ام عمارہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

صحابیہ ۔ نسیبہ بنت کعب ۔ ام عمارہ کنیت ۔ قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے تھیں۔ پہلا نکاح زید بن عاصم سے ہوا۔ پھر عبہ بن عمر کے نکاح میں آگئیں اور ان کے ساتھ بیعت عقبہ میں شرکت کی جس میں 73 مرد اور صرف دو عورتیں تھیں۔ غزوہ احد میں شریک ہوئیں‌۔ کاندھے پر ایک زخم کھایا۔ احد کے بعد بیعت رضوان غزوہ خیبر اور فتح مکہ میں شرکت کی ۔ حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں یمامہ کی جنگ میں اپنے ایک لڑکے کو (حبیب) کو لے کر شریک ہوئیں اور جب مسیلمہ کذاب نے ان کے لڑکے کو شہید کردیا تو انھوں نے منت مانی کہ یا مسیلمہ قتل ہوگا یا وہ خود جان دے دیں‌گی ۔ یہ کہہ کر تلوار کھینچ لی اور میدان جنگ میں کود پڑیں۔ 12 زخم کھائے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔ اس جنگ میں مسیلمہ ماراگیا۔
یہ جنگ احد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور اپنے دوبیٹوں حضر ت عمارہ اور حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر میدان جنگ میں کود پڑیں اور جب کفار نے حضور ﷺپر حملہ کر دیا تو یہ ایک خنجر لے کر کفار کے مقابلہ میں کھڑی ہوگئیں اور کفار کے تیر و تلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں یہاں تک کہ جب ابن قمیہ ملعون نے رحمت عالم ﷺپر تلوار چلا دی تو سیدہ ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس تلور کواپنی پیٹھ پر روک لیا چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم لگا کہ غار پڑ گیا پھر خود بڑھ کر ابن قمیہ کے کندھے پر اس زور سے تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو جاتا مگر وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے بچ گیا اس جنگ میں بی بی ام عمارہ کے سرو گردن پر تیرہ زخم لگے تھے حضرت بی بی ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزندحضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ایک کافر نے جنگ احد میں زخمی کردیا اور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا میری والدہ حضرت ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھ دیا اور کہا کہ بیٹا اٹھو کھڑے ہو جاؤ اور پھر جہاد میں مشغول ہو جاؤ اتفاق سے وہی کافر سامنے آگیا تو حضورﷺ نے فرمایا کہ اے ام عمارہ رضی اﷲ عنہا! دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہ ہے یہ سنتے ہی حضرت ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جھپٹ کر اس کافر کی ٹانگ میں تلوار کا ایسا بھر پور وار مارا کہ وہ کافر گر پڑا اور پھر چل نہ سکا بلکہ سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا یہ منظر دیکھ کر رسول اﷲﷺ ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا! تو خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی ہے تو نے خدا کی راہ میں جہاد کیا حضرت ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ یا رسول اﷲﷺ! آپ ﷺدعا فرمائیے کہ اﷲ تعالیٰ ہم لوگوں کو جنت میں آپ ﷺ کی خدمت گزاری کا شرف عطا فرمائے اس وقت آپ ﷺ نے ان کے لیے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لیے اس طرح دعا فرمائی کہ۔

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْجنَّۃِ۔ یااﷲعزوجل! ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔ حضرت بی بی ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا زندگی بھر علانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اﷲﷺ کی اس دعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پرآجائے تو مجھ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔≥[1][2]

  1. ^ مدارج النبوت،ج2،ص126
  2. ^ جنتی زیور،عبدالمصطفٰی اعظمی،صفحہ507،ناشرمکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی