تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لشکر کے کوچ سے قبل قضائے حاجت کے لیے لشکر سے ذرا دور نکل کر باہر آڑ میں چلی گئیں۔ واپس لوٹیں تو اِتفاقاً ہاتھ گلے پر پڑا تو ہار نہیں تھا، وہیں تلاش کرنے لگیں، اُدھر لشکر تیار تھا، سفر کی ناتجربہ کاری سے اُن کو یقین تھا کہ لشکر کی روانگی سے قبل ہی ہار تلاش کرکے میں واپس آجاؤں گی مگر ہار تلاش کرنے میں دیر ہوگئی،  جاتے وقت آپ کسی کو مطلع کیے بغیر چلی گئیں تھیں، ساربانوں نے خیال کیا کہ آپ ہودج میں سوار ہیں، ہودج کے پردے چھٹے ہوئے تھے، سو اُنہوں نے ہودج اونٹ پر رکھا جو کہ دراصل خالی تھا، اور لشکر روانہ ہوگیا۔ اُس زمانہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا غالباً 14/15 سال کی تھیں اور دبلی پتلی تھیں اِسی لیے ہودج رکھنے والوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ آپ سوار ہیں کہ نہیں؟۔ آپ فرماتی ہیں کہ جب میں ہار کے بغیر واپس آئی تو دیکھا کہ لشکر کوچ کو تیار ہے، میں پھر ہار تلاش کرنے چلی گئی، اب کی بار وہ ہار مجھے مل گیا، جب دوبارہ واپس آئی تو دیکھا کہ لشکر روانہ ہوچکا تھا اور لوگ مجھ کو ہودج میں بیٹھا ہوا سمجھ کر میرا ہودج اونٹ پر کس کر لے گئے تھے۔[80]

جب آپ ہار مل جانے کے بعد واپس اُسی مقام پر آئیں تو دیکھا کہ لشکر روانہ ہوچکا ہے اور وہاں کوئی بھی نہ تھا۔  اِس خیال سے کہ جب لوگ مجھے نہ پائیں گے تو میری تلاش میں واپس یہیں آئیں گے، آپ چادر لپیٹ کر لیٹ گئیں۔ اِسی اثناء میں نیند آگئی۔  حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ جو لشکر کی گری پڑی اشیاء اُٹھانے کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے، وہ وہاں پہنچے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پہچان لیا۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ نے آپ کو پردہ کے حکم نازل ہونے سے قبل دیکھا تھا ۔ آپ کو دیکھتے ہی بلند آواز سے اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ  پڑھا۔ غالباً حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے با آوازِ بلند اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ اِس لیے پڑھا کہ اُم المومنین بیدار ہوجائیں اور خطاب و کلام کی نوبت نہ آئے، اور ایسا ہی ہوا کہ کلام کی نوبت نہیں آئی جیسا کہ آپ خود فرماتی ہیں کہ: اللہ کی قسم! صفوان نے مجھ سے کوئی بات تک نہیں کی اور نہ اُن کی زبان سے سوائے اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ کے میں نے کوئی کلمہ سنا۔ [81] آپ فرماتی ہیں کہ: کہ صفوان نے اپنا اونٹ میرے قریب کیا اور خود پیچھے ہٹ گئے، میں اُس پر سوار ہوئی اور صفوان اُس اونٹ کی نکیل پکڑ کر آگے ہو لیے اور لشکر کی تلاش میں تیزی سے روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی اور لشکر ٹھہرا تو صفوان مجھ کو لے کر لشکر جا پہنچے، اور تمہت لگانے والوں کو جو کچھ کہنا تھا، اُنہوں نے کہا اور مجھ کو اِس کی کوئی خبر نہ تھی۔[82] ابن ہشام نے آپ کی لشکر میں آمد کا وقت صبح لکھا ہے جبکہ مستند تواریخ کے مطابق آپ کی لشکر میں آمد دوپہر کے وقت ہوئی، اور دوپہر کا وقت زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ منافقین نے دوپہر میں واضح دیکھا تو خباثت بکنا شروع کی، صبح کا وقت صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اگر صبح کا وقت ہوتا تو منافقین دیکھ نہ پاتے۔ منافقین کے سردار عبداللہ ابن اُبی بن سلول اور اُس کے ساتھیوں نے یہ منظر دیکھتے ہی اپنی خباثت بکنا شروع کردی کہ اُم المومنین اب پاکدامن نہ رہیں  (نعوذ باللہ)[83] اور جس کو ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا۔[84]

آیات تیمّم کے نزول کا سبب[ترمیم]

تحریم، اِیلا اور تحییر[ترمیم]

زمانہ بیوگی[ترمیم]

بروز پیر 12 ربیع الاول 11ھ مطابق 8 جون 632ء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں واقع مسجد نبوی سے ملحقہ حجرہ عائشہ میں وفات پائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک اُس وقت 18 سال تھی۔ آپ 9 سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تب آپ کی عمر 18 سال تھی۔[85] اور قریباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال 6 ماہ 5 یوم (قمری) اور 46 سال 1 ماہ 5 یوم (شمسی) تک بقید حیات رہیں۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے 9 سال، خلافت راشدہ کے مکمل 30 سال اور امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 17 سالوں کی وہ عینی شاہد تھیں۔اِس تمام عرصہ میں آپ کی شخصیت نمایاں نظر آتی ہے، کبھی آپ لوگوں کو مناسک حج کی تعلیم دیتی نظر آتی ہیں، اور کبھی آپ عبادات و ایمانیات کے متعلق تعلیم دیتی ہیں، کبھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کے روشن پہلو بیان فرماتی ہیں اور کبھی امت میں اصلاح کے واسطے مہمل و کجاوے میں مسند نشیں نظر آتی ہیں۔ گویا اِس تمام مدت میں آپ کی شخصیت محور و مرکز بنی ہوئی تھی، اور تمام مملکت اسلامیہ میں آپ بحیثیت مرکز و محور تسلیم کی جاتی تھیں، خلافت راشدہ کے اختتام پر اور اُموی خلافت کے زمانہ میں یہ شانِ جلالت اوجِ کمال پر رہی۔ حرم نبوت کی یہ شمع اپنی آب و تاب سے ملت اسلامیہ کو ہر وقت روشن کرتی رہی، اِس بات کا اندازہ اِس سے کیا جاسکتا ہے کہ جس روز آپ کا اِنتقال ہوا تو مدینہ منورہ میں کثرت اژدھام کی وجہ سے عید کا گماں ہونے لگا تھا۔

عہد خلفائے راشدین[ترمیم]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول منتخب کیا گیا اور اُنہیں خلیفۃ الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے لقب سے پکارا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بروز پیر 12 ربیع الاول 11ھ/ 8 جون 632ء کو خلیفہ منتخب ہوئے اور بروز پیر 22 جمادی الثانی 13ھ/ 22 اگست 634ء کو مدینہ منورہ میں اِنتقال فرمایا۔ آپ کا عہدِ خلافت 2 سال 3 ماہ 10 دن بلحاظ قمری سال کے ہے۔

ربیع_الاول 11ھ/ جون 632ء میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوگئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کے بعد ازواج المطہرات نے چاہا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجیں تاکہ وہ وراثت کا مطالبہ کرسکیں لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے یاد دلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: میرا کوئی وارث نہ ہوگا، میرے تمام متروکات صدقہ ہوں گے۔ یہ سن کر سب خاموش ہوگئیں۔[86]

بحیثیت داعی اصلاح[ترمیم]

حضرت امیر معاویہ کے عہد میں[ترمیم]

بروز بدھ 25 ربیع_الاول 41ھ/ 28_جولائی 661ء کو حضرت امام حسن_ابن_علی رضی اللہ عنہ نے خلافت حضرت امیر معاویہ_بن_ابو_سفیان کو سپرد کردی۔ سنہ 41ھ سے سنہ 60ھ تک تقریباً 20 سال تک حضرت امیر معاویہ بن ابوسفیان مسلم دنیاء پر حکمرانی کرتے رہے، حضرت امیر معاویہ بن ابوسفیان کی مدت خلافت کے اِختتام سے 2 سال قبل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے 58ھ/ 678ء میں وفات پائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کم و بیش 18 سال حضرت امیر معاویہ بن ابوسفیان کی خلافت میں بسر کیے، اور یہ تمام زمانہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خاموشی سے گزارا، مگر کئی مواقع پر یہ سکوت ختم بھی ہوتا رہا بلکہ آپ براہِ راست حکمران پر تنقید کرلیا کرتی تھیں، ایسے کئی مواقع تاریخ میں محفوظ ہوچکے ہیں۔

  • ایک بار امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم اِس طرح بے خطر تنہا میرے گھر آ گئے، ممکن تھا کہ میں کسی کو چھپا کر کھڑا کردیتی کہ جیسے ہی تم آتے وہ تمہارا سر اُڑا دیتا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دارالامان ہے، یہاں آپ ایسا نہیں کرسکتی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ایمان قتل ناگہانی کی زنجیر ہے۔ پھر دریافت کیا کہ میرا برتاؤ آپ کے ساتھ کیسا ہے؟ آپ بولیں: ٹھیک ہے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میرا اور اُن (یعنی بنو ہاشم) کا معاملہ چھوڑ دیجئیے، اللہ کے ہاں سمجھا جائے گا۔[87][88]
  • صحابی رسول حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کوفہ میں علوی فرقہ کے سرکردہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طرفدار تھے۔ کوفی کے والی نے کچھ لوگوں کی شہادت پر اُن تمام اشخاص کو گرفتار کروا کر دمشق بھیج دیا۔ حجر بن عدی یمن کے خاندان حجر سے تعلق رکھتے تھے، کوفہ عرب کے بڑے بڑے قبائل کا مرکز بن چکا تھا، خود قبیلہ کندہ یہاں موجود تھا، لیکن کسی نے حجر بن عدی کی حفاظت میں انگلی تک نہ اُٹھای، تاہم حجر بن عدی کا صحابہ میں اِس قدر نہایت اقتدار تھا کہ تمام ملک عرب میں اِس واقعہ کے خلاف ناگواری محسوس کی گئی۔ رئیسانِ قبائل نے اُن کے حق میں سفارش کی لیکن قبول نہ ہوئی۔ مدینہ_منورہ خبر پہنچی تو اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی طرف سے ایک قاصد اُن کی سفارش میں دمشق روانہ فرمایا لیکن افسوس کے قاصد کے پہنچنے سے قبل ہی حجر بن عدی قتل کیے جاچکے تھے۔[89] کچھ عرصہ بعد حب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ_منورہ آئے اور آپ سے ملاقات کو آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سب سے پہلے جو گفتگو کی وہ حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے متعلق تھی، آپ نے فرمایا: "معاویہ! حجر کے معاملہ میں تمہارا تحمل کہاں تھا؟ حجر کے قتل میں تم خدا سے نہ ڈرے؟" امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:  اِس میں میرا قصور نہیں، قصور اُن کا ہے جنہوں نے گواہی دی۔[90] حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی شہادت مع اُن کے اصحاب کے 51ھ/ 671ء میں بمقام دمشق میں ہوئی۔[91]
  • سنہ 56ھ/ 676ء میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد یزید کو اپنا جانشین مقرر کیا۔[92] مروان بن حکم مدینہ_منورہ کا والی تھا، مجمع عام میں اُس نے یزید کا نام بطور جانشین امیر معاویہ پیش کیا تو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ (عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سگے بھائی تھے ) نے اُٹھ کر مخالفت کی، مروان بن حکم نے اُن کو گرفتار کرنا چاہا ، وہ دوڑ کر اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گھس گئے۔ مروان بن حکم گھر کے اندر گھسنے کی جرات نہ کرسکا، کھسیانا ہوکر بولا: یہی وہ ہے جس کی شان میں یہ آیت اُتری: وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اوٹ کے پیچھے سے فرمایا: ہم لوگوں (یعنی آل ابوبکر) کی شان میں اللہ نے  کوئی آیت نہیں اُتاری، بجز اِس کے کہ میری برات فرمائی۔[93] (یہ سورۃ الاحقاف کی آیت 17 ہے جس کا ترجمہ ہے: اور جس شخص نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ اُف اُف! ) اِس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ یزید کی جانشینی سے خوش نہ تھیں۔

وفات حضرت امام حسن اور تدفین کا مسئلہ[ترمیم]

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ماہِ ربیع الاول 49ھ/ اپریل 669ء میں مدینہ_منورہ میں وفات پائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ حجرہ_عائشہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر_صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدفون ہیں۔ حجرہ عائشہ کے ایک گوشہ میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اِسی گوشہ مین مدفون ہونے کی وصیت کی تھی اور مزید یہ کہا تھا کہ اگر کوئی تدفین میں مزاحمت کرے تو جنگ و جدل کی ضرورت نہیں، مجھے میری والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  کے قریب قبرستان بقیع الغرقد میں دفن کر دینا۔ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ فوت ہوگئے تو آپ کے بھائی حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے اِس وصیت کی تکمیل کرنا چاہی تو مروان بن حکم مخالفت پر اُتر آیا اور کہنے لگا کہ جب یہاں باغیوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دفن نہ ہونے دیا تو کسی اور کو بھی اجازت نہیں ہوسکتی۔ مروان بن حکم بنو اُمیہ کی معیت میں ہتھیار لگائے باہر نکل آیا اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بنو ہاشم کی معیت میں ہتھیار لگائے سامنے آگئے، قریب تھا کہ خونریز جنگ و جدل کی اِبتداء ہوجاتی مگر درمیان میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آ گئے اور مروان بن حکم سے کہا: نواسہ اگر اپنے نانا کے پہلو میں دفن ہوتا ہے تو تم کو اِس میں دخل دینے کا کیا حق ہے؟ اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی: امام مرحوم کی یہ بھی تو وصیت تھی کہ اگر میری تدفین میں کوئی مزاحمت ہو تو جنگ و جدل سے پرہیز کیا جائے۔ غرض یہ کہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی تدفین قبرستان بقیع الغرقد میں اُن کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پہلو میں کی گئی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اِس سارے معاملہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا طرز عمل کیا تھا؟ بعض شیعی مؤرخین نے اِس واقعہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کردار کو منفی انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے جو دراصل بے سرو پا کذاب روایات ہیں اور شیعی مؤرخیں کی یہ بے سرو پا روایات گستاخئ حرم نبوی (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) پر دلالت کرتی ہیں۔ اِن تمام بے سرو پا روایات کا کوئی راوی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی سند۔

اِن شیعی روایات کی بناء پر یہ کہا گیا ہے کہ تدفین حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود سفید خچر پر سوار ہو کر حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے جنازہ کو روکنے کے لیے نکلیں۔ سپاہیوں نے تیر چلائے اور اِتنی دیر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی آئے اور اُنہوں نے کہا: ابھی جنگ جمل کی شرم ہمارے خاندان سے مٹی نہیں کہ تم ایک اور جنگ کے لیے آمادہ ہو۔ یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واپس چلی گئیں۔

یہ موضوع روایت ابن جریر طبری کی تاریخ الرسل والملوک کی ایک فارسی ترجمہ میں جو برصغیر میں اُنیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں طبع ہوا تھا، پڑھنے کو ملتی ہے۔ اصل نسخہ عربی میں یہ روایت ہی موجود نہیں بلکہ یہ تو شیعی مؤرخین کا فارسی ترجمہ میں اضافہ کیا ہوا ہے، اِس فارسی ترجمہ میں دراصل کئی اضافے موجود ہیں جن میں کئی ضعیف اور کذاب روایات بیان کی گئی ہیں جو عربی کے اصل نسخہ میں موجود نہیں ہیں۔ فارسی کے مترجم نے اِس کتاب کے مقدمہ میں اِس بات کی تصریح بھی کردی ہے کہ بعض روایات موضوع اور من گھڑت ہیں جو فارسی کے اِس ترجمہ میں اضافہ شدہ ہیں یا جن کی کوئی اصل موجود ہی نہیں۔ یعقوبی جو تیسری صدی ہجری کا شیعہ مؤرخ ہے وہ بھی اِس واقعہ کو بغیر کسی سند کے بیان کرتا ہے۔ بغیر کسی سند کے کوئی واقعہ مصدقہ نہیں ہوسکتا۔ اصل واقعہ کے بیان کے بعد کہ در حقیقت فعل مروان بن حکم کا تھا، قیل یعنی ضعفِ روایت کے ساتھ صیغہ کے ساتھ اِس کا ذکر کیا گیا لیکن یہ نہیں لکھا گیا کہ اُنہوں نے نعوذ باللہ تیر چلائے یا جنگ کی۔

تمام معتبر کتب ہائے تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بطیب خاطر حضرت حسن_بن_علی رضی اللہ عنہ کی تدفین کی اجازت دے دی تھی۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سعید ابن ابی العاص جو والئ مدینہ_منورہ تھا، اُس نے بھی تدفین سے نہیں روکا، مگر مروان بن حکم چند افراد کو لے کر فساد برپا کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ امام موصوف نے یہ وصیت کی تھی کہ اگر میری تدفین میں جنگ و جدل کا خطرہ ہو تو مجھے مسلمانوں کے عام قبرستان یعنی بقیع میں دفن کردینا۔ مروان بن حکم کی اِس شرارت سے حضرت حسین_بن_علی رضی اللہ عنہ کو نہایت غصہ آیا اور آپ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بذریعہ زور حجرہ عائشہ میں دفن کرنے پر تیار ہوگئے اور اپنے بھائی کی وصیت سے گو اِنحراف کرنا چاہا۔ [94][95][96]

محدث ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اور امام جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں ایک راوی سے روایت بیان کی ہے جو امام موصوف حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے اُن کے پاس موجود تھا: امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ وصیت فرماتے ہیں کہ میں نے اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے درخواست کی تھی کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے گھر (یعنی حجرہ عائشہ) میں دفن ہونے کی اجازت دیں، اُنہوں نے مجھے اجازت دے دی، لیکن معلوم نہیں کیا اُنہوں نے شرما شرمی میں مجھے اجازت دی یا نہیں۔ میرے مرنے ک بعد اُن سے جا کر پھر اجازت لینا، اگر وہ خوشی سے اجازت دیں تو وہیں دفن کرنا۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگ تم کو ایسا کرنے سے روکیں گے، اگر واقعتاً وہ روکیں تو اِس میں اُن لوگوں سے ردوکد کرنے کی ضرورت نہیں، مجھے بقیع میں دفن کردینا۔ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی، اُنہوں نے کہا: بخوشی۔ مروان بن حکم کو واقعہ معلوم ہوا تو اُس نے کہا: حسین (رضی اللہ عنہ) اور عائشہ (رضی اللہ عنہا) غلط کہتے ہیں، حسن (رضی اللہ عنہ) کبھی وہاں دفن نہیں کیے جاسکتے، عثمان (رضی اللہ عنہ) کو قبرستان تک میں دفن کرنے نہ دیا گیا اور حسن (رضی اللہ عنہ) عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے گھر (حجرہ_عائشہ) میں دفن ہوں گے؟۔

(خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو باغیوں نے بقیع میں دفن نہیں کرنے دیا تھا مگر اصحاب کبار نے بقیع سے متصل باغ حش کوکب میں آپ کو دفن کیا، بعد ازاں وہ باغ قبرستان بقیع میں ضم کرلیا گیا تھا، مروان بن حکم کا اِشارہ اِسی جانب تھا)۔

