جدہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے جدہ (ضد ابہام)۔
جدہ
Jeddah

جدة
شہر
اوپر بائیں سے گھڑی وار: برج شاہراہ ملک، جدہ علم چوب، بلد، جدہ، کورنیش جدہ، شاہ فہد فوارہ، شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹی، جدہ مینارہ نور، رات کا نظارہ
عرفیت: جل پری، بحیرہ احمر کی دلہن
نعرہ: جدہ مختلف ہے (عربی: جدہ غیر)
جدہ Jeddah is located in سعودی عرب
جدہ Jeddah
جدہ
Jeddah
سعودی عرب میں جدہ کو محل وقوع
متناسقات: 21°32′36″N 39°10′22″E / 21.54333°N 39.17278°E / 21.54333; 39.17278متناسقات: 21°32′36″N 39°10′22″E / 21.54333°N 39.17278°E / 21.54333; 39.17278
ملک سعودی عرب
علاقہ المکہ علاقہ
قیام چھٹی صدی ق م
حکومت
 • شہر میئر صالح الترکی[1]
 • شہر گورنر مشعل بن ماجد
 • صوبائی گورنر خالد الفیصل
رقبہ
 • شہر 1,600 کلو میٹر2 (600 مربع میل)
 • شہری 1,686 کلو میٹر2 (651 مربع میل)
 • میٹرو 47 کلو میٹر2 (18 مربع میل)
بلندی 12 میل (39 فٹ)
آبادی (2014)[2]
 • شہر 3,976,000
 • کثافت 2,500/کلو میٹر2 (6,400/مربع میل)
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+03:00 (UTC+3)
 • گرما (گرمائی وقت) متناسق عالمی وقت+03:00 (UTC)
ڈاک رمز 5 عددی رمز 21 سے شروع (مثلاً 21577)
ٹیلی فون کوڈ +966-12
ویب سائٹ www.jeddah.gov.sa/english/index.php
یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ
باضابطہ نام تاریخی جدہ اور باب مکہ
معیار ثقافتی: ii, iv, vi
حوالہ 1361
کندہ کاری 2014 (38 اجلاس)
علاقہ 17.92 ha
بفر زون 113.58 ha

جدہ (انگریزی: Jeddah/Jiddah/Jedda؛ عربی: جدة‎؛ انگریزی تلفظ: /ˈɛdə/؛ حجازی تلفظ: [ˈd͡ʒɪd.da]) تاریخی خطہ حجاز کے تاریخی علاقہ تہامہ میں بحیرہ احمر کے ساحل پر ایک شہر ہے جو مغربی سعودی عرب کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے۔ یہ المکہ علاقہ کا سب سے بڑا شہر [3] اور بحیرہ احمر کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ تقریباً چار ملین (2017 میں) آبادی کے ساتھ یہ دار الحکومت ریاض کے بعد سعودی عرب کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ جدہ سعودی عرب کے اقتصادی دار الحکومت ہے۔ [4]

جدہ حرمین شریفین اسلام کے مقدس ترین مقامات جو مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی ہیں کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔ گو کہ مدینہ منورہ میں بھی ہوائی اڈا موجود ہے جہاں کچھ حجاج اور زائرین براہ راست بھی جاتے ہیں تاہم اس سلسلہ میں جدہ کے ہوائی اڈے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس سے قبل بہت سے زائرین بحری جہازوں سے جدہ اسلامی بندرگاہ سے بھی آتے تھے تاہم اب زیادہ تر ہوائی سفر ہی کرتے ہیں۔

اقتصادی طور پر جدہ سعودی عرب اور مشرق وسطی میں قیادت کا کردار حاصل کرنے کے لیے سائنس اور انجینئری میں مزید ترقی پزیر سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ .[5] 2009ء میں اختراع کے لحاظ سے جدہ "افریقا-مشرق وسطی" خطہ میں "اختراع شہر اشاریہ" فہرست میں آزادانہ طور پر چوتھے نمبر پر تھا۔ [6]

جدہ کا شمار سعودی عرب کے بنیادی سیر و تفریح شہروں میں ہوتا ہے عالمگیریت اور عالمی شہر تحقیق نیٹ ورک نے اسے بیٹا عالمی شہر قرار دیا ہے۔ بحیرہ احمر سے قریب ہونے کی وجہ سے ملک کے دوسرے حصوں کے برعکس ماہی گیری اور سمندری غذا یہاں کی ثقافت پر غالب ہے۔ شہر کا شعار (عربی: جدة غیر) ہے جس کے معنی "جدہ مختلف ہے" کے ہیں۔ شعار وسیع پیمانے پر دونوں مقامی اور غیر ملکی زائرین کے درمیان استعمال کیاجاتا ہے۔ شہر پہلے سعودی عرب کا "سب سے زیادہ کھلا" شہر سمجھا جاتا تھا کیونکہ دیگر شہروں کی بانسبت یہاں اسلامی اقدار پر عمل میں قدرے رعایت تھی۔

فہرست

اشتقاقیات اور ہجے[ترمیم]

جدہ شہر تقریباً 3000 سال پرانا ہے۔ روایات کے مطابق جدة بن جرم بن ربان بن حلوان بن عمران بن الحاف بن قضاعہ جو اسلام سے قبل عرب میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے خاندان والوں نے شہر کا نام ان کے نام پر رکھ دیا۔ 647ء میں خلیفہ راشد عثمان بن عفان نے جدہ کو مکہ میں آنے والے حجاج کے لیے بندرگاہ کے طور پر تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ عربی زبان میں اعراب کے مختلف استعمال سے لفظ کے معنی یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اشتقاقیات اور اعراب کے مختلف استعمال کے لحاظ سے کئی قابل ذکر نظریات موجود ہیں:

  • کہا جاتا ہے کہ شہر کا اصل نام جُدَّة ہے جس کے عربی میں معنی ساحل کے ہیں۔ [7]
  • دوسرا نظریہ یہ ہے کہ شہر کا نام جَدَّة ہے جس کے معنی "دادی" کے ہیں۔ شہر میں ایک قدیم قبرستان ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں آدم علیہ السلام کی بیوی حوا دفن ہیں۔ روایات کے مطابق آدم اور حوا کی زمین پر ملاقات عرفات کے میدان میں ہوئی اور حوا کی وفات کے بعد ان کو جدہ میں دفن کیا۔ [8]
  • جِدّة وہ تلفظ ہے جو مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ [9]

مشہور بربر سیاح ابن بطوطہ نے اندازہً 1330ء جدہ کو سفر کیا اور اسے جِدّة کے نام سے درج کیا۔ [10]

محکمہ خارجہ ودولت مشترکہ برطانیہ اور دیگر برطانوی حکومت کی دیگر شاخیں اس کا نام انگریزی میں ("Jedda") تحریر کرتی رہی ہیں۔ تاہم 2007ء اس کے ہجے تبدیل کر کے ("Jeddah") استعمال کیا جا رہا ہے۔ [11]

تھامس لارنس نے محسوس کیا کہ انگریزی میں عربی ناموں کی نقل حرفی استبدادی ہے۔ اس نے اپنی تحریروں میں نام کے لیے تین مختلف ہجے استعمال کیے۔ [12]

تاریخ[ترمیم]

جدہ 1800ء کی دہائی میں
جدہ 1938ء میں

قبل اسلام[ترمیم]

آثاریاتی تحقیقات سے بتا چلتا ہے کہ شہر سنگی دور سے آباد رہا ہے۔ شہر کے مشرق میں واقع "وادی بریمان" اور شمال مشرق میں واقع "وادی بویب" سے ثمود کی تحریریں اور نوادرات ملے ہیں۔

