محمد حسین طباطبائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید محمد حسین طباطبائی
Allame-Tabatabai-youth.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1892[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
آذربائیجان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 نومبر 1981 (88–89 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
تہران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iran.svg ایران  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ قمر سادات مہدوی (1923–1964, her death)
منصورہ روزبہ (1966–1981, his death)
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان،شاعر،فلسفی،مصنف،آخوند،متصوف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان عربی[2]،فارسی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں تفسیر میزان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر

محمد حسین طباطبائی یا سید محمد حسین طباطبائی (16 مارچ 1903ء7 نومبر 1981ء) اپنے زمانے میں شیعہ اسلام کے ممتاز دانشور اور مفکرین میں سے تھے۔[3] وہ اپنی تحریر کردہ تفسیر قرآن بنام تفسیر المیزان کے باعث مشہور ہیں۔[6]

مختصر سوانح[ترمیم]

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی، اس دوران آپ نے عربی اور فقہ پر مہارت حاصل کی۔ تقریباً 20 سال کی عمر میں آپ اعلی تعلیم کیلئے نجف کی شیعہ یونیورسٹی میں داخل ہو گئے۔ نجف میں آپ نے مرزا علی قدعی سے معرفت، مرزا محمد حسین نائینی اور شیخ حسین اصفہانی سے فقہ و فتاویٰ جبکہ سید ابو القاسم خوانساری سے حساب کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے بو علی سینا کی شفا، صدر الدین شیرازی کی اسفار اور ابن ترخ کی تمہید القوائد کی بھی تعلیم حاصل کی۔ سید حسین باد کوبہ ای کے ساتھ ساتھ وہ وقت کے دو مشہور اساتذہ سید ابو الحسن جلوہ اور آقا علی مدرس زنوزی کے شاگرد رہے۔

بعد کے سالوں میں وہ ہنری کوربن اور سید حسین نصر کے ساتھ اپنی پڑھائی کیا کرتے تھے جس میں نہ صرف پرانے الہامی مصحف زیر بحث لائے جاتے تھے بلکہ بقول نصر باطنی علوم کا مکمل موازنہ کیا جاتا تھا؛ اس دوران بڑے مذاہب یعنی ہندومت، بدھ مت اور عیسائیت کا اسلامی تصوف سے عومی طور پر موازنہ کیا جاتا تھا۔

طباطبائی ایک فلسفی، منجھے ہوئے مصنف اور اپنے طلباء کیلئے ایک مؤثر استاد تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسلامی تعلیمات کیلئے وقف کر دیا۔ اُن کے بہت سے طلباء مثلاً مرتضی مطہری، محمد بہشتی اور مفتح شہید اسلامی جمہوریہ ایران کے نظریاتی بانیوں میں سے تھے۔ کچھ دوسرے مثلاً حسین نصر اور حسن زادہ آملی نے روشن خیالی اور غیر سیاسی دائرہ کار میں اپنی تعلیم و تحصیل جاری رکھی۔

مطبوعات[ترمیم]

طباطبائی نے تفسیر، فلسفہ اور شیعہ عقائد کی تاریخ کے موضوع پر زیادہ تر کام نجف میں رہ کر کیا۔ فلسفہ میں اُن کا سب سے اہم کام اصولِ فلسفہ اور حقیقت کے قوانین ہے جو مرتضی مطہری کے تحریر شدہ حاشیہ کے ساتھ پانچ جلدوں میں طبع ہو چکا ہے۔ اگر آیت اللہ حائری کو حوزہ علمیہ قم کو انتظامی جِلا دینے والا سمجھا جائے، تو طباطبائی کا تفسیر، فلسفہ اور روحانیت پر کام، جس نے نصاب تعلیم پر مستقل اثر چھوڑا، حوزہ علمیہ قم کی ذہنی جِلا کو ظاہر کرتا ہے۔

فہرست مطبوعات[ترمیم]

