جامع القیروان الاکبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جامع القیروان الاکبر

جامع القیروان الاکبر (عربی : جامع القيروان الأكبر ) تیونس کی قدیم اور اہم مساجد میں سے ایک ہے۔ اسے جامع عقبہ بن نافع (عربی : جامع عقبة بن نافع ) بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ اسے عقبہ بن نافع نے 670ء (50ھ) بنایا تھا جب قیروان شہر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ قیروان اب تیونس کا ایک مشہور شہر ہے۔ اس مسجد کا رقبہ 9000 مربع میٹر ہے اور اس کا طرزِ تعمیر بعد میں المغرب (تیونس، مراکش وغیرہ) اور ہسپانیہ میں مزید مساجد (مثلاً جامعہ قرویین اور مسجد قرطبہ) میں استعمال کیا گیا۔ ایک زمانے میں اس مسجد کو ایک جامعہ (یونیورسٹی) کا درجہ حاصل تھا کیونکہ یہاں دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی تھی اور اس مسجد میں مذہبی اور دیگر دانشور اکٹھا ہوتے تھے مگر بعد میں دانشوران اس کی جگہ جامعہ زیتونیہ (زیتونیہ یونیورسٹی) چلے گئے جو 737ء میں قائم ہوئی تھی اور آج بھی قائم ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اس کی بنیاد عقبہ بن نافع نے 670ء (50ھ) میں رکھی۔ اس تعمیر کو بربروں نے تباہ کر دیا۔ 80ھ میں حسان بن نعمان الازدی الغسانی (افریقہ کی کچھ فتوحات کے قائد) نے پھر تعمیر کیا اور محراب کا اضافہ بھی کیا مگر زیادہ تعمیر اور موجودہ ڈھانچہ غلبی خاندان کا کارنامہ ہے۔ زیادۃ اللہ بن اغلب نے 221ھ میں مسجد کی توسیع کی اور ستون بنوائے۔ احمد بن محمد الاغلبی نے 248ھ میں منبر و محراب کی تزئین و آرائش کی۔ 261ھ میں بڑے صحن کا اضافہ ہوا۔ المعز بن بادیس نے 441ھ میں مسجد میں کچھ ترمیم کی۔ اس کی تعمیرات اب تک موجود ہیں۔ مگر بنیادی ڈھانچہ وہی ہے جو اغلبیوں نے تعمیر کروایا تھا۔ مسجد کا زیادہ تر حصہ نویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وجہ سے یہ قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتا ہے۔ زیادہ ڈھانچہ ابراہیم بن احمد الاغلبی کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔

موجودہ نقشہ[ترمیم]

مسجد کا نقشہ

یہ مسجد قلعہ نما ہے۔ اس کی دیواریں 1.9 میٹر موٹے پتھروں سے بنی ہیں جو اس زمانے کے حساب سے بھی زیادہ ہے۔ داخلی دیوار 138 میٹر لمبی ہے جبکہ اس کے بالمقابل دوسری دیوار 128 میٹر لمبی ہے۔ مینار کے ساتھ والی دیوار 71 میٹر لمبی جبکہ اس کے بالمقابل دیوار 77 میٹر لمبی ہے۔ داخلی دروازے سے صحن تک آپ ایک لمبے راہداری کی مدد سے جا سکتے ہیں۔ مگر اس کے علاوہ پانچ مزید دروازے ہیں۔ صحن کے درمیان ایک تالاب ہے جس میں بارش کا پانی نتھر (فلٹر) کر ایک زیرِ زمین پانی کے ذخیرے میں چلا جاتا تھا۔ یہ اب بھی ہوتا ہے مگر اب وضو کے لیے پانی کا وافر بندوبست ہے اور بارش کے پانی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ نماز کے ہال میں 14 مختلف دروازے کھلتے ہیں اور اس میں 400 سے زیادہ ستون ہیں۔ مشہور ہے کہ اس مسجد کے ستونوں کو آپ اندھا ہوئے بغیر گن نہیں سکتے۔

مسجد کی قدامت[ترمیم]

مسجد کا منبر اسلامی دنیا کا قدیم ترین منبر ہے کیونکہ یہ اسی حالت میں نویں صدی عیسوی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ ایک مضبوط لکڑی (ٹیک کی لکڑی) کا بنا ہوا منبر ہے۔ مسجد کا مینار دنیا کا چوتھا قدیم ترین مینار ہے۔ یہ گیارہ سو سال سے اسی طرح کھڑا ہے۔ اگرچہ اس کی نچلی منزلیں اس سے بھی پرانی ہیں (تقریباً تیرہ سو سال پرانی) اور آخری منزل گیارہ سو سال پہلے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کی لمبائی 31.5 میٹر ہے اور اس کی تین منزلیں ہیں۔ پہلی منزل 10.5 میٹر اونچی ہے۔

مسجد تصویروں میں[ترمیم]

بڑی تصویر دیکھنے کے لیے اس پر کلک کریں۔


مزید دیکھیں[ترمیم]