ابو سفیان بن حرب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ابو سفيان بن حرب
اہم معلومات
پورا نام صخر بن حرب بن اميہ بن عبد شمس
نسب اموی قریشی الكنانی
لقب أبو حنظلة
تاريخ ولات 63 قبل ہجرت / 560ء (عام الفيل سے دس سال قبل)
مقام ولادت مكہ مکرمہ
تاريخ وفات بين 30ھ/652م و 34ھ/656ء
مقام وفات المدينة المنورة
مقام دفن البقيع، المدينة المنورة
شریک حیات صفيہ بنت ابی عاص بن اميہ بن عبد شمس
هند بنت عتبة بن ربيعہ بن عبد شمس
زينب بنت نوفل بن خلف بن قوالہ
عاتكہ بنت ابی ازہیر بن انيس بن خيسق
صفيہ بنت ابی عمرو بن اميہ بن عبد شمس
امامہ بنت سفيان بن وهب بن الأشيم
لبابہ بنت ابی عاص بن اميہ بن عبد شمس
اولاد رملہ الكبرى، اميمہ، حنظلہ، معاويہ، عتبہ، جويريہ، ام الحكم، يزيد، محمد، عنبسہ، عمرو، عمر، صخرہ، ہند، ميمونہ، رملہ الصغرى
نسبی رشتے اجداد: حرب بن اميہ بن عبد شمس بن عبد مناف
والدہ: صفيہ بنت حزن بن بجير بن ہزم
بھائی: عمرو بن حرب حارث بن حرب ام جميل بنت حرب اروى بنت حرب
اسلام میں
تاريخ قبول اسلام (یوم فتح مكہ کو)
جنگیں غزوہ حنین . غزوہ طائف
خصوصیت سردار بنی كنانہ

قبیلہ قریش کی اموی شاخ کے ایک سردار۔ پورانام صخر بن حرب بن امیہ۔ ابوسفیان کنیت۔ مکے میں پیدا ہوئے۔ آنحضرت سے چند سال بڑے تھے۔ مدت تک اسلام کی مخالفت کرتے رہے۔
غزوہ بدر اورغزوہ احد کے معرکوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف جنگ لڑی۔ پھر ایک لشکر جرار لے کر مدینے پر چڑھائی کی مگر مسلمانوں نے مدینے کے گرد خندق کھود کر حملہ آوروں کے عزائم ناکام بنادیا۔ ابوسفیان نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کی۔ مسلمانوں نے مکے پر چڑھائی کی تو ابوسفیان نے شہر نبی اکرم کے حوالے کردیا۔ نبی اکرم نے مکے میں داخل ہوتے وقت اعلان فرمایا کہ جو لوگ ابو سفیان کے گھر میں پناہ لیں گے، ان سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ ابوسفیان کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا۔
فتح مکہ ہوجانے کے بعد حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ قبول اسلام کے بعد غزوہ حنین اور پھر جنگ طائف میں حصہ لیا۔ آخر الذکر جنگ میں ان کی ایک آنکھ جاتی رہی۔ حضرت عمر کے عہد میں شام کی مہم میں شریک ہوئے اور اس کے بعد جنگ یرموک میں، جس میں دوسری آنکھ بھی جاتی رہی۔ مسلمانوں کے پانچویں خلیفہ امیر معاویہ اوریزید بن ابوسفیان انہی کے بیٹے تھے۔ نبی اکرم کے سسر بھی تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]