افریقا میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مرکوری، کوت داوواغ کی ایک مسجد

آغاز سے ہی اسلام براعظم افریقا میں مرکزی خصوصیت کا حامل رہا ہے۔ افریقا میں اسلام کا پیغام پہونچا اور وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی، پھر اسلام براعظم افریقا کی تہذیب وثقافت، اور تمدن وتاریخ کا اٹوٹ حصہ بن گیا۔ [1] افریقا میں مسلم آبادی کے تناسب سے متعلق کافی متضاد اعداد وشمار بیان کیے جاتے ہیں۔ بریٹانیکا آن لائن کے مطابق 2010ء میں افریقا میں مسلم آبادی 421,938,820 (40.84فیصد) تھی، جبکہ عیسائی آبادی 488,880,000 (47.32فیصد)، افریقا کے روایتی مذاہب کے پیروکاروں (نسلی مذہب پسندوں) کی تعداد 109,592,000 (10.6فیصد) اور بقیہ مذاہب کے متبعین کی تعداد 12,632.200 (1.22فیصد) تھی، اور افریقا کی مجموعی آبادی 1,033,043,000 تھی۔ [2] برطانوی دائرۃ المعارف (2003ء) اور ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا اسلام افریقا کا سب سے بڑا مذہب ہے اس کے بعد عیسائیت کا درجہ ہے۔ [3][4] نیز مسلمانوں کی دنیا بھر کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے افریقا میں ایک چوتھائی مسلمان آباد ہیں۔ [5]

تاریخ[ترمیم]

مسجد جینے، مالی، جو 13ویں صدی عیسوی میں سلطنت مالی کے فرمانروا مانسا موسی کے دور میں تعمیر ہوئی۔ مغربی افریقا کے سوڈانی-ساحلی طرز تعمیر کا ایک شاہکار نمونہ۔
جامع مسجد قیروان (جو مسجد عقبہ کے نام سے بھی معروف ہے)، 670ء میں ایک عرب جرنیل اور تابعی عقبہ بن نافعRAHMAT.PNG نے تعمیر کی۔ یہ شمالی افریقا کی قدیم ترین اور انتہائی پرشکوہ مسجد سمجھی جاتی ہے [6] اور تیونس کے شہر قیروان میں واقع ہے۔

افریقا میں اسلام کی آمد کی تاریخ ساتویں صدی عیسوی سے ملتی ہے، جب حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کفار مکہ کی اذیتوں اور تکلیفوں سے بچنے کے لیے بحیرہ احمر کے پار واقع زیلع کے جانب ہجرت کی اجازت دی؛ یہ علاقہ اس وقت نجاشی شاہ حبشہ کے زیر نگین تھا۔ اس ہجرت کو ہجرت اولی اور ہجرت حبشہ کہا جاتا ہے۔ ان اولین مسلم مہاجرین رضی اللہ عنہم کو اس ہجرت میں کامیابی ملی اور صومالیہ کا ساحل اولین مسلمانوں کی پہلی پناہ گاہ بنا۔ جزیرہ نمائے عرب کے باہر یہی پہلا خطہ تھا جہاں اسلام کے قدم پہونچے۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے سات سال بعد 639ء مطابق 17ھ میں مسلمان افریقا کی طرف بڑھے اور محض دو نسلیں گذرنے کے بعد اسلام قرن افریقا، شمالی افریقا اور وسطی المغرب کے مکمل علاقوں تک پہونچ گیا۔ [1][3]

مکاتب فکر[ترمیم]

افریقا میں اکثریت اہل سنت و جماعت مسلمانوں کی ہے، اگرچہ اہل تشیع کی بھی کافی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ، تصوف سے وابستہ مسلمان بھی موجود ہیں۔ فقہی مکاتب فکر میں اہل سنت کی اکثریت مالکیہ فقہ کی پیروی کرتی ہے۔ جبکہ شافعی فقہ کے پیروکار قرن افریقا، مشرقی مصر اور سواحلی کوسٹ میں ہیں اس کے علاوہ حنفی افراھد کی ایک بڑی تعداد معربی مصر میں ہے۔

قابل ذکر سلطنتیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 [1] اسلام اور افریقا
  2. "Religion: Year in Review 2010 : Worldwide Adherents of All Religions"۔ Britannica Online Encyclopedia. http://www.britannica.com/EBchecked/topic/1731588/Religion-Year-In-Review-2010/298437/Worldwide-Adherents-of-All-Religions. Accessed 09/Jan/2013
  3. ^ 3.0 3.1 حسین حسان۔"افریقا میں اسلام" (RS22873)۔ Congressional Research Service (مئی 9, 2008)۔
  4. Encyclopædia Britannica. Britannica Book of the Year 2003. Enncyclopedia Britannica, (2003) ISBN 978-0-85229-956-2 p.306
  5. Muslim Societies in African History (New Approaches to African History) – David Robinson (ISBN 0-521-53366-X | ISBN 978-0-521-53366-9 | Publication Date: جنوری 12, 2004)
  6. Hans Kung, Tracing the Way : Spiritual Dimensions of the World Religions۔ Continuum International Publishing Group. 2006. page 248