ابن خلکان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شمس الدين أبو العباس أحمد بن محمد بن خلكان
مؤرخ اسلام، مؤرخ مشاہیر اسلام
شمس الدين أبو العباس أحمد بن محمد بن خلكان
معروفیت قاضی
پیدائش جمعرات 11 ربیع الثانی 608ھ/ 22 ستمبر 1211ء
اربیل، خلافت عباسیہ، موجودہ محافظہ اربیل، عراقی کردستان، عراق
وفات جمعہ 27 رجب 681ھ/ 30 اکتوبر 1282ء
(عمر: 73 سال قمری، 71 سال شمسی)
دمشق، سلطنت مملوک (مصر)، موجودہ شام
نسل کرد عراقی
شعبۂ زندگی مشرق وسطی
مذہب اسلام
فرقہ سنی اسلام
فقہ شافعی[1]
کارہائے نماياں وفيات الاعيان وانباء ابناء الزمان

ابن خلکان (پیدائش: 22 ستمبر 1211ء– وفات: 30 اکتوبر 1282ء) تیرہویں صدی عیسوی میں فقہ شافعی کے عالم تھے۔ ابن خلکان کی وجہ شہرت اُن کی تصنیف وفيات الاعيان وانباء ابناء الزمان ہے جو آج بھی مورخین کے یہاں مقبول و متداول ہے۔

ولادت[ترمیم]

ابن خلکان کی ولادت جمعرات 11 ربیع الثانی 608ھ بمطابق 22 ستمبر 1211ء کو عراق کے شہر اربل میں ہوئی۔

نام[ترمیم]

مورخ، پورانام شمس الدین ابن خلکان بن یحٰیی بن خالد برمکی۔ اربل میں پیدا ہوا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

ابتدائی تعلیم اربل میں ہی اپنے والد سے حاصل کیحلب، دمشق اور قاہرہ میں پائی۔ اس کے علاوہ ابو محمد بن ھبتہ اللہ بن مکرم صو فی سے صحیح بخاری کا سماع کیا اور المؤیدالطوسی عبدالمعز الھروری اور زینب بنت عبدالرحمٰن سے تعلیم حاصل کی۔ پھر موصل میں کمال الدین ابن یونس سے فقہ پڑھی۔ 626ھ میں الجولیقی اور ابن شداد سے حلب میں اور بعد ازاں دمشق میں تعلیم حاصل کی۔ محکمہ قضا اور درس و تدریس کے اہم مناصب پر فائز رہے۔ اپنی عظیم تالیف الوفیات الاعیان و انباء انباء الزمان کے باعث شہرت حاصل کی۔ اس کتاب مولف کے عہد تک کی نامور شخصیات کا ایک جامع تذکرہ ہے۔ 1238ء میں وہ قاہرہ پہنچا اور قاضی القضاۃ بدرالدین سنجاری کا نائب بن گیا۔ وہاں کچھ مدت سکونت اختیار کی اور وہیں شادی کی۔659ھ بمطابق 1260ء میں وہ قاضی القضاۃ بن کر شام آئے 664ھ میں آپ کے ساتھ تین آدمی قاضی مقرر کیے گئے۔ اور یہ جمادی الاولیٰ کا واقعہ ہے۔شہاب الدین ابو شامتہ نے بیان کیا ہے کہ ایک زمانے میں تین قاضی القضاۃ کا اجتماع ایک عجیب بات ہے اور ان میں سے ہر ایک کا لقب شمس الدین تھا اور اتفاق کی بات ہے کہ شافعی نے ایک نائب مقرر کیا جس کا لقب شمس الدین تھا اور ایک ظریف ادیب نے کہا ہے اہل دمشق حکام کی کثرت سے مضطرب ہو گئے ہیں جب کہ وہ سارے ہی آفتاب ہیں اور ان کی حالت تاریکی میں ہے۔ نیز اس نے کہا دمشق میں ایک نشان عام لوگوں کے لیے ظاہر ہوا ہے جوں جوں آفتاب بڑھتے جاتے ہیں ، دنیا تاریکی میں بڑھتی جاتی ہے۔

تصنیف[ترمیم]

وفیات الاعیان و ابناء الزمان (اردو ترجمہ“ تاریخ ابن خلکان ”کے نام سے نفیس اکیڈیمی اردو بازار کراچی نے شائع کیا ہے وفیات الاعیان و ابناء الزمان قاہرہ میں 54ھ بمطابق 1256ء میں لکھنا شروع کی تھی۔ لیکن دمشق کی ملازمت کے دوران میں اسے کچھ عرصہ کے لیے رک جانا پڑا اور بالآ خر 12 جمادی الآخر 672ھ بمطابق 4 جنوری 1274ء کو اس نے اسے مکمل کیا۔ اس کے ہاتھ کا لکھا ہوا نسخہ برٹش میوزیم میں موجود ہے۔

وفات[ترمیم]

ابن خلکان نے جمعہ 27 رجب 681ھ بمطابق 30 اکتوبر 1282ء کو دمشق میں وفات پائی دمشق کے مشہور قبرستان الصالحیۃ میں دفن ہوئے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Lewis، B.; Menage، V.L.; Pellat، Ch.; Schacht، J. (1986) [1st. pub. 1971]۔ Encyclopaedia of اسلام (New Edition)۔ Volume III (H-Iram)۔ Leiden, Netherlands: Brill۔ صفحہ۔832۔ 
  2. اردو دائرہ معارف اسلامیہ دانش گاہ پنجاب لاہور جلد 1 صفحہ :508

بیرونی روابط[ترمیم]