معاویہ بن حکم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

معاویہ بن حَکَم سُلَمیاصحاب صفہ میں شامل صحابی رسول ہیں نام معاویہ، والد کانام حَکَم بن مالک بن خالد ہے ۔ معاویہ قبیلۂ بنو سلیم کے علاقہ میں رہتے تھے ۔ مدینہ منورہ آتے جاتے رہتے تھے پھر کچھ دنوں کے بعد مستقل طور پر مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرلی تھی [1] معاویہ بن حکم کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صفہ میں تھا۔ ایک مہاجر صحابی ایک انصاری کے ساتھ ، دومہاجر دو انصاری اور تین مہاجر تین انصاری کے ساتھ گھر گئے ، اس طرح مہاجرین اصحابِ صفہ انصاری صحابۂ کرام کے درمیان میں کھانا کھانے کے لیے تقسیم ہو گئے ، چوتھے یا پانچویں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باقی رہ گئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا تم لوگ میرے ساتھ چلو، ہم لوگ چل دیے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہونچے تو آپ نے فرمایا۔ اے عائشہ رات کا کھانا کھلاؤ ؟ وہ جو ، دلیا اورکھجور یا گوشت سے تیار شدہ کھانا لے کر آئیں ، ہم لوگوں نے کھایا۔ پھر آپ نے فرمایا اے عائشہ! ہم لوگوں کو اور کھلاؤ؟ تو وہ کھجور ، پنیر اور گھی میں تیار کر دہ کھانا لے کر آئیں ، ہم لوگوں نے کھایا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے عائشہ! اب ہم لوگوں کو کچھ پلاؤ؟ وہ چند گھونٹ دودھ لائیں ۔ ہم لوگوں نے پیا۔ پھر آپ نے فرمایا اے عائشہ ہمیں اور پلاؤ؟ وہ ایک بڑے پیالہ میں پانی لے کرائیں ۔ ہم لوگوں نے سیراب ہوکر پیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا: تم میں سے جو مسجد میں قیام کرنا چاہے وہ مسجد چلا جائے اور جو اسی جگہ قیام کرنا اور رات گذارنا چاہے یہیں قیام کرلے۔حضرت معاویہ کہتے ہیں ! سب نے بیک زبان ہو کر کہا: آپ پریشان نہ ہوں ، ہم لوگ مسجد میں چل کر قیام کر لیں گے ۔ ہم لوگ مسجد آگئے ۔ میں پیٹ کے بل سو گیا، آدھی رات کے قریب ایک شخص آکر مجھے اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارکر جگانے لگا۔ میں نے اپنا سراٹھا کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں ! قم فان ھذہ ضجعۃ یبغضہا اللّہ عزوجل‘‘ کھڑے ہو جاؤ اور سن لو! اس طرح لیٹنا اللہ تعالی کوناپسندیدہ ہے [2]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم لوگ بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھے ، میرے بھائی علی بن حکم نے گھوڑے پر بیٹھ کر ایک خندق کی چھلانگ لگانی چا ہی لیکن گھوڑا چھلانگ نہ لگا سکا اور خندق کی دیوار علی رضی اللہ کی پنڈلی پر گرگئی، ہم لوگ اسے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پنڈلی پر دستِ مبارک پھیرا جس سے اسی وقت پنڈلی بالکل صحیح ہو گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حلیۃ الاولیاء ج 2 ص۔33
  2. سنن ابو داؤد