مروان بن حکم کی مخالفت کا بڑا سبب یہ تھا کہ وہ اُن دِنون امارت مدینہ منورہ سے معزول تھا، مروان بن حکم کو 48ھ/ 668ء میں امارت مدینہ منورہ سے معزول کردیا گیا تھا۔ اِس بہانے سےمروان بن حکم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خوشنودی کا طلب گار تھا کیونکہ 35ھ/ 656ء میں جب خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو باغی اُن کی حجرہ عائشہ میں تدفین میں آڑے آئے اور اُنہیں حجرہ عائشہ میں دفن نہیں کیا گیا بلکہ تدفین بقیع الغرقد میں کی گئی۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ چونکہ اُموی تھے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خاندان بنو اُمیہ سے تھے، اِسی لیے مروان بن حکم نے خاندان بنو ہاشم اور خاندان بنو اُمیہ کی قدیمی مخاصمت کو دوبارہ چھیڑنا چاہا جس میں ہرگز بھی کامیاب نہ ہوسکا۔

صحابہ میں ممتاز حیثیت[ترمیم]

حضرت عروہ بن زبیر رضي الله عنه.png فرماتے ہیں "میں نے کسی ایک کو بھی معانی قرآن ، احکام حلال و حرام ، اشعار عرب اور علم الانساب میں حضرت عائشہ رضي الله عنه.png سے بڑھ کر نہیں پایا" ۔ حضرت عائشہ رضي الله عنه.png کی خصوصیت تھی کہ جب کوئی نہایت مشکل و پیچیدہ مسئلہ صحابہ میں آن پڑتا تھا تو وہ آپ ہی کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے اور آپ رضي الله عنه.png کے پاس اس سے متعلق علم ضرور موجود ہوتا تھا۔ حضرت عائشہ کو علمی حیثیت سے عورتوں میں سب سے زيادہ فقیہہ اور صاحب علم ہونے کی بناء پر چند صحابہ کرام پر بھی فوقیت حاصل تھی۔ فتوے دیا کرتی تھیں اور بے شمار احادیث ان سے مروی ہیں۔ خوش تقریر بھی تھیں۔

  • مسروق تابعی سے پوچھا گیا: کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرائض میں ماہر تھیں؟ فرمایا: ہاں! اُس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے مشائخ و اکابر صحابہ کرام کو دیکھا کہ آپ سے فرائض کے مسائل پوچھا کرتے تھے۔[97]
  • حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جب کبھی کوئی حدیث مشکل ہوجاتی (یعنی کوئی مسئلہ درپیش آ جاتا) تو ہم اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اِس کے بارے میں پوچھتے تو اُن کے ہاں اِس حدیث کا صحیح علم پالیتے۔ [98]
  • تابعی حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر قرآن، فرائض، حلال و حرام، شعر، عربوں٘ کی باتیں، اور نسب کا عالم نہیں دیکھا۔ [99] [100]
  • تابعی حضرت عطاء بن ابی الرباح بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں سے بڑھ کر فقیہ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر جاننے والیں اور تمام لوگوں سے بڑھ کر عام معاملات میں اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔[101] [102] [103] [104] [105] [106]
  • تابعی حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر شعر، فرائض اور فقہ کا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔ [107] [108] [109] [110] [111]
  • تابعی حضرت امام زہری (متوفی 124ھ) بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اِس اُمت کی تمام عورتوں کے جن میں اُمہات المومنین بھی شامل ہوں، علم کو جمع کرلیا جائے تو عائشہ کا علم اُن سب کے علم سے زیادہ ہے۔[112] [113][114] [115] [116] امام ہیثمی نے کہا ہے کہ اِس حدیث کے تمام رجال ثقہ ہیں۔[117]
  • حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کسی بھی خطیب کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر بلاغت و فطانت (ذہانت) والا نہیں دیکھا۔[118] [119] [120]

تلامذہ[ترمیم]

آپ سے احادیث کو روایت کرنے والے تلامذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں مشہور حضرات یہ ہیں:

ابراہیم بن یزید النخعی (مرسلاً)، ابراہیم بن یزید التمیمی، اسحاق بن طلحہ، اسحاق بن عمر، الاسود بن یزید، ایمن المکی، ثُمامہ بن حزن، جُبیر بن نُفیر، جُمَیع بن عمیر، الحارث بن عبداللہ بن ابی ربیع ہ المخزومی، الحارث بن نوفل، حسن_ابن_علی، حمزہ بن عبداللہ بن عمر، خالد_بن_سعید، خالد بن معدان، خباب، خبیب بن عبداللہ بن الزبیر، خلاس الہجری، خیار بن سلمہ، خیثمہ بن عبدالرحمن، ذکوان السمان، مولیٰ ذکوان، ربیع ہ الجرشی، زاذان ابو عمر الکندی، زُرار ہ بن اوفی، زِر بن حُبَیش، زید بن اسلم، سالم بن ابی الجعد، زید بن خالد الجُہنی، سالم بن عبداللہ، سالم سبلان، سائب بن یزید، سعد بن ہشام، سعید المَقبری، سعید بن العاص، سعید_بن_مسیب، سلیمان بن یسار، سلیمان بن بریدہ، شریح بن ارطاہ، شریح بن ھانی، شریق الہوزنی، شقیق ابو وائل، شہر بن حوشب، صالح بن ربیع ہ بن الہدیر، صعصہ، طاووُس، طلح ہ بن عبداللہ التیمی، عابس بن ربیعہ، عاصم بن حمید السکونی، عامر بن سعد، الشعبی، عباد بن عبداللہ بن الزبیر، عباد ہ بن الولید، عبداللہ بن بریدہ، ابوالولید عبداللہ بن الحارث البصری، عبداللہ ابن الزبیر، عرو ہ ابن الزبیر، عبداللہ بن شداد اللیثی، عبداللہ بن شقیق، عبداللہ بن شہاب الخولانی، عبداللہ بن عامر بن ربیعہ، عبداللہ ابن عمر، عبداللہ ابن عباس، عبداللہ بن فروخ، عبداللہ بن ابی مُلَیکہ، عبداللہ بن عبید ابن عمیر، ابن عمیر، عبداللہ بن حکیم، عبداللہ بن ابی قیس، عبداللہ و القاسم، ابنا محمد، عبداللہ بن ابی عتیق محمد، عبدالرحمن بن ابی عتیق، عبداللہ بن واقد العمری، عبداللہ بن یزید، عبداللہ البھی، عبدالرحمن بن الاسود، عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام، عبدالرجمن بن سعید بن وہب الہمدانی، عبدالرحمن بن شُماسہ، عبدالرحمن بن عبداللہ بن سابط الجُمَحی، عبدالعزیز، والد ابن جُریج، عبید اللہ بن عبداللہ، عبیداللہ بن عیاض، عرو ہ المزنی، عطاء بن ابی رباح، عطاء ابن یسار، عکرمہ، علقمہ، علقمہ بن وقاص، علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب، عمرو بن سعید الاشدق، عمرو بن شرحبیل، عمرو بن غالب، عمرو ابن میمون، عمران بن حطان، عوف بن الحارث، عیاض ابن عروہ، عیسیٰ بن طلحہ، غُضیف بن الحارث، فرو ہ بن نوفل، القعقاع بن حکیم، قیس بن ابی حازم، کثیر بن عبید الکوفی، کُریب، مالک بن ابی عامر، مجاہد، محمد بن ابراہیم التیمی، محمد بن الاشعث، محمد بن زیاد الجُمَحی، ابن سیرین، محمد بن عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام، ابوجعفر محمد الباقر، محمد بن قیس بن مخرمہ، محمد بن المنتشر، محمد ابن المنکدر، مروان العقیلی ابولبابہ، مسروق، مصدع ابو یحیی، مُطرف بن الشِخِیر، مِقسَم، مولیٰ ابن عباس، المطلب بن عبداللہ بن حنطب، مکحول شامی، موسیٰ بن طلحہ، میمون بن ابی شبیب، میمون بن مہران، نافع بن جُبیر، نافع ابن عطاء، نافع العمری، نعمان بن بشیر، ہمام بن الحارث، ہلال ابن یساف، یحیی بن الجزار، یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب، یحیی بن یعمر، یزید بن بابنوس، یزید بن الشِخِیر، یعلیٰ بن عقبہ، یوسف بن ماھَک، ابواُمام ہ بن سہل، ابوبرد ہ بن ابی موسیٰ، ابوبکر بن عبدالرحمن بن الحارث، ابوالجوزاء الربعی، ابو حذیفہ الارحبی، ابو حفصہ، ابو الزبیر المکی، ابو سلمہ بن عبدالرحمن، ابو الشعشاء المحاربی، ابو الصدیق الناجی، ابو ظبیان الجنبی، ابو العالیہ رُفَیع الریاحی، ابوعبداللہ الجدلی، ابوعبید ہ بن عبداللہ بن مسعود، ابوعثمان النہدی، ابو عطیہ الوادعی، ابو قلابہ الجرمی، ابو الملیح الہذلی، ابو موسیٰ الاشعری، ابو ہریرہ، ابو نوفل بن ابی عقرب، ابو یونس مولیٰ عائشہ، بُھَیَّہ، مولا ہ الصدیق، جسر ہ بنت دُجاجہ، ذِفر ہ بنت غالب، زینب بن ابی سلمہ، زینب بنت نصر، زینب السہمیہ، سمیہ البصریہ، شُمَیسہ العتکیہ، صفیہ بن شیبہ، صفیہ بنت ابی عبید، عائشہ بنت طلحہ، عمر ہ بنت عبدالرحمن، مرجانہ، والدہ علقمہ بن ابی علقمہ، معاذ ہ العدویہ، ام کلثوم بنت ابی بکر (بہن) ، اُم محمد۔[121]

