ایران میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ایران میں اسلام
مزار امام علی رضا
معلومات ملک
نام ملک Flag of Iran.svg ایران
کل آبادی 70,000,000
ملک میں اسلام
مسلمان آبادی ~68,600,000[1]
فیصد 98٪[2]
اہل سنت آبادی ~5,600,000[1]
اہل تشیع آبادی ~63,000,000[1]

ایران میں اسلام ایران کا باقاعدہ سرکاری دین اسلام ہے۔ مسلمان ملک کی آبادی کے 98 فیصد ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد شیعہ اور 8 فیصد اہل سنت ہیں۔ ایران کے اہل سنت اکثر حنفی ہیں اور پھر شافعی، حنبلی کم تعداد میں ملک کے جنوبی علاقوں میں ہیں، البتہ ایران میں مالکی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔[3]

پہلی آشنائی[ترمیم]

اسلامی فتوحات[ترمیم]

عجمی دنیا میں اسلام سب سے پہلے ایران میں داخل ہوا- ایرانیوں کا قومی وقار اور شہنشاہیت کا عربوں کے ہاتھوں تباہ ہونا ایرانیوں کے لیے ناقابل برداشت تھا- عربوں کے ہاتھوں ایران کی تباہی کی وجہ سے اہل ایران عربوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے رہے تھے۔ چنانچہ انہوں نے ابتدا میں دین اسلام اور عربی قیادت کو تسلیم نہیں کیا- بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار رہے۔ البتہ اس وقت پوری دنیا میں، مکمل طور پر، قرآن و سنت کے مطابق اپنے ملکی قوانین بنانے والا اکلوتا ملک ایران ہے۔

ساخت مساجد جامع حسینیہ امامزادہ درگاه حوزہ
تعداد 48983[4] 7877[4] 13446[5] 6461[6] 1320[6]

اسلامی تعمیرات[ترمیم]

مساجد و مدارس دینی[ترمیم]

مزارات[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ درصدی که در کتاب واقعیات سیا بود در جمعیت کشور ضرب شد.
  2. CIA – The World Factbook – Iran
  3. نیم نگاهی به جغرافیای اهل سنت در ایران و جهان، مجله افق حوزه 18 دیماه 1392 شماره 381
  4. ^ ا ب یافته های طرح آمارگیری جامع فرهنگی کشور، فضاهای فرهنگی ایران، آمارنامه اماکن مذہبی، 2003، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، ص 39
  5. یافته های طرح آمارگیری جامع فرهنگی کشور، فضاهای فرهنگی ایران، آمارنامه اماکن مذہبی، 2003، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، ص 154
  6. ^ ا ب یافته های طرح آمارگیری جامع فرهنگی کشور، فضاهای فرهنگی ایران، آمارنامه اماکن مذہبی، 2003، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامی، ص 263