کچھ مؤرخین کے مطابق یمن کا قبیلہ بنی قضاعہ 115 قبل مسیح میں سد مارب کی تباہی کے بعد یہاں آ کر آباد ہوا۔ بعض لوگوں کے خیال میں بنی قضاعہ کی آمد سے قبل بھی یہاں ماہی گیری آباد تھے جو اسے سمندر میں با آسانی داخل ہونے اور پرسکون جگہ تصور کرتے تھے۔ قدیم شہر کی گہدائی سے بھی بنی قضاعہ کے دور کے ماہی گیر قصبے ہونے کی علامات ملی ہیں۔ [13] کچھ مؤرخین کے مطابق 323 اور 356 ق م میں سکندر اعظم کی جدہ میں آمد سے قبل یہ شہر آباد تھا۔ [14] جدہ انباط دور میں بھی ایک اہم بندرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ جدہ میں قبل اسلامی دور کے مشربیہ بھی ملے ہیں۔

مصری مورخ محمد لبیب البتنونی نے اپنی کتاب حجاز کا سفر (عربی: الرحلة الحجازية) میں لکھا ہے کہ "ہو سکتا ہے کہ قبل اسلام اس جگہ حوا کے حوالے سے کوئی ہیکل موجود رہا ہو جیسا کہ سواع بن شيث بن آدم کا تھا۔" [15] کچھ روایات کے مطابق عمرو بن لحی جو جنوں کا پیروکار تھا اور جس نے جزیرہ عرب میں ابراہیمی مذاہب سے ہٹ کر بت پرستی متعارف کروائی، جدہ گیا اور وہاں سے پانچ بت لایا جن کی پوجا نوح علیہ اسلام کی قوم کرتی تھی۔ اسی سے بت پرستی پورے عرب میں پھیل گئی۔ [16] ابن الکلبی ماہر انساب اور مؤرخ عرب کے مطابق جدہ کے ساحل پر بنی کنانہ کے بت موجود تھے۔ [17]

عرب مؤرخین کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ام البشر حوا اس جگہ پر اتری ہوں۔ سکندر اعظم 356 ق م~323 ق م میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آباو اجداد میں سے ایک نضر بن کنانہ کے دور میں مکہ آیا اور اس کے بعد وہ جدہ گیا جہاں سے وہ بحری راستے شمالی افریقا کی طرف روانہ ہوا۔ [18]

خلافت راشدہ[ترمیم]

جدہ کو امتیازی حیثیت تب حاصل ہوئی جب 647ء میں خلیفہ عثمان بن عفان نے اسے مکہ حج اور زیارت کی بیت سے آنے والے زائرین کے لیے ایک بندرگاہ بنانے کا حکم دیا۔ اس سے قبل جدہ کے جنوب مغرب شعیبہ بندرگاہ اس مقصد کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ [19] 703ء میں ایک قلیل مدت کے لیے جدہ پر مملکت اکسوم کے قزاقوں کا قبضہ ہو گیا۔ [20] جدہ اس دور سے موجودہ دور تک حجاج کے لیے اہم ترین بندرگاہ رہا ہے، گو کہ موجودہ دور میں زیادہ تر حجاج بحری کی بجائے ہوائی راستہ اختیار کرتے ہیں۔

خلافت امویہ[ترمیم]

خلافت راشدہ کے بعد خلافت امویہ کا دور آیا جس میں جو حجاز سمیت جدہ کے 661ء سے 750ء تک حکمران تھے۔ اس تاریخی دور میں جدہ میں اہم واقعات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ تاہم جدہ کی اہمیت شہری بندرگاہ، ماہی گیری اور سمندری سفر خاص طور پر حج کے لیے برقرار رہی۔ مورخین کا یہ خیال ہے کہ اعزازی شریف مکہ سب سے پہلے اسی دور میں تعینات کیا گیا تھا۔

خلافت عباسیہ[ترمیم]

750ء میں عباسی انقلاب کے بعد خلافت عباسیہ کا دور آیا جنہوں نے خلافت امویہ کے تقریباً تمام علاقے پر قبضہ کر لیا ما سوائے بورغواطہ اور اندلس جو نسبتاً دور واقع تھے۔ خلافت عباسیہ بغداد میں اپنے دار الخلافہ کے تحت 1258ء تک حکومت کرتی رہی تاہم حجاز ان کے تحت صرف 876ء تک رہا جب مصر کے طولون حکمرانوں نے مصر، سوریہ، اردن اور حجاز پر قبضہ کر لیا۔

طولون اور اخشید امارات[ترمیم]

احمد بن طولون کے دور کا دینار

876ء میں حجاز طولون شاہی سلسلہ زیر نگیں آنے کے بعد خلافت عباسیہ اور طولونوں میں علاقے پر قبضے کے لیے تقریباً 30 سال تک رسہ کشی چلتی رہی اور آخرکار 900ء میں طولون جزیرہ نما عرب سے دست بردار ہو گئے۔

930ء میں حجازی شہر مدینہ منورہ، مکہ اور طائف قرامطہ کے قبضے میں آ گئے تاہم اس کو کوئی تاریخی سند نہیں کہ انہوں نے جدہ پر بھی حملہ کیا ہو۔

ابتدائی 935ء میں مصر کی نئی طاقت اخشید نے حجاز پر قبضہ کر لیا۔ اخشیدی دور میں تاریخ میں حجاز کے بارے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں۔ جدہ اس دور میں بھی بغیر فصیل شہر تھا۔

خلافت فاطمیہ[ترمیم]

شمالی افریقا میں قائم ہونے والی دولت فاطمیہ نے اخشیدوں سے مصر بشمول حجاز اور جدہ حاصل کر لیا۔ فاطمیوں نے بحیرہ روم اور بحر ہند میں براستہ بحیرہ احمر ایک وسیع تجارتی نیٹ ورک تیار کیا۔ جس کی وجہ سے جدہ نے اس دور میں خاصی ترقی کی۔ تجارتی اور سفارتی تعلقات کو چین اور اس کے سونگ خاندان تک بڑھایا، جس نے بالآخر تہامہ اقتصادی راہداری کو جنم دیا۔

ناصر خسرو فارسی کے مشہور شاعر، فلسفی، اسماعیلی دانشور اور سیاح نے 1050ء میں شہر کا دورہ کیا اور کہا شہر میں بہت سی اچھی چیزیں اور تجارت سے شہر خوشحال ہے۔ اس کی آبادی 5000 نفوس پر مشتمل ہے۔ [21].

ایوبی سلطنت[ترمیم]

صلاح الدین ایوبی نے 1171ء میں یروشلم کی فتح کے بعد خود کو مصر کا سلطان ہونے کا اعلان کر دیا۔ دولت فاطمیہ کے آخری فرمانروا العاضد کے دولت فاطمیہ تحلیل ہو گئی اور یوں ایوبی سلطنت قائم ہوئی۔ 1177ء میں حجاز بشمول جدہ ایوبی سلطنت میں شامل ہو گئے اور ابو الہاشم الطالب حجاز کا شریف بنا۔

مملوک سلطنت[ترمیم]

جغرافیہ نگار اور سیاحابن جبیر اور سیاح اور مورخ ابن بطوطہ نے شہر میں فارسی طرز تعمیر کی عمارتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ شمس الدین المقدسی نے اپنی کتاب احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم میں جدہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ بڑی آبادی والا شہر ہے جہاں کے لوگ تجارت پیشہ ہیں جس ایک قریب مکہ، مصر اور یمن موجود ہیں۔ وہاں ایک خفیہ مسجد بھی موجود ہے۔ وہ شاندار عمارتیں ہیں جبکہ گلیاں تنگ ہیں۔

سلطنت عثمانیہ[ترمیم]

عثمانی امیر البحر سلمان رئیس نے 1517ء میں پرتگیزی حملے کے خلاف شہر کا کامیابی سے دفاع کیا

پہلی سعودی ریاست اور عثمانی-سعودی جنگ[ترمیم]

پہلی جنگ عظیم اور مملکت ہاشمیہ[ترمیم]

مملکت سعودی عرب[ترمیم]

عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود 1925ء میں جدہ میں داخل ہونے پر عبد اللہ علی رضا کے ہمراہ

جغرافیہ[ترمیم]

خلائی سیارے سے جدہ کی تصویر

آب و ہوا[ترمیم]

