ہند بنت عتبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہند بنت عتبہ
صحابیہ ہند بنت عتبہ
اہم معلومات
پورا نام ہند بنت عتبہ بن ربيعہ
تاريخ ولات قبل ہجرت
مقام ولادت شبہ جزيرہ عرب
تاريخ وفات جمعرات 14 محرم الحرام 14ھ/ 9 مارچ 635ء
مقام دفن مکہ مکرمہ، خلافت راشدہ، حجاز، موجودہ سعودی عرب
شریک حیات ابو سفيان بن حرب اموی قرشی
حفص بن مغيرہ مخزومی قرشی
فاکہ بن مغيرہ مخزومی قرشی
اولاد معاويہ بن ابی سفيان
مريم ام حكم
ابان بن حفص
جويريہ بنت ابی سفيان
عتبہ بن ابی سفيان
نسبی رشتے باپ: عتبہ بن ربيعہ
ماں: صفيہ بنت اميہ سلميہ
اسلام میں
تاريخ قبول اسلام فتح مکہ (11 جنوری 630ء)

ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ ام المومنین رملہ بنت ابوسفیان کی والدہ۔ان کے دو بھائی ابو حذیفہ ابن عتبہ اور ولید بن عتبہ تھے۔
ان کے باپ عتبہ بن ربیعہ کو حضرت حمزہ نے غزوۂ بدر میں قتل کیا تھا جس کے انتقام کی خاطر انہوں نے وحشی بن حرب کے ہاتھوں حمزہ کو شہید کرایا اور اس کے بعد اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان کی نعش کی بے حرمتی کی۔ فتح مکہ کے دن ابوسفیان کے اسلام کے بعد آپ اسلام لائیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کا نکاح قائم رکھا،بڑی عاقلہ فہیمہ تھیں،کبھی زنا کے قریب نہ گئیں،جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیعت کے وقت فرمایا کہ زنا نہ کرنا تو آپ بولیں کیا کوئی شریف عورت بھی زنا کرسکتی ہے۔عمر کی خلافت میں عین ابوقحافہ کے وفات کے دن فوت ہوئیں عائشہ نے آپ سے روایات لیں۔(مرقات)عہدِ فاروقی میں غزوہ قادسیہ و یرموک میں بڑی مجاہدانہ شان سے شریک رہیں بڑی خدمت اسلام کی۔[1]

نام و نسب[ترمیم]

ہند نام، قبیلہ قریش سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ بن عبدشمس ابن عبدمناف، ہند کا باپ قریش کا سب سے معزز رئیس تھا۔

نکاح[ترمیم]

فاکہ بن مغیرہ مخزومی سے نکاح ہوا، لیکن پھر کسی وجہ سے جھگڑا ہو گیا، تو ابوسفیان ابن حرب کاتب وحی کے عقد میں آئیں جو قبیلہ امیہ کے مشہور سردار تھے۔

عام حالات[ترمیم]

عتبہ، ابوسفیان اور ہند تینوں کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور وہ اسلام کی غیر معمولی ترقی کو نہایت رشک سے دیکھتے تھے، حتی الامکان اسکی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تھے، ابوجہل ان سب کا سردار تھا۔ لیکن جب بدر کے معرکہ میں جو اسلام و کفر کا پہلا معرکہ تھا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ابوجہل اور عتبہ وغیرہ بھی قتل ہو گئے تو ابوسفیان بن حرب نے جو عتبہ کے داماد تھے اسکی جگہ لی اور ابوجہل کی طرح مکہ میں انکی سیادت مسلم ہو گئی، چنانچہ بدر کے بعد سے جس قدر معرکے پیش آئے، ابوسفیان سب میں پیش پیش تھے، غزوہ احد انہی کے جوش انتقام کا نتیجہ تھا۔ اس موقع پر انکے ساتھ انکی بیوی ہند بھی آئی تھیں، جنہوں نے اپنے باپ کے انتقام میں سنگدلی اور خونخواری کا ایسا خوفناک منظر پیش کیا، کہ جس کے تخیل سے بھی جسم لرز اٹھتا ہے، حمزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے، انہوں نے عتبہ کو قتل کیا تھا، ہندان کی فکر میں تھیں، چنانچہ انہوں نے وحشی کو جو جبیر بن مطعم کے غلام اور حربہ اندازی میں کمال رکھتے تھے، حمزہ کے قتل پر آمادہ کیا تھا، (یہ وحشی کے قبل از اسلام کا واقعہ ہے) اور یہ اقرار ہوا کہ اس کارگزاری کے صلہ میں وہ آزاد کر دیے جائیں گے، چنانچہ حمزہ جب انکے برابر آئے تو وحشی نے حربہ پھینک کر مارا جو ناف میں لگا اور پار ہو گیا، حمزہ نے ان پر حملہ کرنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑے اور روح پرواز کر گئی۔ خاتونان قریش نے انتقام بدر کے جوش میں مسلمانوں کی لاشوں سے بھی بدلی لیا تھا۔ انکے ناک کان کاٹ لیے۔ ہند نے ان پھولوں کا ہار بنایا، اور اپنے گلے میں ڈالا حمزہ کی لاش پر گئیں اور اور انکا پیٹ چاک کر کے کلیجا نکالا اور چبا گئیں۔ لیکن گلے سے اتر ن ہسکا، اس لیے اگل دینا پڑا،( ابوسفیان اور ہند کے یہ سب واقعات اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فعل سے جس قدر صدمہ ہوا تھا، اسکا کون اندازا کر سکتا ہے لیکن ایک اور چیز تھی جو ایسے موقعوں پر بھی جبینِ رحمت کو شکن آلود نہیں ہونے دیتی تھی،

