عبد اللہ بن سلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبداللہ بن سلام
دیگر نام، عربی: أبو يوسف الإسرائيلي
أبو يوسف الإسرائيلي عبد الله بن سلام بن الحارث رضي الله عنه.png
عالم الہیات، صحابی رسول، (ابن سلام)
پیدائش550ء
یثرب
وفات630ء
مدینہ منورہ
محترم دراسلام
مؤثر شخصیاتموسیٰ ، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، ہارون ، عبرانی نبی
متاثر شخصیاتتفاسیر قرآن، خاص طور پر تفسیر القرطبی اور ابن اسحاق

عبد الله ابن سلام آپ یوسف کی اولاد میں سے تھے، یہود کے بڑے عالم تھے، انہیں حضور انور نے جنت کی خوشخبری دی۔

نام ونسب[ترمیم]

عبد اللہ نام، ابویوسف کنیت، جرلقب،یہود مدینہ کے خاندان قینقاع سے تھے جس کا سلسلۂ نسب حضرت یوسف پر منتہی ہوتا ہے،مختصراً آپ کا شجرۂ نسب یہ ہے: عبد اللہ بن سلام بن حارث قبیلۂ خزرج میں ایک خاندان بنی عوف کے نام سے مشہور ہے، اس میں ایک شاخ کا نام قواقل ہے عبد اللہ اسی قواقل کے حلیف تھے۔ ایام جاہلیت میں ان کا نام حصین تھا، لیکن آنحضرتﷺ نے عبد اللہ رکھا۔

اسلام[ترمیم]

عبد اللہ بن سلام اپنے بچوں کے لیے باغ میں پھل چننے گئے تھے کہ آنحضرتﷺ مدینہ تشریف لائے اورمالک بن نجار کے محلہ میں فروکش ہوئے، اس کی خبر عبد اللہؓ بن سلام کو ہوئی، تو پھل لے کر دوڑے ہوئے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور زیارت سے شرف اندوز ہوکر واپس گئے،آنحضرتﷺ نے پوچھا کہ ہمارے اعزہ(انصار) میں سب سے قریب تر کس کا مکان ہے، ابو ایوب انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں سب سے قریب رہتا ہوں یہ میرا گھر ہے اوریہ دروازہ ہے ،آنحضرتﷺ نے ان کے مکان کو اپنا مسکن بنایا جب آپ کا مستقر متعین ہو گیا، تو عبد اللہ بن سلام دوبارہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ سے تین باتیں دریافت کرتا ہوں جو انبیا کے سوا کسی کو معلوم نہیں،آنحضرتﷺ نے ان کو جواب دیا تو فوراً پکار اُٹھے اشھدان لا الہ الا اللہ واشھد انک رسول اللہﷺ اس کے بعد کہاکہ یہود ایک افترا برداز قوم ہے اورمیں عالم بن عالم اور رئیس بن الرئیس ہوں آپ ان کو بلاکر میری نسبت دریافت کیجئے ؛لیکن میرے مسلمان ہوجانے کی خبر نہ دیجئےگا، آنحضرتﷺ نے یہود کو طلب فرما کر اسلام کی دعوت دی اورکہا عبد اللہ بن سلام کون شخص ہیں؟ بولے ہمارے سردار اورہمارے سردار کے بیٹے ہیں، فرمایا وہ مسلمان ہوسکتے ہیں جواب ملا کبھی نہیں، عبد اللہ بن سلام مکان کے ایک گوشہ میں چھپے ہوئے تھے،آنحضرتﷺ نے آوازدی ،تو کلمہ پڑہتے ہوئے باہر نکلے آئے اور یہودیوں سے کہا ذرا خدا سے ڈرو تمہیں خوب معلوم ہے کہ یہ رسول ہیں اوران کا مذہب بالکل سچا ہے اورباایں ہمہ ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے،یہود کو خلاف توقع جو خفت نصیب ہوئی اس نے ان کو مشتعل کر دیا انہوں نے غصہ میں کہا کہ تم جھوٹے ہو اورہماری جماعت کے بدترین شخص ہو اورتمہارا باپ بھی بدتر تھا، عبد اللہ نے کہا رسول اللہﷺ! آپ نے دیکھا مجھ کو اسی کا خوف تھا۔[1]

غزوات[ترمیم]

بدر اوراحد کی شرکت کے متعلق اختلاف ہے صاحب طبقات کے نزدیک خندق میں وہ شریک تھے،اس لیے انہوں نے صحابہ کے تیسرے طبقہ یعنی اصحابِ خندق میں ان کا تذکرہ لکھا ہے،خندق کے بعد جو معرکے پیش آئے ان میں بھی شامل ہوئے۔ عمر فاروق کے سفر بیت المقدس میں عبد اللہ ان کے ہمراہ تھے۔

عہد فاروقی[ترمیم]

عہد نبو ت کے بعد خلافت فاروقی میں جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صلح بیت المقدس کے لیے مدینہ سے شام روانہ ہوئے توحضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔

عہدعثمانی[ترمیم]

