سری سقطی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سری سقطی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 772  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 ستمبر 867 (94–95 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ متصوف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تصوف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

شیخ سری سقطی (پیدائش: 777ء— وفات: 8 ستمبر 867ء) سلسلہ قادریہ اور سلسلہ سہروردیہ کے اکابر مشائخ سے ہیں ۔

ولادت[ترمیم]

آپ کی پیدائش 155ھ میں بغداد شریف میں ہوئی۔ آپ کا نام سرُّالدین اور کنیت ابوالحسن ہے اور سری سقطی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کے والدِ گرامی کا نام مغلس تھا ۔

حصول تصوف[ترمیم]

سری سقطی بغداد کے نامور صوفی بزرگ تھے۔[1] وہ معروف کرخی کے شاگرد تھے اور انہی سے خرقہ تصوف حاصل کیا وہ جنید بغدادی کے ماموں اوراستاد بھی تھے۔[2] وہ 867ء میں98 برس کی عمر میں بغداد میں انتقال کر گئے۔

اقوال اکابرین[ترمیم]

جنید ؒ فرماتے ہیں میرے نزدیک سری سقطی سے بڑا کوئی عابد نہیں 92سال وہ زندہ رہے لیکن مرض الموت کے علاوہ میں نے انہیں لیٹا ہوا نہیں دیکھا۔[3] جنید ؒ کا قول ہے کہ ایک مرتبہ میں انکی عیادت کے لیے گیا تو میں نے طبیعت کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے ایک شعر پڑھا کَیْفَ أشْکُوْ إلٰی طَبِیْبِیْ مَا بِیْ وَالَّذِیْ بِیْ أصَابَنِیْ مَنْ طَبِیْبِیْ “ـکہ میں اپنی بیماری کی اپنے معالج کو کیسے شکایت کروں اور جو مرض طبیب کی جانب سے پیدا ہوا ہو اس سے کیا شکایت کروں“ جنید ؒ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہوا کے لیے میں ان پر پنکھا چلانا شروع کیا تو انہوں نے فر مایا جو شخص اندر سے جل کر ختم ہو گیا ہو اس کو یہ پنکھا کیا فائدہ دے گا پھر انہوں یہ اشعار پڑھے ۔ “ دل جل رہا ہے اور آنسو جاری ہیں اور مصائب جمع ہیں اور صبر کا پیالہ لبریز ہو چکا ہے۔ ان کاموں کے نتیجے میں جو اس نے خواہش نفس اور شوق سے کیے ہوں، کیا سکون ملے گا جس کا اپنا گھر نہ ہو۔ اے خدا اگر میرے مقدر میں کچھ سکون ہے تو موت تک مجھے وہ عطا کر دے۔“[4] جنید ؒ فر ماتے ہیں میں نے ان سے نصیحت کی درخواست کی تو فر مایا کہ غلط لوگوں کی صحبت مت اختیار کرو اور اچھے لوگوں کی صحبت میں رہنے کے وقت بھی اللہ کو مت بھولو۔ سری سقطی فرماتے ہیں کہ میں نے معروف کرخی کو یہ ارشاد فرماتے سنا: جس نے اللہ کے مقابلے میں بڑائی چاہنے کا ارادہ کیاتووہ اُسے بری طرح پچھاڑ دے گا،جس نے اس سے لڑائی کا ارادہ کیا تو وہ اسے ذلیل کر دے گا، جس نے اس کو دھوکا دیناچاہا تووہ اسے اس کی سزا دے گا اور جس نے اس پر بھروسا کیا تووہ اسے نفع دے گا اور جس نے اس کے لیے عاجزی کی تو وہ اُسے بلند رتبہ عطا فرمائے گا۔ [5] معروف کرخی کی بارگاہ میں عرض کی گئی: دل سے دنیا کی محبت نکالنے کا نسخہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سچی محبت اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤکرنا۔ اور خالص محبت کی علامات تین ہیں:

  1. ۔۔۔۔۔۔ وعدہ پورا کرنا
  2. ۔۔۔۔۔۔ بغیرسوال کے عطا کرنا اور
  3. ۔۔۔۔۔۔ کوئی سخاوت نہ کرے پھر بھی اس کی تعریف کرنا

مُحَبِّین کی علامات بھی تین ہیں

  1. ۔۔۔۔۔۔ رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی جستجومیں رہنا
  2. ۔۔۔۔۔۔ اسی کی ذات میں مشغول رہنا اور
  3. ۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ اسی کی پناہ طلب کرنا۔[6]

ابو عبید ہ بن حر یوبہ کا قول ہے کہ سری سقطیؒ کے انتقال کے بعد میں نے انہیں خواب میں دیکھا میں نے ان سے پو چھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کیا معاملہ کیا انہوں نے فر مایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری اور میرے جنازہ میں حاضرین کی بخشش فر مادی۔ میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ کے جنازہ میں شریک ہوا تھا یہ سن کر انہوں نے ایک رجسٹر نکالا لیکن اس میں میرا نام نہیں تھا میں نے کہا میں واقعتا آپ کے جنازہ میں تھا تو اس کے حاشیہ میں میرا نام نکل آیا [7]

ابن خلکان کہتے ہیں کہ سری سقطیؒ اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے۔ “جب میں نے محبت کا دعویٰ کیا تو محبوب نے کہا کہ جھوٹ ہے کیونکہ آپ کے اعضاء پر گوشت موجود ہے۔ جب تک جسم پر گوشت ہے اس وقت تک محبت کا دعویٰ غلط ہے اور اسی طرح جب تک اتنا مدہوش نہ ہو جائے کہ کسی بھی پکارنے والے کا جواب نہ دے اس وقت تک محبت کا دعویٰ کرنا صحیح نہیں“ ۔

وفات[ترمیم]

ابن خلکان کاقول ہے کہ سری سقطی کی وفات13 رمضان المبارک 251ھ بروز منگل 98 برس کی میں ہوئی۔ خطیب نے ذکر کیا کہ سری سقطی کی وفات 6؍ رمضان 253ھ، بروز پیر اذان فجر کے بعد ہوئی اور بعد عصر شونیزی قبرستان بغدادمیں تد فین ہوئی ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سورہ کہف و نون۔ مولانا مودودی
  2. تذکرۃ الاولیاء، فرید الدین عطار
  3. ۔ (سبع سنابل،سنبلہ چہارم،ص131
  4. حکایتیں اورنصیحتیں،شُعَیْب حَرِیْفِیْش،مکتبۃالمدینہ باب المدینہ کراچی
  5. سیر اعلام النبلا،الرقم1425معروف الکرخی، ج8، ص218
  6. حلیۃ الاولیاء، معروف الکرخی، الحدیث12718، ج8، ص411
  7. تاریخ ابن کثیر