ہند بنت عتبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

آپ ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ ہیں، اور ام المومنین رملہ بنت ابوسفیان کی والدہ۔ان کے دو بھائی ابو حذیفہ ابن عتبہ اور ولید بن عتبہ تھے۔
ان کے باپ عتبہ بن ربیعہ کو حضرت حمزہ نے غزوۂ بدر میں قتل کیا تھا جس کے انتقام کی خاطر انہوں نے حضرت وحشی کے ہاتھوں حضرت حمزہ کو شہید کرایا اور اس کے بعد اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ان کی نعش کی بے حرمتی کی۔ فتح مکہ کے دن ابوسفیان کے اسلام کے بعد آپ اسلام لائیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کا نکاح قائم رکھا،بڑی عاقلہ فہیمہ تھیں،کبھی زنا کے قریب نہ گئیں،جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بیعت کے وقت فرمایا کہ زنا نہ کرنا تو آپ بولیں کیا کوئی شریف عورت بھی زنا کرسکتی ہے۔حضرت عمر کی خلافت میں عین ابوقحافہ کے وفات کے دن فوت ہوئیں حضرت عائشہ نے آپ سے روایات لیں۔(مرقات)عہدِ فاروقی میں غزوہ قادسیہ و یرموک میں بڑی مجاہدانہ شان سے شریک رہیں بڑی خدمت اسلام کی۔[1]

نام و نسب[ترمیم]

ہند نام، قبیلہ قریش سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ بن عبدشمس ابن عبدمناف، ہند کا باپ قریش کا سب سے معزز رئیس تھا۔

نکاح[ترمیم]

فاکہ بن مغیرہ مخزومی سے نکاح ہوا، لیکن پھر کسی وجہ سے جھگڑا ہو گیا، تو ابوسفیان ابن حرب کاتب وحی کے عقد میں آئیں جو قبیلہ امیہ کے مشہور سردار تھے۔

عام حالات[ترمیم]

عتبہ، ابوسفیان اور ہند تینوں کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور وہ اسلام کی غیر معمولی ترقی کو نہایت رشک سے دیکھتے تھے، حتی الامکان اسکی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تھے، ابوجہل ان سب کا سردار تھا۔ لیکن جب بدر کے معرکہ میں جو اسلام و کفر کا پہلا معرکہ تھا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ابوجہل اور عتبہ وغیرہ بھی قتل ہو گئے تو ابوسفیان بن حرب نے جو عتبہ کے داماد تھے اسکی جگہ لی اور ابوجہل کی طرح مکہ میں انکی سیادت مسلم ہو گئی، چنانچہ بدر کے بعد سے جس قدر معرکے پیش آئے، ابوسفیان سب میں پیش پیش تھے، غزوہ احد انہی کے جوش انتقام کا نتیجہ تھا۔ اس موقع پر انکے ساتھ انکی بیوی ہند بھی آئی تھیں، جنہوں نے اپنے باپ کے انتقام میں سنگدلی اور خونخواری کا ایسا خوفناک منظر پیش کیا، کہ جسکے تخیل سے بھی جسم لرز اٹھتا ہے، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے، انہوں نے عتبہ کو قتل کیا تھا، ہندان کی فکر میں تھیں، چنانچہ انہوں نے وحشی کو جو جبیر بن مطعم کے غلام اور حربہ اندازی میں کمال رکھتے تھے، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل پر آمادہ کیا تھا، (یہ حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کے قبل از اسلام کا واقعہ ہے) اور یہ اقرار ہوا کہ اس کارگزاری کے صلہ میں وہ آزاد کر دیئے جائیں گے، چنانچہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ جب انکے برابر آئے تو وحشی نے حربہ پھینک کر مارا جو ناف میں لگا اور پار ہو گیا، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پر حملہ کرنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑے اور روح پرواز کر گئی۔ خاتونان قریش نے انتقام بدر کے جوش میں مسلمانوں کی لاشوں سے بھی بدلی لیا تھا۔ انکے ناک کان کاٹ لیئے۔ ہند نے ان پھولوں کا ہار بنایا، اور اپنے گلے میں ڈالا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر گئیں اور اور انکا پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکالا اور چبا گئیں۔ لیکن گلے سے اتر ن ہسکا، اس لیۓ اگل دینا پڑا،(حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ اور ہند کے یہ سب واقعات اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فعل سے جس قدر صدمہ ہوا تھا، اسکا کون اندازہ کر سکتا ہے لیکن ایک اور چیز تھی جو ایسے موقعوں پر بھی جبینِ رحمت کو شکن آلود نہیں ہونے دیتی تھی،