جودو سخاء[ترمیم]

ایک صحابی کا بیان ہے کہ آپ نے ایک روز میں 70 ہزار درہم اللہ کی راہ میں صرف کیۓ اور خود پیوند لگے کپڑے پہنا کرتی تھیں۔ طیبہ صدیقی اثر ترقی اسلام پر ہے جو تفقہ آپ نے دین میں حاصل کیا اور جو تبلیغ آپ نے امت کو فرمائی اور علم نبوت کی اشاعت میں جو مساعی انہوں نے کیں اور حو علمی فوائد انہوں نے فرزندان امت کو پہنچائے وہ ایسک درجہ ہے جو کسی اور زوجہ محترمہ کو حاصل نہیں۔

  • آپ کے بھانجے حضرت عروہ تابعی کہتے ہیں کہ میں نے صدیقہ (یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کو دیکھا کہ آپ نے 70 ہزار درہم خیرات کیے اور اپنے کرتے کا دامن جھاڑ کر کھڑی ہوگئیں۔[122]
  • ایک بار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس دو تھیلے بھر کر ایک لاکھ کی رقم بھیجی، آپ نے ایک طباق منگوایا، اُس دن آپ کا روزہ تھا۔ آپ وہ رقم لوگوں میں بانٹنے لگیں۔ جب شام ہوگئی تو کنیز کو افطاری لانے کا حکم دیا، اُمِ ذرہ بولیں: اُم المومنین! آپ اِن درہموں میں سے ایک درہم کا گوشت منگو لیتیں جس سے آپ روزہ کھول لیتیں۔ فرمایا: مجھے مت کہو، اگر تم مجھے یاد دلا دیتی تو میں گوشت منگوا لیتی۔[123] واضح رہے کہ آپ کی خدمت میں ایسے نذرانے حضرت امیر معاویہ رضي الله عنه.png اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضي الله عنه.png کی جانب سے پیش کیۓ جاتے تھے کہ اس زمانہ میں افواج اسلامی کثرت سے فتوحات حاصل کررہی تھیں۔

امام ابو نُعَیم الاصبہانی نے اِس روایت کو تفصیلاً بیان کیا ہے کہ:

  • اُم ذرہ جو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ (کنیز) تھیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دو تھیلوں میں آپ کو 80 ہزار یا ایک لاکھ کی مالیت کا مال بھیجا، آپ نے (مال رکھنے کے لیے) ایک تھال منگوایا اور آپ اُس دن روزے سے تھیں۔ آپ وہ مال لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے بیٹھ گئیں۔ پس شام تک اُس مال سے آپ کے پاس ایک درہم بھی نہ بچا، جب شام ہوگئی تو آپ نے فرمایا: اے لڑکی! (دراصل جاریہ کنیز کو عربی_زبان میں کہتے ہیں، ہم نے یہاں جاریہ کا معنی کنیز نہیں بلکہ لڑکی سے کیا ہے) میرے افطار کے لیے کچھ لاؤ،  وہ لڑکی ایک روٹی اور تھوڑا سا گھی لے کر حاضر ہوئی۔  پس اُم ذرہ نے عرض کیا:  کیا آپ نے جو مال آج تقسیم کیا ہے، اُس میں سے ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت نہیں خرید سکتی تھیں؟ جس سے آج ہم افطار کرتے،  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اب میرے ساتھ اِس لہجے میں بات نہ کرو، اگر اُس وقت (جب میں مال تقسیم کر رہی تھی) تو نے مجھے یاد کرایا ہوتا تو شاید میں ایسا کر لیتی۔ [124] [125] [126]
  • تابعی حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سونے کا ایک ہار بھیجا جس میں ایک ایسا جوہر لگا ہوا تھا جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، پس آپ نے وہ قیمتی ہار تمام امہات المومنین میں تقسیم فرما دیا۔ [127] [128]
  • حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:  میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر سخاوت کرنے والی عورت نہیں دیکھی، اور دونوں کی سخاوت میں فرق ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھوڑی تھوڑی اشیاء جمع فرماتی رہتی تھیں اور جب کافی ساری اشیاء آپ کے پاس جمع ہوجاتیں تو آپ اُنہیں (غرباء اور محتاجوں میں) تقسیم فرما دیتیں،  جبکہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اپنے پاس کل کے لیے بھی کوئی چیز نہیں بچا رکھتی تھیں۔[129] [130]

فضائل و مناقب[ترمیم]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عورتوں پر عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔ [131] ثرید اُس کھانے کو کہتے ہیں جس کے شوربے میں روٹی بھگودی جائے اور بعد میں تناول کی جائے۔ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ثرید تمام کھانوں میں ممتاز سمجھا جاتا تھا۔

تابعی قاسم بن محمد بن ابی بکر  (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:  مجھے ازواج المطہرات پر دس وجوہات سے فضیلت حاصل ہے۔ پوچھا گیا:  اُم المومنین وہ دس وجوہات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا:

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سواء کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا۔
  • میرے سواء کسی ایسی خاتون سے نکاح نہیں کیا جس کے والدین مہاجر ہوں۔
  • اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری براءت نازل فرمائی۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرئیل امین علیہ السلام ایک ریشمی کپڑے میں میری تصویر لائے اور فرمایا: اِن سے نکاح کرلیجئیے، یہ آپ کی اہلیہ ہیں۔
  • میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے نہایا کرتے تھے۔ [132]
  • میرے سواء اِس طرح آپ اپنی کسی اور بیوی کے ساتھ غسل نہیں کیا کرتے تھے۔
  • آپ میرے پاس ہوتے تو وحی آ جایا کرتی تھی، اور اگر کسی اور بیوی کے پاس ہوتے تو وحی نہیں آیا کرتی تھی۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گلے اور سینہ کے درمیان ہوئی  (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا سر اقدس صدیقہ رضی اللہ عنہ کی رانِ مبارک اور زانوئے مبارک کے درمیان تھا)۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری باری کے دن فوت ہوئے (یعنی جب میرے یہاں مقیم تھے)۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں مدفون ہوئے۔[133]

دوسری روایت میں ہے کہ تابعی عمیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ فرماتی ہیں کہ: مجھے چند چیزیں حاصل ہیں جو کسی عورت کو حاصل نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت میری عمر سات سال تھی، آپ کے پاس فرشتہ اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کر آیا اور آپ نے میری تصویر دیکھی، رخصتی کے وقت میں نو سال کی تھی، میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، اُنہیں میرے سواء کسی عورت نے نہیں دیکھا، میں آپ کی سب سے زیادہ چہیتی تھی، میرے والد آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں مرض الموت کے ایام گزارے، اور میں نے آپ کی تیمارداری کی پھر جب آپ نے وفات پائی تو آپ کے پاس صرف میں اور فرشتے تھے، کوئی اور نہ تھا۔[134] بکثرت احادیث و روایات سے یہ مسلمہ ہے کہ بوقت نکاح آپ کی عمر 6 سال تھی، یہاں سات سال سے مراد یہ ہے کہ بوقت نکاح 6 سال مکمل ہوکر ساتویں سال کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔

  • ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ!   جنت میں آپ کی بیویاں کون ہیں؟  فرمایا:  اُن میں سے ایک تم بھی ہو۔ [135]
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  مجھے جنت میں عائشہ دکھائی گئیں تاکہ مجھ پر موت آسان ہوجائے، گویا میں اُن کے دونوں ہاتھ دیکھ رہا ہوں۔[136]
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  عائشہ جنت میں بھی میری بیوی ہوں گی۔ [137]

تابعی عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے اُم المومین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بھانجے!  مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  تمہاری ناراضی اور رضا مجھ سے چھپی نہیں رہتی۔ میں بولی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،  آپ کس طرح پہچان جاتے ہیں؟  فرمایا:  رضا کے وقت جب تم قسم کھاتی ہو تو محمد کے رب کی قسم کہتی ہو اور ناراضی کے وقت ابراہیم کے رب کی قسم کہتی ہو۔ میں بولی:  یارسول اللہ!   آپ سچ فرماتے ہیں۔ [138][139] [140] [141]

تابعی مسروق جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے شاگرد ہیں، جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی حدیث بیان کرتے تو فرماتے: مجھ سے یہ حدیث صدیقہ بنت صدیق نے اور اللہ کے محبوب کی معصومہ محبوبہ نے بیان فرمائی۔ [142]  یہ اُن کی اُم المومنین سے والہانہ عقیدت کا اظہار ہے۔

حضرت ابی حازم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:  یا رسول اللہ!  آپ کو سب سے زیادہ کون پیارے ہیں؟  فرمایا:  عائشہ،  بولے: میں مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں۔ فرمایا:  اُن کے والد۔[143]

حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتے تو فرماتے:  اللہ کی قسم! عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کبھی بھی جھوٹ نہیں باندھ سکتیں۔[144]

زیارت حضرت جبرائیل علیہ السلام[ترمیم]

آپ فرماتی ہیں کہ: میں انے اپنے اِس حجرے کے دروازے پر حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کو گھوڑے پر سوار دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے، پھر جب آپ اندر تشریف لائے تو میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! یہ کون تھے جن سے آپ چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے؟ فرمایا: کیا تم نے اُنہیں دیکھا تھا؟ میں بولی: جی۔ فرمایا: تم نے اُنہیں کس کے مشابہ پایا؟ میں بولی: دحیہ کلبی کے۔ فرمایا: تم نے فراوانی کے ساتھ خیر دیکھی، وہ جبرئیل علیہ السلام تھے، تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایا: عائشہ یہ جبرئیل ہیں، تم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ میں بولی: وعلیہ السلام، اللہ تعالیٰ اِس آنے والے کو بہتر صلہ عطاء فرمائے۔[145] دوسری روایت میں ہے کہ آپ فرماتی ہیں کہ: میں نے اُن کو (یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام) کو نہیں دیکھا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ دیکھتے تھے جو میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ [146] [147]

