مندرجات کا رخ کریں

ملا صدرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ملا   ویکی ڈیٹا پر (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملا صدرا
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1571ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شیراز   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1641ء (69–70 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن عراق   ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت صفویہ [2]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ فندرسکی ،  شیخ بہاء الدین عاملی [3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص ملا حمزه گیلانی   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم ،  فقیہ ،  فلسفی ،  متصوف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [5]،  فارسی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلسفہ ،  تصوف   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ابن عربی   ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صدر الدین محمد بن ابراہیم قوام شیرازی معروف بہ مُلا صَدرا و صدر المتألہین سنہ 1571ء میں ایران کے شہر شیراز کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ گیارہویں صدی ہجری کے معروف ایرانی فلسفی ہیں اور حکمتِ متعالیہ نامی مکتب فکر کے بانی ہیں۔ آپ نے 1641ء میں حج سے واپسی پر عراق کے شہر بصرہ میں وفات پائی۔ آپ کے استادوں میں میر داماد، میر فندرسکی، شیخ بہاء الدین عاملی وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ آپ کے شاگردوں میں ملا محسن فیض کاشانی نمایاں ہیں جنھوں نے آخری عمر میں آپ کی فکر کو ترک کر دیا۔ آپ کے ایک اور شاگرد جناب سرمد کاشانی تھے جو استاد کی وفات کے بعد ہندوستان آ گئے اور دہلی میں ننگے گھوما کرتے تھے۔ ان کو اورنگزیب عالمگیر نے سزائے موت دی۔ آپ کا فلسفہ معروف سنی صوفی ابنِ عربی اور زمانہ جاہلیت کے مشرک فلسفی فلوطین سے بہت متاثر ہوا ہے۔

زندگی

[ترمیم]

ملا صدرا 1572ء میں شیراز کے ایک وڈیرے کے ہاں پیدا ہوئے۔ مالی طور پر تگڑے خاندان سے تعلق کی وجہ سے انھیں مختلف کتابیں جمع کرنے اور عربی، فقہ، قدیم فلسفہ اور تصوف وغیرہ سیکھنے میں آسانی ہوئی۔ جوانی میں وہ مزید تعلیم کے لیے اس دور کے دار الحکومت اصفہان چلے گئے جہاں سے 1601ء میں واپس شیراز آ گئے اور پھر شہر کے علما سے وحدت الوجود جیسے مسائل پر لڑ کر قم چلے گئے۔وہاں کہک نامی ایک گاؤں میں دس سال سکونت اختیار کی اور پھر واپس شیراز آ گئے۔ دولت کی ریل پیل کی وجہ سے سات مرتبہ حج پر گئے۔ آپ نے 1641ء میں حج سے واپسی پر بصرہ میں انتقال فرمایا۔

نظریات

[ترمیم]

حرکت جوہری

[ترمیم]

حرکت کا موضوع ہمیشہ سے انسانوں کے درمیان موضوع بحث رہا ہے کیونکہ انسان ہمیشہ تبدیلیوں میں گھرا رہتا ہے۔ صنعتی ترقی کی بنیاد حرکت کو سمجھنے پر ہے۔ ماضی میں جو لوگ وحدت الوجود کے خیال کے اسیر ہوئے انھوں نے اس سے حرکت کی وضاحت بھی نکالنا چاہی۔ یہ قدیم خیال حرکتِ جوہری کہلاتا ہے جس کے مطابق محرک، حرکت اور متحرک اصل میں ایک ہیں۔ یعنی جوہر خود ہی حرکت ہے، متحرک چیزیں اپنی محرک خود ہیں۔ یہ خیال فرسودہ یونانی فلسفے سے ہوتا ہوا ملاصدرا تک آیا۔ ملا صدرا معترف ہیں کہ یہ خیال فلوطین کی کتاب اثولوجیا میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ [6] نیوٹن کی تحقیقات کے بعد یہ خیال علمی دنیا میں رد ہو چکا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق حرکت یا اس میں تبدیلی کسی جسم پر عمل کرنے والی خارجی طاقتوں (forces) کے توازن کے بگڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔ خارجی طاقت توانائی (energy) میں فرق آنے سے پیدا ہوتی ہے، یہ فرق نہ ہو تو طاقت پیدا نہیں ہوتی۔ توانائی کا یہ فرق ہی حرکی توانائی میں تبدیل ہوتا ہے اور حرکت کو بقا کے لیے محرک کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن تبدیلی کے لیے طاقت کا عمل دخل لازمی ہے۔ مزید معلومات کے لیے نیوٹن کے قوانین حرکت کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ حرکت جوہری کے تصور میں الجھ جانے کی وجہ سے ہی ملا صدرا کشش ثقل کو نہ سمجھ پائے۔ چنانچہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اجسام خود بخود زمین کی طرف آتے ہیں۔ ملا صدرا لکھتے ہیں: ”بعض اوقات اتفاقی اسباب کی غایت بھی ذاتی غایت ہی ہوتی ہے۔ مثلاً اوپر سے گرنے والا پتھر اگر پانی میں تیرنے کے بعد اس جگہ پر پہنچے جہاں گر کر پہنچنا چاہتا تھا، یعنی جو اس کی ذاتی غایت تھی وہاں پہنچے۔ کبھی صرف اتفاقی اسباب پر معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ مثلاً وہی تیرنے والا پتھر اگر کسی وجہ سے سطحِ آب پر ٹھہرا رہے۔ پہلی صورت میں اتفاقی اسباب کو طبعی غایت کے اعتبار سے ذاتی سبب کہتے ہیں اور عرضی غایت کی رو سے اتفاقی سبب اور دوسری صورت میں ذاتی غایت کے اعتبار سے ان اتفاقی اسباب کو باطل اور غیر مثمر اسباب کے ذیل میں شمار کیا جاتا ہے۔“[7]

زمین ساکن ہے

[ترمیم]

اپنے پیشرو یونانی فلاسفہ کی طرح ملا صدرا بھی زمین کو ساکن سمجھتے تھے۔ ملا صدرا نے اپنی کتاب المبدا والمعاد میں آسمان کی حرکت کی وضاحت کے لیے ایک فصل قائم کی ہے جس میں فرماتے ہیں:

أن یکون سکون الأرض مثلا عن علۃ ثابتۃ لأنہ دائمۃ على حالۃ واحدۃ. [8]

ترجمہ: ”زمین کا ساکن رہنا اس دلیل سے جائز ہے کہ یہ دائماً ایک ہی حالت پر ٹھہری ہوئی ہے۔“

روشنی کے بارے ملا صدرا کا نظریہ

[ترمیم]

قدیم یونانی فلاسفہ کی طرح ملا صدرا روشنی کے مرکب ہونے کو نہیں سمجھ سکے تھے۔ ان کا یہ نظریہ بھی جدید علوم نے رد کر دیا ہے۔ چنانچہ آپ وجود پر روشنی کا قیاس کر کے اس کی وحدت کے ساتھ ساتھ تشکیک کے بھی قائل ہو گئے۔ آپ لکھتے ہیں:

”تم آفتاب کے انوار اور اس کی روشنی پر نظر ڈالو کہ عالم محسوسات میں خدا کی وہی ایک مثال ہے۔ دیکھو، آفتاب کے یہ انوار کس طرح مختلف رنگ کے شیشوں میں پہنچ کر طرح طرح کے رنگوں سے رنگین نظر آتے ہیں۔ حالانکہ ان انوار کا اپنی ذات کی حیثیت سے کوئی رنگ ذاتی رنگ نہیں ہے، البتہ (مختلف شیشوں) کے ان انوار میں اگر کوئی واقعی تفاوت پیدا ہو سکتا ہے تو وہ صرف چمک کی شدت و ضعف کا ہو سکتا ہے۔ تو وہ جو انھی شیشوں اور ان کی رنگینیوں یا نور کے ان ادنیٰ مراتب اور تنزلی درجات میں الجھ کر رہ گیا وہ نورِ حقیقی کی یافت سے محروم ہو گیا اور نورِ حقیقی خود اس سے روپوش ہو جاتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جن کے نزدیک ماہیات حقیقی اور متاصل الوجود امور ہیں اور وجودات ان کے خیال میں صرف انتزاعی اور ذہنی معانی ہیں۔“ [9]

ظاہر ہے کہ یہ باتیں درست نہیں۔ رنگ روشنی کی فریکوئنسی کے بدلنے سے بدل جاتا ہے۔ روشنی ذرات سے مل کر بنی ہوتی ہے اور اس میں کئی فریکوئنسیاں ہوتی ہیں۔ اسی ترکیب کی وجہ سے ٹی وی اور ریڈیو پر مختلف چینلز کے پروگرام آ سکتے ہیں۔ دوسری طرف رنگ ایک اعتباری چیز ہے، جیسے کہ وجود اور دیگر انتزاعی مفاہیم جو انسانی ذہن حسیات کے حاصل شدہ معلومات سے پیدا کرتا ہے۔

ایٹم کا انکار

[ترمیم]

ایٹم کا لفظ یونانی زبان سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ناقابلِ تقسیم ہونا ہے۔ دی مقراطیس (متوفیٰ 370 قبل مسیح) کا خیال تھا کہ دنیا کی چیزیں ناقابل تقسیم ذرات سے بنی ہیں۔ ملا صدرا نے ایٹم کے بارے میں ہمارے علم میں کوئی اضافہ کرنے کی بجائے دیمقراطیس کے خام قسم کے ابتدائی خیال کی بھی مخالفت کی ہے۔ ان کی کتاب اسفار اربعہ میں یہ لکھا ہے:

”اتصالی وحدت حقیقی وحدت کی ایک قسم ہے۔ پس اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو چیز اتصالی وحدت رکھتی ہے اس کو موضوع کے اعتبار سے بھی واحد ہی ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس کی تقسیم مختلف صورتوں کی طرف نہیں بلکہ ایسے اجزاء کی طرف ہونی چاہیے جو اپنی حقیقت میں متحد ہوں اور جن کا وجود بالفعل نہیں بلکہ بالقوہ ہوتا ہے، جیسا کہ عنقریب اس پر بحث آئے گی۔ اور چونکہ یہ بھی ایک بدیہی مقدمہ ہے کہ جس میں وحدت بالفعل ہو گی اس کی کثرت بالقوہ ہو گی، اس کے بعد یہ دعویٰ کہ جس چیز کی وحدت اتصالی ہوتی ہے ایسے وحدانی متصل کے اجزاء کا صورتوں کے لحاظ سے مختلف ہونا ممکن ہے، نہایت بیہودہ بات ہے۔“[10]

یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ملاصدرا کیمیکل بانڈنگ سے بھی واقف نہیں تھے۔ آج کل اسکول کے بچے بھی کیمسٹری کی کتاب سے یہ جان لیتے ہیں کہ ایٹموں کے آپس میں جڑنے کی وجہ برقی طاقت پر مبنی بانڈ ہوتا ہے، جو یا آئنی یا کوویلنٹ ہوتا ہے یا پھر سپرا مالیکیولر بانڈ ہوتا ہے جیسے ہائیڈروجن بانڈ یا ڈائی پول بانڈ وغیرہ۔

ملاصدرا نہ صرف خود دیمقراطیس کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ مشائیوں، یعنی ابنِ سینا وغیرہ نے، بھی اس کو باطل کہا ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:

”مشائیوں نے کیفیتوں کی شدت پذیری اور ضعف انگیزی کے متعلق ثابت کیا ہے کہ یہ حرکت کے جسمانی موضوع و محل سے اس حرکت کا نام ہے جو کیفیات کے مراتب میں واقع ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ان لوگوں نے حکیم دیمقراطیس کی اس رائے کو باطل کرتے ہوئے، جو اجسام کے مبادی کے متعلق ہے، اپنے دعوے کو بدیہی قرار دیا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ جسم کے سیاہ ہونے میں سواد یعنی سیاہی کے جو مختلف مراتب شدت و ضعف کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہیں، یہ ماننا پڑے گا کہ تمام مراتب نوعی ماہیت کی رو سے متحد ہیں۔ اور اس میں کوئی محال بات لازم نہیں آتی۔“ [11]

خواتین کا ذکر

[ترمیم]

ملا صدرا نے خواتین کا ذکر ہمیشہ منفی انداز میں کیا ہے۔ وہ خواتین کو حیوانِ صامت سمجھتے ہیں[12] اور نوخیز لڑکوں سے محبت کے فضائل بیان کرتے ہوئے خواتین سے عشق کو گھٹیا قوموں کا شیوا قرار دیتے ہیں۔[13] ایک فرضی موجود ہیولیٰ کی برائی کو ظاہر کرنے کے لیے اسے خواتین سے نسبت دیتے ہوئے کہتے ہیں:

”ہیولیٰ اولیٰ خسّت و دناٴت کا سرچشمہ ہے اور برائیوں کے دائرے کا مرکزی نکتہ ہے۔ گویا اس کی صورت ایک کریہ المنظر بڑھیا کی سی ہے۔ اس کو نور اور روشنی سے قطعاً اس وقت تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا جب تک کہ صورت جسمیہ اور نوعیہ کے لباس کو یہ زیبِ تن نہ کر لے ۔“[14]

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

”اس خاص صورت کے حصول کے بعد بھی باقی صورتوں کی خواہش اور ان کا اشتیاق ہیولیٰ میں پھر بھی باقی رہتا ہے۔ اس کی مثال ٹھیک اس عورت کی ہے جو ایک مرد سے ہم بستری سے سیر نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مسلسل ایک کے بعد دوسرے مرد کی سوزش اور تڑپ پیدا ہوتی چلی جاتی ہے ۔“ [15]

ہم جنس پسندی

[ترمیم]

ماضی کے اکثر صوفیا کی طرح ملا صدرا بھی خوبصورت بچوں کی طرف کشش کو جائز سمجھتے ہیں۔ وہ نوجوان طلبہ سے محبت کو اعلی قوموں کا شیوہ کہتے ہیں، اگرچہ جدید نفسیات میں اسے بچوں کے لیے بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ ملا صدرا نے اپنی معروف تصنیف اسفارِ اربعہ میں ”حساس لوگوں کا نو عمر خوبصورت لڑکوں سے عشق“ کے عنوان سے ایک باب باندھا ہے، في ذكر عشق الظرفاء والفتيان، جس میں اس معاملے پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔[16]

وحدتِ وجود

[ترمیم]

اکثر صوفیا کی طرح ملا صدرا بھی وحدت الوجود یا توحید وجودی کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا ہے:

”حقیقت اور ذات کے اعتبار سے وجود اور موجود ایک ہیں۔ جیسا کہ کشف اور یقین والے بزرگوں اور عارفوں کا مسلک ہے۔ میں عنقریب اس کے لیے برہانِ قاطع پیش کروں گا کہ وجودات اگرچہ باہم ایک دوسرے سے جدا ہیں اور ان میں باہم کثرت ہے، لیکن یہ سب جو کچھ بھی ہے، وہ حقِ اول (یعنی وجودِ حق) کے تعینات اور اسی کے نور کے مختلف ظہورات اور اس کی ذات کے مختلف شئونات ہیں۔“ [17]

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ:

«لَیسَ فِی الدّار الوجود غَیرُهُ دَیار» [18]

ترجمہ: ”دارِ وجود میں خدا کے سوا کوئی موجود نہیں ہے“۔

ملا صدرا کا کہنا ہے:

«کل ما ندرکہ فہو وجود الحق فی أعیان الممکنات»[19]

ترجمہ: ”ہم جو کچھ پاتے ہیں وہ وجودِ حق ہے جو بطورِ عینی ممکنات میں ہے“۔

نیز:

«فالعالم متوہم ما لہ وجود حقيقي فہذا حكايۃ ما ذہبت إليہ العرفاء الإلہيون و الأولياء المحققون»[20]

ترجمہ: ”کائنات حقیقت میں موجود نہیں، بس ایک توہم ہے۔ یہ وہ حکایت ہے جس کی طرف عرفائے ربانی اور محقق اولیائے کرام گئے“۔

اور:

«فواجب الوجود كل الأشياء لا يخرج عنہ شي‌ء من الأشياء»[21]

ترجمہ: ”واجب الوجود سب اشیاء ہے، اس سے کچھ بھی باہر نہیں ہے“۔

شیعہ مکتب فکر اور وحدت وجود

[ترمیم]

شیعہ امامیہ کی کتب حدیث میں ایسی روایات بے شمار ہیں جن سے خدا اور مخلوقات میں ذاتی بیگانگی کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً:

«یَا مَنْ دَلَّ عَلٰی ذَاتِہِ بِذَاتِہِ، وَتَنَزَّہَ عَنْ مُجَانَسَةِ مَخْلُوقَاتِہِ، وَجَلَّ عَنْ مُلائَمَةِ کَیْفِیَّاتِہِ» [22]

ترجمہ: ”اے وہ جس نے اپنی ذات پر اپنی ذات کو دلیل بنایا۔ جو اپنی مخلوقات کا ہم جنس ہونے سے پاک اور اس کی کیفیتوں کی آمیزش سے بلند ہے۔“

«كُنْهُهُ تَفْرِيقٌ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ خَلْقِهِ»[23]

ترجمہ: ”اس کی اصلیت اس کے اور خلق کے درمیان فرق ہے۔“

«انّ اللّه تبارك و تعالى، خلو من خلقه وخلقه خلو منه»[24]

ترجمہ : ”اللہ تبارک و تعالٰی حقیقتِ خلق سے خالی ہے اور خلق، حقیقتِ خدا سے خالی ہے۔“

«قَالَ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَتَبْتُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا ع سَأَلْتُهُ عَنْ آدَمَ هَلْ كَانَ فِيهِ مِنْ جَوْهَرِيَّةِ الرَّبِّ شَيْ‏ءٌ فَكَتَبَ إِلَيَّ جَوَابَ كِتَابِي لَيْسَ صَاحِبُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ عَلَى شَيْ‏ءٍ مِنَ السُّنَّةِ زِنْدِيقٌ.»[25]

ترجمہ: ”یونس بن عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے امام علی رضا ؑ سے پوچھا کہ کیا حضرتِ آدم ؑ میں جوہرِ رب سے کچھ ہے؟ امام نے کہا نہیں، ایسا کہنے والے کا عقیدہ سنت کے مطابق نہیں اور وہ زندیق ہے۔“

اسی لیے ملا صدرا کی سب سے زیادہ مخالفت شیعہ علما نے ہی کی اور اب بھی اکثر شیعہ علما و مراجع اس نظریے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر آیت اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم اس نظریے پر یہ تبصرہ کرتے ہیں:

”ان خاص قسم کا عقیدۂ توحید رکھنے والوں پر حسنِ ظن کرنے اور اسے شریعت کے احکام سے ہم آہنگ ماننے کا لازمہ یہ ہے کہ ان کی باتوں کو ظاہری معنوں کے خلاف سمجھا جائے۔ ورنہ خالق و مخلوق اور آمر و مامور اور راحم و مرحوم کے وجود پر یقین رکھ کر ان باتوں کو کیسے درست کہا جا سکتا ہے؟“ [26]

آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد کاظم یزدی (متوفیٰ 1919ء) نے اپنی کتاب العروۃ الوثقی میں وحدت الوجود کے قائلین کی نجاست کا مشروط فتویٰ دیا ہے۔ اس پر حاشیہ لگاتے ہوئے آیت اللہ خمینی لکھتے ہیں:

إن كانت مستلزمۃ لإنکار أحد الثلاثۃ [27]

ترجمہ: ”اگر یہ عقیدہ تین چیزوں (الوہیت، توحید یا رسالت) میں سے کسی ایک کے انکار کا موجب ہو تو صوفی نجس سمجھا جائے گا۔“

فلوطین کے اثرات

[ترمیم]

مسلمانوں کا فلوطین کی سوچ سے متعارف ہونے کا آغاز ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے زمانے میں یونانی فلسفے کے عربی ترجمے کے دوران ہوا۔ اس تعارف کی تاریخ میں قابلِ توجہ واقعہ وہ غلط فہمی ہے جو فلوطین کی کتاب اثولوجیا کے بارے میں پیدا ہوئی۔ یہ کتاب معرفۃ الربوبیہ، الٰہیات اور فلسفۂ اولیٰ کے عنوانات سے ترجمہ ہوئی اور اسے ارسطو کی کتاب پر پورفائری (متوفیٰ 305ء) کی شرح سمجھا گیا۔ یہ پہلی بار مسیحی مترجم عبدالمسیح ابنِ ناعمہ نے یعقوب الکندی کے لیے سریانی سے عربی زبان میں ترجمہ کر کے ارسطو سے منسوب کی۔ جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اثولوجیا فلوطین کی کتاب تاسوعات کا تیسرا حصہ ہے۔ ابنِ سینا نے ارسطو اور فلوطین کی آراء کو ملانے کی کوشش کی، کیونکہ وہ اثولوجیا کو ارسطو کی کتاب سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس کی الہیات اور نظریۂ فیض پر اس کوشش کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ شیخ اشراق نے بھی اس سے الہام لیا ہے۔[28]

ایرانی پروفیسر جناب محمد مہدی گرجیان نے ملا صدرا پر فلوطین کے اثرات پر تحقیق کرتے ہوئے دریافت کیا کہ مُلا صدرا اثولوجیا کے مصنف کو عارفِ الٰہی، بلند معنوی مقامات پر پہنچا ہوا اور کشف و شہود اور علمِ حضوری سے بہرہ مند سمجھتا ہے۔ ملا صدرا اپنے کئی خیالات کو اثولوجیا سے ماخوذ قرار دیتا ہے۔ مثلاً: تجلی اور فیض و ظہور کا نظریہ کہ جس کے مطابق ممکنات حق کی تجلی کے آئینے ہیں اور حق ظہورِ واحد رکھتا ہے جو واجب الوجود کا تعینات کے قالب میں نزول ہونا ہے، حرکتِ جوہری، عالمِ عقل کی صفات اور عالمِ اعلیٰ کا زندہ اور تام ہونا، اتحادِ عقل و عاقل و معقول، رابطۂ صَنم و مُثل، ہر شے کی صفات کا عقل میں پایا جانا، قاعدۂ بسیط الحقیقۃ کل الاشیاء، دنیا کا ہیولا اور صورت سے ترکیب پانا، قاعدۂ امکانِ اشرف، قاعدۂ امکانِ اخس، قاعدۂ الواحد لا یصدر منہ الا الواحد، واحد سے چیزوں کا صادر ہونا، وغیرہ وغیرہ۔ [29]

مذہبی علما سے اختلاف

[ترمیم]

ملا صدرا یونانی فلسفیوں کے خیالات پر پختہ ایمان رکھنے کی وجہ سے ان نظریات سے اختلاف رکھنے والے مذہبی علما سے شدید چڑ رکھتے تھے۔ آپ لکھتے ہیں:

”یہ لوگ فی الحقیقت صرف بدعت و گمراہی کے علمبردار ہیں، جہال اور کمینوں کے پیشوا ہیں۔ ان کی ساری شرارتیں محض اربابِ دین و تقویٰ کے ساتھ مخصوص ہیں اور علما کو ہی نقصان اور ضرر پہنچاتے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ عداوت حکماء کے اس گروہ سے ہے جو ایمان والے ہیں اور فلاسفہ کی جماعت میں جو ربانی ہیں۔ یہ جھگڑے والوں کا وہ طائفہ ہے جو معقولات کے اندر گھسنا چاہتے ہیں حالانکہ ابھی تک انھوں نے محسوسات ہی کا علم حاصل نہیں کیا۔ یہ براہین و قیاسات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ابھی ریاضیات کو بھی انھوں نے درست نہیں کیا ہے۔ یہ الہٰیات پر گفتگو کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں حالانکہ ابھی یہ طبیعیات کے مسائل سے بھی ناواقف ہیں۔“ [30]

زمانے کا ستم یہ ہے کہ اب خود ملا صدرا کی طبیعیات باطل ثابت ہو چکی ہے۔ بہرحال ملا صدرا اور مذہبی علما کے درمیان اختلاف اس کا سبب ہوا کہ وہ ان کے خلاف رسالۂ سہ اصل کے عنوان سے ایک مستقل کتاب بھی لکھیں۔

جدید دور کے شیعہ علما کا نکتۂ نظر

[ترمیم]

بیسویں صدی میں ایران کے حکمران رضا شاہ پہلوی نے ڈاکٹر حسین نصر کو ایرانی فلسفہ عام کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ ان کو وسیع مالی وسائل تک رسائی تھی جس کی وجہ سے ڈاکٹر ہنری کوربن جیسے مغربی مصنفین کو بھی ایران کے دورے کرنے کی دعوت دی گئی۔ ایرانی یونیورسٹیوں میں فلسفے کے شعبے قائم کیے گئے۔ 1974ء میں انجمن فلسفۂ شہنشاہی قائم کی گئی۔ یہ سب عوامل اس بات کا سبب ہوئے کہ ملا صدرا کا فلسفہ روایتی شیعہ علما کی مخالفت کے باوجود شیعہ دینی حلقوں میں عام ہونے لگا۔ ایران میں 1979ء کا انقلاب آیا تو آیت اللہ خمینی کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس انقلاب کے بعد ایرانی مدارس میں یہ فلسفہ نصاب کا لازمی حصہ قرار پایا ہے۔ تاہم اب بھی متعدد شیعہ علما اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ معاصر شیعہ مراجع نے متعدد کتابیں تصوف کے رد میں لکھی ہیں جن میں سے چند کے نام یہ ہیں:

  1. نگرشی بر فلسفہ و عرفان : آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ لطف الله صافی گلپائگانی کی کتاب ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس میں وحدت الوجود کا تصور زیر بحث لایا گیا ہے اور اس کے مختلف دلائل کو رد کیا گیا ہے۔[31]
  2. اقامۃ البرہان علی بطلان التصوف والعرفان: آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو کی کتاب ہے۔ یہ اردو زبان میں عوام کے لیے لکھی گئی نسبتاً مختصر کتاب ہے۔[32]
  3. العرفان الاسلامی : آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد تقی مدرسی کی کتاب ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ایک جامع اور مفصل کتاب ہے۔ اس میں اسلامی عقائد کے ایک علم کی شکل میں مدون ہونے کا تاریخچہ بیان کرنے کے بعد مسلمانوں میں فلسفہ اور تصوف کے داخل ہونے اور مختلف مسلمان فلسفیوں اور صوفیوں کے خیالات پر بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں ملا صدرا کے فلسفیانہ تصوف کا رد پیش کیا گیا ہے۔ آخری حصے میں خالقیت کے تصور پر یونانی نظریۂ فیض کے قیاس کو باطل ثابت کیا گیا ہے۔[33]
  4. عارف و صوفی چہ می گویند: آیۃ اللہ میرزا جواد آقا تہرانی کی کتاب ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں صوفیت کی پیدائش اور ان کے مختلف اوہام کے ذکر کے بعد دوسرے حصے میں اصالت وجود اور وحدت وجود جیسے فلسفیانہ تصورات کا رد کیا گیا ہے۔[34]
  5. تحفہ صوفیہ: پاکستانی شیعہ عالم شیخ نعمت علی سدھو کی کتاب ہے۔ یہ کتاب اردو زبان میں لکھی گئی ہے اور اس پر پاکستان کے جید شیعہ علما نے تقاریظ لکھی ہیں۔[35]