آب ہوا معلومات برائے جدہ (1985ء–2010ء)
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 35.0
(95)
36.0
(96.8)
40.2
(104.4)
44.5
(112.1)
48.2
(118.8)
52.0
(125.6)
47.0
(116.6)
46.0
(114.8)
48.0
(118.4)
46.4
(115.5)
40.0
(104)
37.0
(98.6)
52.0
(125.6)
اوسط بلند °س (°ف) 29.0
(84.2)
29.5
(85.1)
31.8
(89.2)
34.9
(94.8)
37.2
(99)
38.3
(100.9)
39.4
(102.9)
38.8
(101.8)
37.6
(99.7)
36.7
(98.1)
33.5
(92.3)
30.7
(87.3)
34.8
(94.6)
یومیہ اوسط °س (°ف) 24.5
(76.1)
24.8
(76.6)
26.1
(79)
28.5
(83.3)
30.2
(86.4)
31.2
(88.2)
32.7
(90.9)
32.7
(90.9)
31.5
(88.7)
29.8
(85.6)
27.4
(81.3)
25.9
(78.6)
28.8
(83.8)
اوسط کم °س (°ف) 20.3
(68.5)
20.1
(68.2)
21.4
(70.5)
22.1
(71.8)
24.0
(75.2)
24.8
(76.6)
26.6
(79.9)
27.6
(81.7)
26.4
(79.5)
24.1
(75.4)
22.3
(72.1)
21.0
(69.8)
23.4
(74.1)
ریکارڈ کم °س (°ف) 11.0
(51.8)
9.8
(49.6)
10.0
(50)
12.0
(53.6)
16.4
(61.5)
20.0
(68)
20.5
(68.9)
22.0
(71.6)
17.0
(62.6)
15.6
(60.1)
15.0
(59)
11.4
(52.5)
9.8
(49.6)
اوسط بارش مم (انچ) 9.9
(0.39)
3.7
(0.146)
2.9
(0.114)
2.8
(0.11)
0.2
(0.008)
0.0
(0)
0.3
(0.012)
0.5
(0.02)
0.1
(0.004)
1.1
(0.043)
26.4
(1.039)
13.1
(0.516)
61.0
(2.402)
اوسط اضافی رطوبت (%) 60 60 60 57 56 58 53 59 67 66 65 63 60
ماخذ: جدہ علاقائی آب و ہوا مرکز[22]
جدہ اوسط سمندری درجہ حرارت[23]
جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر
26.3 °C (79.3 °F) 25.7 °C (78.3 °F) 25.8 °C (78.4 °F) 26.8 °C (80.2 °F) 28.1 °C (82.6 °F) 29.0 °C (84.2 °F) 30.6 °C (87.1 °F) 31.6 °C (88.9 °F) 31.1 °C (88.0 °F) 30.7 °C (87.3 °F) 29.1 °C (84.4 °F) 27.9 °C (82.2 °F)

معیشت[ترمیم]

جدہ ایوان تجارت و صنعت[ترمیم]

جدہ ایوان تجارت و صنعت

جدہ ایوان تجارت و صنعت ملک کی قدیم ترین کاروبار خدمات تنظیموں میں سے ایک ہے۔ یہ جنوری 1946ء کو ایک شاہی فرمان کے ذریعے عمل میں آئی۔ تب سے یہ ایوان قومی معیشت اور کاروباری برادری کی خدمت کر رہا ہے، اس کی ترقی میں حصہ لے رہا ہے۔ [24]

جدہ ایوان تجارت و صنعت کی خدمات[ترمیم]

  • تجارتی خدمات
  • قانونی خدمات
  • اسپورٹ پروگرام
  • تصدیق خدمات
  • اشاعت
  • تجارتی وفود خدمات

جدہ صنعتی شہر[ترمیم]

Modon-logo.png

جدہ صنعتی شہر کا پہلا مرحلہ 1971ء کو 12 ملین مربع میٹر علاقے میں قائم کیا گیا۔ [25] یہ صنعت کے لیے ضروری سہولیات اور رہائشی اکائیاں، معاون خدمات اور نقل و حمل کی دستیابی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقام خاص حکمت عملی کے تحت منتخب کیا گیا تھا۔ یہ شہر سے قریب واقع ہے تاہم اس کے اور شہر کے درمیانی راستے میں کوئی رہائشی تعمیرات موجود نہیں تاکہ کوئی مضر کو اخراج سے لوگوں کی صحت متاثر نہ ہو۔ یہ جدہ اسلامی بندرگاہ کے بالکل پاس واقع ہے جس سے بحری نقل و حمل کے لیے بڑی گاڑیاں باآسانی سامان لا اور لے جا سکتی ہیں۔ یہاں مقامی اور بین الاقوامی صنعتی منصوبوں کی تقریباً 1،073 فیکٹریاں موجود ہیں۔

جدہ صنعتی شہر - پہلا مرحلہ[ترمیم]

جدہ صنعتی شہر کا پہلا مرحلہ 1971ء کو 12 ملین مربع میٹر علاقے میں قائم کیا ہوا۔ [26] پہلے مرحلے میں تمام بنیادی سلولیات بشمول سڑکوں کا جال، بجلی کی خدمات، پانی کی خدمات، موصلات اور حفظان صحت کی خدمات موجود ہیں۔ نئے صنعتی منصوبوں کے بوجھ کی وجہ سے نئے مرحلے بنائے گئے ہیں تاہم وہ پہلے مرحلے کی بانسبت شہر سے خاصے دور واقع ہیں۔

پہلے مرحلے میں مندرجہ ذیل صنعتیں موجود ہیں:

  • گاڑیاں اور ٹریلرز
  • ربڑ اور پلاسٹک کی مصنوعات کی تیاری
  • پیٹرولیم کی مصنوعات
  • کیمیائی مواد اور مصنوعات
  • دیگر مینوفیکچررز کی صنعت
  • میڈیکل انڈسٹری
  • لکڑی اور فرنیچر کی صنعت
  • بجلی اور بجلی کے آلات کی صنعت
  • دھاتیں اور عمارت سازی کی صنعت
  • کھانے کی مصنوعات اور مشروبات کی تیاری
  • کمپیوٹر اور الیکٹرانک اور بصریاتی مصنوعات
  • پرنٹنگ اور پبلشنگ
  • سامان اور مشینری
  • کاغذ اور اس کی مصنوعات.

جدہ صنعتی شہر - دوسرا مرحلہ[ترمیم]

جدہ صنعتی شہر کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے سی جنوب میں 35 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ [27] اس کا قیام 2009ء میں عمل آیا۔ اس کا رقبہ 8 ملین مربع میڑ ہے۔ شہر میں سڑک نیٹ ورک، پانی، بجلی، مواصلات، صنعتی سیکورٹی اور حفظان صحت کی خدمات کے تحت تمام بنیادی خدمات موجود ہیں۔

جدہ صنعتی شہر - تیسرا مرحلہ[ترمیم]

جدہ صنعتی شہر کے تیسرے مرحلے کا قیام 2012ء میں عمل آیا۔ اس کا رقبہ 80 ملین مربع میڑ ہے۔ [28] شہر میں سڑک نیٹ ورک، پانی، بجلی، مواصلات، صنعتی سیکورٹی اور حفظان صحت کی خدمات کے تحت تمام بنیادی خدمات موجود ہیں۔ جدہ صنعتی شہر کا سب سے بڑا مرحلہ ہے۔

اسلامی ترقیاتی بینک[ترمیم]

اسلامی ترقیاتی بینک جدہ، سعودی عرب میں واقع ایک کثیر المقاصد ترقیاتی ادارہ ہے۔ اس کا قیام 1973ء میں تنظیم تعاون اسلامی کے رکن ممالک کے وزرائے خزانہ اور اس وقت کے سعودی عرب کے فرمانروا فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کی مدد سے میں عمل آیا اور 20 اکتوبر 1975ء کو اس نے اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ [29] موجودہ دور میں اس کے 57 ارکان ہیں۔ [30]

