جویریہ بنت حارث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جویریہ بنت حارث
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 608  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 اپریل 676 (67–68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شوہر محمد بن عبد اللہ (1 دسمبر 627–8 جون 632)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
مؤمنین کی والدہ
ام المؤمنین
امہات المؤمنین - (ازواج مطہرات)

امہات المومنین

ام المومنین جویریہ بنت حارث (پیدائش: 608ء –و فات: جنوری/فروری 676ء) کا اصل نام برہ تھا۔ غزوہ مریسیع (جسے غزوہ نبی مصطلق بھی کہتے ہیں جو شعبان (دسمبر 627ء) میں ہوا) میں قید ہوکر آئیں، ثابت ابن قیس کے حصہ میں آئیں انہیں نے آپ کو مکاتبہ کر دیا حضور انور نے آپ کا مال کتابت ادا کر دیا اور آپ سے نکاح کر لیا،آپ کی وفات ربیع الاول 56 ہجری میں ہوئی، 65 سال عمر پائی رضی اللہ عنہا۔(اکمال) [1]

ابتدائی زندگی

آپ قبیلہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔ جویریہ تصغیر ہے جاریۃ کی جاریہ کے معنی ہیں لڑکی، جویریہ چھوٹی لڑکی، آپ جویریہ بنت الحارث ہیں، آپ کا نام برہ تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جویریہ رکھا ۔[2]

نسب

آپ کا نسب یوں ہے: جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن عائذ بن مالک بن المصطلق۔

جنگ مریسیع

جنگ مریسیع میں بنو مصطلق کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کو مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ، پانچ ہزار بکریاں اور چھ سو قیدی ملے، جن میں حضرت جویریہ بھی تھیں اور مال غنیمت کی تقسیم میں آپ ایک انصاری ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں جنھوں نے اس شرط پر آپ کو آزاد کرنے کا وعدہ کیا کہ آپ کچھ رقم ادا کریں۔

ازدواجی زندگی

آپ کی پہلی شادی اپنے قبیلے کے ایک نوجوان مسافح بن صفوان سے ہوئی تھی جو مسلمانوں اور بنی مصطلق کے درمیان جنگ میں مارے گئے اور حضرت جویریہ کنیز بنا لی گئیں۔ اسیری میں ہی حضرت جویریہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے امداد کی درخواست کی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رقم ادا کر دی اور آپ سے نکاح کے لیے کہا۔ آپ نے منظور کر لیا اور ( 626ء ) میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عقد میں آگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کا نام برہ سے تبدیل کر کے جویریہ رکھا۔

قبیلے کے لیے باعثِ رحمت

جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ سے نکاح کر لیا تو دیگر صحابہ کرام جن کے تسلط میں بنی مصطلق کے دیگر اسیران تھے انہوں نے محض اس وجہ سے ان کو آزاد کر دیا کہ اب یہ قبیلے والے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سسرالی ہیں اور ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ان کو غلام اور لونڈی بنا کر رکھیں۔

انتقال و مدفن

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے 70 سال کی عمر میں ماہِ ربیع الاول 56ھ مطابق جنوری/ فروری 676ء میں وفات پائی۔[3][4]حسن صورت اور حسن سیرت دونوں میں یکتا تھیں۔ مدینہ منورہ کے گورنر مروان بن الحکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

روایت حدیث

آپ نے متعدد احادیث نبوی مروی ہیں جن میں سے 7 احادیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے۔[3] علاوہ ازیں امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ماجہ نے بھی مختلف دیگر اسناد سے آپ سے احادیث نبوی کو روایت کیا ہے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد-6، صفحہ-594نعیمی کتب خانہ گجرات
  2. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد-3 صفحہ-525نعیمی کتب خانہ گجرات
  3. ^ ا ب شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 2، صفحہ 263۔ مطبوعہ بیروت، لبنان
  4. خلیفہ بن خیاط: تاریخ خلیفہ بن خیاط، صفحہ 224، تذکرہ سنہ 56ھ، مطبوعہ ریاض، 1985ء۔