معاصر شیعہ مراجع کی آرا

[ترمیم]

آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی

[ترمیم]

ایک سوال کے جواب میں آپ نے ابن عربی کے بارے میں کہا:[36]

سوال: بعض ویب سائٹس پر آپ سے یہ منسوب ہے کہ آپ صاحبِ فصوص الحکم کے عرفان کی تائید کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اپنی نظر سے آگاہ فرمائیں؟
جواب: اعتقادی معارف کے بارے میں میرا عقیدہ بزرگ علمائے امامیہ والا ہے کہ عقائد کو آیاتِ قرآن اور فرامینِ معصومین علیہم السلام سے حاصل کیا جائے۔ اور ابنِ عربی جیسے عرفان کی ہم تائید نہیں کرتے۔[37]

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ ناصر مکارم شیرازی

[ترمیم]

وحدت وجود کبھی مفہوم وجود کی وحدت کے معنی میں ہے کہ جو اشکال نہیں رکھتا اور کبھی وحدت حقیقت کے معنی میں ہے، جیسے سورج کی روشنی اور چراغ کی روشنی کہ دونوں کی حقیقت ایک ہے لیکن مصادیق متعدد ہیں، اس میں بھی اشکال نہیں ہے۔ کبھی وحدت وجود، مصداق وجودکی وحدت کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں کہ عالم ہستی میں خدا کے وجود کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور جو کچھ ہے وہ اس کی عین ذات ہے۔ یہ نظریہ کفر کا مستلزم ہے اور کسی ایک فقیہ نے بھی اس کو قبول نہیں کیا۔[38]

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض

[ترمیم]

رہی فلسفے کی بات، تو جو عرفانی فلسفہ ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ ان کے ہاں رائج عرفان کشفِ حقائق کا نام ہے۔ وہ اسے واقعیت سے پردہ اٹھانے اور علمِ غیب کے معنوں میں لیتے ہیں اور ان چیزوں کا دعویٰ کرنے والے لوگ درحقیقت قرآن کی تکذیب کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں نص بیان کی ہے کہ علمِ غیب کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا سوائے ان رسولوں کے جن سے اللہ راضی ہو ( سورہ جن، آیت 26 ، 27 )۔ پس جو عارف علمِ غیب کا دعویٰ کرے وہ کاذب ہے۔ اس نے کتابِ خدا کی تکذیب کی ہے۔ البتہ عمومی فلسفہ جو نظری مباحث سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی دو شاخیں ہیں: طبیعیات اور الہٰیات! جہاں تک اس فلسفے کی طبیعیات (فزکس) کا تعلق ہے تو وہ ساقط ہو چکی ہے اور اس کی ہوا اکھڑ چکی ہے۔ اب سائنس کا علم بالکل بدل کر اپنی بلندی کو چھو رہا ہے۔ دوسری طرف ملا صدرا کے فلسفے کی فزکس صرف اوہام اور تخیلات کا مجموعہ ہے اور اس کی کوئی علمی وقعت نہیں۔ جہاں تک الہٰیات کا تعلق ہے تو اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک خاص الٰہیات اور ایک عمومی مباحث، عمومی مباحث میں وجود، جوہر و عرض کی بحث ہے۔ واضح ہے کہ اصولِ فقہ کے درس میں یہ مباحث زیادہ گہرائی میں بیان ہوتی ہیں۔ اگرچہ کوئی ایک باب نہیں۔ مگرملا صدرا کے فلسفے میں جواہر و اعراض کی مباحث قدیم یونانیوں کے فرسودہ خیالات پر باقی ہیں۔ ان میں کوئی ارتقا نہیں ہوا ہے۔ رہی خالص خدا شناسی کی بات، تو اس میں صدرائی فلسفی ایسی مشکلات میں پھنسے ہوئے ہیں کہ نکلنا ممکن نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالٰی کو اشیاء کی علتِ تامہ سمجھتے ہیں۔ پس وہ ایسے الجھے ہیں کہ اس سے نکل نہیں پاتے۔ قدیم اور حادث میں علت اور معلول والا تعلق کیسے ہو؟ معلول کو علت سے سنخیت ہونی چاہیے۔ معلول کا علت سے بالکل مختلف ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ کسی چیز سے ایسی چیز پیدا نہیں ہو سکتی جو بالکل مختلف ہو۔ اگر خدا کو اشیاء کی علتِ تامہ سمجھا جائے تو اس میں اور اشیاء میں کوئی ذاتی تعلق ڈھونڈنا ہو گا۔ معلول اپنی علت کے ہونے کا ہی ایک درجہ ہوتا ہے۔ گویا معلول علت سے تولد پاتا ہے، اجنبی نہیں ہوتا۔ پس کیسے ممکن ہے کہ علت قدیم ہو مگر معلول حادث ہو۔ لہٰذا خدا کو علت قرار دینے سے وہ خیالی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ طولی اور عرضی عقولِ عشرہ کا عقیدہ یا وجودِ منبسط یا وحدتِ وجود و موجود کا فرضی عقیدہ بنا لیتے ہیں۔ یہ سب فضول اوہام کے سوا کچھ نہیں! یہ ایسے تخیلات ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ اللہ تعالٰی سے عقلِ اول صادر (پیدا) ہوا، پھر دوسری عقل پیدا ہوئی، وغیرہ، یہ محض خیالی پلاؤ ہے۔ لہٰذا ان کے ہاں الٰہیات کی مخصوص مباحث صرف خیال بافی اور اوہام پرستی پر مشتمل ہیں۔[39]

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی

[ترمیم]

