نفسیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نفسیات (psychology) بنیادی طور پر رویۓ (behavior) اور عقلی زندگی کے سائنسی مطالعے (scientific study) کو کہا جاتا ہے۔ چونکہ بات یہاں صرف عقل اور اس کے حیاتیاتی افعال انجام دینے کی نہیں بلکہ عقلی زندگی کی ہے یعنی جسمانی اور عقلی کا مجموعہ؛ اس لیے نفسیات کو یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ نفسیات دراصل نفس (soul) کے مطالعے کا نام ہے اور اسی لیے اس کو نفسیات کہا جاتا ہے یعنی نفس کا مطالعہ۔ انگریزی میں اس کو psychology کہنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ psych تو نفس کو کہتے ہیں اور logy مطالعہ کو اور یہ انکا مرکب لفظ ہے۔

نفسیات ایک وسیع علم ہے جو صرف انفرادی علاج معالجے تک محدود نہیں بلکہ اس میں جانداروں کی عقل (mind) پر تحقیق اور اس کے انسانیحیوانی) رویۓ (behavior) پر اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

وسعت[ترمیم]

اگر اوپر کی بنیادی تعریف کو بغور دیکھا جائے تو یہ بات واضع ہوجاتی ہے کہ عقل (mind) (عقلی زندگی) سے متعلق ہونے کی وجہ سے اس کا دائرہ بے انتہا وسیع اور ہمہ گیر ہے اور اس میں عقلی عملیت (mental processes) کے تمام پہلو مثلا ؛ قیاس (perception)، ادراک (cognition)، جذبات (emotion)، شخصیت personality))، بین الاشخاصی روابط (interpersonal relationships) اور ظاہر ہے کہ رویہ بھی داخل مطالعہ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ نفسیات کو طبی اور معاشرہ سے متعلق دیگر شعبہ جات میں ایک کلیاتی علم (academia) کی حیثیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفاذی علم کا درجہ بھی حاصل ہے۔

نفسیات، نفس اور روح[ترمیم]

اردو ویکیپیڈیا پر soul سے مراد نفس کی لی گئی ہے اور یہ لفظ جیسا کہ روح (spirit) کے مضمون میں بھی ذکر آیا کہ بعض اوقات قرآن میں روح کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور علما کا ایک گروہ ان کو ایک ہی چیز کے دو متبادل نام تصور کرتا ہے جبکہ دوسرا گروہ انکو دو الگ چیزیں شمار کرتا ہے [1] ۔ انکی مزید تفصیل کے لیے نفس اور روح کے صفحات مخصوص ہیں۔ یہاں صرف اتنا ذکر ہے کہ spirit سے مراد اس شے کی ہے جو اللہ کی جانب سے جاندار کی تخلیق کے وقت اس کے جسم میں پھونکی جاتی ہے (عام طور پر اس پھونکی جانے والی چیز کو روح کہا جاتا ہے، واضع رہے کہ انگریزی کتب میں اس کے لیے soul کا لفظ بکثرت آتا ہے جبکہ spirit بھی کم مستعمل نہیں) اور اسی سے اس جاندار کی مکمل زندگی (جسمانی اور عقلی) کی ابتدا ہوتی ہے۔ دوسرا گروہ (کثیرالتعداد) یہ کہتا ہے کہ روح اور نفس ایک ہی شے ہے وہ بھی یہ مانتا ہے کہ ان کے استعمال میں سیاق و سباق کا فرق موجود ہے، اس گروہ کی اکثریت کے نزدیک نفس بطور خاص اس وقت لاگو ہوتا ہے کہ جب وہ جسم کے ساتھ ہو (یعنی بحالت زندگی اور دنیا داری) جبکہ اگر اس کا جسم سے تعلق ختم ہو جائے تو روح کا لفظ لاگو ہوتا ہے۔ نفسیاتی اور طبی لحاظ سے روح وہ بنیادی شے ہے کہ جس سے کسی جاندار کے جسم میں زندگی برقرار رہتی ہے جبکہ نفس اس روح (یا اس کی زندگی) کا جسمانی اور دنیاداری استعمال ہے۔ اس کے علاوہ یہ اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں بھی لفظ نفس کو شخصیت یا ذات کے معنوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے [2] ۔

اسلوب علم، رویہ اور عقل[ترمیم]

مضمون کی پہلی سطر میں نفسیات کی تعریف کے مطابق؛

اب اس مختصر سی مگر جامع تعریف میں تین انتہائی اہم عناصر شامل ہیں۔

  1. نفسیات ایک سائنسی مطالعہ (scientific study) ہے جس میں ایک منظم، بامقصد اور تجرباتی طریقے سے جاندار کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور معلومات کو اخذ کیا جاتا ہے۔
  2. نفسیات میں رویۓ کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور رویئے کے دائرے میں جاندار کی زندگی کے تمام عمل اور رد عمل آجاتے ہیں (جیسا مضمون کی ابتدا میں مذکور ہیں)۔
  3. نفسیات میں عقل کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور عقل کے اس مطالعے میں عقل کی شعوری (conscious) اور لاشعوری (unconscious) دونوں حالتیں آجاتی ہیں۔ چونکہ ان میں سے کوئی بھی عقلی حالت طبیعیاتی طور پر نظر نہیں آتی اور یہاں سائنسی مطالعے سے مدد لے کر عقل کے مظاہر کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

