ام عمارہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ام عمارہ/نسيبہ بنت كعب

نسيبة بنت كعب الأنصارية

اہم معلومات
پورا نام نسيبہ بنت كعب بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمر بن غنم بن مازن بن نجار خزرجيہ انصاریہ
نسب بنو خزرج
تاريخ ولات
مقام ولادت
تاريخ وفات 13 هـ
مقام وفات المدينة المنورة
شریک حیات زيد بن عاصم انصاری
غزيہ بن عمرو انصاری
اولاد حبيب بن زيد
عبد الله بن زيد
تميم بن زيد
ضمرہ بن غزيہ
اسلام میں
جنگیں غزوہ احد، غزوہ بنی قريظہ، غزوہ خيبر، غزوہ حنين

نسیبہ بنت کعب ام عمارہ کنیت، قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے تھیں۔

نام و نسب[ترمیم]

نسیبہ نام، اُمّ ۔ُعما۔َرہ کنیت، قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے: اُمّ ۔ُعما۔َرہ بنت کعب بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار۔

اسلام[ترمیم]

غزِیہ بن عمرو کیساتھ بیعتِ عقبہ میں شرکت کی۔ بیعتِ عقبہ میں 73 مرد اور دو عورتیں شامل تھیں، اُمّ عمارہ کا بھی انہی میں شمار ہوتا ہے۔

نکاح[ترمیم]

پہلا نکاح زید بن عاصم سے ہوا، پھر ۔غزِیہ بن عمرو کے عقدِ نکاح میں آئیں۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ احد میں شریک ہوئیں اور نہایت پامردی سے لڑیں، جب تک مسلمان فتحیاب تھے، وہ مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلا رہی تھیں، لیکن جب شکست ہوئی تو آنحضرتﷺ کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہوگئیں، کفار جب آپ پر بڑھتے تھے تو تیر اور تلوار سے روکتی تھیں۔ آنحضرتﷺ کا خود بیان ہے کہ میں اُحد میں ان کو اپنے دائیں اور بائیں برابر لڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ ابن قمیئہ جب درّاتا ہوا آنحضرتﷺ کے پاس پہنچ گیاتو اُمّ عمارہ نے بڑھ کر روکا۔ چنانچہ کندھے پر زخم آیا اور غار پڑگیا، انہوں نے بھی تلوار ماری لیکن وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لیے کارگر نہ ہوئی۔ بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے ایک کافر کو قتل کیا تھا، اُحد کے بعد بیعتِ الرضوان ، خیبر اور فتح مکہ میں بھی شرکت کی۔ ابوبکرکے عہد میں یمامہ کی جنگ پیش آئی، مسیلمہ کذّاب مدعی نبوّت سے مقابلہ تھا۔اُمّ عمارہ اپنے ایک لڑکے (حبیب) کو لے کر خالدکے ساتھ روانہ ہوئیں اور جب مسیلمہ نے ان کے لڑکے کو قتل کردیا تو انہوں نے منت مانی کہ ’’یا مسیلمہ قتل ہوگا یا وہ خود جان دے دیں گی۔‘‘ یہ کہہ کر تلوار کھینچ لی اور میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئی اور اس پامردی سے مقابلہ کیا کہ 12 زخم کھائے اور ایک ہاتھ کٹ گیا، اس جنگ میں مسیلمہ بھی مارا گیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

اخلاق: آنحضرتﷺ سے ان کو جو محبت تھی اس کا اصلی منظر تو غزوۂ اُحد میں نظر آتا ہے لیکن اور بھی چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں۔ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ ان کے مکان میں تشریف لائے تو انہوں نے کھانا پیش کیا ارشاد ہوا: ’’تم بھی کھاؤ،‘‘ بولیں: میں روزہ سے ہوں۔ آنحضرتﷺ نے کھانا نوش فرمایا اور فرمایا کہ روزہ دار کے پاس اگر کچھ کھایا جائے تو اُس پر فرشتے درود بھیجتے ہیں۔[1] ام عمارہ نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ! آپ ﷺدعا فرمائیے کہ اﷲ تعالیٰ ہم لوگوں کو جنت میں آپ ﷺ کی خدمت گزاری کا شرف عطا فرمائے اس وقت آپ ﷺ نے ان کے لیے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لیے اس طرح دعا فرمائی کہ۔

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْجنَّۃِ۔
یااﷲعزوجل! ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔ بی بی ام عمارہ زندگی بھر علانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اﷲﷺ کی اس دعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پرآجائے تو مجھ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔≥[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیر الصحابیات، مؤلف ، مولانا سعید انصاری 93،مشتاق بک کارنر لاہور
  2. مدارج النبوت،ج2،ص126
  3. جنتی زیور،عبدالمصطفٰی اعظمی،صفحہ507،ناشرمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی