جویریہ بنت حارث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

ام المومنین جویریہ بنت حارث ((عربی: جويرية بنت الحارث) کا اصل نام برہ تھا۔ جویریہ تصغیر ہے جاریۃ کی جاریہ کے معنی ہیں لڑکی، جویریہ چھوٹی لڑکی، آپ جویریہ بنت الحارث ہیں، آپ کا نام برہ تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رکھا [1]۔غزوہ مریسیع جسے غزوہ نبی مصطلق بھی کہتے ہیں جو 5 ہجری میں ہوا اس میں قید ہوکر آئیں، ثابت ابن قیس کے حصہ میں آئیں انہیں نے آپ کو مکاتبہ کردیا حضور انور نے آپ کا مال کتابت ادا کردیا اور آپ سے نکاح کرلیا،آپ کی وفات ربیع الاول 56 ہجری میں ہوئی، 65 سال عمر پائی رضی اللہ عنہا۔(اکمال) [2]

ابتدائی زندگی

آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔

جنگ مریسیع

جنگ مریسیع میں بنو مصطلق کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کو مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ، پانچ ہزار بکریاں اور چھ سو قیدی ملے، جن میں حضرت جویریہ بھی تھیں اور مال غنیمت کی تقسیم میں آپ ایک انصاری ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں جنھوں نے اس شرط پر آپ کو آزاد کرنے کا وعدہ کیا کہ آپ کچھ رقم ادا کریں۔

ازدواجی زندگی

آپ کی پہلی شادی اپنے قبیلے کے ایک نوجوان مسافح بن صفوان سے ہوئی تھی جو مسلمانوں اور بنی مصطلق کے درمیان جنگ میں مارے گئے اور حضرت جویریہ کنیز بنا لی گئیں۔ اسیری میں ہی حضرت جویریہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے امداد کی درخواست کی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رقم ادا کر دی اور آپ سے نکاح کے لیے کہا۔ آپ نے منظور کر لیا اور 5ھ (626ء) میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عقد میں آگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کا نام برہ سے تبدیل کر کے جویریہ رکھا۔

قبیلے کے لئے باعثِ رحمت

جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ سے نکاح کر لیا تو دیگر صحابہ کرام جن کے تسلط میں بنی مصطلق کے دیگر اسیران تھے انہوں نے محض اس وجہ سے ان کو آزاد کر دیا کہ اب یہ قبیلے والے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سسرالی ہیں اور ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ان کو غلام اور لونڈی بنا کر رکھیں۔

انتقال و مدفن

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 50ھ (670ء) ہوا۔حسن صورت اور حسن سیرت دونوں میں یکتا تھیں۔ متعدد احادیث آپ سے مروی ہیں۔ جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

  1. ^ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد-3 صفحہ-525نعیمی کتب خانہ گجرات
  2. ^ مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد-6، صفحہ-594نعیمی کتب خانہ گجرات