جدہ اقتصادی فورم[ترمیم]

جدہ اقتصادی فورم اقتصادی ایک فورم ہے جس کا سالانہ اجلاس 1999ء کے بعد سے موسم سرما کے دوران جدہ، سعودی عرب میں ہوتا ہے۔ فورم نے کئی مشہور مقررین کو مدعو کیا ہے جن میں جارج ایچ ڈبلیو بش، جان میجر، بل کلنٹن، گیرہارڈ شروڈر سابقہ جرمن چانسلر، میڈلین آلبرائیٹ، ولید بن طلال، اردن کی رانیا العبد اللہ، رجب طیب ایردوان وزیر اعظم ترکی، رفیق حریری لبنان کے سابقہ وزیر اعظم، مہاتیر محمد ملائیشیا کے وزیر اعظم اور لبنی علیان، ہیلری کلنٹن، کلاوس شواب، حیات سندی اور وکٹوریہ، سویڈن کی ولی عہد شہزادی شامل ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

جدہ کی ایک خاتون روایتی لباس میں

ذرائع ابلاغ[ترمیم]

جدہ ابتدا ہی سے صحافتی سرگرمیوں کو گڑھ رہا ہے۔ جدہ سے کئی اخبار شائع ہوتے ہیں جن میں عربی زبان کے البلاد، عکاظ، المدینہ اور الوطن، انگریزی زبان کے سعودی گزٹ اور عرب نیوز جبکہ اردو زبان کا اردو نیوز قابل ذکر ہیں۔

عرب ریڈیو اور ٹیلی ویژن نیٹ ورک

حجازی عربی[ترمیم]

حجازی رسم الخط میں قرآن

حجازی عربی عربی کی ایک تنوع ہے سعودی عرب کے تاریخی خطے حجاز میں بولی جاتی ہے۔ حجاز میں اس لہجہ کے دو اہم گروہ ہیں، ایک وہ جو اہم شہروں مثلاً جدہ، مکہ اور مدینہ منورہ میں جبکہ دوسرا بدوی لہجہ ہے۔ [31]

سیاحت اور تفریح[ترمیم]

ایک بین الاقوامی، قدیم اور ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے جدہ میں بہت سے تفریحی اور سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ جدہ کے رہائشیوں، حجاج، زائرین اور سیاحوں کے لیے جدہ خریداری اور تفریح کے لیے خاص مقام رکھتا ہے۔

کورنیش جدہ[ترمیم]

جدہ بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہے۔ ساحل سمندر سے لطف اندوز ہونا جدہ والوں کی سب سے بڑی تفریح ہے۔ ساحل کے ساتھ لوگوں کے بیٹھنے کے لیے تفریحی جگہیں بنائی گئیں ہیں۔ اس ساحل کو کورنیش کہا جاتا ہے۔ کورنیش پر صبح فجر سے لے کر رات گئے تک لوگوں کا حجوم رہتا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے کورنیش پر لوگوں کی سہولت اور خوبصورتی کے لیے کئی منصوبوں پر کام کیا ہے جس سے اس کی رونق اور بڑھ گئی ہے۔ [32][33]

کورنیش جدہ سے پٹی کے سامنے کئی بڑے ہوٹل، تفریح گاہیں، محلات اور دیگر اہم مقامات واقع ہیں۔ حال ہی میں کورنیش کے ایک حصے میں سڑکوں کے درمیان جلنے اور جاگنگ کے لیے راستہ بنایا گیا ہے جو لوگوں میں بہت مقبول ہوا ہے۔

شاہ فہد فوارہ[ترمیم]

شاہ فہد فوارہ جسے جدہ فوارہ بھی کہا جاتا ہے جدہ کی ساحلی پٹی کورنیش جدہ پر واقع ایک فوارہ ہے۔ یہ دنیا کا بلند ترین فوارہ ہے۔[34] یہ فوارہ جدہ شہر کو شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے عطیہ کیا تھا اسے لیے اس فوارے کو ان کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ 1980ء اور 1983ء کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا افتتاح 1985ء میں ہوا۔ [35]

مختلف ذرائع کے مطابق بحیرہ احمر کے سطح سمندر سے اس کی اونچائی 260 میٹر (853 فٹ) [36][37][38] یا 312 میٹر (1،024 فٹ) ہے۔ [34] بلند ہونے کی وجہ سے یہ فوارہ جدہ کے اکثر علاقوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فوارہ جدہ کی علامت یا نشان کے طور پر عام استعمال ہوتا ہے۔

جدہ علم چوب[ترمیم]

جدہ علم چوب ملک عبد اللہ چوک، جدہ، سعودی عرب میں 171 میٹر (561 فٹ) بلند ایک علم چوب ہے۔ 2014ء میں اس کی تعمیر کے بعد سے یہ دنیا کا سب سے بڑا علم چوب ہے۔ [39] اس پر سعودی عرب کا پرچم لہرایا جاتا ہے جس کا عرض 49.5 میٹر (162 فٹ) طول 33 میٹر (108 فٹ) اور اس کا وزن 570 کلوگرام (1،260 پونڈ) ہے۔ [40] اسے سب سے پہلے 23 ستمبر 2014ء کو قومی یوم سعودی عرب کے موقع پر لہرایا گیا تھا۔ یہ علم چوب جدہ کے اکثر علاقوں سے دیکھا جا سکتا ہے شاہ فہد فوارے کی طرح یہ بھی جدہ کی ایک علامت بن چکا ہے۔

الرحمہ مسجد[ترمیم]

الرحمہ مسجد

جسے تیرتی مسجد بھی کہا جاتا ہے 1985ء میں تعمیر کی گئی۔ اس کی وجہ شہرت اس کی طرز تعمیر ہے۔ اسے سمندر کے اندر ستونوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد کے آخر میں سمندر کا نظارہ کرنے کے لیے جگہ بھی بنائی گئی ہے جہاں سمندر کافی گہرا ہے۔ مسجد اندر سے بھی خوبصورت ہے۔ انڈونیشیا اور ملائشیا کے حجاج کے پیکج میں اس مسجد کا دورہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ مسجد بھی جدہ کی ایک علامت کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

الجوہرہ اسٹیڈیم[ترمیم]

شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹی

شاہ عبد اللہ اسپورٹس سٹی جدہ، سعودی عرب سے شمال میں 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک کھیلوں کا شہر ہے۔ یہ سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے نام پر ہے جنہوں نے اس کا افتتاح بھی کیا تھا۔ [41] اس میں مرکزی مقام الجوہرہ اسٹیڈیم ہے جسے کثیر لاگت سے جدید ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ عمومی طور پر سعودی عرب کے مقبول کھیل فٹ بال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں 62,241 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ جدہ کو سب سے بڑا اور سعودی عرب کا دوسرا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے۔

این سی بی ٹاور[ترمیم]

این سی بی ٹاور

نیشنل کمرشل بینک مکمل طور پر سعودی عرب کا پہلا ملکیتی اور بلحاظ اثاثہ جات عرب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بینک ہے۔ [42] نیشنل کمرشل بینک نے 26 دسمبر 1953ء کو مرحوم شاہ عبدالعزیز ابن سعود کے شاہی فرمان کے مطابق قائم کیا گیا۔ این سی بی ٹاور یا نیشنل کمرشل بینک ٹاور 1983ء جدہ میں سمندری جصیل کے کنارے تعمیر کیا گیا اور اسے 1980ء کی دہائی کے دوران سعودی عرب کی سب سے بلند عمارت خیال کیا جاتا ہے۔ جھیل کے کنارے ایک منفرد تکونی طرز تعمیر ہونے کی وجہ سے جدہ میں فوٹوگرافروں کا پندیدہ مقام ہے۔ اسے جدہ کی ایک علامت کا مقام حاصل ہے۔

برج شاہراہ ملک[ترمیم]

