مجمع بن جاریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مجمع بن جاریہ صحابی رسول ان کے والد نے مسجد ضرار بنائی تھی

نام ونسب[ترمیم]

مجمع نام،قبیلۂ اوس کے خاندان عمروبن عوف سے ہیں سلسلۂ نسب یہ ہے، مجمع بن جاریہ بن عامر بن مجمع بن عطاف بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس

اسلام[ترمیم]

ہجرت کے وقت کم سن تھے اوراسی زمانہ میں اسلام لائے۔

غزوات[ترمیم]

غزوہ حدیبیہ میں شرکت کی۔[1]

وفات[ترمیم]

امیر معاویہ کے آخر زمانۂ خلافت میں انتقال کیا۔ [2]

اولاد[ترمیم]

حسب ذیل اولاد چھوڑی:یعقوب، یحییٰ، عبید اللہ، بیوی کا نام سلمہ بنت ثابت ابن وحدانہ بن نعیم بن غنم بن ایاس تھا اور قبیلہ قضاعہ کے خاندان بلی سے تھیں۔ صاحب طبقات کا بیان ہے کہ ان کی نسل باقی نہیں رہی[3]

فضل وکمال[ترمیم]

عہد رسالت میں جن صحابہ نے قرآن جمع کرنا شروع کردیا تھا ان میں مجمع بن جاریہ انصاری بھی تھے ؛لیکن ایک یا دوسورتیں باقی ہی تھیں کہ آنحضرتﷺ کا وصال ہوگیا،[4] اوروہ اس کام کو مکمل نہ کرسکے۔ مسند ابن حنبل میں ہے:کان احدا لقرآالذین قرؤ القرآن[5]یعنی وہ ان قاریوں میں تھے جنہوں نے قرآن پڑھا تھا، حضرت عمر نے اپنے عہد خلافت میں ان کوقرآن کی تعلیم کے لئے کوفہ بھیجا تھا،[6] عبداللہ بن مسعود بھی وہیں تھے،انہوں نے بھی ان سے قران پڑھا تھا،حدیثیں بہت کم روایت کیں ،صحیح ترمذی میں 3حدیثیں ہیں ،جن میں بعض صحیح سند سے ثابت ہیں،راویوں میں یعقوب، عبدالرحمن بن یزید بن جاریہ اورعکرمہ بن سلمہ ہیں۔

اخلاق[ترمیم]

زہد و تقدس کی وجہ سے اپنی قوم کے امام تھے اور یہ منصب صغر سنی ہی میں حاصل ہوگیا تھا، باپ نے مسجد ضرار بنائی تھی ،معصوم بیٹا اس میں نماز پڑہتا تھا،لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ اس سے آنحضرتﷺ اوراسلام کی بیخ کنی مقصود ہے،آنحضرتﷺ نے اس مسجد کو جلوادیا۔ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگوں نے درخواست کی کہ مجمع کو امام بنایا جائے ،بولے یہ کبھی نہ ہوگا ،وہ مسجد ضرار میں منافقین کی امامت کرتا تھا،مجمعؓ کو خبر ہوئی تو قسم کھا کر کہا کہ مجھے منافقین سے کوئی سروکار نہ تھا، جب ان کی طرف سے پورا اطمینان ہوگیا تو حضرت عمر نے ان کو امامت کی اجازت دی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسند ابن حنبل:3/420
  2. الاستيعاب في معرفة الأصحاب : أبو عمر يوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمري القرطبي :الناشر: دار الجيل، بيروت
  3. ۔طبقات:3/34
  4. أسد الغابة۔المؤلف: أبو الحسن علي بن أبي الكرم محمد بن محمد بن عبد الكريم بن عبد الواحد الشيباني الجزري، عز الدين ابن الأثير۔الناشر: دار الفكر - بيروت
  5. مسند ابن حنبل:3/420
  6. الإصابة في تمييز الصحابة۔المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت