وہبہ زحیلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وہبہ زحیلی
(عربی میں: وهبة الزحيلي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
وہبہ زحیلی

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1932[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دمشق[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 8 اگست 2015 (82–83 سال)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Syria.svg سوریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک شافعی
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ قاہرہ
جامعہ الازہر
جامعہ دمشق
جامعہ عین شمس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ استاد جامعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

وہبہ الزُّحیلی (1932ء تا 2015ء) عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ تھے۔ اور ان کا شمار عالم اسلام کی پلند پایہ فقہی و علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہبہ الزحیلی جامعہ الازہر، مصر میں مدرس بھی رہے۔ ان کی کتاب الفقہ الاسلامی و ادلتہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔[4][5][6][7]

تعلیم[ترمیم]

شیخ وہبہ زُحیلی کو بچپن سے ہی کثرت مطالعہ کی عادت رہی، ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے جامعہ دمشق میں داخلہ لیا اور چھ برس کے دوران میں شریعت کا نصاب پڑھا۔ 1952ء میں فارغ ہوئے اور جماعت میں اول درجہ پایا۔ مزید تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ ازہر مصر کا رخ کیا جہان آپ نے اسلامی قانون اور زبان پر مہارت حاصل کی۔ یہاں بھی آپ نے درجہ اوّل پایا۔ جامعہ ازہر میں تعلیم کے دوران میں ہی عصری قانون کی تفہیم کے لیے جامعہ عین شمس قاہرہ میں داخلہ لیا۔ 1959ء میں جامعہ قاہرہ سے قانون میں ایم اے کیا۔ 1963ء میں آپ نے قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ آپ نے مقالہ قانون جنگ، 8 اسلامی اور عصری علما کی آراء کا تقابلی جائزہ کے موضوع پر پیش کیا۔

تدریس[ترمیم]

1975ء میں آپ مادر علمی جامعہ دمشق میں استاد کے فرائض دینے لگے، 1972 تا 74ء میں آپ لیبیا میں جامعہ بن غازی میں استاد رہے۔ آپ نے 60 ممالک میں اسلامی قانون (فقہ) پر خصوصی خطبات دیے۔1984ء سے 1989ء تک جامعہ متحدہ عرب امارات کے شعبہ شریعت اور قانون میں استاد رہے۔ جامعہ خرطوم سوڈان اور ریاض کی جامعہ میں بھی پڑھاتے رہے۔ آپ نے کئی عرب جامعات کے نصاب کی تشکیل میں کردار ادا کیا، جامعہ دمشق کے شعبہ قوانین اسلامیہ کے سربراہ بھی رہے۔

نظریات[ترمیم]

آپ فقہ شافعی کے پیرو تھے مگر مزاج فقہی تھا۔ آپ پر شافعیت کی چھاپ نا تھی، بلکہ اپنی رائے رکھتے تھے۔ اور اس کا اظہار بلا خوف کرتے۔ طبعی میلان تصوف کی جانب مائل تھا۔ 2010ء میں لیبیا میں عالمی تصوف کانفرنس میں شرکت کی۔

شیوخ[ترمیم]

علما و فقہا اور ماہرین جدید علوم، جن سے علم حاصل کیا۔[8]

دمشق کے شیوخ[ترمیم]

  • محمود ياسين، حدیث میں
  • محمود الرنكوسی، عقائد میں
  • حسن الشطی، فرائض میں
  • ہاشم الخطيب، فقہ شافعی میں
  • لطفی الفيومی، فقہ اور حدیث میں۔
  • احمد السماق، تجوید میں۔
  • حمدی جويجاتی، علم تلاوت میں۔
  • ابو الحسن القصاب، نحو و صرف میں۔
  • حسن حبنكة اور شيخ صادق حبنكة الميدانی، علم تفسیر میں۔
  • صالح الفرفور، عربی زبان اور علم بلاغت اور ادب میں۔
  • حسن الخطيب، علی سعد الدين، شيخ صبحی الخيزران اور كامل القصار، حدیث اخلاق نبوی میں۔
  • جودت الماردينی، خطابت میں۔
  • رشيد الساطی، تاریخ اور اخلاقیات میں۔
  • ناظم محمود نسيمی، وماهر حمادة، قانون سازی میں اور کیمیا، طبعیات، انگریزی اور دیگر دوسرے جدید علوم میں۔

مصر کے شیوخ[ترمیم]