امام بخاری نے ابو سلمہ سے روایت کیا ہے کہ:  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اے عائشہ! یہ جبرائیل  (علیہ السلام) ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا: اُن پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکات ہوں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ دیکھ سکتے ہیں، وہ میں نہیں دیکھ سکتی۔[148] [149] [150] [151] [152] [153] [154] [155] [156] [157] [158] [159] [160] [161] [162] [163]

روایات احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعداد[ترمیم]

آپ سے 2210 احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم روایت ہیں جبکہ اِن میں سے 174 متفق علیہ ہیں، یعنی اِن کو امام بخاری نے صحیح بخاری اور امام مسلم نے صحیح مسلم میں سنداً روایت کیا ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے متفق روایات 174 لی ہیں جن میں امام بخاری 54 میں منفرد ہیں اور امام مسلم 69 احادیث میں منفرد ہیں [164]۔ 2210 احادیث والی تعداد کو سید سلیمان ندوی نے سیرت عائشہ میں لکھا ہے مگر یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ صرف مسند احمد بن حنبل میں ہی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 2524 ہے۔

اگر صحاح_ستہ میں مکرر رویات حذف نہ کی جائیں تو روایات عائشہ رضی اللہ عنہا کی تعداد یوں ہے:

  • صحیح بخاری: 960 احادیث۔
  • صحیح مسلم: 761 احادیث۔
  • سنن ابوداود: 485 احادیث۔
  • سنن نسائی: 690 احادیث۔
  • جامع سنن ترمذی: 535 احادیث۔
  • سنن ابن ماجہ: 411 احادیث۔
  • موطاء_امام_مالک: 141 احادیث۔
  • مشکوٰۃ المصابیح: 553 (روایاتِ احادیث کا یہ مجموعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس لیے اِنہیں شمار نہیں کیا گیا)۔
  • سنن الدارمی: 200 احادیث۔
  • مسند امام احمد بن حنبل: 2524 احادیث۔
  • موطاء امام محمد: 80 احادیث۔

علالت وفات و تدفین[ترمیم]

آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقیدِ حیات رہیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اواخر سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حیات مبارکہ کے اواخر سال ہیں۔ سنہ 58ھ مطابق 678ء میں جب آپ کی عمر مبارک 67 سال کے قریب قریب تھی کہ ماہِ رمضان 58ھ/ جولائی 678ء میں علیل ہوگئیں اور چند روز تک علیل رہیں۔ کوئی حال پوچھتا تو فرماتیں: اچھی ہوں۔ [165]

جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگیں: کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی، کاش میں ایک درخت ہوتی کہ اللہ کی پاکی میں رطب اللسان رہتی اور پوری طرح سے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتی، کاش میں مٹی کا ایک ڈھیلا ہوتی، کاش اللہ تعالیٰ مجھے پیدا نہ فرماتا، کاش میں زمین کی بوٹیوں میں سے کوئی بوٹی ہوتی اور قابل ذکر شے نہ ہوتی۔[166]

عیسیٰ بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا کہ اِن تمناؤں سے کیا مراد تھا؟  کہنے لگے: اُم المومنین اِن تمناؤں سے دعاء میں توبہ کا وسیلہ اختیار فرما رہی تھیں [167] (یہ تمام تمنائیں آپ کسر نفسی میں فرما رہی تھیں حالانکہ آپ ازل سے اُم المومنین کے خطاب سے سرفراز ہوئی ہیں)۔

اسماعیل بن قیس کہتے ہیں کہ بوقت وفات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نئی نئی باتیں اِختیار کر لی تھیں، لہٰذا مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج المطہرات کے پاس دفن کرنا (یہ آپ نے کسر نفسی میں فرمایا تھا)۔[168]

ذکوان جو آپ کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ جب آپ علیل ہوئیں تو میں اجازت حاصل کرکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا،  آپ کے سرہانے آپ کے بھتیجے عبداللہ بن عبدالرحمٰن تھے۔ میں نے کہا:  آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آنا چاہتے ہیں، اُس وقت آپ دنیاء سدھارنے والی تھیں، بولیں: ابن عباس کو نہ آنے دو،  اِس وقت مجھے اُن کی اور اُن کی تعریفوں کی ضرورت نہیں۔ ذکوان نے کہا: اُم المومنین! ابن عباس آپ کے ایک نیک و صالح فرزند ہیں۔ آپ کو سلام کرنے اور رخصت کرنے آئے ہیں۔ بولیں: اچھا تو اگر تم چاہو تو اُنہیں بلا لو،  آخر کار میں نے اُنہیں بلا لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آتے ہی آپ کو سلام کیا اور بیٹھ گئے اور بولے: بشارت ہو۔  بولیں:  کس چیز کی؟   کہنے لگے:  اُس کی جو آپ کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور دیگر احباب کی ملاقات کے درمیان ہے،  بس جسم سے روح نکلنے کی دیر ہے آپ اُن سب سے جاکر ملاقات کریں گی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی لاڈلی بیوی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاکیزہ چیز سے ہی محبت کیا کرتے تھے اور دیکھیے ابواء کے دن آپ کا ہار کھو گیا تھا، اُسے ڈھونڈنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منزل میں صبح تک ٹھہرے رہے، لوگوں کے پاس پانی نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ مسلمانوں کو یہ سہولت آپ کی بدولت نصیب ہوئی پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی براءت ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اُتاری جسے روح الامین لے کر آئے، اب ایسی کوئی مسجد نہیں جس میں آپ کی براءت کی آیتیں صبح و شام نہ پڑھی جاتی ہوں۔  آپ فرمانے لگیں:  ابن عباس! تعریفیں چھوڑو، اُس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے،  میری تو یہ تمناء ہے کہ میں بھولی بسری ہوئی جاتی۔[169]

تابعی ابن ابی عتیق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے جب کہ وہ علیل تھیں، بولے:  اُم المومنین کسی طبیعت ہے؟  میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، فرمانے لگیں:  اللہ کی قسم  یہ موت ہے۔[170]

عبید بن عمیر تابعی کہتے ہیں کہ آپ نے وصیت فرمائی کہ میرے جنازے کے پیچھے آگ لے کر نہ جانا اور میری میت پر سرخ مخملی چادر نہ بچھانا۔[171] اپنے غلام ذکوان کو آزاد کرنے کی وصیت کی تھی۔[172]

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے منگل 17 رمضان 58ھ مطابق 13 جولائی 678ء کی شب کو اِس دارِ فانی سے عالم بقاء کو لبیک کہا۔[173][174] [175] آپ کی وفات کی خبر اچانک ہی تمام مدینہ منورہ میں پھیل گئی اور انصارِ مدینہ منورہ اپنے گھروں سے نکل آئے۔ جنازہ میں ہجوم اِتنا تھا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ رات کے وقت اِتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا گیا، بعض عورتوں کا اژدھام دیکھ کر روزِ عید کے ہجوم کا گماں گزرتا تھا۔ آپ کی مدتِ حیات شمسی سال کے اعتبار سے 64 سال اور قمری سال کے اعتبار سے 66 سال 11 ماہ تھی۔ نمازِ جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور آپ کی تجہیز و تکفین شب میں ہی عمل میں آئی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اُن دِنوں مدینہ منورہ کے قائم مقام امیر تھے کیونکہ مروان بن حکم مدینہ منورہ میں موجود نہ تھا، وہ عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ گیا ہوا تھا اور مدینہ منورہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب اور قائم مقام امیر بنا کر گیا تھا۔[176] بوقت تدفین آپ کی قبر اطہر کے چاروں اطراف ایک کپڑے سے پردہ کر دیا گیا تھا تاکہ آپ کے احترام میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ [177] آپ کو قبر اطہر میں آپ کے بھانجوں، بھتیجوں یعنی جناب قاسم بن محمد بن ابی بکر، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، عروہ بن زبیر، عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے قبر اطہر میں اُتارا۔[178] شب بدھ میں تہجد کے وقت تدفین عمل میں آئی۔

اُم المومنین حضرت ام سلمہ ہند بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا لوگوں کی آہ و فغاں سن کر بولیں: عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے لیے جنت واجب ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری بیوی تھیں [179]۔ امام ابوداؤد طیالسی نے اُم المومنین حضرت ام سلمہ ہند_بنت_ابی_امیہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب اُنہیں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کی وفات کی خبر معلوم ہوئی تو بولیں: اللہ اُن پر رحمت بھیجے کہ اپنے باپ کے سواء وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ [180][181]

عبید بن عمیر تابعی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے میرے والد سے پوچھا: لوگوں نے اُم المومنین کا غم کیا کیا؟  بولے:  آپ کی وفات پر ہر وہ غمگین تھا جس جس کی آپ ماں تھیں۔[182]

واقعات و تعینِ عمر مبارکہ[ترمیم]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ولادت بعثت نبوی کے چوتھے سال ماہِ شوال مطابق جولائی 614ء میں ہوئی اور آپ کی وفات بروز منگل 17 رمضان 58ھ مطابق 13 جولائی 678ء کو ہوئی۔ شمسی سال کے اعتبار سے مدت حیات مکمل 64 سال ہوتی ہے اور قمری سال کے اعتبار سے 66 سال 11 ماہ ہوتی ہے یعنی ماہِ شوال 4 نبوی سے ماہِ رمضان 58ھ تک۔ اِس کو باآسانی یوں شمار کیا جاسکتا ہے کہ 4 نبوی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 44 سال تھی یعنی 44 سال میلادی۔ 11ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی تو وہ 64 سال میلادی تھا۔ ہجرت کا سال میلادی 53 تھا۔ اگر 58ھ میں سال میلادی 53 جوڑ دئیے جائیں تو 111 سال ہوتے ہیں۔ اِن 111 سالوں میں 44 سال نفی کردیں (جو ولادت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سال ہے اور اُس میں سال میلادی 44 تھا) تو باقی رہے 67 سال۔ یعنی 4 نبوی سے 58ھ تک 67 سال قمری ہوتے ہیں جو قریب قریب آپ کی مدت حیات 66 سال 11 ماہ کے ہے۔

عبادت اور خشیتِ الٰہی[ترمیم]

  • نماز چاشت پابندی سے اداء فرماتیں۔[183] [184] چاشت کی 8 رکعت ادائیگی آپ کا معمول تھا۔[185] اکثر فرمایا کرتیں:  اگر میرے والدین کو بھی زندہ کردیا جائے، میں پھر بھی یہ رکعتیں ترک نہ کروں گی[186] (مراد اِس سے یہ تھا کہ اگر میرے والدین زندہ ہوکر آئیں اور مجھے اِس نماز سے روکیں تو میں اِس نماز کی ادائیگی نہیں چھوڑوں گی)۔
  • نمازِ چاشت کی ادائیگی میں اکثر طویل وقت صرف ہوجاتا، عبداللہ بن ابی موسیٰ تابعی کہتے ہیں کہ ایک بار مجھے ابن مدرک نے کچھ سوالات کے جوابات کی خاطر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا کہ جوابات دریافت کرکے لاؤ، جب میں حجرہ کے قریب پہنچا تو آپ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے سوچا کہ اُن کے فارغ ہونے تک بیٹھ کر اِنتظار کرلیتا ہوں لیکن لوگوں نے مجھے بتایا کہ اُنہیں بہت دیر لگے گی، میں نے اُسی اطلاع دینے والے سے پوچھا کہ میں اُن سے کس طرح اجازت طلب کروں؟  اُس نے کہا کہ یوں کہو:  السَلَامُ عَلَیکَ اَیُھَا النَبِیُ وَرَحمَتُ اللہِ  وَ بَرَ کَاتُہ، السَلَامُ عَلَینا وَ عَلَی عِبَادِ اللہِ الصَالِحِینَ السَلاَ مُ عَلیَ اُمَھِاتِ المُومِنِینَ،   میں اِس طرح سلام کرکے اندر داخل ہوا اور آپ سے سوالات کے جوابات دریافت کرنے لگا۔[187]
  • تابعی حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسلسل روزے سے ہوتی تھیں۔ قاسم بن محمد بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مسلسل روزہ سے ہوتی تھیں اور صرف عیدالاضحیٰ اور عید الفطر کو افطار فرماتی تھیں (یومِ عیدین کو روزہ نہیں رکھا جا سکتا اِس لیے اِس روایت میں افطار سے مراد یہی ہے)۔ قاسم بن محمد بن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ میں صبح کو جب گھر سے روانہ ہوتا تو سب سے پہلے سلام کرنے کی غرض سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتا،  پس ایک صبح میں آپ کے گھر گیا تو آپ حالت قیام میں تسبیح فرما رہی تھیں اور یہ آیت مبارکہ پڑھ رہی تھیں: فَمَنَّ اللہُ عَلَیْنَا وَ وَقَانًا عَذَابَ السَّمُوْمِ،  اور دعاء کرتی اور روتی جا رہی تھیں اور اِس آیت کو بار بار دہرا رہی تھیں،  پس میں (انتظار کی خاطر) کھڑا ہوگیا، یہاں تک کہ میں کھڑا ہو ہو کر اُکتا گیا اور اپنے کام کی غرض سے بازار چلا گیا،  پھر میں واپس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ اِسی حالت میں کھڑی نماز اداء کر رہی ہیں اور مسلسل روئے جا رہی ہیں۔ [188] [189] [190] [191]
  • جب آپ یہ آیت وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ پڑھتیں تو آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے تر ہو جاتا [192] (یہ سورۃ الاحزاب کی آیت 33 ہے اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے:  "اپنے گھروں میں ٹھہری رہو")۔
  • آپ شدت سے ادائیگی حج کی پابند تھیں۔ آپ نے حجۃ الوداع کے بعد (سنہ 11ھ سے 57ھ / 632ء تا 677ء تک) مزید 47 حج اداء فرمائے۔