برج شاہراہ ملک

برج شاہراہ ملک ایک 34 منزلہ دفتری برج ہے جو جدہ، سعودی عرب میں واقع ہے۔ یہ برج اشتہارات دکھانے کی دنیا کے سب سے بڑی اسکرین پر مشتمل ہے۔ اسکرین تقریباً 10،000 مربع میٹر اور اسے ایک فرانسیسی کمپنی نے ڈیزائن، تعمیر اور نصب کیا۔ اس اسکرین کو نصب کرنے میں تقریباً چھ ماہ لگے۔ [43][44]

ملک سعود مسجد[ترمیم]

ملک سعود مسجد 1987ء میں تعمیر ہوئی یہ شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ یہ اپنے خوبصورت طرز تعمیر کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔

باب مکہ[ترمیم]

باب مکہ
باب مکہ

جدہ کے قدیم ترین محلوں میں سے ہے یہ بلد سے متصل ہے اور شہر کا اہم تجارتی مرکز ہے۔ یہ نقل و حمل کا مرکز بھی ہے شہر بھر سے بسیں باب ملکہ تک آتی ہیں۔ پہلے مقمای لوگ اپنی بسیں چلاتے تھے جنہیں "خط" کہا جاتا تھا جو تصوہر میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں لیکن حکومتی بسیں چلنے کے بعد ان کی ممانعت ہو گئی ہے۔

نئے جدہ میں خریداری مرکزوں کی تعمیر کے بعد بھی باب مکہ کی اہمیت کم نہیں ہوئی، قدیم شہر کے لوگ گو کہ وہ کہیں بھی موجود ہوں کھانے ہینے، مصالحہ جات، شہد، کھجور کی خریداری یہاں سے ہی کرتے ہیں۔

اصل شہر کی فصیل کا دروازہ جو مکہ ("باب مکہ") کی سمت تھا مسمار ہو چکا تھا تاہم بعد میں حکومت نے اسی نقشے پر است دوبارہ تعمیر کیا ہے۔

چوراہے اور بیرون در فن[ترمیم]

1970ء اور 1980ء کے دہائیوں اس وقت شہر کے میئر محمد سید فارسی نے شہر کی خوبصورتی کے لیے چوراہوں اور دیگر مقامات پر خوبصورے فن پارے نصب کیے۔ [45][46] ان میں روایتی سعودی اشیا، کشتیاں، ہوائی جہاز، کرہ عرض، فوارے اور دیگر شامل ہیں۔

خریداری[ترمیم]

جدہ خریداری کے لحاظ سے سعودی عرب مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدائی طور پر بازار قدیم شہر کے مختلف محلوں میں موجود تھے جن میں بلد سب سے اہم اس کے علاوہ باب مکہ اور باب شریف بھی اہم مراکز تھے۔ شہر کی ترقی اور وسعت کے بعد شہر کے ہر حصے میں بڑے بڑے مال قائم ہو چکے ہیں تاہم قدیم شہر کی بازاروں کی اہمیت اب بھی باقی ہے۔ جدہ کے چند اہم خریداری مراکز کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔

ریڈ سی مال
مال آف عریبیہ
المحمل سینٹر
صیرفی میگا مال
فلامینگو مال
الاندلس مال
ساؤتھ مال
عزیز مال
  • المحمل سینٹر
  • الیمامہ مال
  • ایفینٹ مال
  • السلام مال
  • برنتان مال
  • فلامینگو مال
  • کورال مال
  • این تو مال
  • السلیمانیہ پلازا
  • دا فرسٹ مال
  • الاندلس میگا مال
  • اتوال سینٹر
  • مرکز فتیحی
  • جولری سینٹر
  • صواری لینڈ مارک
  • الجامعہ مال
  • مرکز آئیس لینڈ
  • حراء پلازا
  • سلطان مال
  • ریڈ سی مال
  • صیرفی میگا مال
  • روشان مال
  • روشانا مال
  • یونیورسٹی پلازا
  • الشلال تھیم پارک
  • التحلیہ سینٹر
  • عزیز مال
  • کارفور سینٹر
  • ساوتھ مال
  • الواحہ مال
  • سیٹی پلازا
  • محمود سعید سینٹر
  • اویسس مال
  • الیاسمین مال
  • بدر سینٹر
  • رباعیات سینٹر
  • لمسات مال
  • جدہ سیٹی سینٹر
  • سوق دانیا
  • مرکز بن حمران
  • المنتزہ 1
  • المنتزہ 2
  • ابراج البدریہ
  • لے مال
  • دانیہ سینٹر
  • سوق جدہ
  • مرکز الہداب
  • حراء ایوینیو
  • سوق المدار
  • فلامینگو مال
  • برج الملکہ
  • سوق الجمجوم
  • سوق الصواری
  • مرکز المساعدیہ
  • سوق المحمل
  • سوق جدہ الدولی
  • سوق الحمراء
  • سوق البساتین
  • سوق حراء
  • سوق السلمانیہ
  • مرکز دانیہ
  • برج الباروم
  • الجامعہ پلازا
  • مرکز لے مال
  • سوق الحفنی
  • مرکز الخیاط
  • مرکز المدینہ
  • مرکز الکورنیش
  • سوق الاهدل
  • سوق صواریخ
  • سوق النجار
  • اسواق الحجاز
  • سوق ابوعمرین
  • سوق سلامہ
  • سوق الشاطی
  • مال آف عریبیہ
  • جدہ مال
  • الیاسمین مال
  • سوق المرجان
  • هیفاء مال
  • ستارز ایوینیو

تاریخی جدہ[ترمیم]

تاریخی جدہ

بلد لفظی معنی "شہر" [47] سعودی عرب کے دوسرے بڑا شہر جدہ کا تاریخی علاقہ ہے۔ [48] بلد ساتویں صدی میں قائم ہوا اور اسے تاریخی طور پر جدہ کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ [49] 1940ء جدہ شہر کی دفاعی دیواریں گرا دی گئیں۔

قدیم جدہ[ترمیم]

قدیم جدہ

قدیم جدہ سات علاقوں جنہیں محلہ بھی کہا جاتا ہے میں تقسیم تھا جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

1۔ مظلوم محلہ (حارة المظلوم)[ترمیم]

اس کی نام کی اشتقاقیات کے بارے میں مورخین کا خیال ہے عثمانی دور میں یہاں لوگوں پر ظلم ہوا ہو یا وہ مارے گئے ہوں اور اس کی مناسنت سے یہ نام پڑا۔ یہ "شامی محلہ" اور "یمنی محلہ" کے درمیان واقع ہے۔ اس کے مشہور مقامات سوق العلوعی، مسجد معمار، شارع قابل اور سوق البنط ہیں۔

2۔ شامی محلہ (حارة الشام)[ترمیم]

اس کا رخ بلاد الشام کی طرف تھا اسے لیے اسے شامی محلہ کہا جاتا ہے۔

3۔ یمنی محلہ (حارة اليمن)[ترمیم]

اس کا رخ یمن کی طرف تھا اسے لیے اسے یمن محلہ کہا جاتا ہے۔ جنوب میں یہ ساحل تک پھیلا ہوا تھا۔

4۔ بحری محلہ (حارة البحر)[ترمیم]

اٹھارہویں صدی کے اواخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں اسے یمنی محلے ایک تہائی حصہ کاٹ کر بنایا گیا۔ اس کے نام کی وجہ ایک تو یہ سمندر (بحر) سے ملا ہوا تھا دوسرے یہاں بحری تنصیبات کی موجودگی اس کے نام کا سبب ہو۔

5۔ بلد[ترمیم]

بلد لفظی معنی "شہر" [50] سعودی عرب کے دوسرے بڑا شہر جدہ کا تاریخی علاقہ ہے۔ [48] بلد ساتویں صدی میں قائم ہوا اور اسے تاریخی طور پر جدہ کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ [51] 1940ء جدہ شہر کی دفاعی دیواریں گرا دی گئیں۔ 1970ء اور 1980ء کے دہائیوں میں جب جدہ تیل کی پیداوار کی وجہ سے دولت مند بننا شروع ہوا تو بلد میں مقیم بڑے تاجر اور ثروت مند افراد جدہ کے شمال میں رہائش پزیر ہو گئے۔ [52]

