جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلام جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا مذہب ہے، جنوب مشرقی ایشیا میں 240 ملین مسلم آبادی ہے جو اس جغرافیائی خطے کی کل آبادی کا 40 فیصد ہے، جب کہ برونائی، انڈونیشیا اور ملائیشیا اس کے ساتھ ساتھ بالترتیب تھائی لینڈ میں پاتانی اور فلپائن میں مسلم مینداناؤ میں اسلام اکثریتی مذہب ہے۔[1] جنوب مشرقی ایشیا کے ان ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت اس لیے بھی منفرد ہے کہ یہ اہل سنت ہیں اور شافعی فقہ یا مذہبی قوانین پر عمل پیرا ہیں۔[2] ملائیشیا اور برونائی میں یہ سرکاری طور پر نافذ ہے جب کہ یہ انڈونیشیا میں سرکاری طور پر منظور شدہ چھ مذاہب میں سے ایک ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں اسلام مختلف النوع اور بہت سے مختلف طریقوں سے آشکار ہوتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں کچھ جگہوء پر، اسلام شروع ہی سے مقامی روایات کے مطابق ڈھال لیا گیا۔[3] باطنیت اور تصوف کا کثیر پیروکاروں کے ساتھ جنوب مشرقی ایشیا میں ایک خاص کردار ہے۔ اسلام کی صوفیانہ شکلیں پہلے سے قائم روایات کے ساتھ اچھی طرح سے مل گئیں ہیں۔[3] جنوب مشرقی ایشیا میں مسلمانوں کی جانب سے مقامی روایات پر اسلام کی موافقت کو ایک مثبت چیز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔[4] اسلام جنوب مشرقی ایشیا میں روزمرہ زندگی کا حصہ ہے جو "غیر مذہبی حقائق" سے الگ نہیں ہے۔[5]جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطی اور شمالی افریقا کی بنسبت زیادہ تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔[3][6] جنوب مشرقی ایشیا میں مطالعہ اسلام کے مغربی ماہرین مشرق وسطی کے گرد مراکز سے کم توجہ دیتے ہیں۔[7][8] جنوب مشرقی ایشیا ایک عالمی خطہ ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ جغرافیایی قربت کے مقابلے میں تھوڑا حصہ اشتراک کرنے والے ممالک سے بنا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اسلامی کونسل وکٹوریہ کے مطابق، تاریخ دانوں نے یہ دعوی کیا کہ عرب تاجروں نے ابتدائی نویں صدی میں جنوب مشرقی ایشیا میں تجارت کو مضبوط کیا، 674 عیسوی میں سماٹرا کے مغربی ساحل پر غیر ملکی مسلمانوں کی کالونی موجود تھی۔ دیگر مسلمان رہائشیوں نے 878 عیسوی کے بعد یہاں سکونت اختیار کی کہ جب اسلام نے لوگوں کے درمیان میں تیزی سے قٹم جما لیے تھے۔

پھیلاؤ[ترمیم]

  • انڈونیشیا: 87.2%، منظور شدہ چھ سرکاری مذاہب میں سے ایک[9]
  • برونائی: 78.8%، سرکاری مذہب[10]
  • ملائشیا: 61.3%، سرکاری مذہب[11]
  • سنگا پور: 14.3%[12]
  • فلپائن: 5%[13]
  • تھائی لینڈ: 4.9%[14]
  • میانمار: 4.3%[15]
  • کمبوڈیا: 1.9%[16]
  • مشرقی تیمور: 0.3%[17]
  • ویتنام: 0.1%[18]
  • لاؤس: 0.01%[19]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Yusuf، Imtiyaz. "The Middle East and Muslim Southeast Asia: Implications of the Arab Spring". Oxford Islamic Studies. http://www.oxfordislamicstudies.com/Public/focus/essay1009_southeast_asia.html. 
  2. Imtiyaz Yusuf۔ "The Middle East and Muslim Southeast Asia: Implications of the Arab Spring"۔ Oxford Islamic Studies Online۔ Oxford University Press۔ مورخہ 8 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2016۔
  3. ^ ا ب پ "Southeast Asia and Islam". The Annals of the American Academy of Political and Social Science 588, Islam: Enduring Myths and Changing Realities (Jul.، 2003)، pp. 149-170. 
  4. Greg Fealy؛ Virginia Hooker۔ Voices of Islam in Southeast Asia : a contemporary sourcebook۔ Singapore: ISEAS Publications۔ صفحہ 411۔
  5. M.B. Hooker۔ Islam in South-East Asia۔ Leiden ; New York : E.J. Brill۔
  6. "Muslims"۔ Pew Research Center's Religion & Public Life Project۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-10-13۔
  7. Fredrick Mathewson Denny۔ Islam۔ San Francisco: Harper & Row۔ صفحہ 6۔
  8. Jean Gelman Taylor Taylor۔ Indonesia: Peoples and History۔ New Haven: Yale۔ صفحہ 66۔
  9. "انڈونیشیا"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  10. "برونائی"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  11. "ملائشیا"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  12. "سنگا پور"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  13. "فلپائن"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  14. "تھائی لینڈ"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  15. "میانمار"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔ مورخہ 4 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  16. "کمبوڈیا"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  17. "مشرقی تیمور"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  18. "ویتنام"۔ کتاب حقائق عالم۔ سی آئی اے۔
  19. 2008 Report on International Religious Freedom. U.S. Department of State, Bureau of Democracy, Human Rights, and Labor. ستمبر 2008. https://www.state.gov/j/drl/rls/irf/2008/۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-12-19. 

بیرونی روابط[ترمیم]