مستشرق ولیم میور کی نافہمی اور غلطی[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. لسان العرب لابن منظور - طبع دار صادر: ج13 ص431، قال: "وكانت العرب تسمي العجم الحمراء لغلبة البياض على ألوانهم، ويقولون لمن علا لونه البياض أحمر۔"
  2. النهاية في غريب الأثر لابن قتيبة: طبعة المكتبة العلمية: ج1 ص438
  3. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 707، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  4. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 707، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  5. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 712، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  6. امام ابوداود: سنن ابوداود، کتاب الادب۔
  7. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 6 صفحہ 93 اور 107۔
  8. امام مسلم: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب 59: باب فی فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، صفحہ 1214، الرقم الحدیث 6198 مکرر 2447۔  مطبوعہ دارالفکر، بیروت، لبنان، 1424ھ۔
  9. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 9 الرقم الحدیث 4726، حدیث مرفوع۔
  10. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 55، مطبوعہ لاہور۔
  11. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 55، مطبوعہ لاہور۔
  12. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 56، مطبوعہ لاہور۔
  13. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 707، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  14. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، جلد 6 صفحہ 138، بابت ذکر لقب حمیراء۔
  15. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب تزویج عائشہ رضی اللہ عنہا۔
  16. امام بخاری: صحیح بخاری، واقعہ اِفک
  17. امام ابوداود: سنن ابوداود، باب السبق
  18. امام ابوداود: سنن ابوداود، باب السبق
  19. امام بخاری: صحیح بخاری، باب ہل تصلیٰ المراۃ فی ثوب حاضت فیہ۔
  20. امام بخاری: صحیح بخاری، باب الاستعار للعروس۔
  21. امام بخاری: صحیح بخاری، باب ما یبس المحرم من الثیاب۔
  22. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ64، مطبوعہ لاہور۔
  23. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 64، مطبوعہ لاہور۔
  24. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 64، مطبوعہ لاہور۔
  25. امام بخاری: صحیح بخاری، باب التیمم و الافک۔
  26. امام بخاری: صحیح بخاری، باب الخاتم النساء۔
  27. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ64، مطبوعہ لاہور۔
  28. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 64، مطبوعہ لاہور۔
  29. امام مالک: موطاء امام مالک، کتاب اللباس، باب 3: ما جاء فی لُبس الخز، صفحہ 976، مطبوعہ لاہور۔
  30. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 63، مطبوعہ لاہور۔
  31. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 64، مطبوعہ لاہور۔
  32. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 64، مطبوعہ لاہور۔
  33. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 65، مطبوعہ لاہور۔
  34. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 66، مطبوعہ لاہور۔
  35. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 62، مطبوعہ لاہور۔
  36. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 65، مطبوعہ لاہور۔
  37. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 63، مطبوعہ لاہور۔
  38. سید سلیمان ندوی: سیرت عائشہ، صفحہ 21، مطبوعہ لاہور 2010ء۔
  39. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 12 صفحہ 707، مطبوعہ لاہور 1964ء۔
  40. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 68، مطبوعہ لاہور۔
  41. امام ابوداؤد:  سنن ابوداؤد،  کتاب الادب، باب فی اللعب فی البنات، جلد 3، صفحہ 508، الرقم الحدیث 4283، مطبوعہ لاہور۔
  42. امام ابوداؤد:  سنن ابوداؤد،  کتاب الادب، باب فی اللعب فی البنات، جلد 3، صفحہ 508، الرقم الحدیث 4284، مطبوعہ لاہور۔
  43. امام ابوداؤد:  سنن ابوداؤد،  کتاب الادب، باب فی اللعب فی البنات، جلد 3، صفحہ 508، الرقم الحدیث 4283، مطبوعہ لاہور۔
  44. امام ابوداؤد:  سنن ابوداؤد،  کتاب الادب، باب فی اللعب فی البنات، جلد 3، صفحہ 508، الرقم الحدیث 4283، مطبوعہ لاہور۔
  45. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 56، مطبوعہ لاہور۔
  46. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 57، مطبوعہ لاہور۔
  47. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 58، مطبوعہ لاہور۔
  48. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 60، مطبوعہ لاہور۔
  49. امام ابوداؤد:  سنن ابوداؤد،  کتاب الادب، باب فی اللعب فی البنات، جلد 3، صفحہ 509، الرقم الحدیث 4284، مطبوعہ لاہور۔
  50. امام ابوداؤد:  سنن ابوداؤد،  کتاب الادب، باب فی اللعب فی البنات، جلد 3، صفحہ 509، الرقم الحدیث 4284، مطبوعہ لاہور۔
  51. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب قولہ:  بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَ السَّاعَۃُ اَدْھٰی وَ اَمَرُّ ،  جلد 2 صفحہ،  856،  الرقم 4525، مطبوعہ لاہور
  52. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب 6: باب قولہ:  بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُھُمْ وَ السَّاعَۃُ اَدْھٰی وَ اَمَرُّ، الرقم 4886،  مجلد اول،  صفحہ 1230،  مطبوعہ دار ابن کثیر، دمشق، 1423ھ۔
  53. امام بخاری: باب تزویج الصغار من الکبار۔
  54. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، جلد 6 صفحہ 211۔
  55. سید سلیمان ندوی: سیرت عائشہ،  صفحہ 25،  مطبوعہ لاہور۔
  56. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 56، مطبوعہ لاہور۔
  57. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، مسند عائشہ، صفحہ 94۔
  58. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 56، مطبوعہ لاہور۔
  59. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 56، مطبوعہ لاہور۔
  60. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 59/60، مطبوعہ لاہور۔
  61. امام ترمذی: السنن الترمذی، کتاب المناقب، باب 63: باب مِن فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، جلد 3 صفحہ 574،  الرقم الحدیث 3880۔ مطبوعہ مکتبۃ المعارف، الریاض، سعودی عرب، 1420ھ۔
  62. سید سلیمان ندوی: سیرت عائشہ، صفحہ 26، مطبوعہ لاہور۔
  63. امام بخاری: صحیح بخاری، باب الہجرۃ۔
  64. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 58/59، مطبوعہ لاہور۔
  65. امام ابوداؤد:  سنن ابوداؤد،  کتاب الادب۔
  66. امام بخاری: صحیح بخاری، باب الہجرۃ
  67. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 59، مطبوعہ لاہور۔
  68. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 56، مطبوعہ لاہور۔
  69. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 57، مطبوعہ لاہور۔
  70. دکتور شوقی ابو خلیل: اطلس سیرت نبوی، صفحہ 276،  اُردو مترجم ، مطبوعہ لاہور 1425ھ۔
  71. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 1، جزء 1،  صفحہ 295، تذکرہ غزوہ مریسیع،  مطبوعہ لاہور۔
  72. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 1، جزء 1،  صفحہ 295، تذکرہ غزوہ مریسیع،  مطبوعہ لاہور۔
  73. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 1، جزء 1،  صفحہ 295، تذکرہ غزوہ مریسیع،  مطبوعہ لاہور۔
  74. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 1، جزء 1،  صفحہ 295، تذکرہ غزوہ مریسیع،  مطبوعہ لاہور۔
  75. سورۃ المنافقون: آیت 7، پارہ 28
  76. سورۃ المنافقون: آیت 8، پارہ 28
  77. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 1، جزء 1،  صفحہ 297، تذکرہ غزوہ مریسیع،  مطبوعہ لاہور۔
  78. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 1، جزء 1،  صفحہ 297، تذکرہ غزوہ مریسیع،  مطبوعہ لاہور۔
  79. سید سلیمان ندوی: سیرت عائشہ، صفحہ 72/73،  مطبوعہ لاہور۔
  80. ابن ہشام:  سیرت النبی،  باب 116 تذکرہ تحت واقعہ اِفک،  جلد 2  صفحہ 201۔  مطبوعہ لاہور۔
  81. ابن ہشام:  سیرت النبی،  باب 116 تذکرہ تحت واقعہ اِفک،  جلد 2  صفحہ 202۔  مطبوعہ لاہور۔
  82. ابن ہشام:  سیرت النبی،  باب 116 تذکرہ تحت واقعہ اِفک،  جلد 2  صفحہ 202۔  مطبوعہ لاہور۔
  83. سید سلیمان ندوی: سیرت عائشہ، صفحہ 74،  مطبوعہ لاہور۔
  84. محمد ادریس کاندھلوی: سیرت المصطفیٰ، جلد 2 صفحہ 274، مطبوعہ لاہور
  85. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 57، مطبوعہ لاہور۔
  86. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب الفرائض
  87. امام احمد بن حنبل: مسند عائشہ، ج 4 صفحہ 92، مطبوعہ قاہرہ، مصر۔
  88. ابن جریر طبری: تاریخ الرسل والملوک، ج 4 حصہ اول، صفحہ 102، تذکرہ تحت سنہ ہجریہ 51ھ۔مطبوعہ لاہور۔
  89. ابن جریر طبری: تاریخ الامم والملوک، جلد 7 صفحہ 145، مطبوعہ قاہرہ، مصر۔
  90. ابن جریر طبری: تاریخ الرسل والملوک، ج 4 حصہ اول، صفحہ 101، تذکرہ تحت سنہ ہجریہ 51ھ۔مطبوعہ لاہور۔
  91. ابن جریر طبری: تاریخ الرسل والملوک، ج 4 حصہ اول، صفحہ 82، تذکرہ تحت سنہ ہجریہ 51ھ۔
  92. ابن جریر طبری: تاریخ الرسل والملوک، ج 4 حصہ اول، صفحہ 114، تذکرہ تحت سنہ ہجریہ 51ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  93. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب التفسیر، باب وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا، جلد 2 صفحہ 840، الرقم الحدیث 4478،  مطبوعہ لاہور۔
  94. ابن اثیر الجزری:  التاریخ الکامل لابن اثیر،  جلد 3 صفحہ 383،  مطبوعہ لائیڈن، جرمنی یورپ۔
  95. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 8 صفحہ 63/64،  تذکرہ سنہ ہجریہ 49ھ۔  مطبوعہ لاہور۔
  96. سید سلیمان ندوی:  سیرت عائشہ، ملخصاً از صفحہ 123 تا 125،  مطبوعہ لاہور۔
  97. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 61، مطبوعہ لاہور۔
  98. امام ترمذی:  السنن الترمذی، کتاب المناقب، باب 63: باب مِن فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، جلد 3 صفحہ 575/576،  الرقم الحدیث 3883۔  مطبوعہ مکتبۃ المعارف، الریاض، سعودی عرب، 1420ھ۔
  99. امام ابو نُعَیم الاصبہانی: حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء،  جلد 2 صفحہ 49/50،  مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان، 1400ھ۔
  100. امام ابن الجوزی: صفۃ الصفوۃ،  جلد 2 صفحہ 32، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1409ھ۔
  101. امام الحاکم:  مستدرک علی الصحیحین ، جلد 4 صفحہ 15،  الرقم الحدیث 6748۔ مطبوعہ دارالباز للنشر والتوزیع، مکہ مکرمہ، سعودی عرب، 1400ھ۔
  102. امام الحافظ الذھبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 2 صفحہ 185۔ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1413ھ۔
  103. امام یوسف المزی: تہذیب الکمال، جلد 35 صفحہ 234۔ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1400ھ۔
  104. امام ابن عبد البر:  الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4 صفحہ 1883۔ مطبوعہ دارالجیل، بیروت، لبنان، 1412ھ۔
  105. امام ابن حجر عسقلانی: تہذیب التہذیب،  جلد 12 صفحہ 463۔ مطبوعہ دارالفکر، بیروت، لبنان، 1404ھ۔
  106. امام ابن حجر عسقلانی: الاصابہ فی تمیز الصحابہ،  جلد 8 صفحہ 18۔ مطبوعہ دارالجیل، بیروت، لبنان، 1412ھ۔
  107. امام ابن ابی شیبہ:  المصنف،  جلد 5 صفحہ 286،  الرقم 26044۔ مطبوعہ مکتبۃ الرشد، الریاض، سعودی عرب، 1409ھ۔
  108. امام ابن حجر عسقلانی: تہذیب التہذیب،  جلد 12 صفحہ 463۔ مطبوعہ دارالفکر، بیروت، لبنان، 1404ھ۔
