نفس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

لفظ نفس ، کا اردو میں کوئی ایک متفقہ مفہوم بیان کرنا ایک اتنا ہی نازک اور مشکل کام ہے کہ جتنا اس کا کوئی انگریزی متبادل بیان کرنا۔ یہ لفظ اردو زبان میں نا صرف یہ کہ مذہبی دستاویزات میں متعدد معنوں میں آتا ہے بلکہ عام بول چال میں بھی اس کا استعمال متعدد مختلف مواقع پر کیا جاتا ہے۔ بعض ذرائع اسے روح سے متراف قرار دیتے ہیں[1]۔ نفس سے ملتا ہوا مفہوم رکھنے والا ایک اور لفظ جو کہ لفظ نفس کی طرح قرآن میں آتا ہے، وہ روح ہے جسکی انگریزی Spirit بھی کی جاتی ہے۔ علماء کی ایک جماعت کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی لفظ ہیں جبکہ دیگر ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ بیان کرتے ہیں۔ اس دائرہ المعارف پر انکو الگ الگ رکھنے کی کوئی فلسفیانہ یا مذہبی وجہ نہیں اور نہ ہی اسکا مقصد کسی ایک مکتبہ فکر کی نمائندگی ہے بلکہ یہاں انکو ان میں درج مواد کے لحاظ سے علیحدہ رکھا گیا ہے۔ ان دو الفاظ کے اس متبادل استعمال کی مثالیں قرآن کے مختلف انگریزی تراجم سے بھی ملتی ہیں مثلا؛ سورہ النساء آیت 171 میں روح کے لئے محمد اسد نے soul کا جبکہ یوسف علی نے spirit کا لفظ اختیار کیا ہے۔ پیچیدگی کا ایک اور مقام تب آتا ہے کہ جب اس لفظ نفس کی اصل الکلمہ سے بنے ایک عام لفظ تنفس پر غور کیا جاۓ جس کے معنی سانس لینے کے عمل کے آتے ہیں اور اسی وجہ سے نفس کو سانس بھی کہا جاتا ہے اور اس سانس (پھونک) کے تصور کے برعکس دوسری جانب قرآن کی سورت الحجر کی آیت پندرہ میں آتا ہے کہ ---- پھر جب پورا بنا چکوں میں اسے اور پھونک دوں اس میں اپنی روح تو گر جانا تم اس کے لئے سجدے میں[2]۔ اور اس ابتدائیہ کے آخر میں ایک دلچسپ پہلو یہ کہ مذہبی (اور اسلامی دستاویزات) میں بھی نفس کو روح کے متضاد بھی تحریر کیا جاتا ہے اور نفیس بھی؛ یعنی نفسانی خواہشات کے مفہوم میں یہی نفس ہوتا ہے کہ جو انسانی وجود کو اللہ سے دور کرتا ہے جبکہ روح انسان کو اللہ کی جانب لے جانے کا تصور اپنے اندر رکھتی ہے۔

نفس کا مفہوم[ترمیم]

مندرجہ بالا ابتدائیہ میں بیان کردہ لفظ نفس کے مختلف معنوں میں استعمال کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر نفس کا اصل مفہوم کیا ہے۔ چونکہ لفظ عربی ہے اور اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عربی کے قواعد کی رو سے ہی اس پر غور کیا جاۓ۔ اردو میں چونکہ عام طور پر بلا اعراب ہی لکھا جاتا ہے اس وجہ سے تلفظ کی حرکات واضح نہیں ہو پاتیں، لفظ نفس کے اعراب کے لحاظ سے تین تلفظ آتے ہیں[3]؛

  1. نَفَس جس کے معنی ہوا، سانس اور نگلنے وغیرہ کے آتے ہیں۔جبکہ فرہنگ آصفیہ میں ہے ۔دم کشی،سانس،تنفس،ناک سے قلب کی ترویج کے واسطے ہوا لینا،ناک کے رستے اندرونی ہوا نکالنا۔ اس کی جمع انفاس آتی ہے۔
  2. نَفُسَ جس کے معنی قیمتی، نادر اور بیش قیمت ہونے کے ہوتے ہیں۔
  3. نَفس جس کے معنی باطن، ذات، روح اور انسان (شخصیت) کے آتے ہیں۔فرہنگ آصفیہ میں جان، روح،آتما،ذات ہستی،عین، وجود ،حقیقت شے، حقیقت،جوہر، اصلیت،لب لباب،اسکی جمع نفوس اور انفُس آتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ایک اردو لغت ہی لیجئے جہاں نفس کا مترادف روح درج ہے۔
  2. ^ قرآن روۓ خط اردو ترجمے کے ساتھ، سورت الحجر ، آیت 15۔
  3. ^ ایک عربی لغت میں نفس پر اعراب و مفاہیم۔
‘‘https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=نفس&oldid=1408695’’ مستعادہ منجانب