ابو صرمہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو صرمہ انصاری مازنی غزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ میں شامل ہیں۔

  • ان کا نام بہت اختلافی ہے مالک بن ابی بن انس اورمالک بن اسعد بتایا گیا ہے، ابو صرمہ الانصاری کنیت ہے، نام سے زیادہ کنیت سے مشہور ہیں غزوہ بدر غزوہ احد غزوہ خندق اور صلح حدیبیہ میں حاضر ہوئے ان کا شمار عمدہ شاعروں میں ہوتا ہے[1][2]
  • لنا صرم يدول الحق فيها ... وأخلاق يسود بها الفقير
  • ونصح للعشيرة حيث كانت ... إذا ملئت من الغش الصدور
  • وحلم لا يسوغ الجهل فيه ... وإطعام إذا قحط الصبير
  • بذات يد عَلَى مَا كَانَ فِيهَا ... نجود به قليل أَوْ كثير[3]

ہمارے پاس ایسی تلوار ہے جو حق کو غالب کرنے والی ہے اور ایسا اخلاق ہے جو فقیر کو بھی بلند وبالا مرتبے پر فائز کر دیتا ہے اور ایسی معاشرتی نصیحت ہے جو برائی سے بھرے سینوں کو بھی صاف کر دے اور ایسی برد باری ہے جو جہالت کو گوارا نہیں کرتی اور قحط سالی میں بھی ایس کھانا میسر ہوتا ہے جیسے چوری ہے اور ہمارے اندر ایسی شخصیت ہے جس چیز مین ان کا ہاتھ شامل ہو جائے اس مین برکت ہو جاتی ہے چیز کم ہو یا زیادہ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اصحاب بدر،صفحہ 210،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  2. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  3. الاستيعاب فی معرفة الاصحاب ،مؤلف:ابو عمر يوسف بن عبد الله بن محمد بن عبد البر بن عاصم النمری القرطبی، ناشر: دار الجيل، بيروت