آسان بیان[ترمیم]

نفسیات کے بارے میں عموما یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نفسیات ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس میں ان افراد کو معالجہ فراہم کیا جاتا ہے کہ جو ذہنی طور پر بیمار ہوں یا یوں کہـ لیں کے کمزور ہوں جبکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، نفسیات (جیسا کہ اب تک کے مضمون سے اندازہ ہو گیا ہوگا) ایک بہت وسیع علم ہے جو افرادی علاج معالجے تک محدود نہیں بلکہ اس میں انسانی عقل و فطرت پر تحقیق کی جاتی ہے اور اس کے بارے میں آگاہی حاصل کی جاتی ہے، اس کے ان رازوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے کہ جو اب تک نا معلوم رہے ہوں۔

علمِ نفسیات کے مقاصد[ترمیم]

اپنے اور اس دنیا کے بارے میں آگہی حاصل کرنے کے بہت سے طریقے ہے۔ ماہرین نفسیات کا دعوٰی ہے مشاہدے اور مطالعے کا بہت طریقہ سائنسی طریقوں کا استعمال ہے۔ نفسیات کو سائنس بنے کے لیے سائنسی طریقوں سے اپنا علم منظم کرنے کی ضرورت ہے چنان چہ نفسیات کو دو چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا:

  1. علم کا منظم نظام
  2. سائنسی طریقوں کا استعمال

نفسیات کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ سائنسی طریقوں سے کردار اور ذہنی اعمال کے درمیان تعلق کو معلوم کرنا اور سمجھنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ماہرین نفسیات کو سائنس کے وہ قوانین سمجھنے چاہیے جو نفسیات کے موضوعے کے مطابق ہو،سائنسی قوانین سے مراد کسی موضوع کے متعلق وہ بیان ہے جس پر سائنس دان کو شواہد کے بنا پر سچ ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ ماہرین نفیسات کہیں سالوں میں حیوانی اور انسانی کردار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ لیکن اب بھی بہت سے ایسے معلومات ہیں جن کا حصول باقی ہے۔ اب تک حاصل شدہ تمام معلومات و حقائق بہت منظم ہیں۔ ماہرین نفیسات نے یہ معلومات سائنشی طریقوں کے استعمال سے حاصل کیے ہیں اور نفسیات کو سائنس کا مقام دلایا یہ سائنسی طریقے مشاہدہ،فہم،بیان،کنٹرول اور دوبارہ اطلاق کرنے کا سلسلہ اسالیب پر مشتمل ہے۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ نفسیات کے دو باہم مربوط مقاصد ہیں۔ نامیات کے ذہنی اعمال اور کردار کے درمیان تعلق کو سمجھنا اور اس فہم کو حقیقی دنیا میں استعمال میں لانا۔ ہف مین اور ورنوئی (Huffman and Vernoy) علم نفسیات کے چار مقاصد بیان کرتے ہیں جو یہ ہیں:

  1. بیان کرنا: بہت سے نفسیات دان افراد کا مخصوص کردار سائنسی مشاہدہ کی مدد سے جانچ کر بیان کرتے ہیں یعنی کہ وہ کردار کس نوعیت کا ہے۔
  2. وضاحت کرنا:ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کردار کی وجوہات کی تشخیص کرکے اس کی وضاحت کریں۔
  3. پیشنگوئی کرنا:وہ یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ وہ اپنے تجربات،مشاہدات اور تحقیق کی روشنی میں حاصل کردہ معلومات اور نتائج کا تجزیہ کرکے افراد کے مستقبل کی پیشنگوئی کریں یعنی مستقبل میں افراد سے کس قسم کی کردار کی توقع ہوگی۔
  4. کردار بدلنا:اپنے حاصل کردہ نتائج اور معلومات کی مدد سے وہ افراد کے ناپسندیدہ کردار یا ماحول میں تبدیلی لانی کی کوشش کرتے ہیں تاکہ آئندہ زندگی میں ایسے افراد کو اپنے ماحول کے ساتھ مطابقت کرنے میں دقت پیش نہ آئے۔ چند تحقیقات میں ماہرین نفسیات سائنسی مشاہدے کی روشنی میں خاص کردار بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تجربات کے ذریعے کردار کو واضح کرنے کے بھی سعی و کوشش کرتے ہیں۔ مستقبل میں کسی کردار کے وقوف پذیری کے لیے وہ تحقیق کرتے ہیں اور وہ ان تحقیقات کی روشنی میں ناپسندیدہ کردار یا صورت حال کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. کتاب الروح؛ ابن قیم الجوزی
  2. قرآن: سورت النور 24:61