قبول اسلام[ترمیم]

چنانچہ جب مکہ فتح ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے کے لیے بیٹھے، تو مستورات میں ہند بھی آئیں، شریف عورتیں نقاب پہنتی تھیں، ہند بھی نقاب پہن کر آئیں جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئئ انکو پہچاننے نہ پائے بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے باتیں کیں جو حسب ذیل ہیں۔ ہند! یا رسول اللہ! آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ ہند: یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا، بہرحال ہم کو منظور ہے۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) چوری نہ کرنا۔ ہند: میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)اولاد کو قتل نہ کرنا۔ ہند:ربینا ھم صغاراوقتلھم کبارافانت وھو اعلم، ہم نے تو اپنے بچوں کو پالا تھا، بڑے ہوئے تو جنگ بدر میں آپ نے انکو مار ڈالا، اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں، (اس دیدہ دلیری کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند سے درگزر فرمایا، ہند کے قلب پر اسکا بہت اثر ہوا۔ اور انکے دل نے اندر سے گواہی دی کہ آپ سچے پیغمبر ہیں انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اس سے پہلے آپکے خیمہ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی مبغوض خیمہ نہ تھا لیکن اب آپکے خیمہ سے زیادہ کوئی محبوب خیمہ میرے نزدیک نہیں ہے، [2]

حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا مسلمان ہو کر گھر گئیں تو اب وہ ہند نہ تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھر جا کر بت توڑ ڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے، [3] (اسد الغابہ میں انکے حسن اسلام سے متعلق لکھا ہے کہ اسلمت یوم الفتح و حسن اسلامھا)[4]

غزوات[ترمیم]

فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کو اعلانیہ غلبہ حاصل ہو گیا تھا، اور اس لیئے عورتوں کو غزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی، تاہم جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں روم و فارس کی مہم پیش آئی تو بعض مقامات میں اس شدت کا رن پڑا۔ کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی تیغ و خنجر کا کام لینا پڑا۔ چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی، اس میں حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہااور انکے شوہر حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلہ کا جوش پیدا کیا۔

وفات[ترمیم]

حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں انتقال کیا۔ اسی دن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے والد ابوقحافہ نے بھی وفات پائی تھی ابن سعد کی روایت ہے کہ انکی وفات حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں ہوئی، کتاب الامثال سے بھی اسکی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ اس میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی (ابوسفیان نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی ہے) تو کسی نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ مجھ سے ہند رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح کردو۔ انہوں نے نہایت متانت سے جوابدیا کہ اب انکو نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔[5]

اولاد[ترمیم]

اولاد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ زیادہ مشہور ہیں۔

اخلاق[ترمیم]

حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک عرب عورت کے مابہ الامتیاز ہو سکتے ہیں، صاحب اسد الغابہ نے لکھا ہے۔ "ان میں عزت نفس، غیرت رائے و تدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی،"[6] فیاض تھیں، ابوسفیان انکو انکے حوصلہ کے مطابق خرچ نہیں دیتے تھے اسلام لانے کے وقت جب آنحضرت ﷺ نے ان سے عہد لیا کہ چوری نہ کریں تو انہو ں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ مجھے پورا خرچ نہیں دیتے اگر ان سے چھپا کر لوں تو جائز ہے؟ آپ نے اجازت دی۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ مرآۃالمناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ،مفتی احمد یار خان ،جلد6 صفحہ307
  2. ^ صحیح بخاری
  3. ^ الإصابہ فی تمييز الصحابہ،مؤلف: أبو الفضل أحمد بن حجر العسقلانی ناشر: دار الكتب العلمیہ - بيروت ج 8ص346
  4. ^ : أسد الغابہ المؤلف: أبو الحسن علی عز الدين ابن الأثير ناشر: دار الفكر - بيروت ج6ص292
  5. ^ الإصابہ فی تمييز الصحابہ،مؤلف: أبو الفضل أحمد بن حجر العسقلانی ناشر: دار الكتب العلمیہ - بيروت ج 8ص346
  6. ^ : أسد الغابہ المؤلف: أبو الحسن علی عز الدين ابن الأثير ناشر: دار الفكر - بيروت ج6ص292
  7. ^ صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1984