مامون عباسی (متوفیٰ 833ء) کے زمانے سے یونانیوں کا فلسفہ مسلمانوں میں پھیلنا شروع ہوا تو اسلام کی نصوص، بالخصوص اصولِ دین، فلسفیوں کی تاویلات کی زد پر آ گئے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی آراء کے مطابق نصوص کے معنی بدلے۔ شریعت کی نصوص کے ظاہری معانی سے آزاد ہو کر فلسفے اور حتیٰ کہ ( یونانی ) طبیعیات، کی رو سے آزادانہ تشریحات کرنے کا رواج ہو گیا تو انھوں نے لوگوں کو نصوص کے حقیقی معنوں سے دور کر دیا۔ توحید و صفاتِ الہٰیہ اور حادث و قدیم اور خالق و مخلوق وغیرہ کے معنوں میں انھوں نے ان چیزوں کو داخل کیا جو ظواہر سے میل نہیں کھاتیں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے مذہب کو ظن و گمان اور مفروضوں پر استوار کیا اور اس کی ایسی تشریح کی جو دین کے مالک اور مفسرینِ برحق ؑ کی منشا کے خلاف تھی۔ انھوں نے اعلیٰ معارف کی تفسیر انبیا ؑ کے راستے سے ہٹ کر کی۔ ان کے اذہان آسمانی ہدایت کے نور سے روشن نہیں ہوئے تھے۔ پس وہ ذہنی طور پر بے لگام ہو گئے اور اپنی مرضی کی راہوں پر چل پڑے۔ وہ ایسی اصطلاحات لائے جو قرآن کی اصطلاحات سے موافق نہیں ہیں۔ وہ ایجاب، حلول، اتحاد اور وحدت الوجود جیسی اصطلاحوں میں پڑ گئے۔ انھوں نے حادث و قدیم کے تعلق کو مخلوق و خالق کی بجائے معلول و علت کے تعلق کی طرح قرار دیا، جبکہ ان میں واضح فرق ہے۔ کہاں خالق و مخلوق اور کہاں علت و معلول؟ دوسری اصطلاح سے وہ مفہوم نہیں نکلتا جو پہلی اصطلاح سے سمجھ میں آتا ہے، جو دوسری کا مطلب ہے وہ پہلی کا نہیں ہے۔ دونوں راستے ایک نہیں اور نہ ایک مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ علت پہلی، دوسری، ۔ ۔ہو سکتی ہے لیکن خالق پہلا، دوسرا اور تیسرا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح معلول بھی پہلا، دوسرا، تیسرا ۔ ۔ ۔ ہو سکتا ہے لیکن مخلوق میں ایسا اول، دوم، سوم کا سلسلہ نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض احادیث میں” اول ما خلق اللہ نوری “ آیا ہے، لیکن اس سے مراد وہ نہیں کہ جیسے پہلے معلول کو دوسرے کی علت اور دوسرے کو تیسرے کی علت سمجھا جائے ویسے ہی پہلی مخلوق دوسری کی خالق ہو۔ سب مخلوقات، چاہے کچھ پہلے خلق ہوئی ہوں اور کچھ بعد میں، انکا خالق ایک ہی ہے اور سب کو اسی ایک سے خلقت کی نسبت ہے۔ یہ ایسا تعلق نہیں جیسے معلولِ ثانی جو علتِ ثالثہ ہو وہ معلولِ اول و علتِ ثانیہ کا معلول ہو۔

فلسفیوں کی کتابیں اور ان میں جو کچھ بظاہر آسمانی وحی سے مطابقت رکھنے والا مواد پایا جاتا ہے وہ بھی وحی کے ساتھ مکمل طور پر متفق نہیں، نہ وہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ اس میں خشک و تر، حق و باطل مخلوط ہے۔ بعض مقامات پر وہ انبیا ؑ سے متفق ہیں اور بعض جگہوں پر انکا اختلاف ہے۔ خصوصاً ماضی قدیم کے ( یونانی ) لوگ، جو خدا تعالیٰ کے رسولوں کی لائی ہوئی ہدایت پر رسمی حد تک یقین رکھتے اور عمل کرتے تھے مگر ان کے اذہان اس رہنمائی سے خالی ہو چکے تھے اور انبیا ؑ کی رہنمائی کے بغیر عقل گمراہ ہو جاتی ہے۔ جو ( مسلم ) فلاسفہ ان کے بعد آئے وہ ان کے راستے پر چلے اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی کی۔ تاہم انھوں نے ان مفروضات کی کتاب وسنت سے تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی۔ گویا وہ اسلام کے معارف کو معنوی طور پر ان مفاہیم کے قریب لانا چاہتے تھے جنھیں ان کی عقل درست سمجھ رہی تھی۔ لہٰذا ان میں سے صرف چند ہی خطاؤں، لغزشوں اور پھسلنے سے محفوظ رہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ معاصرین میں سے مشہور ترین متکلمین نے معادِ جسمانی کے مسئلہ پر معروف مذہبی فلسفیوں کی رائے کو سختی سے مسترد کیا، یہاں تک کہ ان کو گمراہی کا شکار قرار دیا کہ خدا ہمیں اس سے بچائے۔ حوالے کے لیے ملا محمد اسماعیل مازندرانی کا قرآن کی اس آیت ” وکان عرشہ علی الماء (سورہ ہود، آيت 7) “ کی تفسیر میں لکھا گیا رسالہ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اپنی جگہ ایک انحراف ہے کہ ان حضرات نے ان امور پر بحث کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا کہ جن کے بارے میں بات کرنا نا صرف واجب نہیں ہے، بلکہ منع کیا گیا ہے۔ کیا وہ لوگ ہدایت یافتہ ہیں جو ارسطو، افلاطون، سقراط، رواقیوں اور مشائیوں، یعنی فارابی اور ابنِ سینا، کے عقائد کو اپنائے ہوئے ہیں یا وہ لوگ ہیں جو محمدؐ و آلِ محمد ؑکی تعلیمات کو اپنائے ہوئے ہیں اور ان کی سیرت پر چلتے ہیں؟ ہم کسی شخص کو پہلے یا دوسرے گروہ کا حصہ قرار نہیں دے رہے اور امید کرتے ہیں کہ مسلمان فلسفی دوسرے گروہ میں شمار ہوں۔ ان کی آخرت کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر ہی چھوڑنا چاہیے۔[40]

جن لوگوں نے اپنی بنیاد نصوص کی تاویل پر رکھی اور اپنی پسند اور تخیل کے مطابق ان کو پھیر دیا، ان میں سے عرفاء اور صوفیوں کے فرقے سے پہنچنے والا نقصان سب سے زیادہ اور ان کی تاویلیں سب سے بری ہیں۔ وہ اصولِ دین اور فروعات کو کھیل بنا لیتے ہیں۔ ان کو اپنی فاسد آراء سے تطبیق دیتے ہیں اور اپنے برے اعمال کی توجیہ کرتے ہیں۔ ان کے اقوال پوچ اور ان کے نظریات باطل ہیں۔ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر لیتے ہیں۔ صریح نصوص کے خلاف سیر و سلوک اور بیعت کے سلسلوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔ ان کی تاویلات مکڑی کے جالے سے زیادہ ناپائیدار ہیں۔ ان کی گمراہی کی وجہ فضول توہمات میں مگن ہونا اور قرآن و اہلبیت ؑ سے دوری ہے۔ ان گروہوں میں سب سے زیادہ تباہ کن وہ ہے جس نے فرسودہ یونانی فلسفے اور عرفان کا ملغوبہ تیار کر لیا ہے، گویا کریلا اور وہ بھی نیم چڑھا! اگر کوئی جاننا چاہے کہ صوفیوں کا اور ان کے پیروکاروں کا راستہ کیا ہے تو وہ ملا عبد الرزاق کاشانی کی تفسیر کو دیکھے کہ اس میں اس قسم کی تاویلات بہت مل جائیں گی۔ مثال کے طور پر آیت کریمہ ” وانظر الی حمارک (سورہ بقرہ، آیت 259) “ کی تفسیر میں ” حمار “ سے مراد حضرت عزیر ؑ کو لیا ہے، ” صفا و مروہ “ کو قلب اور نفس قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو جلد 1 کا صفحہ 100 اور 147 ۔ جہاں تک سورہ کہف کی آیت 82 میں دو یتیم بچوں کا ذکر ہے تو انھیں عقلِ نظری اور عقلِ عملی قرار دیا ہے۔ سورہ نساء کی پہلی آیت میں ” نفس واحدہ “ کی تفسیر نفسِ ناطقہ اور ” زوجہا “ کی تفسیر نفسِ حیوانی کر دی ہے۔ ان کی باتوں میں لغو تاویلیں بہت ملتی ہیں، جنھیں ابنِ عربی کی فصوص الحکم وغیرہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔[41][42]

