حارثہ بن سراقہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حارثہ بن سراقہ
معلومات شخصیت
وفات 13 مارچ 624  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بدر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
والدہ ربیع بنت نضر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

حارثہ بن سراقہغزوہ بدر میں سب سے پہلے مرتبہ شہادت حاصل کرنے والے صحابی تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

حارثہ نام،قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے ہیں، سلسلۂ نسب یہ ہے،حارثہ بن سراقہ بن حارث بن عدی بن مالک بن عدی بن عامر بن غنم بن عدی بن النجار والدہ کا نام ربیع بنت نضر تھا وہ جلیل القدر صحابیہ اور انس بن مالک کی حقیقی پھوپھی تھیں۔

اسلام[ترمیم]

والد ہجرت سے قبل فوت ہو گئے تھے،والدہ زندہ تھیں اوراسلام کے شرف سے مشرف ہوئیں،ماں کے ساتھ بیٹے نے بھی دائرہ اسلام میں شمولیت اختیار کی۔

غزوہ بدرمیں شرکت و شہادت[ترمیم]

غزوۂ بدر میں شریک تھے جس روز کوچ کا حکم ہوا، سب سے پہلے گھوڑے پر سوار ہوکر نکلے، آنحضرتﷺ نے ان کو ناظرونگران بناکر ساتھ لیا، ایک حوض پر پانی پی رہے تھے کہ جسان بن عرفہ نے تیر مارا، جس سے شہید ہوئے، انصار میں سب سے پہلے انہی کو شرف شہادت حاصل ہوا۔ بدر سے واپسی کے وقت حارثہ کی ماں آنحضرتﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! حارثہ سے مجھے جس قدر محبت تھی آپ کو معلوم ہے،اگر وہ جنت میں گئے ہوں تو خیر صبر کروں گی ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں، ارشاد ہوا کہ کیا کہہ رہی ہو جنت ایک نہیں ؛بلکہ کثرت سے ہیں اور حارثہ تو جنت الفردوس میں ہیں۔[1] ربیع اس بشارت کو سن کر باغ باغ ہوگئیں مسکراتی ہوئی اٹھیں اورکہنے لگیں نج نج یا حارثہ! یعنی واہ واہ اے حارثہ۔[2]

ایمانی قوت[ترمیم]

حارثہ بن سراقہ کے جوش ایمانی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ کسی طرف جا رہے تھے کہ حارثہ سامنے آ گئے فرمایا حارث! صبح کیسی کی؟ بولے اس طرح کہ سچا مسلمان ہوں،فرمایا ذرا سوچ کر کہو،ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے،عرض کیا یا رسول اللہ! دنیا سے منہ پھیر لیا ہے ،رات کو رواں اوردن کو تشنہ دہن رہتا ہوں، اس وقت یہ حال ہے کہ اپنے کو عرش کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، جنتی جنت اورجہنمی دوزخ میں جاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، ارشاد ہوا جس بندے کا قلب خدا منور کر دے،وہ پھر خدا سے جدا نہیں ہوتا،[3] حارثہ نے درخواست کی کہ میرے لیے شہادت کی دعا کیجئے ،آپ نے دعا کی جس کی قبولیت غزوہ بدر میں ظاہر ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری،2/574
  2. اسد الغابہ:1/356
  3. مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار