آذربائیجان میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آذربائیجان میں اسلام
اسلام فیصد
شیعیت
  
85%
اہل سنت
  
15%

آذربائیجان کی کل آبادی کا 96.9% مسلمان ہیں۔ (تخمینہ بشمول 96.9% مسلم (شیعہ)،[1] 93.4% (برکلے مرکز، 2012)،[2] 99.2% (پیو مرکز تحقیق، 2009)۔[3]) باقی آبادی کا یا تو دوسرا کوئی مذہب ہے یا پھر یا لا مذہب ہیں، اگرچہ وہ سرکاری طور پر نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ مسلم اکثریت کے درمیان میں، مذہبی پابندی مختلف ہوتی ہے اور مسلم تشخص مذہب کی بجائے ثقافت اور قومیت پر مبنی ہو جاتی ہے۔ مسلمان آبادی کا 85% اہل تشیع اور 15% اہل سنت ہیں; روایتی طور پر یہ فرق سنگین نہیں ہے۔[4] آذربائیجان ایران کے بعد شیعہ آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے۔[5]

شیعیہ آبادی کی اکثریت راسخ الاعتقاد شعیہ فرقے اثنا عشریہ کی پیروکار ہے۔ دیگر فرقوں میں سے اہل سنت کی اکثریت ہے، جن کی اکثریت فقہ میں حنفی ہیں۔ روایتی طور پر باکو کے اردگرد گاؤں اور لنکران خطہ تشیع کے مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

2010ء کے ایک گیلپ پول میں پایا گیا کہ 49 فیصد آذربایجانیوں نے سوال "کیا مذہب آپ کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہے؟" کا کوئی جواب نہیں دیا، کسی بھی مسلمان اکثریت رکھنے والے ملک میں سب سے زیادہ شرح میں سے ایک۔[6] 1998ء کے ایک جائزے میں تناسب دیکھا گیا تھا کہ کتنے فیصد آذربائجانی کثر مذہبی نظریے کے قائل ہیں، یہ تعداد 7 فیصد تھی۔[7][8]

تاریخ[ترمیم]

ساتویں صدی عیسوی میں عربوں کے ذریعے اسلام آذربائیجان میں پہنچا، جھنوں نے آہستہ آہستہ مسیحیت اور بت پرستی سے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کیا۔ سولہویں صدی میں، صفوی خاندان کا پہلا شیعہ، اسماعیل اول، شیعہ اسلام کو ریاستی مذہب کے طور پر جاری کیا، تاریخ میں ایران اور آذربائجان ایک ساتھ شیعیت سے منسلک ہوئے۔[9] عرب اموی خلیفہ نے ساسانیوں اور بازنطینیوں کو شکست دے کر قفقازی البانیہ کو فتح کر لیا۔ عباسیوں کے زوال کے بعد یہ علاقہ سالاریوں، ساجدی، شدادی، راوادی اور بائیدیوں کے قبضے میں رہا۔ 11 ویں صدی عیسوی کی ابتدا میں وسط ایشیا سے آنے والے ترک اوغدائی قبیلوں نے بتدریج اس علاقے پر قبضہ جمایا۔ ان بادشاہتوں میں سے پہلی بادشاہت غزنویوں کی تھی جنہوں نے 1030 میں اس علاقے پر قبضہ جمایا۔

مقامی طور پر بعد میں آنے والے سلجوقیوں پر اتابک نے فتح پائی۔ سلجوقیوں کے دور میں مقامی شعرا جیسا کہ نظامی گنجوی اور خاگانی شیروانی نے فارسی ادب کو بام عروج تک پہنچایا۔ یہ سب آج کل کے آذربائیجان میں ہوا۔ اس کے بعد یلدرمیوں نے مختصر قیام کیا اور ان کے بعد امیر تیمور آئے۔ جس کی مدد نوشیرواں نے کی۔ امیر تیمور کی موت کے بعد یہ علاقہ دو مخالف ریاستوں میں بٹ گیا۔ ان کے نام کارا کوئینلو اور اک کوئینلو تھے۔ اک کوئینلو کی موت کے بعد سلطان اذن حسن نے آذربائیجان کی پوری ریاست پر حکمرانی کی۔ اس کے بعد یہ علاقہ شیرواں شاہوں کے پاس آیا جنہوں نے 861 سے 1539تک بطور خود مختار مقامی حکمران کے اپنی حیثیت برقرار رکھی۔ شیروانیوں کے بعد صفویوں کی باری آئی اور انہوں نے شیعہ اسلام اس وقت کی سنی آبادی پر زبردستی لاگو کیا۔ اس ضمن میں انہیں سنی عثمانیوں سے جنگ بھی کرنا پڑی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "کتاب حقائق عالم"۔ سی آئی اے۔ 18 مئی، 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2015۔ 91.6% Check date values in: |date= (معاونت)
  2. "Berkley Center for Religion Peace and World Affairs"۔ Georgetown University۔ جولائی 2012۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2015۔
  3. MAPPING THE GLOBAL MUSLIM POPULATION| PEW FORUM| اکتوبر 2009
  4. Administrative Department of the President of the Republic of Azerbaijan – Presidential Library – Religion
  5. Juan Eduardo Campo,Encyclopedia of Islam، p.625
  6. Religiosity Highest in World's Poorest Nations اگست 31, 2010 – data accessed on 22 مئی 2015
  7. Fereydoun Safizadeh, "On Dilemmas of Identity in the Post-Soviet Republic of Azerbaijan," Caucasian Regional Studies، vol.3, no.1 (1998)۔
  8. Tadeusz Swietochowski Azerbaijan: The Hidden Faces of Islam. World Policy Journal، Volume XIX, No 3, Fall 2002
  9. The Caspian: politics, energy and security, By Shirin Akiner, pg.158۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:موضوعات آذربائیجان