بہت سی قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خالق، مخلوق سے الگ ہے۔ ان کے درمیان کوئی ذاتی اور حقیقی قدرِ مشترک نہیں ہے اور وہ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْءٌ ہے۔ اس حقیقت کو اصالتِ وجود کی بنیاد پر کھڑے کیے گئے بعض مروجہ عرفانی اور فلسفی مسالک سے تطبیق نہیں دی جا سکتی۔ لہٰذا ہمہ خدائی کا قائل نہیں ہوا جا سکتا۔ اسی طرح خالق و مخلوق کے تعلق کو دریا و موج یا روشنائی و حرف کے تعلق سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی، نہ اس قبیل کی دوسری اصطلاحات و تشبیہات استعمال کرنی چاہئیں۔ کائنات کی حقیقت اور واقعیت کا منکر نہیں ہوا جا سکتا کیونکہ اس کی کلی اور جزئی واقعیت کو قرآن مجید میں بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ آسمان، کہکشائیں، نظامِ شمسی، پہاڑ، دریا اور انسانوں اور حیوانات میں رہنے والی کروڑوں مخلوقات کے تحققِ واقعی کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ صرف وجودِ مطلق ہے اس کے ظہورات ہیں، صرف مطلق وجود اور اس کے مراتب ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، وجود کے علاوہ حقیقی طور پر کچھ نہیں ہے اور جو اختلاف ہے وہ مراتب میں ہے، درست نہیں۔ وجودِ اشیاء کو وجودِ حق کا غیر کہیں اور ہر چیز کے وجود کو دوسری چیزوں کے وجود کا غیر کہیں اور ساتھ ساتھ اشتراکِ معنویِ وجود کے بھی قائل ہوں۔ کنہ حق اور کنہ اشیاء کو ان معنوں میں واحد خیال کریں۔ پھر ان سب کی معرفت کے مدعی بھی ہوں اور سب پر تشکیکِ وجود کے تصور کا اطلاق کریں۔ یہ نظریات قرآن و سنت اور شرعی عقائد کے مخالف اور ان کے ساتھ ناسازگار ہیں۔ قرآن کریم سے شیئیتِ اشیاء اور ان کی خارجی واقعیت اور تحقق اور ذاتِ الہٰی کے ان سے جدا ہونے اور شباہت سے منزہ ہونے کا مفہوم ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح حادث و قدیم کے ربط کے مسئلے میں جس میں کلام ممنوع نہ ہو تو لازم نہیں ہے، یہ کہا جائے کہ معاذ اللہ خدا اس مخلوق کے علاوہ کچھ بنانے سے عاجز ہے اور اس پر صدور عالم واجب ہے اور ان کے فرض کردہ عالمِ عقول و مجردات میں وہ کچھ نیا نہیں بنا سکتا اور دنیا ایک مکینیکل کارخانے کی طرح چل رہی ہے، ۔ ۔ ۔ ظواہرِ مقبولہ اور مسلماتِ قرآن کے خلاف ہے۔ [43]

ان حضرات نے اپنی تھیوریوں کی بنیاد پر مخلوقات کا فرضی نقشہ بنا رکھا تھا۔ اپنے گمان میں کائنات اور آسمانوں کے مقام کو متعین کر کے حادث و قدیم کا تعلق اور واحد سے کثیر کے صدور کی داستان تدوین کر لی تھی۔ گویا یہ ہر جگہ اور کائنات کے تحولات اور ادوار میں خدا کے ساتھ تھے۔ اس بنیاد پر مجردات اور عقول کی دنیاؤں کا افسانہ گھڑ کر خیالی سلسلے بنا بیٹھے تھے کہ جدید سائنس اور آرٹس کے آنے سے ان کا باطل ہونا پہلے سے زیادہ واضح ہو گیا۔ صحیح راستہ یہ ہے کہ انسان عقائد کے معاملات میں احاديثِ پیغمبر صادق صلی اللہ علیہ و آلِہ وسلم پر اکتفا کرے۔[44]

اگر ہماری نوجوان نسل چاہتی ہے کہ نت نئے روشن فکر نماؤں کی گمراہیوں سے محفوظ رہے اور اسلام کے سیدھے دین کو اصلی منابع سے اسی شکل میں سیکھے جیسے وہ پیغمبرؐ پر نازل ہوا ہے، تو یا خود انہی منابع تک رسائی حاصل کرے اور کسی تاویل و توجیہ کے بغیر قرآن و حدیث کی منطق کو حجت جانے یا اسلام شناس لوگوں سے رجوع کرے جنھوں نے ان منابع میں غور و فکر کر کے مکتب اہلبیت ؑ کو سیکھا ہے۔ ان کو سب جانتے ہیں: ابوذر و مقداد وغیرہ، ابن بابویہ، شیخ طوسی اور ان کے شاگردوں جیسے لوگوں سے لے کر آج کے علما و فقہا اور مراجع کرام تک ایک تسلسل ہے۔ ۔ ۔ مروجہ فلسفہ و عرفان پڑھنے والوں کا یہ مقصد کبھی نہیں رہا۔ علاء الدولہ سمنانی، بایزید بسطامی، ابوسعید ابوالخیر اور ایران اور برصغیر کے صوفیوں پر ہوتا تو آج لوگوں کے پاس اسلام نہ ہوتا اور جو کچھ ہوتا وہ دین و دنیا کے کسی کام نہ آتا۔ شہاب الدین سہروردی، ابنِ فارض اور ابنِ عربی وغیرہ کا دین شناسی میں کوئی حصہ نہیں ہے۔[45]

آیۃ اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی

[ترمیم]

