معیقیب بن ابی فاطمہ دوسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معيقيب بن ابی فاطمہ دوسی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 660  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ خیبر  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

معیقیب بن ابی فاطمہ دوسی مہاجرین کاتبین وحی صحابہ میں سے تھے ۔غزوہ بدر میں شریک تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

معیقیب نام، نسبی تعلق قبیلہ ازد سے تھا اوربنی عبد شمس کے حلیف تھے۔ آپ سعید بن العاص کے آزاد کردہ غلام تھے۔

اسلام وہجرت[ترمیم]

دعوت اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مشرف باسلام ہوئے اورہجرت ثانیہ میں ہجرت کرکے حبشہ گئے،وہاں سے خیبر کے زمانہ میں مدینہ آئے۔

غزوات[ترمیم]

مدینہ آنے کے بعد تمام لڑائیوں میں شریک ہوتے رہے، بعض روایتوں سے بدر اوربیعتِ رضوان اور بعد کے سارے غزوات میں شریک ہوئے،اس اعتبار سے وہ خیبر سے بھی پہلے مدینہ آچکے تھے؛لیکن صحیح روایت یہی ہے کہ خیبر کے بعد مدینہ آئے اور بدر وخیبر میں شریک نہیں ہوئے تھے،ابن سعد نے بھی ان کو صحابہ کرام کے اسی زمرہ میں لکھا ہے،جو قدیم الاسلام تو تھے؛لیکن بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

دور خلافت راشدہ[ترمیم]

آنحضرت ﷺ کی زندگی میں خاتم رسالت ان ہی کے پاس رہتی تھی، آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد ابوبکر وعمر خاتم بردار کی حیثیت سے ان کا خاص لحاظ کرتے تھے؛ شیخین نے آپ کو بیت المال کا نگراں مقرر فرمایا تھا۔
عمر فاروق کو ان سے بہت محبت تھی،ان کو جذام کی شکایت ہو گئی تھی، عمرنے علاج میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھارکھا،جہاں جہاں مشہور اطبا کا پتہ چلتا تھا بلا کر علاج کراتے تھے؛لیکن کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا،آخر میں دو یمنی طبیبوں سے علاج کرایا،جس سے مرض توزائل نہیں ہوا، البتہ آئندہ بڑہنے کا خطرہ باقی نہ رہا، عموماً لوگ جذامی آدمی کے ساتھ کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں؛لیکن حضرت عمرؓ ان کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بٹھاتے اورفرماتے کہ یہ طرز عمل تمہارے ساتھ مخصوص ہے۔[1]

کاتب وحی[ترمیم]

آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کتابت کا شرف حاصل ہوا، عمر بن شبہ اور جہشیاری نے اس کی صراحت کی ہے اور جہشیاری نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ ﷺ کے لیے مالِ غنیمت کی فہرست لکھ دیا کرتے تھے، مسعودی، عراقی، ابن سید الناس اور انصاری وغیرہ نے بھی یہ بات لکھی ہے۔ [2]

عہدِ عثمانی اوروفات[ترمیم]

عمرکے بعد عثمان کا بھی وہی طرز عمل رہا اورغالباً خاتم برداری کا قدیم منصب بھی ان ہی کے سپرد تھا؛کیونکہ آنحضرتﷺ کی انگوٹھی ان ہی کے ہاتھ سے بیر معونہ میں گری تھی، اسی عہد کے آخر میں وفات پائی۔[3]

اولاد[ترمیم]

آپ کی اولادوں میں صرف محمد بن معیقیبؓ کا پتہ چلتا ہے،انہوں نے آپ سے روایت بھی کی ہے۔ [4]

علمی حالت[ترمیم]

علمی حیثیت سے کوئی ممتاز شخصیت نہ تھی؛ تاہم نوشت وخواند میں پوری مہارت رکھتے تھے؛چنانچہ حضرت عمرؓ نے جب اپنی املاک وقف کی تو اس وقف نامہ کی کتابت ان ہی نے کی تھی،[5] احادیث نبوی کے خوشہ چین بھی تھے؛چنانچہ ان کی متعدد مرویات احادیث کی کتابوں میں موجود ہیں، ان میں دو متفق علیہ ہیں اورایک میں امام مسلم منفرد ہیں۔ [6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن سعد،جزو4،ق1:87
  2. نقوش رسول نمبر جلد7 صفحہ187
  3. اسد الغابہ:4/403
  4. (تہذیب التہذیب :۱/۲۵۴)
  5. (ابوداؤد:۲/۹)
  6. (تہذیب الکمال:۳۹۷)