نجاشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نجاشی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 6  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 1 اکتوبر 630  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت مملکت اکسوم[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب مسیحیت[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ بادشاہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

نجاشی (وفات: اکتوبر 630ء) اصمحہ نام، باپ کا نام ابحر نجاشی شاہی لقب حبشہ (ابی سینا) کے بادشاہ تھے، عرب میں عطیہ کے نام سے بھی مشہور ہیں۔[2]

مسلمانوں کی پہلی ہجرت گاہ[ترمیم]

قریش کے ظلم وستم کم نا ہوئے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوحبشہ ہجرت کرجانے کا حکم دیا؛ چنانچہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ سے حبشہ ہجرت کرگئی، حبشہ میں اس وقت یہی اصمحۃ النجاشی بادشاہ تھے، نجاشی نے مسلمانوں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا، قریش کو اس احسان وسلوک کا حال معلوم ہوا توبڑا پیچ وتاب کھایا، آخر میں طے کیا کہ شاہ نجاشی کے ایک وفد جائے اور یہ عرضداشت پیش کرے کہ ہمارے مجرموں (مسلمانوں) کوہمارے حوالے کر دے، اس مہم کے لیے عمروبن العاص اور عبد اللہ بن ربیعہ منتخب ہوئے یہ لوگ حبشہ پہنچے توپہلے تمام پادریوں سے ملے اور تحفے وتحائف پیش کیے اور مقصد کی تکمیل کے لیے ان کوہموار کر لیا؛ پھرشاہ نجاشی اصمحہ کے دربار میں بازیابی حاصل کی اور نذرانہ پیش کیا، نجاشی نے آمد کی وجہ دریافت کی؛ انھوں نے اپنا مطالبہ ظاہر کیا، نجاشی نے پادریوں سے دریافت کیا؛ انہوں نے بھی یک زبان ہوکر ان کے مطالبہ کی تائید کی؛ لیکن شاہ نجاشی نے کہا: میں ان لوگوں سے خود بالمُشافہ گفتگو کروں گا؛ اگروہ لوگ جیسا کہ تم کہتے ہو مجرم ثابت ہوئے توان کوواپس کردوں گا؛ ورنہ جومیری پناہ میں آگیا ہے اس پرظلم روا نہیں رکھا جاسکتا، مسلمان دربار میں بلائے گئے تواصمحہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے کونسا دین اختیار کیا ہے، جو نہ نصرانیت ہے نہ بت پرستی اور نہ کسی دوسری قوم کا دین ہے، مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر نے وکالت کی اوربرسرِدربار ایک بہت ہی مؤثر اور دلنشین تقریر کی، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور اسلام کی اخلاقی خوبیاں بیان کیں، اس کے بعد شاہ نجاشی نے حضرت جعفر کے قرآن کا کچھ حصہ پڑھنے کی فرمائش کی؛ انھوں نے سورۂ مریم کی چند ابتدائی آیتیں تلاوت کیں، نجاشی پررقت طاری ہو گئی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اس کے بعد انہوں نے ان فدائیانِ اسلام کوقریش کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا اور مسلمان زبانِ حال سے یہ شعر پڑھتے ہوئے دربار سے نکل آئے جب قریش کے وفد کوپہلے روز ناکامیابی ہوئی توانھوں نے دوسرے روز پھرکسی طرح دربار میں رسائی حاصل کی اور شاہ نجاشی کے سامنے عرض داشت پیش کی کہ اُن مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق دریافت فرمایا جائے، مسلمان پھربلائے گئے، ان کے لیے یہ بڑی آزمائش کا وقت تھا؛اگرسچ کہتے ہیں توشاہ نجاشی ناخوش ہوتا ہے اور اس کے خلاف کہتے ہیں تودین کے وقار کوصدمہ پہنچتا ہے، آخر کار انہوں نے یہ طے کیا کہ چاہے جوکچھ بھی ہو انھیں سچ ہی بولنا چاہیے، اس روز بھی حضرت جعفر ہی گفتگو کے لیے منتخب ہوئے؛ انہوں نے فرمایا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اس کے کلمہ اور اس کی روح ہیں، نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اُٹھایا اور کہا

