جنید بغدادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جنید بغدادی
(فارسی میں: جنید بغدادی خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 830[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
نہاوند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 13 اپریل 910 (79–80 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تلمیذ خاص حسین بن منصور حلاج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،  وشاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  وعربی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

سید الطائفہ جنید بغدادی صوفیائے کرام کے سربراہ اور اس میدان کے شاہسواروں میں شامل ہیں۔

ولادت[ترمیم]

جنید بغدادی کی ولادت تیسری صدی ہجری کے اوائل میں عراق کے عروس البلاد شہر بغداد میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے آپ کے سال ولادت کے بارے میں اختلاف کیا ہے بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ کی ولادت 210ھ تا 220ھ کے درمیان ہوئی۔ جیسا کہ امام ذہبی کہتے ہیں: "صوفیائے کرام کے شیخ ہیں، آپکی پیدائش 220ھ کے کچھ ہی بعد ہوئی،[4]

نام نسب[ترمیم]

جنید بن محمد بن جنید ہے، ابو القاسم آپکی کنیت ہے اور پارچہ فروشی کے باعث آپکا لقب : "خزاز " تھا، آپکے والد شیشے کا روبار کرتے تھے اس نسبت سے آپ کو قواریری بھی کہا جاتا ہے، آپکا آبائی علاقہ نہاوند ہے، لیکن آپکی پیدائش و پرورش بغداد میں ہوئی۔

خطابات و القاب[ترمیم]

آپ کے خطابات و القابات میں لسان القوم ’’طاؤس العلماء، سلطان المحققین’’عمدۃ المشائخ‘‘ ’’ماہر شریعت‘‘’’ چشمۂ انوار الٰہی‘‘ اور ’’منبع فیوض لا متناہی‘‘ سید الطائفہ اور امام الائمہ تھے۔

تعلیم تصوف[ترمیم]

مشہور و معروف صوفی ہیں سری سقطی کے بھانجے،مرید اور شاگرد تھے۔ خطیب بغدادی کہتے ہیں: "انہوں نے بغداد میں رہتے ہوئے سماعِ حدیث کیا، علمائے کرام سے ملاقاتیں کی، ابو ثور سے فقہ پڑھی، متعدد نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جن میں حارث محاسبی اور سری سقطی شامل ہیں۔ اس کے بعد عبادت گزاری میں مشغول ہو گئے اور اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا اور بہت شہرت پائی، یہاں تک کہ علم الاحوال اور وعظ کے لیے اپنے وقت کے یگانہ روزگارشیخ بن گئے۔ آپکے واقعات بہت مشہور ہیں، انہوں نے حدیث حسن بن عرفہ کے واسطے سے بیان کی "[5]

اہل علم کی رائے[ترمیم]

اہل علم نے جنید بغدادی کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے ہیں: حافظ ابو نعیم کہتے ہیں: "جنید ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے شرعی علم کو مضبوط بنایا" [6] ابن تیمیہ کہتے ہیں: "جنید بغدادی کتاب و سنت کے شیدائی تھے آپ اہل معرفت میں سے ہیں" [7] حافظ ذہبی کہتے ہیں: "آپ اپنے زمانے کے شیخ العارفین اور صوفیا کے لیے نمونہ تھے، اپنے وقت کے نامور ولی تھے، اللہ تعالی کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں۔[8]

وصال[ترمیم]

جس وقت ان کی موت کا وقت آیا تو قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، تو انہیں کسی نے کہا: آپ تھوڑا آرام کر لیتے!، تو انہوں نے کہا: "اس وقت مجھ سے بڑھ کر کسی کو قرآن کی ضرورت نہیں ہے، یہ وہ لمحہ ہے جس لمحے میں میرا صحیفہ بند کر دیا جائے گا"[9] آپ کا وصال بکمال 27رجب بروز جمعہ 297ھ 910ء میں ہوا،آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے فرزندقاسم جنیدی نے پڑھائی۔ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

سلسلہ شیوخ[ترمیم]

سید الطائفه حضرت شیخ جنید بغدادی

خلفاء[ترمیم]

  • حضرت شیخ ابوبکر شبلی
  • حضرت شیخ احمد ابو علی رودباری
  • حضرت شیخ کریم الدین ممشاد علو دینوری
  • حضرت شیخ ابو محمد عبد الله مرتعش
  • حضرت شیخ ابو محمد حریری

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11906538c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119235277 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11906538c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. "سير أعلام النبلاء" 11/ 43
  5. "تاريخ بغداد" 8/ 168
  6. "حلیۃ الأولياء" 13/ 281
  7. مجموع الفتاوى"5/ 126
  8. "تاريخ الإسلام" 22/ 72
  9. "البدایہ والنهایہ" 14/ 768