قبول اسلام[ترمیم]

چنانچہ جب مکہ فتح ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے کے لیے بیٹھے، تو مستورات میں ہند بھی آئیں، شریف عورتیں نقاب پہنتی تھیں، ہند بھی نقاب پہن کر آئیں جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئئ انکو پہچاننے نہ پائے بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے باتیں کیں جو حسب ذیل ہیں۔ ہند! یا رسول اللہ! آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ ہند: یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا، بہرحال ہم کو منظور ہے۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) چوری نہ کرنا۔ ہند: میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)اولاد کو قتل نہ کرنا۔ ہند:ربینا ہم صغاراوقتلھم کبارافانت وھو اعلم، ہم نے تو اپنے بچوں کو پالا تھا، بڑے ہوئے تو جنگ بدر میں آپ نے انکو مار ڈالا، اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں، (اس دیدہ دلیری کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند سے درگزر فرمایا، ہند کے قلب پر اسکا بہت اثر ہوا۔ اور انکے دل نے اندر سے گواہی دی کہ آپ سچے پیغمبر ہیں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اس سے پہلے آپکے خیمہ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی مبغوض خیمہ نہ تھا لیکن اب آپکے خیمہ سے زیادہ کوئی محبوب خیمہ میرے نزدیک نہیں ہے، [2]

ہند مسلمان ہو کر گھر گئیں تو اب وہ ہند نہ تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھر جا کر بت توڑ ڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے، [3] (اسد الغابہ میں انکے حسن اسلام سے متعلق لکھا ہے کہ اسلمت یوم الفتح و حسن اسلامھا)[4]

غزوات[ترمیم]

فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کو علانیہ غلبہ حاصل ہو گیا تھا، اور اس لیے عورتوں کو غزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی، تاہم جب عمر کے عہد میں روم و فارس کی مہم پیش آئی تو بعض مقامات میں اس شدت کا رن پڑا۔ کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی تیغ و خنجر کا کام لینا پڑا۔ چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی، اس میں ہند اور انکے شوہر ابوسفیان دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلہ کا جوش پیدا کیا۔

وفات[ترمیم]

ہند نے عمر فاروق کے عہد خلافت میں انتقال کیا۔ اسی دن ابوبکر کے والد ابوقحافہ نے بھی وفات پائی تھی ابن سعد کی روایت ہے کہ انکی وفات عمر کے زمانہ میں نہیں بلکہ عثمان کے زمانہ میں ہوئی، کتاب الامثال سے بھی اسکی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ اس میں مذکور ہے کہ جب ابو سفیان نے وفات پائی (ابوسفیان نے عثمان کے زمانہ خلافت میں وفات پائی ہے) تو کسی نے امیر معاویہ سے کہا کہ مجھ سے ہند رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح کردو۔ انہوں نے نہایت متانت سے جوابدیا کہ اب انکو نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔[3]

اولاد[ترمیم]

اولاد میں امیر معاویہ زیادہ مشہور ہیں۔

اخلاق[ترمیم]

ہند میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک عرب عورت کے مابہ الامتیاز ہو سکتے ہیں، صاحب اسد الغابہ نے لکھا ہے۔ "ان میں عزت نفس، غیرت رائے و تدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی،"[4] فیاض تھیں، ابوسفیان انکو انکے حوصلہ کے مطابق خرچ نہیں دیتے تھے اسلام لانے کے وقت جب آنحضرت ﷺ نے ان سے عہد لیا کہ چوری نہ کریں تو انہو ں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابوسفیان مجھے پورا خرچ نہیں دیتے اگر ان سے چھپا کر لوں تو جائز ہے؟ آپ نے اجازت دی۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرآۃالمناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ،مفتی احمد یار خان ،جلد6 صفحہ307
  2. صحیح بخاری
  3. ^ 3.0 3.1 الإصابہ فی تمييز الصحابہ،مؤلف: أبو الفضل أحمد بن حجر العسقلانی ناشر: دار الكتب العلمیہ - بيروت ج 8ص346
  4. ^ 4.0 4.1 : أسد الغابہ المؤلف: أبو الحسن علی عز الدين ابن الأثير ناشر: دار الفكر - بيروت ج6ص292
  5. صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1984