مہاتیر محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Yang Amat Berbahagia Tun

Mahathir Mohamad
Mahathir 2007.jpg
4th Prime Minister of Malaysia
عہدہ سنبھالا
16 جولائی 1981 – 31 اکتوبر 2003
شاہی حکمران Ahmad Shah
Iskandar
اذلان شاہ
Jaafar
Salahuddin
Mizan Zainal Abidin (Regent)
Sirajuddin
ڈپٹی Musa Hitam
Ghafar Baba
Anwar Ibrahim
عبداللہ احمد بداوی
پیشرو Hussein Onn
جانشین عبداللہ احمد بداوی
چوتھی Deputy Prime Minister of Malaysia
عہدہ سنبھالا
5 مارچ 1976 – 16 جولائی 1981
شاہی حکمران Yahya Petra
Ahmad Shah
وزیر اعظم Hussein Onn
پیشرو Hussein Onn
جانشین Musa Hitam
21st غیر وابستہ ممالک کی تحریک
عہدہ سنبھالا
20 فروری 2003 – 31 اکتوبر 2003
پیشرو Thabo Mbeki
جانشین عبداللہ احمد بداوی
ذاتی تفصیلات
پیدائش 10 جولائی 1925ء (عمر 92سال)
الور سیتار، British Malaya (ابھی ملائشیا)
سیاسی جماعت United Malays National Organisation
شریک حیات Siti Hasmah
اولاد Marina
Mirzan
Melinda
Mokhzani
Mukhriz
Maizura
Mazhar
مادر علمی University of Malaya
پیشہ ماہر نفسیات
مذہب سنی اسلام
دستخط

ڈاکٹر مہاتیر بن محمد ملائشیا کا چوتھا وزیراعظم تھا جو اس عہدہ پر 1981ء سے 2003ء تک، 22 سال، فائز رہا۔ اس کا سیاسی سفر 40 سال تک محیط ریا۔ ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مہاتیر محمد نے جس طرح ملائیشیا کی تاریخ بدلی قوم کو سیاسی اور سماجی اندھیروں سے نکالا۔مَلے اور چینی اقوام کی بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرکے انہیں ایک قوم کے وجود کے اندر سمو دیا کیونکہ وہاں دوسری بڑی قوم چینی بولنے والوں کی ہے۔ اس کا سارا کریڈٹ اور فخر اس فلسفہ انقلاب کو جاتا ہے جس کی آبیاری مہاتیر محمد نے کی، آج مسلم امہ کو جو معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا علاج مہاتیر محمد کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔ مہاتیر محمد کے دادا جان کا تعلق پاکستان کے خطہ کوہاٹ سے تھا اور والدہ خالص مَلے (Malay) تھیں اور ایک سکول میں پڑھاتی تھیں، مہاتیر محمد بچپن سے انتہائی ذہین تھے اور اعلیٰ قابلیت کے جوہر دکھانے لگے۔ آخر کار سنگا پور سے ڈکٹری کی تعلیم MBBS کیلئے اعزاز کے ساتھ داخلہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جب تمام سکول اور تعلیمی ادارے بند ہو گئے تو مہاتیر محمد نے خندانی انکم میں اضافے کیلئے ایک کیفے قائم کیا اور حالات کا مقابلہ کیا۔ اپنی والدہ کی نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھتے کہ ”رزق حلال کی برکت سے تم اپنی اور اپنی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہو“۔ ہماری پاکستانیوں کی قسمت میں قائد اعظم کے بعد کوئی بھی رہنما ایسا نہیں ملا جس کا کردار قابل فخر ہو اور آج کے ہمارے رہنما تو اللہ کے فضل سے رزق حلال کے نظریات کے اتنے ہی دشمن ہیں جتنا کوئی ابلیس ہو سکتا ہے، ان کا معدہ تو گدھ کی طرح مردار بھی ہضم کر سکتا ہے۔ مہاتیر محمد نے سنگا پور کی علیحدگی ایک سیاسی اصول کے تحت کی، ان کا بنیادی مقصد مَلے قوم کا اپنا شناختی اور تاریخی پہچان کو تحفظ دینا مقصود تھا۔ مہاتیر محمد 1981ءسے لیکر 2003ءتک مسلسل ملک کے وزیر اعظم رہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے ملک کو اہم صنعتی اور ترقی یافتہ قوم میں بدلنے کا ایجنڈا پیش کیا جو پبلک پالیسی مہاتیر محمد نے اختیار کی اس کی بنیاد درج ذیل سیاسی فلسفہ پر قائم ہیں۔ -1 مشرق کی تہذیبیں جن اخلاقی اور روحانی اصولوں پر قائم ہیں مہاتیر محمد کے نزدیک امریکہ اور اہل مغرب اس فکری شعور سے نابلد ہیں مثلاً مشرق کی روحانی اقدار میں ”خاندان کا کردار ہے“ جبکہ مغربی معاشرہ خاندان کے وجود کے تقدس سے انکاری ہے چنانچہ مہاتیر محمد کے نزدیک ”خاندان کا ادارہ“ مالے معاشرہ کا بنیادی سماجی اکائی Social Unit ہے جس کو ریاست اپنے نظام کا حصہ بنا کر اس کو مالی اور سماجی استحکام بخشے اور اس خاندانی نظام نے ملائیشیا کو جدید ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسرا نظریہ ریاست ہے جو مہاتیر محمد کے نزدیک آئین اور قانون کی پاسداری پر قائم ہونی چاہیے۔ ریاست کا نظام خود احتسابی Social and Political enpowerment پر قائم ہونا چاہیے۔-2 وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام ریاست کو قائم کرنا چاہیے۔-3 نظم و ضبط میں کسی قسم کی جھول برداشت نہیں کرنی چاہیے۔-4 مہاتیر محمد کے نزدیک دہشت گردی کا نظریہ بھی مغرب کے سیاسی فلسفہ کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔-5 مہاتیر محمد کے نزدیک انسانی حقوق و فرائض میں ایک توازن قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔-6 مہاتیر محمد کے مطابق مَلے قوم اپنی اسلامی اور دینی شناخت کو کبھی قربان نہیں کر سکتی، وہ اسلامی تاریخ و رثہ کو اپنی قوم کے وجود کیلئے بہت اہم قرار دیتے ہیں اور یہی وہ مہاتیر محمد کا فلسفہ تھا جس نے ملائیشیا کو دنیا کی ترقی یافتہ قوم میں بدل دیا۔