جنید بغدادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سید الطائفہ جنید بغدادی صوفیائے کرام کے سربراہ اور اس میدان کے شاہسواروں میں شامل ہیں۔

ولادت[ترمیم]

جنیدی بغدادی کی ولادت تیسری صدی ہجری کے اوائل میں عراق کے عروس البلاد شہر بغداد میں ہوئی۔ ارباب سیرو تاریخ نے آپ کے سال ولادت کے بارے میں اختلاف کیا ہے بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ کی ولادت 210ھ تا 220ھ کے درمیان ہوئی۔جیسا کہ امام ذہبی کہتے ہیں: "صوفیائے کرام کےشیخ ہیں، آپکی پیدائش 220ھ کے کچھ ہی بعد ہوئی،[1]

نام نسب[ترمیم]

جنید بن محمد بن جنید ہے، ابو القاسم آپکی کنیت ہے، اور پارچہ فروشی کے باعث آپکا لقب : "خزاز " تھا، آپکے والد شیشے کا روبار کرتے تھےاس نسبت سے آپ کو قواریری بھی کہا جاتا ہے ، آپکا آبائی علاقہ نہاوند ہے، لیکن آپکی پیدائش و پرورش بغداد میں ہوئی۔

خطابات و القاب[ترمیم]

آپ کے خطابات و القابات میں لسان القوم ’’طاؤس العلماء، سلطان المحققین’’عمدۃ المشائخ‘‘ ’’ماہر شریعت‘‘’’ چشمۂ انوار الٰہی‘‘ اور ’’منبع فیوض لا متناہی‘‘ تھےشامل تھے،

تعلیم تصوف[ترمیم]

مشہور و معروف صوفی ہیں سری سقطی کے بھانجے،مرید اور شاگرد تھے۔ خطیب بغدادی کہتے ہیں: "انہوں نے بغداد میں رہتے ہوئے سماعِ حدیث کیا، علمائے کرام سے ملاقاتیں کی، ابو ثور سے فقہ پڑھی، متعدد نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جن میں حارث محاسبی، اور سری سقطی شامل ہیں۔ اس کے بعد عبادت گزاری میں مشغول ہوگئے، اور اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا، اور بہت شہرت پائی، یہاں تک کہ علم الاحوال اور وعظ کیلئے اپنے وقت کے یگانہ روزگارشیخ بن گئے۔ آپکے واقعات بہت مشہور ہیں، انہوں نے حدیث حسن بن عرفہ کے واسطے سے بیان کی "[2]

اہل علم کی رائے[ترمیم]

اہل علم نے جنید بغدادی کے بارے میں اچھے الفاظ استعمال کیے ہیں: حافظ ابو نعیم کہتے ہیں: "جنید ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے شرعی علم کو مضبوط بنایا" [3] ابن تیمیہ کہتے ہیں: "جنید بغدادی کتاب و سنت کے شیدائی تھے آپ اہل معرفت میں سے ہیں" [4] حافظ ذہبی کہتے ہیں: "آپ اپنے زمانے کے شیخ العارفین، اور صوفیاء کیلئے نمونہ تھے، اپنے وقت کے نامور ولی تھے، اللہ تعالی کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں۔[5]

وصال[ترمیم]

جس وقت ان کی موت کا وقت آیا تو قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، تو انہیں کسی نے کہا: آپ تھوڑا آرام کر لیتے!، تو انہوں نے کہا: "اس وقت مجھ سے بڑھ کر کسی کو قرآن کی ضرورت نہیں ہے، یہ وہ لمحہ ہے جس لمحے میں میرا صحیفہ بند کر دیا جائے گا"[6]

آپ کا وصال بکمال 27رجب بروز جمعہ 297ھ 910ء میں ہوا،آپ کی نمازِ جنازہ آپ کے فرزندقاسم جنیدی نے پڑھائی۔جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

  1. "سير أعلام النبلاء" 11/ 43
  2. "تاريخ بغداد" 8/ 168
  3. "حلیۃ الأولياء" 13/ 281
  4. مجموع الفتاوى"5/ 126
  5. "تاريخ الإسلام" 22/ 72
  6. "البدایہ والنهایہ" 14/ 768