خلفائے راشدین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search



محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان غنی اور علی کا عہد خلافت خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ اس عہد کی مجموعی مدت تیس سال ہے جس میں ابوبکر صدیق اولین اور علی آخری خلیفہ ہیں۔ اس عہد کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ یہ قرآن و سنت کی بنیاد پر قائم نظام حکومت تھا۔

خلافت راشدہ کا دور اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس زمانے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کیا گیا اور حکومت کے اصول اسلام کے مطابق رہے۔ یہ زمانہ اسلامی فتوحات کا بھی ہے۔ اور اسلام میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے واقعات بھی پیش آئے۔ جزیرہ نما عرب کے علاوہ ایران، عراق، مصر، فلسطین اور شام بھی اسلام کے زیر نگیں آ گئے۔

تاریخ

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد چار خلفاء کو مجموعی طور ہر خلفائے راشدین کہا جاتا ہے۔

  1. ابو بکر بن ابو قحافہ – (632-634 عیسوی)
  2. عمر بن خطاب – (634-644 عیسوی)
  3. عثمان بن عفان – (644-656 عیسوی)
  4. علی بن ابی طالب -(656-661 عیسوی)

ابو بکر بن ابو قحافہ

آفتاب رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درخشندہ ستاروں میں سب سے روشن نام یار غار رسالت، پاسدار خلافت، تاجدار امامت، افضل بشر بعد الانبیاء ابوبکر صدیق کا ہے جن کو امت مسلمہ کا سب سے افضل امتی کہا گیا ہے۔ بالغ مردوں میں آپ سب سے پہلے حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ آپ کی صاحب زادی عائشہ صدیقہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمکی سب سے محبوب زوجہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ تھے۔

عمر بن خطاب

عمر فاروق، خلیفۂ اوّل ابوبکرصدیق کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ ان كے دور میں اسلامی مملکت 22 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔

عثمان بن عفان

عثمان اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آپ نے 644ء سے 656ء تک خلافت کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

علی بن ابی طالب

علی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی۔ آپ اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد تھے۔