ابو امامہ باہلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو امامہ باہلی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 7  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 700 (49–50 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حمص،  بلاد الشام،  خلافت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر

ابو امامہ باہلی اکابر صحابہ میں شمار کیے جاتے ہیں۔

نام[ترمیم]

ابو امامہ باہلی کا نام صدی بن عجلان ہے۔[1] مگر یہ اپنی کنیت ہی کے ساتھ مشہور ہيں ۔ بنو باہلہ کے خاندان سے ہیں اس لیے باہلی کہلاتے ہیں ۔ مسلمان ہونے کے بعد سب سے پہلے صلح حدیبیہ میں شریک ہوکر بیعۃ الرضوان کے شرف سے سرفراز ہوئے ۔

مروی احادیث[ترمیم]

ان سے دو سو پچاس حدیثیں ان سے مروی ہیں اورحدیثوں کے درس واشاعت میں ان کو بے حد شغف تھا ، پہلے مصر میں رہتے تھے پھر حمص چلے گئے اوروہیں 86ھ میں اکانوے برس کی عمر میں وفات پائی۔ بعض مؤرخین نے ان کا سال وفات 81ھ تحریر کیا ہے ۔ یہ اپنی داڑھی میں زردرنگ کاخضاب کرتے تھے ۔

کرامت[ترمیم]

ان کی ایک کرامت یہ ہے جس کو وہ خود بیان فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو بھیجا کہ تم اپنی قوم میں جاکر اسلام کی تبلیغ کرو چنانچہ حکم نبوی کی تعمیل کرتے ہوئے یہ اپنے قبیلہ میں پہنچے اور اسلام کا پیغام پہنچایا

مگر ان کی قوم نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا، کھانا کھلانا تو بڑی بات ہے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا بلکہ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اوربرابھلا کہتے ہوئے ان کو بستی سے باہر نکال دیا۔

یہ بھوک پیاس سے انتہائی بے تاب اورنڈھال ہوچکے تھے ناچار ہوکر کھلے میدان ہی میں ایک جگہ سو گئے تو خواب میں دیکھا کہ ایک آنے والا (فرشتہ)آیا اور ان کو دودھ سے بھرا ہوا ایک برتن دیا۔ یہ اس دودھ کو پی کر خوب جی بھر کر سیراب ہو گئے ۔ خدا کی شان دیکھیے کہ جب نیند سے بیدار ہوئے تو نہ بھوک تھی نہ پیاس۔

اس کے بعد گاؤں کے کچھ خیر پسند اورسلجھے ہوئے لوگوں نے گاؤں والوں کو ملامت کی کہ اپنے ہی قبیلہ کا ایک معزز آدمی گاؤں میں آیا اورتم لوگوں نے اس کے ساتھ شرمناک قسم کی بدسلوکی کرڈالی جو ہمارے قبیلہ والوں کی پیشانی پر ہمیشہ کے لیے کلنک کا ٹیکہ بن جائے گی ۔

یہ سن کر گاؤں والوں کو ندامت ہوئی اوروہ لوگ کھانا پانی وغیرہ لے کر میدان میں ان کے پا س پہنچے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے تمہارے کھانے پانی کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ کوتو میرے رب نے کھلا پلاکر سیراب کردیاہے اور پھر اپنے خوا ب کا قصہ بیان کیا۔

گاؤں والوں نے جب یہ دیکھ لیا کہ واقعی یہ کھا پی کر سیراب ہوچکے ہیں اوران کے چہرے پر بھوک وپیاس کا کوئی اثر ونشان نہیں حالانکہ اس سنسان جنگل اور بیابان میں کھانا پانی کہیں سے ملنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو گاؤں والے آپ کی اس کرامت سے بے حد متأثر ہوئے یہاں تک کہ پوری بستی کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أسماء من يعرف بكنيته،الدار السلفية - الهند
  2. کرامات صحابہ ، ص؛212، مدینہ لائبریری کراچی