شاہ عالم دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شاہ عالم
ذاتی
وفات16 جمادی الثانی 880 Hijri/1475 AD
مدفنروضہ شاہ عالم
مذہباسلام
عروجLate 13th century and early 14th century
فرقہspecifically the سہروردیہ of Sufism
مرتبہ
مقام[[احمد آباد (بھارت)]]

شاہ عالم دہلوی جو شاہ عالم احمد آبادی سے بھی معروف ہیں ۔ مغل عہد کے دوران میں ہندوستان کے گجرات ، احمد آباد میں رہنے والےتھے

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی محمد یا شاہ منجھن ۔لقب سراج الدین اور شاہ عالم تھااور بمطابق [1]سید سراج الدین محمد نام تھا آپ قطب العالم سید برہان الدین بخاری کے منجھلے صاحبزادے تھے والدہ ماجدہ کا نام بی بی آمنہ تھا جو کریم خان بن عمادالدین خداوند خان کی صاحبزادی تھیں کریم خان گجرات کے درباری امرا میں سے تھے یہ جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے پڑپوتے تھے۔ آپ پندرہویں صدی کے آغاز میں احمد شاہ اول کی حکمرانی کے دوران میں گجرات پہنچے اور گجرات کے احمد آباد کے مضافات میں آباد ہوئے۔سہروردی روایت کے مطابق، اس خاندان نے گجرات سلطنت اور بعد میں مغل حکمرانوں کے ساتھ قریبی رابطہ قائم کیا اور شہر کی سماجی اور سیاسی زندگی میں ایک فعال کردار ادا کیا۔شاہ عالم کا تعلق سندھ کے جام صاحب کی دوسری بیٹی بی بی مرقی سے شادی کے ذریعے سندھ اور گجرات کے شاہی گھروں سے تھا۔ شیخ سید محمد بن قطب عالم سہروردی الملقب بہ

ولادت[ترمیم]

17 ذیقعدہ 817 ھ میں ہوئی

سلسلہ بیعت[ترمیم]

آپ نے اپنے والد محترم کے علاوہ شاہ منوردہلوی جو شاہ منور الٰہ آبادی کے نام سے مشہور تھے[2]اور گجرات میں مغربی سلسلہ کے نامور بزرگ گنج احمد مغربی سے بھی خرقہ خلافت و اجازت حاصل کیا تھا شاعالم گجرات کے بڑے صاحب کرامت بزرگ تھے فرقہ ملامتیہ سے بھی تعلق تھا ہر وقت استغراق و جذب کی کیفیت میں رہتے سلاطین گجرات پر آپ کا زبردست اثر تھا اورشاہی خاندان آپ کا درجہ معتقد تھا احمدآباد کی ہم عصر سلاطین پر آپ کا بڑا اثر تھا اور سلطان محمود بیگڑھ معتقد تھا۔

سیرت[ترمیم]

وہ ہفتے میں چھ دن تنہائی مراقبہ میں صرف کرتے اور صرف جمعہ کے دن ہی ملاقاتیوں کا استقبال کرتے ، تب کھلی گفتگو ہوتی۔ جمعہ کے اجتماعات کو شیخ فرید بن دولت شاہ جیلوانی نے ایک کتاب '' کنوزِ محمدی '' کے عنوان سے سات جلدوں میں مرتب کیا گیا تھا۔ آج یہ کتاب ناپید ہے۔ مشہور ہے کہ شاہ عالم کی تصوف اور سلوک میں کچھ عجیب سی حالت تھی، اکثر اوقات آپ پر مستی کا عالم چھایا رہتا تھا کبھی کبھی ریشمی لباس بھی پہن لیا کرتے تھے اور ملامتیہ فرقے کے پیرو کار نظر آتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ کی ولایت پر کھلے اور واضح دلائل موجود تھے اور شیخ احمد کھتو آپ کی تربیت و ارشاد کے ذمہ دار تھے، آپ کثیر الکرامات بزرگوں میں تھے،

اولاد[ترمیم]

پانچ صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں تھیں خلفاء و مریدین کی سینکڑوں تعداد تھی کے تصرف باطنی اور خرق عادت کے قصوں کی بڑی شہرت ہے[3]

وفات[ترمیم]

63 برس کی عمر میں 22 جمادی الاخر 880ھ بمطابق 1475ء میں وفات پائی مزارمبارک احمد آباد کے محلہ رسول آباد میں ایک وسیع و عریض احاطہ میں واقع ہے۔[4] مقبرہ تاج خام نارپلی نے تعمیر کیا تھا اور اب اسے شاہ عالم کے روضہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ کا روضہ اس علاقہ کے رہنے والے لوگوں کی زیارت گاہ ہے اور ایک ایسے پاکیزہ، بلند لطیف اور نظیف علاقہ میں واقع ہے جو بہت کشادہ اور وسیع خطہ ہے، جمعرات کو شہر کے اچھے اور بُرے سبھی لوگ آپ کے مزار پر جاتے اور رات بھر وہیں رہتے ہیں۔[5]

یہ بھی دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Marat-e-Jalali (مرآت جلالی) by Syed Khalil Ahmed Bukhari Hassaini, First Edition 1918, الٰہ آباد، Second Edition 1999, کراچی۔
  2. تاریخ اولیاء،ابو الاسفارعلی محمد بلخی،صفحہ208،نورانی کتب خانہ قصہ خوانی بازار پشاور
  3. خطہ پاک اوچ:صفحہ 303،مسعود حسن شہاب،اردو اکیڈمی بہاولپور
  4. تذکرہ اولیائے پاکستان جلد اول،عالم فقری، صفحہ 204،شبیر برادرز لاہور
  5. اخبارالاخیار اردوترجمہ ص345شیخ عبد الحق محدث دہلوی اکبر بک سیلر لاہور