سریہ عکاشہ بن محصن (غمر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سریہ عکاشہ بن محصن (غمر)
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ ربیع الثانی 6 ہجری
مقام غمر مرزوق
محل وقوع
نتیجہ لڑائی کی نوبت نہ آئی
خطۂ اراضی مدینہ منورہ سے شمال مشرق کی جانب
متحارب
مسلمان بنو اسد
قائدین
عکاشہ بن محصن نامعلوم
قوت
40 نامعلوم
نقصانات
0 0
جنگ کی نوبت نہ آئی

سریہ عکاشہ بن محصن اسدی ربیع الاول 6 ہجری کو پیش آيا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے 40 آدمی دے کر عکاشہ بن محصن کو بھیجا، لیکن جنگ نہ ہوئی۔

مقام[ترمیم]

یہ غَمرمرزوق کی طرف بھیجی گئی جو بنی اسد کے ایک چشمہ کا نام ہےجہاں بنی اسد کی کافی تعداد رہتی تھی۔یہ فید سےدو راتوں کی مسافت پر ہے

واقعات[ترمیم]

جب عکاشہ بن محصن اور ان کے ساتھی مدینہ سے چل کر اس غمرمرزوق چشمہ تک پہنچے انہیں بنی اسد کو خبر ہو چکی تھی وہ سارا قبیلہ وہاں سے فرار ہو گیا عکاشہ بن محصن کو کوئی شخص وہاں پر نہ ملا۔شجاع ابن وہب کو ان کے کھوج کیلئے بھیجا وہ کھوج لگا کر آئےمسلمان اس طرف گئے ایک شخص کو سوتا ہوا پایا اسے جان بخشی کے وعدہ پر ساتھ لے گئےاس کے بتانے پر معلوم ہوا کہ ایک بلند جگہ پر قبیلہ بنی اسد کے لوگ موجود ہیں جب اچانک حملہ کیا تو قبیلے کے لوگ بھاگ گئےاور مال متاع اور مویشی ہانک لائےلڑائی کی نوبت نہ آئی۔[1][2][3]

ماقبل:
سریہ محمد بن مسلمہ
10 محرم 6 ہجری
سرایا نبوی
سریہ عکاشہ بن محصن (غمر)
مابعد:
سریہ محمد بن مسلمہ
ربیع الثانی 6 ہجری

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرت حلبیہ علی بن برہان الدین حلبی جلد سوم صفحہ 54،دارالاشاعت کراچی
  2. المواہب اللدنیہ جلد اول صفحہ 338 فرید بکسٹال لاہور
  3. طبقات ابن سعد، حصہ اول ،صفحہ 314 ،،محمد بن سعد، نفیس اکیڈمی کراچی