ابو الحسن علی حسنی ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو الحسن علی ندوی
ابو الحسن علی حسنی ندوی

معلومات شخصیت
پیدائش 5 دسمبر 1913  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رائے بریلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 31 دسمبر 1999 (86 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
رائے بریلی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش رائے بریلی
لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلسفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر محمد اقبال،  محمد الیاس کاندھلوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
بین الاقوامی شاہ فیصل اعزاز برائے خدمات اسلام  (1980)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
AbulHasanAliNadwi Autograph.jpg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ abulhasanalinadwi.org
P islam.svg باب اسلام

ابو الحسن علی حسنی ندوی (24 نومبر 1914–31 دسمبر 1999) مشہور بہ علی میاں [4])ایک بھارتی عالم دین، مشہور کتاب انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر کے مصنف نیز متعدد زبانوں میں پچاس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔[5][6]

ابتدائی زندگی و تعلیم[ترمیم]

5 دسمبر 1913 کو ابو الحسن علی ندوی کی ایک علمی خاندان میں پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن تکیہ، رائے بریلی میں حاصل کی۔ اس کے بعد عربی، فارسی اور اردو میں تعلیم کا آغاز کیا۔ مولانا علی میاں کے والد عبد الحئی حسنی نے آٹھ جلدوں پر مشتمل ایک عربی سوانحی دائرۃ المعارف لکھا تھا،[7] جس میں برصغیر کے تقریباً پانچ ہزار سے زائد علما اور مصنفین کے حالات زندگی موجود ہیں۔[8] علی میاں نے مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لکھنؤ میں واقع اسلامی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء کا رخ کیا۔ اور وہاں سے علوم اسلامی میں سند فضیلت حاصل کی۔[9]

تصانیف[ترمیم]

علی میاں نے عربی اور اردو میں متعدد کتابیں تصنیف کی ہے۔ یہ تصانیف تاریخ، الہیات، سوانح موضوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمیناوروں میں پیش کردہ ہزاروں مضامین اورتقاریر بھی موجود ہیں۔[5][10] علی میاں کی ایک انتہائی مشہور عربی تصنیف ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين ہے جس کے متعدد زبانوں میں تراجم ہوئے، اردو میں ا س کا ترجمہ انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر کے نام سے شائع ہوا۔ اخوان المسلون کے ایک رکن سید قطب نے اس کتاب پر مقدمہ لکھا جس میں انہوں نے خصوصا علی میاں کی استعمال کردہ اصطلاح جاہلیت کی تعریف کی جسے علی میاں نے کسی عہد کے ساتھ مخصوص نہیں کیا بلکہ اسے مادیت اور اخلاقی زوال کا استعارہ بتایا ہے۔[11]

ذیل میں چند مشہور کتابوں کی فہرست درج ہے:

  1. عالم عربی کا المیہ
  2. المرتضیٰ
  3. دریائے کابل سے دریائے یرموک تک
  4. دستور حیات
  5. بارہ دن ریاست میسور میں
  6. دعوت فکر و عمل
  7. حیات عبد الحی
  8. ہندوستانی مسلمان ایک تاریخی جائزہ
  9. انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر
  10. انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر
  11. کاروان مدینہ
  12. کاروان زندگی
  13. کاروان ایمان و عزیمت
  14. مدارس اسلامیہ
  15. مغرب سے کچھ صاف صاف باتیں
  16. مطالعۂ قرآن کے اصول و مبادی
  17. مطالعۂ قرآن کے اصول و مبادی
  18. نقوش اقبال
  19. نئی دنیا امریکا میں صاف صاف باتیں
  20. قادیانیت تحلیل و تجزیہ
  21. پرانے چراغ
  22. پاجا سراغ زندگی
  23. قرانی افادات
  24. سیرت رسول اکرم
  25. سوانح حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری
  26. سیرت سید احمد شہید
  27. صحبتے با اہل دل
  28. شرق اوسط کی ڈائری
  29. طالبان علوم نبوت کا مقام
  30. تاریخ دعوت و عزیمت
  31. علما کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں

اعزازات[ترمیم]

کعبہ تک رسائی[ترمیم]

1951 میں دوسرے حج کے دوران میں کلید بردار کعبہ نے دو دن کعبہ کا دروازہ کھولا اور علی میاں کو اپنے رفقا کے ساتھ اندر جانے کی اجازت دی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://openlibrary.org/authors/OL4898492A/Maulana_Syed_Abul_Hassan_Ali_Nadwi
  2. http://abulhasanalinadwi.org/books/Short-Life-Sketch-Wikipedia.pdf
  3. "Biography"۔ 
  4. David Arnold, Stuart H. Blackburn, Telling Lives in India: Biography, Autobiography, and Life History, p 127. ISBN 0-253-21727-X
  5. ^ ا ب Syed Ziaur Rahman، Maulana Ali Mian – Life, Works and Association with My Family, We and You (A monthly magazine)، Aligarh, اپریل 2000, p. 16-18
  6. http://www.central-mosque.com/biographies/nadwi.htm
  7. http://fr.scribd.com/doc/88904130/Nuzhat-Al-Khawatir Nuzhat al Khawatir
  8. Sayed Khatab, The Political Thought of Sayyid Qutb: The Theory of Jahiliyyah، Routledge (2006)، p. 207
  9. Roxanne Leslie Euben, Princeton Readings in Islamist Thought: Texts and Contexts from Al-Banna to Bin Laden, p 107. ISBN 978-0-691-13588-5
  10. "The Great Muslims of the 20th Century India" By Mohsin Atique Khan
  11. Roxanne Leslie Euben, Princeton Readings in Islamist Thought: Texts and Contexts from Al-Banna to Bin Laden, p 108. ISBN 978-0-691-13588-5
  12. John L. Esposito, The Oxford Dictionary of Islam, p 226. ISBN 0-19-512559-2
  13. Roxanne Leslie Euben, Princeton Readings in Islamist Thought: Texts and Contexts from Al-Banna to Bin Laden, p 110. ISBN 978-0-691-13588-5
  14. "Timeline"۔ 
  15. Roxanne Leslie Euben, Princeton Readings in Islamist Thought: Texts and Contexts from Al-Banna to Bin Laden, p 109. ISBN 978-0-691-13588-5
  16. "Sheikh Muhammad"۔