علامہ طباطبائی کی دو کتابیں بہت اہم ہیں، جو بقیہ تصنیفات سے زیادہ دنیا بھر میں مقبول ہوئیں۔[3]

پہلی تفسیر المیزان ہے، جو 20 جلدوں میں 20 سال کے عرصے میں عربی زبان میں تألیف ہوئی۔ اس تفسیر میں قرآن کی تفسیر قرآن ہی سے کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں تفسیر آیات کے ساتھ لغوی بحثیں اور آیات سے مربوطہ مباحث روائی، تاریخی، کلامی، فلسفی و اجتماعی علاحدہ بیان ہوئی ہیں۔ دوسری اصول فلسفہ و روش ریئلیزم ہے۔ اس کتاب میں 14 اہم فلسفی مقالے ہیں، جن کی مرتضی مطہری نے تطبیقی فلسفہ کے ساتھ شرح کی ہے۔[7] یہ اس موضوع پر پہلی اور اہم ترین کتاب ہے جس میں فلسفی مباحث کا اسلامی فلسفہ کی حکمت اور مغربی جدید فلسفہ کو مدنظر رکھ کر جائزہ لیا گیا ہے۔ محمدحسین طباطبائی کی تصنیفات دو زبانوں میں ہیں:[3]

عربی زبان میں
  1. تفسیر المیزان
  2. کتاب توحید جو 3 رسائل پر مشتمل ہے:
    • رسالۃ فی توحید
    • رسالۃ فی اسماء اللہ
    • رسالۃ فی افعال اللہ
  3. کتاب انسان جو 3 رسائل پر مشتمل ہے:
    • الانسان قبل الدنیا
    • الانسان فی الدنیا
    • الانسان بعد الدنیا
  4. رسالۃ وسائط
  5. رسالۃ الولایۃ
  6. رسالۃ النبوۃ و الامامۃ
  7. بدایۃ الحکمۃ
  8. نہایۃ الحکمۃ

(یہ آخری دو کتابیں دینی مدارس اور اسلامی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں۔)

فارسی زبان میں
  1. شیعہ در اسلام
  2. قرآن در اسلام]
  3. وحی یا شعور مرموز
  4. اسلام و انسان معاصر
  5. حکومت در اسلام
  6. سنن النبی
  7. اصول فلسفہ و روش رئیلیزم (مبانی فلسفی اسلامی اور اصول مکتب ماتریالیسم دیالکتیک پر مشتمل ہے۔)
  8. علی و فلسفہ الہی
  9. خلاصہ تعالیم اسلام
  10. رسالہ در حکومت اسلامی
  11. نسب‌نامہ خاندان طباطبائی ( امیر سراج الدین عبدالوہاب کی اولاد)
شرحیں
  • بدایہ الحکمہ
  • نہایہ الحکمہ
  • حاشیہ بر کفایہ
  • مجموعۂ مذاکرات با پروفیسر ہنری کوربن
  • رسالہ انسان قبل از دنیا، در دنیا و بعد از دنیا
  • در محضر علامہ طباطبائی
  • شیعہ در اسلام
  • ولایت‌نامہ

شاعری[ترمیم]

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/119158663 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ^ 2.0 2.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12186439v — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 3.3 "Google Scholar Page"۔  Cite error: Invalid <ref> tag; name "scholar.google.com" defined multiple times with different content Cite error: Invalid <ref> tag; name "scholar.google.com" defined multiple times with different content
  4. An Introduction to the al-Mizan
  5. * Jahanbaglu، Ramin (1998)۔ Zire asmanhaye jahan (Below the skies of the world), داریوش شائیگان سے ایک انٹرویو۔ Nashr Farzan۔ , (in Persian)[1]
  6. Biography of Allamah Sayyid Muhammad Husayn Tabatabaei by amid Algar, University of California, Berkeley, Published by اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس on behalf of the Oxford Centre for Islamic Studies.
  7. اصول فلسفہ و روش ریئلیزم مرتضی مطہری