سوال: دینی طلاب میں علمی اختلاف کے سبب مرجع عالیقدر سے ان مسائل پر رہنمائی درکار ہے: 1۔ محی الدین ابنِ عربی کے عرفان کا پابند ہونا؛ 2۔ فلسفی موشگافیوں، بالخصوص ملا صدرا کے وحدت الوجود اور معاد کے متعلق خیالات

جواب: فقہائے امامیہ کی روش پر کاربند رہنا چاہیے، جو پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومین ؑ سے مروی صحیح احادیث، آداب و سنن ماثورہ پر عمل کرنا ہے۔ تزکیہ، سعادت اور کمال کے حصول کا یہی واحد طریقہ ہے۔[46]

بیرونی روابط

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb120818356 — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2021
  2. ^ ا ب تاریخ اشاعت: 1 اکتوبر 2012 — Libris-URI: https://libris.kb.se/katalogisering/c9prnt6w0xwhrmx — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018
  3. MacTutor biography ID: https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Al-Amili/
  4. https://www.jadidonline.com/story/26022009/frnk/sheikh_bahai_eng
  5. مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb120818356 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
  6. اسفار اربعہ (عربی)، جلد 3، صفحہ 111، بیروت۔
  7. فلسفۂ ملاصدرا، صفحات 476، 477، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018۔
  8. ملا صدرا، ”المبدا والمعاد“، صفحہ 278، تصحیح: سید جلال الدین آشتیانی، طبع سوم، 2001ء۔
  9. (الف) فلسفۂ ملا صدرا، ترجمہ اسفار اربعہ، صفحہ 44، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔(ب) ملا صدرا ،”اسفار اربعہ (عربی)“،جلد 1 ، صفحہ 70، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
  10. الف: مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“،  ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحات 362، 363، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔ ب: ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 2، صفحہ 94، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
  11. الف: مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحہ 299، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔ ب: ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 1، صفحہ 437، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
  12. ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 7 ، صفحہ 136،دار احياء التراث العربی، بيروت، 1981ء۔
  13. ملا صدرا ، ”اسفار اربعہ“، جلد 7، صفحہ 172، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1981ء۔
  14. فلسفۂ ملا صدرا، صفحہ 329، حق پبلیکیشنز، 2018ء۔
  15. فلسفۂ ملا صدرا، صفحہ 466، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔
  16. ملا صدرا، ”اسفارِ اربعہ“، جلد 7، صفحہ 171 تا 179، دار احياء التراث العربی، بيروت۔
  17. (الف) فلسفۂ ملا صدرا، ترجمہ اسفار اربعہ، صفحہ 44، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔(ب) ملا صدرا ،”اسفار اربعہ (عربی)“،جلد 1 ، صفحہ 71، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
  18. ملا صدرا، اسفار اربعہ، جلد 2، صفحہ 292، بیروت۔
  19. ملا صدرا، اسفار اربعہ، جلد 2، صفحہ 293، بیروت۔
  20. ملا صدرا، اسفار اربعہ، جلد 2، صفحہ 294، بیروت۔
  21. ملا صدرا، اسفار اربعہ، جلد 2، صفحہ 368، بیروت۔
  22. دعائے صباح، مفاتیح الجنان
  23. شیخ صدوق ؒ، کتاب التوحيد، صفحہ 36
  24. شیخ صدوق ؒ، کتاب التوحيد، صفحہ 105
  25. شیخ طوسی ؒ، اختيار معرفۃ الرجال الکشی، النص، ص: 495
  26. آیۃ اللہ العظمیٰ سید محسن الحکیم، مستمسک العروۃ الوثقیٰ، الطبعۃ الثالثۃ، جلد 1، ص 391، دار إحیاء التراث العربی، بیروت۔
  27. آیۃ اللہ العظمیٰ خمینی، تعلیق بر عروةالوثقی، ص 37، باب نجاسات، موسسة تنظيم و نشر آثار الإمام الخمينى، تهران، 1422 ہجری قمری۔
  28. سید علی عباس جلالپوری، 'روایاتِ فلسفہ'، باب: نوفلاطونیت، خرد افروز، جہلم۔
  29. محمد مہدی گرجیان، نرجس رودگر، ”انعکاسِ فلسفۂ فلوطین در حکمتِ صدر المتالہین“، حکمت اسراء بهار 1391 شماره 11۔
  30. (الف) مولانا مناظر احسن گیلانی، ”فلسفہٴ ملا صدرا“ (ترجمہ اسفارِ اربعہ)، صفحہ 246، حق پبلیکیشنز لاہور، 2018ء۔ (ب) ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“، جلد 1، صفحہ 363، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
  31. آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ لطف الله صافی گلپایگانی،نگرشی بر فلسفہ و عرفان، انتشارات دلیل ما، تہران۔
  32. آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکو،اقامۃ البرہان علی بطلان التصوف والعرفان، مکتبۃ السبطین ، سرگودھا ۔
  33. آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد تقی مدرسی،العرفان الاسلامی،دانشوران معاصر ،قم۔
  34. آیۃ اللہ میرزا جواد آقا تہرانی،عارف و صوفی چہ می گویند،نشر آفاق ، تہران۔
  35. مولانا نعمت علی سدھو،تحفہ صوفیہ، مکتبۃ الثقلین ، فیصل آباد ۔
  36. ebnadmin (5 جون 2023)۔ "ہم ابنِ عربی کے عرفان کی تائید نہیں کرتے - آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی"۔ ابنِ عربی، عرفان اور تصوف پر تحقیقات۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-01-13
  37. آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی>>پرسش و پاسخ >> عرفان
  38. آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ ناصر مکارم شیرازی، وحدت وجود کے متعلق، شیعہ علما اور بزرگوں کا عقیدہ
  39. آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض، درباره عرفان ، ابن عربی آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ daralsadegh.ir (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
  40. ebnadmin (31 مئی 2023)۔ "فتنۂ فلسفہ و فلاسفہ - آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی"۔ ابنِ عربی، عرفان اور تصوف پر تحقیقات۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-01-13
  41. آیۃ اللہ صافی گلپائگانی ، ” لمحاتٌ فی الکتاب والحدیث والمذہب “ ، جلد 3 ، صفحات 388 تا 392 ۔
  42. ebnadmin (2 جون 2023)۔ "فتنۂ عرفاء و متصوفہ - آیۃ اللہ العظمیٰ حاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی"۔ ابنِ عربی، عرفان اور تصوف پر تحقیقات۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-01-13
  43. آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی، شرح حدیث عرضِ دین حضرت عبدالعظیم حسنی، ص 26 ، 27۔
  44. آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی، شرح حدیث عرضِ دین حضرت عبدالعظیم حسنی، ص 107 ۔
  45. آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی، شرح حدیث عرضِ دین حضرت عبد العظیم حسنی، ص 41 ، 42۔
  46. پاسخ آیت الله شبیری زنجانی بہ پرسشی درباره فلسفہ ملاصدرا و عرفان ابن عربی