6۔ الرویس[ترمیم]

جدہ کے سب سے قدیم ترین علاقوں میں الرویس بھی شامل ہو جو اندازہً 150 سال پرانا علاقہ ہے۔

7۔ الکرنتینا[ترمیم]

یہ جدہ کی قدیم بندرگاہ کے قریب واقع ہے۔ یہ حجاج کی آمد اور راونگی کا مقام تھا جو جدہ سے باہر تصور کیا جاتا تھا۔ یہ تیل ریفائنری کے قریب واقع ہے موجودہ دور میں افریقی لوگوں کا گڑھ ہے جس کی وجہ سے اسے اب ایک خطرناک علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

تاریخ[ترمیم]

1926ء میں سلطان نجد عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود نے مملکت حجاز پر قبضہ کر لیا اور حجاز کی حکومت اور سلطنت نجد کو تحلیل کر دیا اور ایک نئی مملکت مملکت حجاز و نجد کا اعلان کیا جس کے فرمانروا عبد العزیز بن عبد الرحمن آل سعود تھے۔ انہوں نے "مجلس معارف" (تعلیمی کونسل) کی بنیاد رکھی جس کی بنیادی توجہ حجاز میں تعلیم پر مرکوز تھی۔ 1953ء میں سعود بن عبدالعزیز آل سعود نے "مجلس معارف" کو "وزارت تعلیم" میں تبدیل کر دیا اور 24 دسمبر، 1953ء کو فہد بن عبدالعزیز آل سعود کو وزیر تعلیم مقرر کیا۔ لڑکیوں کی تعلیم میں فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کا انتیائی اہم کردار رہا۔ 1960ء جب فیصل بن عبدالعزیز آل سعود ولی عہد تھے لڑکیوں کی تعلیم کا علاحدہ عمومی ادارہ "مجلس عمومی برائے تعلیم البنات" (عربی: الرئاسة العامة لتعليم البنات) قائم کیا۔ اسی کے تحت شاہ فیصل کی بیوی ملکہ عفت نے پہلے لڑکیوں کے کالج عفت کالج کی بنیاد رکھی جو اب یونیورسٹی بن چکا ہے۔ 2002ء میں شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود نے لڑکیوں کے علاحدہ عمومی تعلیمی ادارے کو وزارت تعلیم میں ضم کر دیا۔

ابتدائی اور ثانوی تعلیم[ترمیم]

جدہ ایک بین الاقوامی شہر ہے یہاں مقامی لوگوں کے ساتھ غیر ملکی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ابتدا میں سرکاری اسکول جن کی تدریسی زبان عربی ہے میں صرف سعودی یا دیگر عرب اقوم کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ دیگر اقوم جن کے لوگ بڑی تعداد میں موجود تھے اپنے مخصوص اسکول قائم کر لیے جن میں پاکستان، بھارت، فلپائن، بنگلہ دیش، ریاستہائے متحدہ اور مملکت متحدہ قابل ذکر ہیں۔ غیر عرب یا ایسے افراد جو اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں کے لیے حکومت نے یہ اقدام اٹھایا کہ ان تمام اسکولوں کو وزارت تعلیم کے تحت لا کر بین الاقومی اسکولوں کا درجہ دے دیا تا کہ کسی بھی قوم کے بچے یہاں داخلہ لے سکیں۔ تاہم امریکی اور برطانوی اسکولوں کو چھوڑ کر شاذ ناظر ہی کسی دوسری قوم کا طالب علم ان اسکولوں میں داخلہ لیتا ہے۔ تاہم اب کئی نجی اسکول بھی موجود ہیں جن کی تدریسی زبان انگریزی ہے۔ جدہ میں بے شمار اسکول موجود ہیں قابل ذکر اسکولوں کی ایک فہرست مندرجہ ذیل ہے:

مخصوص اقوامی اسکول[ترمیم]

کالج اور جامعات[ترمیم]

نقل و حمل[ترمیم]

فضائی[ترمیم]

حج ٹرمینل

شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا[ترمیم]

شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا جدہ کے شمال میں 19 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ اس کا نام شاہ عبد العزیز آل سعود کے نام سے منسوب ہے جس کا افتتاح 1981ء میں ہوا۔ یہ سعودی عرب کا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔ موجودہ ہوائی اڈے کے تین ٹرمینل ہیں:

جنوبی ٹرمینل

اصل میں یہ ٹرمینل صرف سعودی عربین ایئر لائنز کے لیے مختص تھا تاہم 2007ء میں شمالی ٹرمینل پر زیادہ بوجھ کی وجہ سے کچھ اور ایئرلائنز بھی یہاں منتقل کر دی گئیں جن میں فلائی ناس، کینیا ائیرویز، گارودا انڈونیشیا اور کوریا ایئر شامل ہیں۔

شمالی ٹرمینل

ماسوائے وہ ایئرلائنز جن کا ذکر جنوبی ٹرمینل میں کیا گیا ہے باقی تمام بین الاقومی پروازیں شمالی ٹرمینل پر آتی ہیں۔

حج ٹرمینل

یہ ٹرمینل حجاج اور عمرہ زائرین کے لیے مخصوص ہے۔ حج کے دنوں میں کئی خصوصی پروازیں چلائی جاتی ہیں جن کے مسافر یہاں اترتے ہیں۔ دیگر بین الاقوامی پروازوں پر سے حجاج اور عمرہ زائرین کو یہاں اتار لیا جاتا ہے جبکہ باقی مسافروں کو جنوبی یا شمالی ٹرمینل لے جایا جاتا ہے۔

توسیعی منصوبہ[ترمیم]

نیا شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا تین مراحل میں ستمبر 2006ء میں شروع ہوا اور اس کی مجوزہ تکمیل 2018ء میں قرار دی گئی ہے۔ [53] 2018ء میں یہاں سے کچھ اندون ملک پروازیں چلائی جا رہی ہیں [54] جبکہ دیگر پروازوں کے لیے 2019ء کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ [55] یہ منصوبہ ہوائی اڈے کی سالانہ صلاحیت کو 13 ملین سے بڑھا 80 ملین مسافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حرمین تیز رفتار ریل منصوبہ کو بھی اس سے منسلک کیا گیا ہے جس سے حجاج اور زائرین کو ریل کے ذریعے مکہ اور مدینہ منورہ منتقل کیا جائے گا۔ موجودہ دور میں اس کے لیے بسیں استعمال کی جاتی ہیں۔

السعودیہ[ترمیم]

السعودیہ سعودی عرب کی قومی ایئرلائن ہے۔ اس کا صدر دفتر جدہ شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا میں واقع ہے جبکہ دیگر اہم مراکز میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈا، ریاض اور شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈا، دمام ہیں۔

بحری[ترمیم]

جدہ اسلامی بندرگاہ بین الاقوامی شپنگ کے وسط میں واقع ایک اہم بندرگاہ ہے۔ یہ عرب ممالک کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندر گاہ ہے۔

ریل[ترمیم]

حرمین تیز رفتار ریل

حرمین تیز رفتار ریل منصوبہ سعودی عرب میں 453 کلو میٹر (281 میل) طویل تیز رفتار بین شہر ریل نظام ہے۔ اس کا افتتاح 25 ستمبر، 2018ء کو ہوا۔ [56] یہ مسلمانوں کے مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو براستہ شاہ عبداللہ اقتصادی شہر، شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈا، جدہ آپس میں ملاتا ہے۔ گو کہ اس کا افتتاح ہو چکا ہے تاہم ابھی تک جزوی طور پر فعال ہے۔

شاہ عبد العزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل حجاج اور زائرین کو ریل سے ہی حرمین منتقل کیا جائے گا۔ نیا ٹرمینل ابھی صرف کچھ اندرون ملک پروازوں کے لیے قعال ہے جبکہ دیگر پروازوں کے لیے 2019ء کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ [57]

