یعقوب ابن اسحاق الکندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یعقوب ابن اسحاق الکندی
کندی کا پورٹریٹ
کندی کا پورٹریٹ

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 801[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 866 (64–65 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
قابل ذکر طلبا جعفر بن محمد ابوالمعشر البلخی،ابوزید بلخی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،ریاضی دان،ماہر فلکیات،طبیب،موسیقی کا نظریہ ساز،منجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ریاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت بیت الحکمت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

ابو یوسف یعقوب ابن اسحا‍ق الکندی (185ھ/801ء تا 259ھ/873ء) کہ جس کی لاطینی شکل Alkindus مغرب میں رائج ہے۔ الکندی کا شمار اسلامی دنیا کے اوّلین حکماٴ اور فلسفیوں میں ہوتا ہے۔ فلسفہ کے علاوہ انہوں نے حساب، طب، فلکیات اور موسیقی میں بھی مہارت حاصل کی۔ الکندی کے نمایاں کارناموں میں سے ایک کارنامہ، اسلامی دنیا کوحکیم ارسطو کے خیالات سے روشناس کرنا تھا۔۔[5] قرون وسطی کے زمانے میں انکو چند بڑی اور نمایاں شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا جس کا اظہار Cardano نے بھی کیا ہے۔

یعقوب کندی ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے اس لیے ان کی تحقیق کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ ریاضی'طبیعیات ' فلسفہ' ہیت'موسیقی'طب اور جقرافیہ جیسے علوم پر انہوں نے اعلیٰ پائے کی کتب تحریر کییں۔ وہ یونانی و سریانی زبانوں پر بھی مہارت رکھتا تھا۔

تصانیف[ترمیم]

النادم کے مطابق الکندی نے مختلف مضوعات پر 260 کتابیں لکھیں. ان میں ہندسہ پر 32 ، طب اور فلسفہ پر 22 ، منطق پر 9 اور طبیعیات پر 12 کتابیں لکھیں.

فلسفہ پر تصانیف[ترمیم]

  • الفلسفہ الأولى فيما دون الطبيعيات والتوحيد۔
  • كتاب الحث على تعلم الفلسفہ۔
  • رسالہ فی أن لا تنال الفلسفہ إلا بعلم الرياضيات۔

منطق پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی المدخل المنطقي باستيفاء القول فيہ۔
  • رسالہ فی الاحتراس من حدع السفسطائيين۔

علم النفس پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی علة النوم والرؤيا وما ترمز بہ النفس۔

موسیقی پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی المدخل إلى صناعة الموسيقى۔
  • رسالہ فی الإيقاع۔

فلکیات پر تصانیف[ترمیم]

  • کتاب فی المناظر الفلکیہ،
  • الرسالہ فی کیفیات نجوالمیہ،
  • کتاب فی امتناع المساحۃ الفلک الاقصی،
  • الرسالہ فی رجوع الکواکب،
  • الرسالہ فی الحرکات الکواکب،
  • الرسالہ فی علم الشعاع،
  • الرسالہ فی النجوم،
  • الرسالہ فی الہالات للشمس والقمر الاضوا النیرہ (یہ رسالہ سورج اور چاند کے گرد ہالوں کے بیان پر ہے)،
  • الرسالہ فی مطرح الشعاع، الرسالہ فی رویۃ الہلال،
  • رسالہ فی علل الاوضاع النجومیہ،
  • رسالہ فی علل احداث الجو،
  • رسالہ فی ظاہریات الفلک،
  • رسالہ فی صنعۃ الاسطرلاب

ریاضی پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی المدخل إلى الأرثماطيقى: خمس مقالات۔ *رسالہ فی استعمال الحساب الهندسي: أربع مقالات۔
  • رسالہ فی تأليف الأعداد۔
  • رسالہ فی الكميۃ المضافہ۔
  • رسالہ فی النسب الزمنيہ۔

ہندسہ پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی الكريات۔
  • رسالہ فی أغراض إقليدس۔
  • رسالہ فی تقريب وتر الدائرہ۔
  • رسالہ فی كيفيۃ عمل دائرة مساويہ لسطح إسطوانہ مفروضہ۔

طب پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی الطب البقراطي۔
  • رسالہ فی وجع المعدۃ والنقرس۔
  • رسالہ فی أشفيۃ السموم۔

طبیعیات پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی اختلاف مناظر المرآة۔
  • رسالہ فی سعار المرآة۔
  • رسالہ فی المد والجزر۔

کیمیا پر تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی كيمياء العطر۔
  • رسالہ فی العطر وأنواعہ۔
  • رسالہ فی التنبيہ على خدع الكيميائيين۔

مختلف تصانیف[ترمیم]

  • رسالہ فی أنواع الجواهر الثمينہ وغيرها۔
  • رسالہ فی أنواع السيوف والحديد۔
  • رسالہ فی أنواع الحجارہ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. KATALOG DER DEUTSCHEN NATIONALBIBLIOTHEK: Kindī, Yaʿqūb Ibn-Isḥāq al- — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. Bibliothèque nationale de France: Yaʿqūb ibn Isḥāq Abū Yūsuf al- Kindī (0801?-0867?) — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. اجازت نامہ: CC0
  4. Bibliothèque nationale de France: Yaʿqūb ibn Isḥāq Abū Yūsuf al- Kindī (0801?-0867?) — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. Klein-Frank, F. Al-Kindi۔ In Leaman, O & Nasr, H (2001)۔ History of Islamic Philosophy۔ London: Routledge. p 165