جرہد بن خویلد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

جَرہد بن خویلد اسلمیان کے صاحبزادہ عبدالرحمن بن جرہد اپنے والد محترم کے بارے میں کہتے ہیں ’’کان جرہد ہذا من أصحاب الصفۃ‘‘کہ جرہد اصحاب صفہ میں تھے ۔ [1] نام جرہد، والدکانام خویلد بن بحرۃ، قبیلہ ’’اسلم‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

صفہ کی زندگی[ترمیم]

جرہد کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا، جس کی بنا پر صفہ میں اصحابِ صفہ کے ساتھ پڑے رہتے تھے ، جب کہ ان کا اپنا گھر مدینہ منورہ کے ’’ زقاق ابن حنین‘‘ نامی محلہ میں تھا جس کی بناپر انہیں اہلِ مدینہ میں شمارکیا جاتاہے ۔ [2] جرہد کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصحابِ صفہ کے پاس تشریف فرماتھے اور میری ران کھل رہی تھی، ران پرنظر پڑتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’اما علمت أن الفخذ عورۃ،کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ران شرمگاہ میں داخل ہے ۔[3] جرہد ایک مرتبہ بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کل بالیمین‘‘داہنے ہاتھ سے کھاؤ۔ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ! ’’انہا مصابۃ‘‘ یہ مصیبت زدہ ہے ، اس میں سخت تکلیف ہے ۔ آپ نے کچھ پڑھ کر دم فرمایا، جس سے ساری تکلیفیں جاتی رہیں اور موت تک کبھی بھی کسی قسم کی اس ہاتھ میں تکلیف نہیں ہوئی۔[4] حضرت جرہد صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے ۔ ان سے کافی حدیثیں مروی ہیں ۔ جن میں مشہور حدیث ’’الفخذعورۃ‘‘ ہے ۔

معاویہ بن ابو سفیان کے عہدِ خلافت 61ھ ؁میں اس دنیاسے رخصت ہو گئے ۔

  1. سننِ ابوداؤد: 2/557
  2. المغازي للواقدي: 1/232
  3. المغازي للواقدي: 1/232
  4. طبقات ابنِ سعد: 4/246