مسائل[ترمیم]

پانی کی قلت[ترمیم]

تحلیہ کا پانی کا ٹینکر


سیلاب[ترمیم]

جدہ میں بارشوں سے سیلاب کا ایک منظر
جدہ سیلاب


غیر قانوی تارکین وطن[ترمیم]

غیر قانوی تارکین وطن

جدہ زمانہ قدیم سے ہی حجاج اور زائرین کا سعودی عرب میں داخلہ کا بنیادی مقام ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ حج یا عمرہ کے ویزہ پر مملکت میں داخل ہوتے تھے ویزہ ختم ہونے کے بعد واپس سفر کی بجائے روپوش ہو جاتے تھے۔ گو کہ حکومت کے سخت اقدامات کی وجہ سے اس میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ نئے قوانین کے مطابق کوِئی غیر ملکی صرف اپنے کفیل کے پاس ہی کام کر سکتا ہے بلکہ وہ صرف وہ ہی کام کر سکتا ہے جو اس کے اقامہ پر درج ہو۔ ان قوانین پر سختی سے عمل درامد کے بعد غیر قانوی تارکین وطن نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گزشتہ سالوں میں حکومت کئی بار نرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر قانوی تارکین وطن بغیر جرمانے اور سزا کے واپس وطن جانے سہولت فراہم کرتی رہی ہے۔ جب بھی ایسا اعلان ہوتا ہے تو کئی پلوں نے نیچے ایسے غیر قانوی تارکین وطن ڈیرہ جما لیتے ہیں تاکہ حکومت انہیں پکڑ کر واپس بھجوا دے۔ غیر قانوی تارکین وطن کا مسئلہ بنیادی طور پر صرف جدہ تک محدود ہے کیونکہ مکہ سے جدہ آنا مشکل نہیں کیونکہ سفر کے لیے جدہ جانا ضروری ہے، تاہم ایسے لوگوں کا دوسرے بڑے شہروں مثلاً ریاض یا دمام سفر کرنا ایک دشور عمل ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

بلدیہ جدہ 14 ذیلی بلدیات میں منقسم ہے:[58][59]

1۔ ذیلی بلدیہ ثول [60]:[61]
  1. محلہ الکنادرہ۔
  2. محلہ البمحلہ۔
  3. محلہ الصوالحہ۔
  4. محلہ االامیر۔
  5. محلہ الجنوبیہ۔
  6. محلہ أبو زید۔
  7. محلہ الشروق۔
  8. محلہ الزنابقہ۔
  9. محلہ السرامحلہن۔

2۔ ذیلی بلدیہ طیبہ [62]:[63]

  1. محلہ الفروسیہ۔
  2. محلہ البشائر۔
  3. محلہ الرحمانیہ۔
  4. محلہ الفلاح۔
  5. الحمدانیہ۔
  6. الصالحیہ۔

3۔ ذیلی بلدیہ ذہبان:[64]

  1. محلہ خلیج سلمان۔
  2. محلہ أبحر الشمالیہ۔
  3. محلہ الصواری۔
  4. محلہ طیبہ، ویعرف باسم محلہ الرمحلہلی أیضاً۔
  5. محلہ الزمرد۔
  6. محلہ الیاقوت۔
  7. منح مخطط الریاض۔
  8. محلہ اللؤلؤ۔
  9. محلہ الفردوس۔
  10. محلہ الشراع۔
  11. محلہ االامواج۔

4۔ ذیلی بلدیہ بریمان [65]:[66]

  1. االاجواد۔
  2. المنار۔
  3. السامر۔
  4. المنتزہ۔
  5. الریان۔
  6. الکوثر۔
  7. أم حبلین۔

5۔ ذیلی بلدیہ أبحر [67]:[68]

  1. النعیم۔
  2. النہضہ۔
  3. المحمدیہ۔
  4. الشاطیء۔
  5. البساتین۔
  6. المرجان۔
  7. االاصالہ۔
  8. أبحر الجنوبیہ۔

6۔ ذیلی بلدیہ المطار:[69]

  1. محلہ النزہہ۔
  2. محلہ المروہ۔
  3. محلہ الربوہ۔
  4. محلہ الصفا۔
  5. محلہ البوادی۔
  6. محلہ الفیصلیہ۔

7۔ ذیلی بلدیہ جدہ الجدیدہ:[70]

  1. الروضہ۔
  2. السلامہ۔
  3. الزہرہ۔
  4. الخالدیہ۔
  5. الشاطیء۔

8۔ ذیلی بلدیہ أم السلم:[71]

  1. المحامید۔
  2. الحرازات۔
  3. الشروق۔
  4. الواحہ۔
  5. منطقہ قویزہ۔
  6. المنتزہات۔
  7. النخیل۔
  8. السلیمانیہ الشرقیہ۔
  9. محلہ أم السلم۔

9۔ ذیلی بلدیہ العزیزیہ :

  1. االاندلس۔
  2. الحمراء۔
  3. العزیزیہ۔
  4. مشرفہ۔
  5. الرحاب۔

10۔ ذیلی بلدیہ الشرفیہ:[72]

  1. محلہ النسیم۔
  2. محلہ بنی مالک۔
  3. محلہ الورود۔
  4. محلہ الشرفیہ۔
  5. محلہ الرویس۔

11۔ ذیلی بلدیہ الجامعہ [73]:[74]

  1. الروابی۔
  2. الجامعہ۔
  3. السلیمانیہ۔
  4. الفیحاء۔
  5. الثغر۔
  6. النزلہ الیمانیہ۔
  7. النزلہ الشرقیہ۔
  8. القریات۔
  9. الثعالبہ۔
  10. بترومین۔
  11. غلیل۔
  12. مدائن الفہد۔

12۔ ذیلی بلدیہ البلد:[75]

  1. محلہ الکندرہ۔
  2. محلہ البغدادیہ الشرقیہ۔
  3. محلہ البغدادیہ الغربیہ۔
  4. محلہ الہنداویہ۔
  5. محلہ السبیل۔
  6. محلہ الصمحلہفہ۔
  7. محلہ العماریہ۔
  8. محلہ البلد۔

13۔ ذیلی بلدیہ جدہ التاریخیہ [76]:[77]

  1. محلہ المظلوم۔
  2. محلہ الشام۔
  3. محلہ الیمن۔
  4. محلہ البحر۔

14۔ ذیلی بلدیہ الجنوب:[78]

  1. الوزیریہ۔
  2. محلہ االامیر فواز الجنوبی۔
  3. محلہ االامیر فواز الشمالی۔
  4. محلہ االامیر عبد المجید۔
  5. محلہ العدل۔
  6. محلہ الفضل۔
  7. محلہ المحجر۔
  8. االاجاوید۔
  9. کیلو 14 جنوب طریق مکہ القدیم۔
  10. الفاروق۔
  11. الہدى
  12. السنابل
  13. مخطط الشفا۔
  14. مخطط الواحہ۔
  15. التضامن۔
  16. مخطط الجوہرہ۔
  17. محلہ السنابل۔
  18. محلہ السروریہ۔
  19. محلہ السروات۔
  20. محلہ القوزین۔
  21. التعاون
  22. مخططات المنح بالخمرہ۔

جڑواں شہر[ترمیم]

جدہ کے 35 جڑواں شہر ہیں جنہیں اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی معیار کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے

بیرونی روابط[ترمیم]