  • شيخ الازہر محمود شلتوت۔
  • عبد الرحمن تاج۔
  • عيسى منّون، تقابلی فقہ میں، شعبہ شرعیہ کے عمید۔
  • جاد الرب رمضان فقہ شافعی میں۔
  • محمود عبد الدايم فقہ شافعی میں۔
  • مصطفى عبد الخالق اور شقيقہ عبد الغنی عبد الخالق اصول فقہ میں۔
  • عثمان مرازقی اور حسن وهدان اصول فقہ میں
  • ظواہری شافعی، اصول میں فقہ میں۔
  • مصطفى مجاهد فقہ شافعی میں۔
  • محمد ابو زہرہ اور شيخ علی الخفيف ومحمد البنا ومحمد الزفزاف اور محمد سلام مدكور اور فرج السنهوری، فقہ اور اصول فقہ، تقابل فقہ اور ائمہ مجتہدین میں

تلامذہ[ترمیم]

  • محمد الزحيلی شقيقہ۔
  • محمد فاروق حمادہ۔
  • محمد نعيم ياسين۔
  • عبد الستار ابو غدہ۔
  • عبد الطیف فرفور۔
  • محمد ابو ليل۔
  • عبد السلام عبادی۔
  • محمد الشربجی۔
  • ماجد ابو رخيہ۔
  • بديع السيد اللحام۔
  • حمزہ حمزہ۔

رکنیت[ترمیم]

  • رکن المجمع الملك لبحوث الحضارة الإسلامية اردن (مؤسسة آل البيت)۔
  • متخصص مجمع الفقه الإسلامی بجدة اور المجمع الفقهی في مکہ مکرمہ میں اور مجمع الفقہ الإسلامی بھارت، امریکا، سوڈان میں۔
  • رئيس هيئة الرقابة الشرعية لشركة المضاربة والمقاصة الإسلامية في البحرين، ثم رئيس هذه الهيئة للبنك الإسلامي الدولي في المؤسسة العربية المصرفية في البحرين ولندن۔
  • متخصص الموسوعة العربية الكبرى دمشق میں۔
  • رئيس لجنة الدراسات الشرعية للمؤسسات المالية الإسلامية۔
  • مجلس الإفتاء الأعلى شام کے رکن۔
  • رکن لجنة البحوث والشؤون الإسلامية وهيئة تحرير مجلة نهج الإسلام بوزارة الأوقاف السورية۔
  • رکن مراسل للموسوعة الفقهية کویت کے، والموسوعة العربية الكبرى دمشق کے۔ وموسوعة الحضارة الإسلامية بالأردن، وموسوعة فقه المعاملات اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ وغيرہ۔

کتب[ترمیم]

آپ نے کثرت سے لکھا۔ آپ کے موضوعات میں مذاہب اربعہ کا تقابلی جائزہ، فقا شافعی، اسلامی قانون، سیرت، حدیث اور تفسیر وغیرہ شامل تھے۔ آپ کی تفسیر منیر پاکستانی جامعہ پنجاب کے ایم اے اسلامیات کے نصاب میں بھی شامل ہے۔

  • اسلام اور عصری قوانین میں جنگوں کے اصول: تقابلی جائزہ
  • سمر قندی کی تحفۃ الفقہاء کی احادیث کی تخریج و تحقیق۔
  • اسلام میں جنگ اور امن، (فرانسیسی زبان میں)۔
  • اسلامی فقہ اور ثبوت (11 جلدیں، ترکی، مالائی، فارسی میں ترجمہ ہو جگا ہے)۔
  • اسلامی فقہ کا خلاصہ۔
  • اصول فقہ کا خلاصہ۔ (ترکی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے)۔
  • فقہ اسلامی کے اصول (ترکی زبان میں ترجمہ ہو جگا ہے)۔
  • اسلامی فقہ کا دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) 8 جلدیں۔
  • اسلامی فقہ عصر حاضر کے مسائل 14 جلدوں میں انسائیکلوپیڈیا، دارالفکر۔
  • جدید اسلوب میں فقہ اسلامی۔
  • فقہ اسلامی کی تجدید۔
  • آسان فقہ حنفی
  • آسان فقہ مالکی
  • آسان فقہ شافعی
  • آسان فقہ مالکی
  • عبادہ بن صامت
  • اسامہ بن زید
  • سعید بن مسیب
  • عمر بن عبدالعزیز

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر وہبہ زحیلی 8 اگست 2015ء مطابق 23 شوال 1436ھ کو دمشق میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔[9]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]