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جب باغیوں نے آستانۂ خلافت کا محاصرہ کرکے آپ کے قتل کی تیاریاں کیں توعبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ کی مدد کے لیے تیار ہوں، فرمایاتمہارا مکان کے اندر رہنا ٹھیک نہیں، باہرجاکر مجمع کومنتشر کرو، حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور مختصر تقریر کی جس کا ترجمہ درجِ ذیل ہے: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا (حصین) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ رکھا، میرے متعلق قرآن مجید میں کئی آیتیں نازل ہوئیں: وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ [2] قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ [3] میری ہی شان میں اتری ہیں، خدا کی تلوار اب تک نیام میں ہے اور فرشتوں نے تمہارے شہر کوجورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دارالہجرت ہے، اپنا نشیمن بنالیا ہے؛ پس ڈروخدا سے ڈرو! اور ان کو(حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ) قتل نہ کرو،خدا کی قسم اگرتم ان کے قتل پرکمربستہ ہوئے توتمہارے ہمسایہ فرشتے مدینہ چھوڑدیں گے اور خدا کی وہ تلوار نکل پڑے گی جواس وقت تک نیام میں بند ہے اور جوپھرقیامت تک نیام میں واپس نہ جائے گی؛ لیکن سنگدلوں پراس پُرزور تقریر کا کچھ اثر نہ ہوا؛ بلکہ اس کے خلاف شقاوت اور زیادہ ترقی کرگئی، بولے کہ اس یہودی اور عثمان رضی اللہ عنہ دونوں کوقتل کرڈالو۔ [4]

عہدِ مرتضوی[ترمیم]

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانۂ خلافت میں مدینہ سے کوفہ دارالخلافۃ تبدیل کرنا چاہا توانھوں نے آپ کوکہلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر نہ چھوڑیئے ورنہ پھراس کی زیارت نہ کرسکیں گے، لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کوخبر کی توفرمایا وہ بیچارے نہایت نیک آدمی ہیں۔ [5]

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات امیر معاویہ کے زمانہ خلافت میں 43ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی،

فضائل[ترمیم]

تورات،انجیل،قرآن مجید اوراحادیث نبوی سے ان کا سینہ بقعۂ نور بنا ہوا تھا، تورات پر جو عبور تھا، اس کے متعلق علامہ ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں: کان عبد اللہ بن سلام عالم اھل الکتاب وقفاضلھم فی زمانہ بالمدینۃ عبد اللہ بن سلام مدینہ میں اہل کتاب کے سب سے بڑے عالم تھے۔ قرآن مجید میں جہاں اہل کتاب کی تعریف آتی ہے وہاں اکثر آپ ہی مراد ہوتے ہیں، بڑے فضائل و خوبیوں کے مالک ہیں۔[6][7]

اولاد[ترمیم]

دو بیٹے یاد گار چھوڑے، یوسف اورمحمد، دونوں آنحضرتﷺ کے عہد میں پیدا ہوئے تھے،یوسف بڑے تھے ، آنحضرتﷺ نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا، سرپر ہاتھ پھیرا اوریوسف نام رکھا۔ [8]

حلیہ[ترمیم]

مفصل حلیہ معلوم نہیں،بڑھاپے میں ضعف کی وجہ سے عصا لیکر چلتےتھے اوراس پر ٹیک لگاتے [9] چہرہ پر خشوع کے آثار ہر وقت نمایاں رہتے تھے۔

فضل و کامل[ترمیم]