  109. امام یوسف المزی: تہذیب الکمال، جلد 35 صفحہ 234۔ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1400ھ۔
  110. امام ابن عبد البر:  الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4 صفحہ 1883۔ مطبوعہ دارالجیل، بیروت، لبنان، 1412ھ۔
  111. امام ابن حجر عسقلانی: الاصابہ فی تمیز الصحابہ،  جلد 8 صفحہ 18۔ مطبوعہ دارالجیل، بیروت، لبنان، 1412ھ۔
  112. امام طبرانی: المعجم الکبیر، جلد 23 صفحہ 184،  الرقم الحدیث 299۔ مطبوعہ مطبعۃ الزہراء الحدیثہ، موصل، عراق، 1380ھ۔
  113. امام ابن حجر عسقلانی: تہذیب التہذیب،  جلد 12 صفحہ 463۔ مطبوعہ دارالفکر، بیروت، لبنان، 1404ھ۔
  114. امام ابن الجوزی: صفۃ الصفوۃ،  جلد 2 صفحہ 33، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1409ھ۔
  115. امام الحافظ الذھبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 2 صفحہ 185۔ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1413ھ۔
  116. امام ہیثمی: مجمع الزوائد،  جلد 9 صفحہ 243۔ مطبوعہ  دارالریان للتراث، قاہرہ، مصر، 1407ھ۔ مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان، 1407ھ۔
  117. امام ہیثمی: مجمع الزوائد،  جلد 9 صفحہ 243۔ مطبوعہ  دارالریان للتراث، قاہرہ، مصر، 1407ھ۔ مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان، 1407ھ۔
  118. امام طبرانی: المعجم الکبیر، جلد 23 صفحہ 184،  الرقم الحدیث 299۔ مطبوعہ مطبعۃ الزہراء الحدیثہ، موصل، عراق، 1380ھ۔
  119. امام ابن ابی عاصم:  الآحاد والمثانی، جلد 5 صفحہ 398،  الرقم 3027۔ مطبوعہ بیروت، لبنان، 1400ھ۔
  120. امام ہیثمی: مجمع الزوائد،  جلد 9 صفحہ 243۔ مطبوعہ  دارالریان للتراث، قاہرہ، مصر، 1407ھ۔ مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان، 1407ھ۔
  121. الحافظ الذہبی: سیر اعلام النبلا، جلد 2، صفحہ 136 تا 139۔ مطبوعہ بیروت لبنان۔
  122. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 61، مطبوعہ لاہور۔
  123. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 61، مطبوعہ لاہور۔
  124. امام ابو نُعَیم الاصبہانی: حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء،  جلد 2 صفحہ 47،  مطبوعہ دارالکتاب العربی، بیروت، لبنان، 1400ھ۔
  125. امام ہناد بن سری الکوفی (متوفی 243ھ): کتاب الزھد، جلد 1 صفحہ 337۔ مطبوعہ دارالخلفاء للکتاب الاسلامی، کویت، 1406ھ۔
  126. الحافظ الذھبی: سیراعلام النبلاء، جلد 2 صفحہ 187، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1413ھ۔
  127. امام ہناد بن سری الکوفی (متوفی 243ھ): کتاب الزھد، جلد 1 صفحہ 337، الرقم 618، مطبوعہ دارالخلفاء للکتاب الاسلامی، کویت، 1406ھ۔
  128. امام ابن الجوزی: صفۃ الصفوۃ،  جلد 2 صفحہ 29، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1409ھ۔
  129. امام بخاری:  الادب المفرد،  صفحہ 106،  الرقم 286،  مطبوعہ دارالبشائر الاسلامیہ، بیروت، لبنان، 1409ھ۔
  130. امام ابن الجوزی: صفۃ الصفوۃ،  جلد 2 صفحہ 58/59، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1409ھ۔
  131. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 69، مطبوعہ لاہور۔
  132. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 11 صفحہ 4، الرقم 24515۔ مطبوعہ لاہور۔
  133. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 59، مطبوعہ لاہور۔
  134. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 60، مطبوعہ لاہور۔
  135. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 60، مطبوعہ لاہور۔
  136. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 61، مطبوعہ لاہور۔
  137. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 61، مطبوعہ لاہور۔
  138. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب 108: باب غیرۃِ النساء ووَجْدِھن،  صفحہ 1332،  الرقم الحدیث 5228۔  مطبوعہ دار ابن کثیر، دمشق، شام، 1423ھ۔
  139. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 63، مطبوعہ لاہور۔
  140. امام احمد بن حنبل: مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 11 صفحہ 4، الرقم 24513۔ مطبوعہ لاہور۔
  141. امام ابن حبان: صحیح ابن حبان، جلد 16 صفحہ 49، الرقم الحدیث 7112۔ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1414ھ۔
  142. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 61، مطبوعہ لاہور۔
  143. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 61، مطبوعہ لاہور۔
  144. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 63، مطبوعہ لاہور۔
  145. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 62، مطبوعہ لاہور۔
  146. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 70، مطبوعہ لاہور۔
  147. مسند احمد: امام احمد بن حنبل، مسند عائشہ اُم المومنین، جلد 9، الرقم الحدیث 4436 من مسند عائشہ، الرقم الحدیث 23366۔  مطبوعہ لاہور۔
  148. امام بخاری: صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب 30: باب فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، صفحہ 924،  الرقم الحدیث 3768۔ مطبوعہ دارابن کثیر، دمشق، شام  1423ھ۔
  149. امام بخاری: صحیح بخاری،  کتاب بدء الخلق، باب 6: باب ذکر الملائکۃ، صفحہ 796، الرقم الحدیث 3217۔ مطبوعہ دارابن کثیر، دمشق، شام  1423ھ۔
  150. امام بخاری: صحیح بخاری،  کتاب الادب، باب 111: باب من دَعا صاحبہ فنَقص من اسمہ حرفاً،  صفحہ 1547،  الرقم الحدیث 6201۔ مطبوعہ دارابن کثیر، دمشق، شام  1423ھ۔
  151. امام بخاری: صحیح بخاری،  کتاب الاستئذان، باب 16: باب تسلیم الرجال علی النساء، والنساء علی الرجال،  صفحہ 1559،  الرقم الحدیث 6249۔   مطبوعہ دارابن کثیر، دمشق، شام  1423ھ۔
  152. امام مسلم: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ،  باب 59: باب فی فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، صفحہ 1214،  الرقم الحدیث 6195  مکرر 2447۔
  153. امام مسلم: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ،  باب 59: باب فی فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، صفحہ 1214،  الرقم الحدیث 6196  مکرر 2447۔
  154. امام مسلم: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ،  باب 59: باب فی فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، صفحہ 1214،  الرقم الحدیث 6197  مکرر 2447۔
  155. امام مسلم: صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ،  باب 59: باب فی فضل عائشہ رضی اللہ عنہا، صفحہ 1214،  الرقم الحدیث 6198  مکرر 2447۔
  156. امام ترمذی: السنن الترمذی، کتاب الاستئذان، باب 5: باب ما جاء فی تبلیغ السلام،  جلد 3 صفحہ 76، الرقم الحدیث 2693۔  مطبوعہ مکتبۃ المعارف، الریاض، سعودی عرب، 1420ھ۔
  157. امام ابوداؤد:  السنن ابوداؤد،  کتاب الادب، باب 166: باب فی الرجل یقول: فلان یقرئک السلام،  جلد 3 صفحہ 284،  الرقم الحدیث 5232۔  مطبوعہ مکتبۃ المعارف، الریاض، سعودی عرب، 1419ھ۔
  158. مسند احمد: امام احمد بن حنبل، مسند عائشہ اُم المومنین، جلد 9، الرقم الحدیث 4260 من مسند عائشہ، الرقم الحدیث 23190۔  مطبوعہ لاہور۔
  159. مسند احمد: امام احمد بن حنبل، مسند عائشہ اُم المومنین، جلد 9، الرقم الحدیث 4785 من مسند عائشہ، الرقم الحدیث 23715۔  مطبوعہ لاہور۔
  160. مسند احمد: امام احمد بن حنبل، مسند عائشہ اُم المومنین، جلد 9، الرقم الحدیث 4826 من مسند عائشہ، الرقم الحدیث 23756۔  مطبوعہ لاہور۔
  161. مسند احمد: امام احمد بن حنبل، مسند عائشہ اُم المومنین، جلد 9، الرقم الحدیث 5092 من مسند عائشہ، الرقم الحدیث 24022۔  مطبوعہ لاہور۔
  162. مسند احمد: امام احمد بن حنبل، مسند عائشہ اُم المومنین، جلد 9، الرقم الحدیث 5132 من مسند عائشہ، الرقم الحدیث 24062۔  مطبوعہ لاہور۔
  163. مسند احمد: امام احمد بن حنبل، مسند عائشہ اُم المومنین، جلد 9، الرقم الحدیث 5807 من مسند عائشہ، الرقم الحدیث 24737۔  مطبوعہ لاہور۔
  164. الحافظ الذہبی: سیر اعلام النبلا، جلد 2، صفحہ 139۔ مطبوعہ بیروت لبنان۔
  165. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 68، مطبوعہ لاہور۔
  166. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 67، مطبوعہ لاہور۔
  167. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 66، مطبوعہ لاہور۔
  168. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 66، مطبوعہ لاہور۔
  169. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 67، مطبوعہ لاہور۔
  170. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 68، مطبوعہ لاہور۔
  171. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 66، مطبوعہ لاہور۔
  172. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 68، مطبوعہ لاہور۔
  173. امام محمد بن عبداللہ بن زبر الربعی متوفی 379ھ :  تاریخ مولد العلماء وَ وفیاتھم، صفحہ 66، ذکر تحت سنۃ الہجریہ 58ھ۔ مطبوعہ منشورات مرکز المخطوطات والتراث و الوثائق، الکویت، 1410ھ۔
  174. امام ابن حجر عسقلانی: تہذیب التہذیب، جلد 4 صفحہ 681، مطبوعہ موسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1416ھ۔
  175. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 68، مطبوعہ لاہور۔
  176. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 68، مطبوعہ لاہور۔
  177. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 70، مطبوعہ لاہور۔
  178. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 68، مطبوعہ لاہور۔
  179. سید سلیمان ندوی: سیرت عائشہ، صفحہ 126، مطبوعہ لاہور۔
  180. امام ابوداؤد طیالسی: مسند طیالسی، من مسند اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا، صفحہ 224۔
  181. سید سلیمان ندوی: سیرت عائشہ، صفحہ 126، مطبوعہ لاہور۔
  182. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 جز 8، صفحہ 69، مطبوعہ لاہور۔
  183. امام مالک: موطاء امام مالک،  کتاب قصر الصلٰوۃ،  باب 11: باب صلاۃ الضحیٰ، الرقم الحدیث 391، جلد 2، صفحہ 30۔ مطبوعہ مکتبۃ الفرقان، دوبئی، 1424ھ۔
  184. امام احمد بن حنبل:  مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 9،  الرقم الحدیث 5386۔  مطبوعہ لاہور۔
  185. امام مالک: موطاء امام مالک،  کتاب قصر الصلٰوۃ،  باب 11: باب صلاۃ الضحیٰ، الرقم الحدیث 391، جلد 2، صفحہ 31۔ مطبوعہ مکتبۃ الفرقان، دوبئی، 1424ھ۔
  186. امام مالک: موطاء امام مالک،  کتاب قصر الصلٰوۃ،  باب 11: باب صلاۃ الضحیٰ، الرقم الحدیث 391، جلد 2، صفحہ 31۔ مطبوعہ مکتبۃ الفرقان، دوبئی، 1424ھ۔
  187. امام احمد بن حنبل:  مسند احمد، مسند عائشہ، جلد 9،  الرقم الحدیث 4911۔ مطبوعہ لاہور۔
  188. امام عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی: المصنف، جلد 2 صفحہ 451،  الرقم الحدیث 4048۔ مطبوعہ  المکتب الاسلامی، بیروت، لبنان، 1403ھ۔
  189. الاسلامی، بیروت، لبنان، 1403ھ۔ امام بیہقی: شعب الایمان، جلد 2 صفحہ 375۔  مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1410ھ۔
  190. امام ابن ابی عاصم :  کتاب الزھد،  جلد 1 صفحہ 164۔ مطبوعہ دارالریان للتراث، قاہرہ، مصر، 1408ھ۔
  191. امام ابن الجوزی: صفۃ الصفوۃ،  جلد 2 صفحہ 31، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان، 1409ھ۔
  192. ابن سعد: طبقات ابن سعد، جلد 4 حصہ 8، صفحہ 70/71، مطبوعہ لاہور۔

<link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:610ء_کی_دہائی_کی_پیدائشیں" /> <link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:خاندان_ابوبکر" /> <link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:ساتویں_صدی_کی_خواتین" /> <link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:610ء_کی_دہائی_کی_پیدائشیں" /> <link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:محمد" /> <link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:خاندان_ابوبکر" />