ویڈیو[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "FaceOf: Saleh Ali Al-Turki, mayor of Jeddah"۔ Arab News (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-02-05۔
  2. "Population"۔ Statistical Yearbook 50 (2014)۔ Central Department Of Statistics & Information۔ مورخہ 21 فروری 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2016۔
  3. "population of the administrative region of Makkah" (پی‌ڈی‌ایف)۔ General authority of statistics۔
  4. "The Saudis may be stretching out the hand of peace to their old foes"۔ دی اکنامسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 ستمبر 2017۔
  5. "Archived copy"۔ مورخہ 2012-07-01 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-07-28۔
  6. "2thinknow Innovation Cities™ Emerging 11 Index 2009 - Middle East, Africa and Former USSR States | 2009"۔ Innovation-cities.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔
  7. [1] وثق شدہ بتاریخ 06 نوفمبر 2007 در وے بیک مشین
  8. تاريخ الرسل والملوك - ابن الطبري - ج1 ص43
  9. جدة- معنى الاسم وسبب التسمية وصحتها - أشراف الحجاز وثق شدہ بتاریخ 20 سبتمبر 2016 در وے بیک مشین
  10. Ibn Battota's Safari. Tuhfat Al-Nothaar Fe Gharaa'ib Al-Amsaar. Chapter: "From Cairo to Hejaz to Tunisia again". ISBN 9953-34-180-X
  11. British Embassy website [مردہ ربط]
  12. "Lost in translation." Brian Whitaker. Guardian (UK). 10 June 2002.
  13. "صحيفة عكاظ - جدة اليوم.. والعم وهيب"۔ Okaz.com.sa۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔
  14. "Archived copy"۔ مورخہ 2016-09-20 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-08-08۔
  15. Empty citation (معاونت)
  16. Empty citation (معاونت)
  17. Empty citation (معاونت)
  18. Empty citation (معاونت)
  19. alalamonline۔ "Alamlam Online"۔ alalamonline.net۔ مورخہ 2013-10-29 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-08-13۔
  20. Tom Cooper۔ Wings over Ogaden۔ Helion and Company۔ صفحہ 5۔ آئی ایس بی این 9781909982383۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 فروری 2016۔
  21. [2] وثق شدہ بتاریخ 12 يونيو 2011 در وے بیک مشین
  22. "Climate Data for Saudi Arabia"۔ Jeddah Regional Climate Center۔ مورخہ مئی 12, 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 7, 2015۔
  23. "Monthly Jeddah water temperature chart"۔ Seatemperatures.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-01-20۔
  24. http://jcci.org.sa/English/about/about_the_chamber/Pages/default.aspx
  25. https://www.modon.gov.sa/en/Pages/default.aspx
  26. https://www.modon.gov.sa/en/m/pages/industrialcity.aspx?itemid=18
  27. https://www.modon.gov.sa/en/IndustrialCities/IndustrialCitiesDirectory/IndustrialCities/Pages/Jeddah2nd.aspx
  28. https://www.modon.gov.sa/en/IndustrialCities/IndustrialCitiesDirectory/IndustrialCities/Pages/Jeddah3rd.aspx
  29. Matthew Epstein۔ "Saudi Support for Islamic Extremism in the United States" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Islam Daily۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2012۔
  30. "About IDB"۔ Islamic Development Bank۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 25, 2018۔
  31. https://www.livelingua.com/arabic/courses/fsi/Saudi_Arabian_Arabic_Course_(Hijazi_Dialect)/
  32. "Jeddah"۔
  33. Gilian۔ "Jeddah Waterfront (Corniche)"۔ Words and Wonders (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-01-29۔
  34. ^ ا ب "King Fahd's Fountain in Saudi Arabia"۔ Prosperity Fountain۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اکتوبر 2013۔
  35. "World Tallest Fountain in Jeddah"۔ Hotel Travel۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2014۔
  36. Mughai۔ "Jeddah Fountain – King Fahd's fountain Jeddah – Saudi Arabia"۔ Jeddah Point۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2014۔[بہتر ماخذ درکار]
  37. "6/12 - King Fahd's Fountain, Jiddah"۔ Arabic Media۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2014۔[بہتر ماخذ درکار]
  38. "Jiddah: King Fahd's Fountain"۔ SAMIRAD۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 فروری 2014۔
  39. "Tallest Unsupported Flagpole"۔ Guinness World Records۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-09۔
  40. "Flagpole completed"۔ maktoob.news.yahoo.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-09-23۔
  41. "King Abdullah Sports City debuts on مئی 1"۔ Arab News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-06-05۔
  42. "QNB, NCB top list of biggest GCC banks"۔ ArgaamPlus (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-08۔
  43. Ameinfo.com - KRT وثق شدہ بتاریخ 2011-12-28 در وے بیک مشین
  44. Servcorp.net - KRT وثق شدہ بتاریخ 2012-10-12 در وے بیک مشین
  45. Jonathan Jones۔ "Sculptural oasis: why the giants of art made for Jeddah"۔ the Guardian (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-22۔
  46. Jeddah Sculpture Park۔ "Sculptures of Jeddah"۔ www.sculpturesofjeddah.com (انگریزی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-25۔
  47. Dahir, Mubarak. "4 hours in Jeddah: Mubarak Dahir discovers Jeddah's intriguing historic neighborhoods and souks time to rwhile finding elax by the city's main attraction, the Red Sea." Business Traveler. 1 August 2004. Retrieved on 25 August 2009.
  48. ^ ا ب Baker, Razan. "Tales of Old Jeddah." عرب نیوز. Thursday 25 January 2007 (06 محرم (مہینہ) 1428). Retrieved on 25 August 2009.
  49. Bradley 14.
  50. Dahir, Mubarak. "4 hours in Jeddah: Mubarak Dahir discovers Jeddah's intriguing historic neighborhoods and souks time to rwhile finding elax by the city's main attraction, the Red Sea." Business Traveler. 1 August 2004. Retrieved on 25 August 2009.
  51. Bradley 14.
  52. Bradley 15.
  53. "King Abdulaziz International Airport Development Project"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2015۔
  54. Saudi Gazette۔ "More flights shifted to new Jeddah airport"۔ Saudigazette (English زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-12-23۔
  55. "King Abdulaziz International Airport Development Project"۔ مورخہ 1 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2015۔
  56. King Salman inaugurates Saudi Arabia’s Haramain railway | Arab News
  57. "King Abdulaziz International Airport Development Project"۔ مورخہ 1 مئی 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جون 2015۔
  58. خریطہ البلدیات الفرعیہ۔
  59. وہذہ البلدیات تقسم بدورہا إلى عدہ حارات وأحیاء وہی
  60. وأصبحت تابعہ للمحافظہ منذ سنہ 1407 للہجرہ
  61. بلدیہ ثول الفرعیہ۔
  62. وأصبحت مسؤولیتہا فی نطاق محافظہ جدہ منذ سنہ 1426 للہجرہ
  63. بلدیہ طیبہ الفرعیہ۔
  64. بلدیہ ذہبان الفرعیہ۔
  65. وأنشئت فی سنہ 1413 للہجرہ
  66. بلدیہ بریمان الفرعیہ۔
  67. وأنشئت فی سنہ 1402 للہجرہ
  68. بلدیہ أبحر الفرعیہ۔
  69. بلدیہ المطار الفرعیہ۔
  70. بلدیہ جدہ الجدیدہ۔
  71. بلدیہ أم السلم الفرعیہ۔
  72. بلدیہ الشرفیہ۔
  73. وأنشئت فی سنہ 1398 للہجرہ وفی سنہ 1400 للہجرہ انقسمت إلى بلدیتین ہما بلدیہ الجامعہ وبلدیہ الثغر ولکن عادتا سویہ فی سنہ 1408 للہجرہ۔ فی سنہ 1428 للہجرہ ضمت بلدیہ خزام السابقہ مع بلدیہ الجامعہ لتکون بلدیہ الجامعہ الفرعیہ الحالیہ
  74. بلدیہ الجامعہ الفرعیہ۔
  75. بلدیہ البلد الفرعیہ۔
  76. وتأسست البلدیہ فی سنہ 1431 للہجرہ، والبلدیہ ہی جدہ القدیمہ
  77. بلدیہ جدہ التاریخیہ۔
  78. بلدیہ الجنوب الفرعیہ۔
  79. Burak Sansal۔ "Sister cities of Istanbul"۔ Greatistanbul.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔
  80. "Sister cities of Taipei"۔ Protocol.taipei.gov.tw۔ مورخہ 2011-07-18 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-04-17۔

کتابیات[ترمیم]