خدا کی قسم! حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں، دربار کے بطریق اور پادری اس پربہت ناراض ہوئے؛ لیکن ناراضی کا ان پرکوئی اثر نہ ہوا، قریش نے جوتحفے تحائف نجاشی کے حضور میں پیش کیے تھے، نجاشی نے سب واپس کردیے اور وفد وہاں سے نامراد مکہ واپس چلا آیا۔

قبول اسلام[ترمیم]

یہ واقعہ بجائے خود نجاشی کے اسلام پرشاہد ہے؛ لیکن اس کے علاوہ ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ سے ایک روایت ہے کہ:

قَالَ النَّجَاشِيُّ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ۔[3]

ترجمہ:نجاشی نے کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اللہ کے رسول ہیں اور وہی نبی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔

بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے حضرت جعفر کے ہاتھ پربیعتِ اسلام بھی کی تھی۔

وفات[ترمیم]

مسلمانوں کے اس غمخوار اور محسن نے میں پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ اسی روز ان کی موت کی اطلاع مل گئی( ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن سنائی جس دن وہ مرا آپ مصلی کی طرف تشریف لے گئے، لوگوں کی صف بندی کی اور چار تکبیریں کہیں۔[4] ) اور آپ نے بڑے رنج وغم کے ساتھ مدینہ میں ان کی موت کا اعلان کیا، فرمایا: مسلمانو! تمہارے برادرِ صالح اصمحہ نے انتقال کیا، ان کے لیے دُعا واستغفار کر و؛ پھرصحابہ کے ساتھ ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔

اسلام میں فضیلت[ترمیم]

تفسیر کی روایتوں میں ہے کہ قرآن کی ان آیات میں دوسرے اہلِ کتاب کے ساتھ شاہ نجاشی بھی مراد لیے گئے ہیں:

وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَاأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَاأُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لَايَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔[5]

ترجمہ: اور بے شک اہلِ کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جواللہ کے آگے عجزونیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پربھی ایمان رکھتے ہیں، اُس کتاب پربھی جوتم پرنازل کی گئی ہے اور اُس پربھی جواُن پرنازل کی گئی تھی اور اللہ کی آیتوں کوتھوڑی سی قیمت لے کربیچ نہیں ڈالتے، یہ وہ لوگ ہیں جواپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں، بیشک اللہ حساب جلد چکانے والا ہے۔ (توضیح القرآن:1/241، مفتی تقی عثمانی)

وَإِذَاسَمِعُوا مَاأُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔[6]

ترجمہ:اور جب لوگ وہ کلام سنتے ہیں جورسول پرنازل ہوا ہے توچونکہ انہوں نے حق کوپہچان لیا ہوتا ہے، اس لیے تم ان کی آنکھوں کودیکھوگے کہ وہ آنسوؤں سے بہہ رہی ہیں (اور) وہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لے آئے ہیں؛ لہٰذا گواہی دنیے والوں کے ساتھ ہمارا نام بھی لکھ لیجئے۔[7] میں دوسرے اہلِ کتاب کے ساتھ شاہ نجاشی بھی مراد لیے گئے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/acref/9780195382075.001.0001/acref-9780195382075 — مصنف: ایمائنول کواکو اور ہینری لوئس گیٹس — عنوان : Dictionary on African Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-538207-5
  2. اصابہ، جلد:1، ذکراصمحہ
  3. ابوداؤد،كِتَاب الْجَنَائِزِ، بَاب فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمُسْلِمِ يَمُوتُ فِي بِلَادِ الشِّرْكِ، حدیث نمبر:2790، شاملہ، موقع الإسلام
  4. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1193
  5. آل عمران:199
  6. المائدۃ:83
  7. توضیح القرآن:1/362، مفتی تقی عثمانی