تورات،انجیل،قرآن مجید اوراحادیث نبوی سے ان کا سینہ بقعۂ نور بنا ہوا تھا، تورات پر جو عبور تھا، اس کے متعلق علامہ ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں: کان عبد اللہ بن سلام عالم اھل الکتاب وقفاضلھم فی زمانہ بالمدینۃ عبد اللہ بن سلام مدینہ میں اہل کتاب کے سب سے بڑے عالم تھے۔ مسلمان ہوکر قرآن و حدیث کی طرف توجہ کی اورحدیث میں مرجع کل بن گئے اس سے بڑھ کر شرف اورکیا ہوسکتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ جو تمام صحابہؓ میں حدیث کے سب سے بڑے گنجینہ دار تھے ان سے حدیثیں دریافت کرتے تھے ،حضرت ابو ہریرہؓ ایک بار شام گئے اور کعب احبار سے یہ حدیثیں دریافت کرتے تھے،حضرت ابو ہریرہؓ ایک بار شام گئے اور کعب احبار سے یہ حدیث بیان کی کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اگر اس میں خدا سے کچھ مانگے تو اس کو ضرور دیتا ہے اس پر کعب نے کچھ رد وقدح کی یہاں تک کہ اخیر میں حضرت ابوہریرہؓ کےموافق ہو گئے، حضرت ابوہریرہؓ نے مدینہ آکر عبد اللہ بن ؓ سلام سے یہ واقعہ بیان کیا ،انہوں نے کہا کعب نے جھوٹ کہا، حضرت ابو ہریرہؓ نے کہاکہ انہوں نے میرے قول کی طرف رجوع کر لیا تھا، پھر فرمایا جانتے ہو وہ وقت کون سا ہے ،یہ سن کر ابو ہریرہؓ ان کے پیچھے پڑ گئے اور کہا کہ جلد بتلائیے ،فرمایا عصر اور مغرب کے درمیان ،ابو ہریرہؓ نے کہا یہ کیونکر ہوسکتا ہے عصر اور مغرب کے درمیان کوئی نماز ہی نہیں فرمایا تم کو معلوم نہیں کہ آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے وہ گویا نماز ہی میں ہوتا ہے۔ [10] باایں ہمہ جلالت قدر ان سے صرف 25 روایتیں منقول ہیں ،راویوں میں بعض صحابہؓ کرام بھی ہیں جن کے نام نامی یہ ہیں، انس بن مالکؓ ،زرارہ بنؓ اوفی،ابو ہریرہؓ ،عبد اللہ بنؓ معقل، عبد اللہ بن حنظلہ، تلامذۂ خاص کے نام حسب ذیل ہیں: حزشہ بن الحر قیس بن عباد، ابو سلمہ بن عبد الرحمن، حمزہ بن یوسف (پوتے) عمروبن محمد(پوتے) عوف بن مالک ،ابو بردہ بن ابو موسیٰ، ابو سعید المقبری، عبادہ الزرقی، عطاء بن یسار، عبیداللہ بن جیش غفاری۔ حضرت عبد اللہؓ سے ایک خاص حدیث منقول ہے جس کے اخیر میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے ہم کو جمع کرکے سبح للہ کی چند آیتیں پڑھیں، حضرت عبد اللہؓ نے اپنے شاگردوں کے سامنے وہی آیتیں پڑھیں اور پھر بالترتیب عطاء بن یسار، ہلال بن ابی میمونہ، یحییٰ بن ابی کثیر نے اپنے زمانہ میں اس سنت کو قائم رکھا، لیکن یحییٰ کے شاگرد اور اوزاعی پر پہونچ کر اس کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ [11]

اخلاق[ترمیم]

اخلاقی حیثیت سے حضرت عبد اللہؓ کا پایۂ عظمت بہت بلند ہے،صحیح بخاری میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے کسی زمین پرچلنے والے شخص کو جنتی نہیں فرمایا، البتہ عبد اللہ بن سلام کو فرمایا تھا، [12] ترمذی میں ہے کہ حضرت معاذؓ بن جبل کی وفات ہوئی تو شاگردوں سے فرمایا کہ میں دنیا سے اٹھ رہا ہوں ؛لیکن میرے ساتھ علم نہیں اٹھتا جو شخص اس کی جستجو کرے گا پالے گا، اس کے بعد چار شخصوں کے نام گنائے جن میں ایک عبد اللہ بن سلام تھے فرمایا: [13] کان یھود یافاسلم فانی سمعت رسول اللہ ﷺ یقول انہ عاشر عشرۃ فی الجنۃ پہلے وہ یہودی تھے،پھر مسلمان ہوئے اور میں نے آنحضرتﷺ سے سنا ہے کہ وہ گیارہویں جنتی ہیں۔ بایں ہمہ فضیلت بڑے منکسر المزاج تھے ،مسجد نبوی میں ایک دن نماز کے لیے آئے اور لوگوں نے کہا کہ یہ جنتی شخص ہیں تو فرمایا جس بات کو آدمی جانتا نہ ہو اس کو زبان سے نکالنا نہ چاہیے، اس کے بعد اپنے اس خواب کا ذکر کیا جس کی آنحضرتﷺ نے تعبیر دی تھی کہ اسلام پر تمام عمر قائم رہوگئے۔ [14] اس واقعہ کے ساتھ ایک اور واقعہ بھی ملایا جائے تو انکسار کا نہایت مکمل اور دیدہ زیب مرقع پیش نظر ہوجاتا ہے ،ایک مرتبہ لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر لا رہے تھے، لوگوں نے کہا کہ آپ کو اس سے خدا نے مستغنی کیا ہے ،فرمایا ہاں یہ ٹھیک ہے؛ لیکن میں اس سے کبرو غرور کا قلمع قمع کرنا چاہتا ہوں۔ [15] حق وصداقت کا جوش بے اندازہ تھا،فرماتے تھے کہ تم کو ایک بار قریش سے لڑائی پیش آئے گی، اُ س وقت اگر مجھ میں قوت نہ ہو تو تخت پر بٹھا کر مجھ کو فریقین کی صفوں کے درمیان رکھ دینا۔ [16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری:1/556
  2. (الأحقاف:10)
  3. (الرعد:43)
  4. (ترمذی:628)
  5. (اصابہ:4/81)
  6. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ36نعیمی کتب خانہ گجرات
  7. اسد الغابہ جلد2 صفحہ 268حصہ پنجم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  8. (مسند:4/35)
  9. (مسند:5/452)
  10. (مسند:5/451،453)
  11. (مسند:5/452)
  12. (بخاری:1/538)
  13. (جامع ترمذی:628)
  14. (بخاری:1/538)
  15. (تذکرۃ الحفاظ:1/23)
  16. (استیعاب:1/396)