حارث بن عمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت حارث ؓبن عمیر ازدی
معلومات شخصیت

نام ونسب[ترمیم]

حارث نام،باپ کا نام عمیر تھا، قبیلۂ ازد سے نسبی تعلق تھا۔

اسلام[ترمیم]

فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے۔

سفارت اورشہادت[ترمیم]

آنحضرت ﷺ نے جب سلاطین اورامرء کے پاس دعوتِ اسلام کے خطوط بھیجے تو ایک خط شرجیل بن عمر فرما نروائے بصریٰ کے نام بھی لکھا، حضرت حارثؓ کو اس کے پہنچانے کی خدمت سپرد ہوئی، یہ خط لیکر مقام موتہ پہنچے تھے کہ شرجیل سے ملاقات ہو گئی، اس نے پوچھا کہا ں جا رہے ہو، حارث نے کہا شام ،شرجیل نے کہا تم کسی کے قاصد معلوم ہوتے ہو انہوں نے کہا ہاں رسول اللہﷺ کا قاصد ہوں، یہ سن کر اس نے حارثؓ کی مشکیں کسوا کے قتل کر دیا، حارثؓ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے قاصد ہیں جس نے خدا کی راہ میں جام شہادت پیا، آنحضرتﷺ کو ان کی شہادت کی خبر ملی تو آپ کو سخت صدمہ ہوا اور حارث کے خون کے انتقام کے لیے زید بن حارثہؓ کی سرکردگی میں ایک سریہ موتہ روانہ کیا، اسی میں حضرت ؓ زید اور حضرت جعفر طیارؓ وغیرہ شہید ہوئے تھے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابن سعد،جلد4،ق2،:65،ابن سعد حصہ مغازی میں اس کے تفصیلی واقعات ہیں)